कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سنگ بے قیمت تراشہ اور جوہر کردیا۔۔۔شمع ایسی لگائی جس سے دل منور کردیا

تحریر:ثناء وقار
(کاؤنسلنگ سائیکالوجسٹ ، بین الاقوامی یوتھ رائٹر)
نواب پورہ ، اورنگ آباد (مہاراشٹر)

سنگ بے قیمت تراشہ اور جوہر کردیا
شمع ایسی لگائی جس سے دل منور کردیا
’’استاد‘‘ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ استاد ایک چراغ کی مانند ہے جو شاگردوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف اور گمراہی سے سیدھے راستے کی طرف گامزن کرتا ہے ، جس طرح والدین بہت شفقت سے ہماری تربیت کرتے ہیں اور ہماری ضروریات پورا کرتے ہیں، بالکل اسی طرح استاد ہماری روحانی تربیت کر کے ہمیں باشعور اور باعمل انسان بناتے ہیں۔ استاد علم کے حصول کا ایک براہِ راست ذریعہ ہے اِس لئے اِن کی عزت اور احترام کاحکم دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیم میں استاد کے احترام کا جابجا حکم ملتا ہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘ استاد کا احترام کرنے سے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ علم کی بدولت دنیا میں ترقی کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں مسلمانوں پر حصول علم کو فرض قرار دیا ہے وہاں اسلام کی نظر میں استاد کو بھی معزز مقام حاصل ہے تاکہ اس کی عظمت سے علم کا وقار بڑھ سکے۔ استاد کی اہمیت علم کی بارش کی سی ہے جو زمین کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ وہ بارش کے فیض سے سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ جب ہمارے رسولؐ تعلیم دیتے تھے توصحابہ کرامؓ اس قدر خاموشی سے بیٹھتے تھے کہ گویا اِن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں اور انہوں نے ذراسی بھی حرکت کی تو وہ اُڑ جائیں گے۔ دنیا میں علم کی قدر اسی وقت ممکن ہے جب استاد کو معاشرے میں عزت کا مقام حاصل ہو۔ جو طالب علم استاد کا ادب و احترام کرنا جانتے ہیں اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے استاد کا کہنا مانتے ہیں وہ ہمیشہ کامیاب و کامران ہوتے ہیں اور دنیا میں بھی عزت و مقام حاصل کرتے ہیں۔
استاد روحانی والدین کا درجہ رکھتے ہیں۔ شاگرد اِن کی روحانی اولاد ہوتے ہیں ۔ استاد اپنے شاگردوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں اور ان کی اخلاقی تربیت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اس لئے شاگرد اپنے استاد کا جتنا بھی احترام کریں کم ہے۔ استاد کے احترام کا حق ادا کیا ہی نہیں جاسکتا، جس طرح حقیقی والدین کا احترام اولاد پر فرض ہے اور جس طرح استادوں یعنی روحانی والدین کا احترام روحانی اولاد یعنی شاگردوں پر فرض ہے اور جس طرح حقیقی اولاد کے ذمہ والدین کے کچھ حقوق ہوتے ہیں، اسی طرح روحانی اولاد یعنی شاگردوں کے ذمے اپنے استادوں کے حقوق ہیں۔ جہاں تک استاد کے حقوق کا تعلق ہے اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کی بات احترام اور پوری توجہ سے سنی جائے اور اس کے عطا کئے ہوئے علم کو پوری لگن کے ساتھ ذہن نشین کیا جائے۔ جتنی کسی کے دل میں علم کی لگن ہوگی قدرتی طور پر وہ اتنا ہی اپنے استاد کا احترام کرے گا۔ اس کی بات دھیان سے سنے گا اور علم اور علم کی وجہ سے کتاب سے بھی محبت کرے گا اور کتاب پڑھانے والے کو بھی سر آنکھوں پر جگہ دے گا۔
استاد کا احترام اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو استاد کی اہمیت اور مقام مسلّم ہے کیونکہ استاد ہی نونہالان قوم کی تعلیم و تربیت کا ضامن ہوتا ہے۔ استاد ہی قوم کے نوجوان کو علوم و فنون سے آراستہ و پیراستہ کرتا اور اس قابل بناتا ہے کہ وہ ملک و قوم کی گراں بار ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں۔ استاد نوجوانوں کی اخلاقی و روحانی تربیت کرتا ہے ، والدین بچے کی پرورش کرتے ہیں جبکہ استاد کے ذمے بچے کی روحانی تربیت کرنا ہے۔
قرآن کی روشنی میں ،اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں ،رسول اکرمؐ استاد اور صحابہ کرام آپؐ کے شاگرد ہیں ۔ صحابہؓ نے جو کچھ حضورؐ سے حاصل کیا اسے تمام تر جدوجہد کے ساتھ دوسروں تک پہنچا دیا۔
سرورِ کائنات حضوراکرمﷺ نے اپنے آپ کو معلم قرار دے کر استاد کو سب سے اعلیٰ بنا دیا۔ اسلام نے استاد کو روحانی باپ قرار دیا ہے ، جس طرح پھولوں کو مہک کی ضرورت ہوتی ، چاند کو دمک کی، سورج کو چمک کی، روح کو جسم کی ، اسی طرح معاشرے کو استاد کی ضرورت ہے ؎
استاد کی محنت کا صلہ کیا دیں ہم
روشنی کے چراغ کو کیا نام دیں ہم
اندھیروں میں بھی جو راہ دکھا دے
اس مہربان کو سلام دیں ہم
’استاد‘ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوںمیں سے ایک نعمت ہے۔ استاد ایک چراغ کی مانند ہے جو شاگردوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف اور گمراہی سے سیدھے راستے کی طرف گامزن کرتا ہے۔ اسی طرح ہمیں بھی روشنی کی جانب گامزن کرنے والی باوقار شخصیت میرے رہنما میرے رہبر ، میرے استاد، سرپرست، میرے معلم ، ذی وقار استاد محترم منور زماں سر، شعور ذات کے سفر میں ایمانداری سے دل وجان لگاکر پُرجوش طریقے سے رہنمائی کرنے والے اور علم و دانش کے رکھوالے، انسانیت کے معمار، قوم کے نونہالوں، نوجوانوں کو سنوارنے کے علمبردار، قوم کے بچوں کی کردارسازی کے فکرمند رہنما، دنیا و آخرت کی زندگی تراشنے کے پاسبان، زندگی کو کامیاب بنانے کے لئے تعلیم کے زیور کو پروان چڑھانے والے استاد، دینی تعلیم کو فوقیت دینے والے رہبر، والدین کی عزت ، اطاعت ، فرمانبرداری کو پروان چڑھانے والے معلم ، علم کا دریا، صبر کا پہرہ والی شخصیت، یقین، اخلاق، محبت، خلوص کاگہوارہ والی شخصیت ، اندھیروں میں چراغ جلانے والے ، ہمیں جینے کا ڈھنگ سکھانے والے استاد، کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں، زندگی جینے کے گُر سکھاتے ہیں، استاد ہم کو ہر علم سے منورکرتے ہیں، علم کی شمع جلاتے ہیں۔ استاد منزل علم کے ہم لوگ مسافر ہیں مگر صحیح راستہ ہم کو دکھاتے ہیں استاد۔ زندگی نام ہے کانٹوں کے سفر کا لیکن راہ میں پھول بچھاتے ہیں استاد۔ ہم کو نیک انسان بناتے ہیں استاد۔ علم ، تربیت، سوچ، اخلاق ، سچائی، عزت، کردار کا درس دیتے ہیں استاد۔ نونہالوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے کوشاں ہے استاد۔ علم کے ذریعے عقل کو علم سے روشن کرنے کا ہنر سکھانے والے استاد۔ تمام کامل صفات کے رہنما ہمارے استاد منورزماں۔ اساتذہ قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک قابل معلم رہنما ہی مستقبل کی نسل کا سرپرست ، قوم کا معمار اورمرکزی شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔محمدؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے ہم تمام طلبہ و طالبات کو بہت زیادہ توجہ مرکوز کروائی استاد نے۔ سخی بننے پر زور دیا۔” استاد محترم منورسر کا قیمتی جملہ جس کے والدین راضی اُن سے اللہ راضی” ۔ اس بات سے ہمیں بہت ہمت, حوصلہ افزائی ملی۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جو جستجو تھی ، تڑپ تھی استاد محترم منور زماں سر سے رہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہماری اس جستجو ، دعاکو قبول فرمایا اور مجھے استاد محترم منورزماں سر کی رہنمائی کا شرف حاصل ہوا۔ جس دن ہمارا رجسٹریشن ہوا یعنی یکم جولائی کو سب سے پہلے میں اپنی والدہ محترمہ سے خوشی کااظہار کیا اور نماز شکرانہ اداکی۔ ہمارے والدین اور ہمارا اپنا خود کا مقصد ہے ، نیک انسان بننا۔ میرے والدین نے مجھے ذریعۂ معاش کے لئے تعلم نہیں دلوائی۔ نیک انسان بننے کے لئے تعلیم سے آراستہ کیا۔ ہمارے والدین کی جو کاوش ہے اسے عمل لانے کے لئے استاد محترم منورزماںسر نے اپنے ورکشاپ میں ہر دن ایک پیغام، درس دیا کہ زندگی اور آخرت میں کامیاب اور نیک انسان کس طرح سے بن سکتے ہیں، کس طرح سے عملی جامعہ پہنایا جاسکتا ہے اور بہت بہترین طریقے سے ہماری رہنمائی فرمائی۔ استاد محترم کی رہنمائی ہمارے زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے میں انشاء اللہ بہت زیادہ مفید ثابت ہوگی۔ استاد محترم کی تمام تر قیمتی موتیوں کو عمل میں لاکر اپنے والدین کے معیاری مقصد کو پروان چڑھانے کی کوشش کروں گی اور اس کا نتیجہ ہمیں اللہ تعالیٰ دے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔
آخر میں ہم ذی وقار استاد محترم منورزماں سر اور انگلش ہاؤس اکیڈمی کی پوری ٹیم ، بلال سر ، تنویر سر و دیگر ٹرینرز اور اسرار پٹیل سر کاتہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ تمام کی جدوجہد اور محنت کی وجہ سے اورنگ آباد میں کامیاب ورکشاپ منعقد ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ آپ تمام کو صحت عطا فرما اور استاد محترم کے اس مشن کو مزید عروج بخشے اور کامیاب کریں۔ آمین۔ اور تمام والدین سے التجا کرتی ہوں کہ اپنے بچوں کو Personality development اِس کورس سے استفادہ حاصل کروائیں۔
” پیش روح ہے پیش باہ تو ہے امام ”
” تیری عظمت تیری رفعت کوسلام ”
” ائے میرے استاد تو ہے ذیشان”
” تیری عظمت تیری رفعت کو سلام ”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے