कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک طالب علم کی کمر پر پڑے نشان اور ہمارے سوالات

حقیقت کے آئینے میں مدارس، اساتذہ اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

تحریر:مفتی حفظ الرحمٰن رشیدی

ایک ویڈیو نظر سے گزری۔ دیکھ کر دل بہت پریشان ہوا کیونکہ اس کے مناظر ہی کسی بھی حساس دل کو بے چین کر سکتے ہیں۔ ویڈیو میں ایک کمسن طالب علم کی پوری کمر پر مار کے واضح نشانات نظر آرہے تھے۔ منظر دیکھ کر سب سے پہلے ذہن میں یہی سوال آیا کہ جس بچے کو اس کے والدین نے اپنے سے دور اس امید کے ساتھ مدرسے میں چھوڑا ہوگا کہ وہ قرآنِ کریم حفظ کرے گا، دین کا علم حاصل کرے گا اور مستقبل میں دین و ملت کی خدمت کا ذریعہ بنے گا، اگر وہی بچہ اس حالت میں گھر واپس جائے تو اس کے والدین کے دل پر کیا گزرے گی؟
یہ سوال صرف ایک بچے یا ایک واقعے کا نہیں، بلکہ ہمارے پورے تعلیمی اور تربیتی نظام کے لیے غوروفکر کا دروازہ کھولتا ہے۔
ماں جب اپنے بچے کو مدرسے کے لیے رخصت کرتی ہے تو وہ صرف اسے ایک تعلیمی ادارے کے سپرد نہیں کرتی، بلکہ اپنے دل کا ٹکڑا ایک اجنبی ماحول میں ایک نئی ذمہ داری کے حوالے کرتی ہے۔ وہ بچہ جسے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے بڑا کرتی ہے، جس کی معمولی تکلیف پر بھی اس کا دل بے چین ہوجاتا ہے، اسے قرآن کا حافظ اور دین کا خادم بنانے کی آرزو میں اپنے سے دور کردیتی ہے۔
باپ بھی اپنے بچے کو مدرسے میں چھوڑتے وقت صرف فیس، کتابوں اور رہائش کا انتظام نہیں کرتا؛ وہ اپنی محنت، اپنی امید اور اپنے مستقبل کی ایک بڑی امید اس ادارے سے وابستہ کرتا ہے۔
اس لیے مدرسے میں داخل ہونے والا بچہ محض ایک طالب علم نہیں ہوتا، وہ والدین کی امانت ہوتا ہے۔
تربیت اور تشدد میں فرق:
بچے کی تربیت میں نظم و ضبط کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ استاد کو بعض اوقات سختی بھی کرنی پڑ سکتی ہے، غلطی پر روکنا، سمجھانا، تنبیہ کرنا اور اصولوں کا پابند بنانا بھی تربیت ہی کا حصہ ہے۔
لیکن ہمیں یہ بنیادی فرق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اصلاح اور اذیت ایک چیز نہیں ہیں۔
ایسی مار جس سے بچے کے جسم پر نمایاں نشان پڑ جائیں، اس کے دل میں خوف بیٹھ جائے، اس کی شخصیت مجروح ہو یا وہ قرآن، مدرسے اور استاد کے نام سے ہی گھبرانے لگے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا کسی بچے کو اتنا خوف زدہ کرنا ضروری ہے کہ وہ سبق تو یاد کرلے، مگر اس کے دل سے قرآن کی محبت کم ہوجائے؟
قرآنِ کریم کی تعلیم کا مقصد صرف زبان کو الفاظ یاد کرا دینا نہیں، بلکہ دل کو قرآن کے نور سے منور اور کردار کو اس کی تعلیمات سے آراستہ کرنا ہے۔
استاد کے ہاتھ میں صرف چھڑی نہیں، ایک خاندان کی امانت ہے:
استاد کا مقام ہمارے معاشرے میں ہمیشہ بلند رہا ہے۔ خصوصاً دینی استاد کے ہاتھ میں تو ایک ایسی ذمہ داری ہوتی ہے جس کا تعلق صرف تعلیم سے نہیں بلکہ کردار سازی سے بھی ہے۔
اس کے سامنے بیٹھا ہوا بچہ کسی ماں کی دعاؤں کا مرکز ہے، کسی باپ کی محنت کا نتیجہ ہے، کسی خاندان کی امید ہے۔
استاد جب کسی بچے کی غلطی دیکھتا ہے تو اسے صرف غلطی نہیں دیکھنی چاہیے، بلکہ اس بچے کے مستقبل کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
ایک اچھا استاد وہ نہیں جو صرف خوف پیدا کرکے خاموشی حاصل کرلے، بلکہ وہ ہے جو ایسا ماحول بنائے جہاں طالب علم غلطی سے سیکھے، سوال کرنے سے نہ ڈرے، استاد سے اپنا مسئلہ بیان کرسکے اور اصلاح کو سزا کے بجائے رہنمائی محسوس کرے۔
مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہمیں دیکھنا ہوگا:
یہاں انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی ایک واقعے کی بنیاد پر تمام مدارس یا تمام اساتذہ کو ایک ہی ترازو میں نہ تولا جائے۔
ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے اساتذہ موجود ہیں جو اپنے طلبہ کے لیے حقیقی معنوں میں سرپرست کا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بچوں کی بیماری میں پریشان ہوتے ہیں، ان کی تعلیمی کمزوری دور کرنے کے لیے اضافی وقت دیتے ہیں، ان کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں اور انہیں اپنے بچوں کی طرح سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بہت سے مدارس محدود وسائل کے باوجود نسلِ نو کی دینی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
اس لیے کسی فرد یا ادارے کی غلطی کو پورے دینی تعلیمی نظام کی تصویر بنا دینا بھی انصاف نہیں۔
لیکن اسی کے ساتھ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اگر کسی ادارے یا استاد کے ہاتھوں واقعی زیادتی ہو تو صرف اس لیے خاموش نہیں رہا جاسکتا کہ وہ دینی ادارہ ہے۔
مدرسے کی عزت ظلم چھپانے سے نہیں، اصلاح کرنے سے بڑھتی ہے۔
والدین کی بھی ذمہ داری ہے:
والدین کو بھی اپنے بچے کو مدرسے میں داخل کرکے اپنی ذمہ داری ختم نہیں سمجھنی چاہیے۔ بچے سے باقاعدگی سے بات کرنا، اس کے مزاج میں غیر معمولی تبدیلی محسوس کرنا، اس کے خوف یا پریشانی کو سمجھنا اور اس کی شکایات کو سنجیدگی سے لینا والدین کی ذمہ داری ہے۔
اگر بچہ اچانک مدرسے جانے سے خوف محسوس کرے، مسلسل خاموش رہنے لگے، اس کے جسم پر چوٹ کے آثار ہوں یا اس کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی آئے تو اسے محض ضد یا سستی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
البتہ ہر شکایت کو فوراً الزام میں تبدیل کرنا بھی درست نہیں۔ پہلے حقیقت معلوم کی جائے، استاد اور انتظامیہ سے بات کی جائے اور معاملے کی نوعیت کو سمجھا جائے۔
بچے کی بات سننا اور حقیقت کی تحقیق کرنا—دونوں ضروری ہیں۔
مدارس کا اعتماد کیسے قائم رہے؟:
مدارس ہمارے دینی اور سماجی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان کا اعتماد اسی وقت مضبوط ہوگا جب تعلیم کے ساتھ بچوں کی عزت، حفاظت اور نفسیاتی و جسمانی سلامتی کو بھی اہمیت دی جائے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس میں واضح تربیتی اصول ہوں، اساتذہ کو بچوں کی نفسیات اور مناسب اصلاحی طریقوں سے واقف کرایا جائے، شکایات سننے کا مؤثر نظام ہو اور کسی زیادتی کی صورت میں معاملے کو دبانے کے بجائے انصاف اور اصلاح کے ساتھ حل کیا جائے۔
اسی طرح والدین اور مدارس کے درمیان بھی مضبوط رابطہ ہونا چاہیے۔ والدین کو معلوم ہو کہ ان کا بچہ کس ماحول میں تعلیم حاصل کررہا ہے اور مدرسے کی انتظامیہ کو بھی والدین کے اعتماد اور تشویش کی قدر کرنی چاہیے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کیسا حافظِ قرآن چاہتے ہیں؟:
ہم ایسا حافظِ قرآن چاہتے ہیں جو صرف قرآن کے صفحات یاد نہ کرے بلکہ قرآن کی رحمت، اخلاق، صبر، عدل اور شفقت بھی اپنی زندگی میں لے کر چلے۔
ہم ایسا طالب علم چاہتے ہیں جو استاد کا احترام کرے، لیکن استاد سے اس قدر خوف زدہ نہ ہو کہ اپنی تکلیف بیان کرنے سے بھی ڈرے۔
ہم ایسا استاد چاہتے ہیں جو نظم و ضبط قائم کرے، مگر اپنے اختیار کو ذمہ داری سمجھے۔
اور ہم ایسے مدارس چاہتے ہیں جہاں قرآن کی آواز کے ساتھ شفقت کی آواز بھی سنائی دے، جہاں اصلاح ہو مگر تحقیر نہ ہو، نظم ہو مگر ظلم نہ ہو، اور سختی ہو تو حکمت کے دائرے میں ہو۔
کیونکہ قرآن کے حافظ کی زبان پر قرآن اور دل میں خوفِ خدا ہو تو یہ مدرسے کی کامیابی ہے؛ لیکن زبان پر قرآن اور دل میں مستقل خوف و اذیت ہو تو ہمیں اپنے تربیتی طریقوں پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
آخرکار ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مدرسے میں آنے والا بچہ صرف ایک طالب علم نہیں، ایک امانت ہے۔
اس کے پیچھے ایک ماں کی دعائیں، ایک باپ کی محنت، ایک خاندان کی امید اور ایک مستقبل پوشیدہ ہے۔
اس امانت کی حفاظت صرف مدرسے کے استاد یا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں؛ والدین، اساتذہ، منتظمین اور پورے معاشرے کو مل کر یہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
مدارس کی عظمت ان کی عمارتوں سے نہیں، ان کے اندر پروان چڑھنے والے کرداروں سے ہوتی ہے۔
آئیے ہم ایسے مدارس کی تعمیر کریں جہاں بچے قرآن خوف سے نہیں، محبت سے پڑھیں؛ جہاں استاد کا احترام دباؤ سے نہیں، کردار سے پیدا ہو؛ اور جہاں تربیت کا مقصد صرف ایک سبق مکمل کرنا نہیں بلکہ ایک انسان کو بہتر انسان بنانا ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام مدارس، اساتذہ اور طلبہ کی حفاظت فرمائے، ہر قسم کی زیادتی سے محفوظ رکھے، اساتذہ کو حکمت و شفقت عطا فرمائے اور قرآن کے ان ننھے طلبہ کو قرآن کا سچا خادم بنائے۔آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے