कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

تحریر:شبیہ فاطمہ نوشین محمد قمرالاسلام
حالِ مقیم: امراوتی

پچھلے 36 دنوں سے چل رہی CJP تحریک بالآخر آج دھرمیندر پردھان کے استعفے، طلبہ پر دائر FIR واپس لینے اور نیٹ امتحان میں بدعنوانی کے چلتے اپنی جان گنوانے والے طلبہ کے خاندانوں کو مالی مدد دینے جیسے مطالبات کو حکومت کی جانب سے قبول کیے جانے پر ختم ہوئی۔
سوشل میڈیا پر اس چیز کو کافی خوش آئند بات بتایا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کے بلند عزائم اور حوصلے نے حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا، اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان کا نوجوان اب جاگ گیا ہے اور اس نے اپنی طاقت کو پہچان لیا۔ نوجوانوں کی بلند ہمتی نے آج حکومت کے ایوانوں کو لرزا دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ اب وہ دن دور نہیں جب ہندوستان پھر سے سونے کی چڑیا کہلائے گا، کیونکہ موجودہ حکومت کو جھکانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔
لیکن رُکیے!
میرے ذہن میں ایک ہی بات بار بار گردش کر رہی ہے کہ اس کا فائدہ کس کو ہوا؟ اس تحریک کے آغاز سے ہی مسلمانوں کو اس سے دوری اختیار کرنے کا مشورہ دانشور حضرات دیتے آ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کامیابی بھلے ہی مل جائے، لاٹھی ٹوٹے گی تو مسلمانوں پر ہی، تکلیف اٹھائے گا تو مسلمان ہی، جس کی ایک مثال جنتر منتر پر اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر خدمت کرنے والے ’’محمد جنید‘‘ ہیں، جن کے خاندان کے افراد کو یوپی پولیس نے تحریک کے ختم ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے اپنا مہمان بنایا، کیونکہ ’’محمد جنید‘‘ وہاں کھانا کھلا رہے تھے، بھلے ہی جنتر منتر پر طلبہ کو، عوام کو تحریک کا حصہ بننے کے لیے CJP کے قائدین نے مدعو کیا تھا۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ 2019ء میں JNU کے طلبہ نے بھی ملک کے مستقبل کے لیے تحریک چلائی تھی، جو پورے 665 دن تک چلی، لیکن حکومت نے ان کے مطالبات کو منظور نہیں کیا بلکہ اسے Partial Rollback (جزوی واپسی) کرکے چھوڑ دیا۔
اگر CJP طلبہ کے مستقبل کے لیے فکر مند ہے تو مجھے بتائیے، جب حکومت آپ کے مطالبات کو مان ہی رہی تھی تو آپ کو محمد علی جوہر یونیورسٹی میں پڑھ رہے طلبہ کا مستقبل یاد کیوں نہیں آیا؟ آپ حکومت سے یہ بھی مطالبہ نہیں کر سکتے تھے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارت کو منہدم کرنے کے فیصلے کو واپس لیں، لیکن افسوس CJP کے قائدین کو محمد علی جوہر یونیورسٹی کے طلبہ کا مستقبل یاد نہیں آیا، کیونکہ یونیورسٹی کا بنانے والا بھی مسلمان، یونیورسٹی کا نام بھی مسلم، لیکن میرے خیال سے شاید یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ صد فی صد مسلم نہیں ہوں گے۔
2019ء میں JNU کے طلبہ نے بھی اپنے مستقبل بلکہ بلا لحاظِ مذہب و ملت ہر فرد کے مستقبل کے لیے تحریک چلائی۔ جگہ بھی وہی تھی، ’’جنتر منتر‘‘۔ احتجاج کرنے والے بھی 2019ء میں طلبہ تھے، 2026ء میں بھی طلبہ تھے۔ دونوں کا مطالبہ اگر دیکھا جائے تو مستقبل کو محفوظ کرنا تھا۔ جب بھی لاٹھی چلائی گئی تھی، اب بھی چلائی گئی۔ 2019ء میں ہونے والے احتجاج میں 40 کے قریب طلبہ کی جان گئی۔ یہاں بھی احتجاج کے دوران کچھ طلبہ کی جان گئی۔ ’’فرق کہاں تھا؟‘‘
پھر ایسا کیا تھا کہ ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے، اور ان کے مطالبات کو پورا کیا گیا؟ اگر آپ غور کریں تو پتہ چلے گا کہ 2019ء میں ہونے والے احتجاج کے روحِ رواں تھے: آئشہ گھوش، ساکت مون، کنہیا کمار، عمر خالد، شہلا رشید۔
اور 2026ء میں ہونے والے احتجاج کے روحِ رواں تھے: ابھیجیت دیپک، سورو داس، آشوتوش رانکا، سونم وانگچک، گیتانجلی آنگمو۔ ’’یہ ہے فرق‘‘
یقین مانیے، اگر 2026ء کے احتجاج میں ایک بھی نام مسلم ہوتا تو احتجاج کبھی کامیاب نہ ہوتا۔ JNU کے طلبہ کے احتجاج کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ کنہیا کمار، ساکت مون، آئشہ گھوش، شہلا رشید، یہ اپنا مستقبل بنا چکے ہیں، کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے 6 سال سے جنگ لڑ رہے عمر خالد ہیں۔
سمجھ نہیں آتا، مسلمان اپنے ماضی سے سبق حاصل کیوں نہیں کرتے۔ انہیں جتنا کہا گیا کہ CJP احتجاج سے دور رہیں، اتنا ہی مسلمان اس میں شرکت کرتے رہے۔ CJP تحریک کی کامیابی کو مسلمان اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں، یہ ہماری کامیابی نہیں ہے۔ ہماری کامیابی تب ہوگی جب جیل میں بند بے قصور مسلم نوجوانوں (عمر خالد، شرجیل امام) کی باعزت رہائی ہوگی، مسلمانوں کو اس ملک میں برابری کے حقوق دیے جائیں گے۔
خدارا، ایسے کسی کے بھی بہکاوے میں آ کر ظاہری صورتِ حال کو دیکھ کر اپنے آپ کو، اپنے بچوں اور خاندان کے مستقبل کو حکومتِ وقت کے ہاتھوں کھلونا نہ بنائیے۔ مسلمانو! ہوش کے ناخن لو، اپنی قیادت بناؤ، یکجا ہو جاؤ۔ آج محمد جنید (مضمون تحریر کیے جانے تک) کے گھر والوں پر قانونی شکنجہ کسا گیا، کل اس احتجاج میں شامل کسی بھی مسلمان کے گھر پولیس چھاپہ مار سکتی ہے۔ اس تحریک کی کامیابی کو اپنی کامیابی نہ سمجھیں، یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ ان سے دور رہو۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے 2019ء میں JNU کے طلبہ پر ہو رہے ظلم کی حمایت میں آواز اٹھائی تھی، آج خود اس صورتِ حال سے گزرے تو بلبلا اٹھے۔ بقول والدِ محترم، ان کی نظروں میں مسلمان مثل ’’کڑی پتہ‘‘ کے ہیں، جس طرح ’’کڑی‘‘ میں سے ’’کڑی پتہ‘‘ کو چوس کر پھینک دیا جاتا ہے، اسی طرح مسلمانوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
اپنے آپ کو اصل جز بنائیے، ثانوی جز نہ بنائیے تاکہ کوئی آپ کو استعمال کرکے پھینک نہ دے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے