कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

گرمیوں کے دن تھے ، ہم فارغ بیٹھے انسٹاگرام کی ریلس (ویڈیوز )دیکھ رہے تھے ،اور گرمی کی شدت پر بے کار سی بحث بھی ہورہی تھی ، اچانک بھائی صاحب نے شہزادہ صاحب کی پیدائش کی خبر سنائی ۔ اس دن کے بعد سے شاید ہی ہم کبھی اتنے فارغ رہے ہوں گے کہ جی بھر کر انسٹاگرام کی ویڈیوز دیکھ سکیں  !!!
منے میاں سے ملاقات کے لیے ہم سب دوڑے دوڑے اسپتال روانہ ہوئے اور منے میاں کا دیدارِ خاص کیا لیکن یہ کیا ؟؟؟ منے میاں تو  سو رہے تھے ۔ ہم کافی دیر منے میاں کو دیکھتے رہے کہ جناب نے  اگر  آنکھیں کھول دیں تو اک تصویر لی جائے اور سوشل میڈیا پر سب کی طرح ،بھتیجہ مبارک لکھ دوں اور
{واٹس ایپ اسٹیٹس
( مبارک ہو اٹس ا بے بی بوائے )}
{watsapp status
(Congratulations Bro
It’s a baby boy )}
لکھ دوں ،دو گھنٹے بیت چکے، مگر منے میاں نے آنکھیں نہیں کھولی اتنی دیر اور اتنے لمبے دیدار اور آنکھ کھولنے کے انتظار میں بیت چکے کہ منے میاں کی معصوم سی شکل ذہن نشین ہوگئی۔ لیکن کچھ سیکنڈ کے لیے وہ اپنے آپ نیند میں مسکرائے ضرور تھے ۔ مگر وہ منظر بھی تصویر میں قید نہیں ہو پایا تھا اور انھیں اپنے گود میں لے کر ہمارے پیارے بھرے جذبات کا اظہار کرنا چاہا لیکن اس بات کا خوف بھی تھا کہ کہیں گر نہ جائیں ۔۔
کچھ دیر بعد اسپتال کی نرسوں نے  شور مچایا اور ہم سے یوں خدا حافظ کہا گویا کہ  ہم سب بوریہ بستر لے کر یہاں آئے ہوں ! ہم کیا کرتے منے میاں کی نازک سی انگلیوں کی تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا  پر اپڈیٹ دے دی واپس چل دیے ۔
گھر میں منے میاں کی آمد کی تیاریاں جاری ہوگئیں ، ادھر ان کا نام رکھا گیا۔ ہم نے تو خیالوں میں اتنی اچھی باتیں سوچ لیں کہ انھیں بیان کرنے کے لیے اک  نئے عنوان کے ساتھ الگ سی  تحریر رقم کرنی ہوگی ۔ گھر میں غبارے  لگائے گئے ، نیلے رنگ کو ترجیح دی گئی ۔ جھولا ،کھلونے، جھنجھنا ، کپڑے ، اور وہ نئی نئی چیزیں اور بہت ساری تیاریاں ۔
کچھ دنوں بعد منے میاں گھر تشریف لائے، ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے ۔ ان دیکھ کر خوش ہونا ، دن بھر میں صرف ان کی باتیں کرنا ، ان سے باتیں کرنا، ان کا خیال رکھنا وغیرہ۔
لیکن منے میاں کو نہ جانے کیا مسئلہ تھا ،یہ ہر وقت  روتے رہتے تھے !  اس کی لاکھ وجوہات پر غور و خوض کیا گیا ، کہ شاید یہ وجہ ہوگی ؟ شاید فلاں؟ شاید فلاں؟
مثال کے طور پر ،
گھر میں منے میاں نئے ہیں اس لیے روتے ہوں گے ؟
شاید نہانا پسند نہیں ہے ؟
شاید مچھر نے پریشان کیا ؟
شاید بخار ہو ؟
شاید بیمار ہو ں؟
شاید بھوک زیادہ لگتی ہو؟
شاید گرمی ؟ شاید سردی؟
شاید پیٹ کی بیماری ؟
یہ تو ممکنہ وجوہات تھیں !
ہم نے تو اور بھی سوچا ،
شاید
ہمارے کھلونے پسند نہیں آئے ؟
شاید جھولا یا اس کا رنگ نہیں اچھا لگا ؟
شاید خواب میں ڈر جاتے ہوں؟
شاید دل نہیں لگتا ؟
شاید گھر میں کوئی جن ہے جو منے میاں کو پریشان کر رہا ہے ؟
شاید منے میاں کو بور ہو رہا ہو ؟
یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید
وہ ہر جگہ ، ہر گھڑی روتے رہتے تھے ۔ گھر میں ، بازار میں ، سفر میں ،کسی مہمان کے یہاں تو منے میاں اس شوق سے روتے تھے کہ بھابھی نے گھر سے باہر نہ  نکلنے کی قسم کھالی تھی !
اور ان وجوہات پر غور کیا اور  منے میاں کے دکھ درد دور کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ہر  اگلے پانچ منٹ بعد روتے ہی رہتے تھے !  اور جب بھی منے میاں رونے لگتے  ہمارے دل میں غم کی لہر دوڑ جاتی ، ہم بھی برابر کے ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ، اور کیوں نہ ہوں ان کے آواز میں وہ درد ہوتا تھا کہ دنیا اور سارے جہاں کے دکھ اس درد کے سامنے بے معنی ہوں ، لیکن ، اب  دھیرے دھیرے ہمارے درد میں افاقہ ہونے لگا تھا کیونکہ منے میاں کی رونے کے عادت میں بالکل کمی نہیں آئی تھی ۔ بلکہ وہ تو یوں روتے ہیں کہ ان کی آواز کی شدت سے سارا محلہ پریشان ہوجائے ، ان کا جسم اتنا چھوٹا لیکن آواز کا کیا ہی کہنا ہے ! ہم تو کبھی کبھار یہ سوچتے تھے کہ کہیں یہ آواز کی تعدد (فریکوینسی)20 کلو ہرٹز سے زیادہ تو نہیں ۔ یا یوں ہی ہمارے کان  بجنے لگے ہیں۔
منے میاں کی رونے کی عادت تو برداشت ہوگئی لیکن ان میں اک اور بری عادت تھی یہ وقت پر کبھی سوتے نہیں تھے  اگر ،  لاکھ کاوشوں بعد اگر وہ سو بھی جائیں تو اتنے جلدی جاگ جاتے تھے کہ انھیں بہت  سے اہم کام انجام دینے ہوں ، یا ان کے بغیر یہ کام ممکن  ہی  نہ ہوں ،  ہم سب اپنے ہی گھر میں بھیگی بلی بن کر رہنے لگے ، اور اس بات کا ہر وقت خدشہ رہتا تھا کہ اگر منے میاں جاگ گئے تو ،  رو رو کر سارا گھر سر پر اٹھا دیں گے ، وہ اتنی جلدی نیند سے بیدار ہوتے تھے جیسے انھیں کوئی فکر ستارہی ہو، گھر میں معمولی سی آوازیں بھی سنائی پڑتیں تو منے میاں جاگ جاتے ہیں ، جیسے ، کسی نے ان کے کمرے کے آس پاس چھینکا یا کھانسا بھی تو یہ جاگ جاتے تھے ، گھر میں ہنسی کے قہقہے بھی گونجیں تو جاگ جاتے تھے  اسی کے ساتھ ساتھ مکسر کی آواز ، کوکر کی سیٹی ، کولر ،واشنگ مشین ، گلی کے کتوں کے بھونکنے ، بلی کی میاؤں، سبزی والے کی پکار ، فقیر کی صدا، شادی بیاہ کی محفلوں اور گانوں کی آواز ، سے منے میاں جاگ جاتے تھے ۔۔۔۔
اور راتوں کا جاگنا اور ان کو توجہ نہ دی جائے تو رونا یہ ان سب سے پسندیدہ مشغلہ تھا ۔اور راتوں کا جاگنا اور ان کو توجہ نہ دی جائے تو رونا یہ ان سب سے پسندیدہ مشغلہ تھا ۔
اب ہم نے اپنے طور پر میاں کو ہنسانے کی کوشش کی ، اور ان سے ڈھیر ساری باتیں کرنے لگے ،
ہم نے منے میاں کو بہت جلد اپنے آپ سے مانوس کرلیا اور اب ہمیں دیکھ کر ہنستے ہیں ، یہ بات کہنے میں کوئی دو رائے نہیں اور نہ ہی شرم محسوس ہوتی کہ اس کرہ ارض پر منے میاں ہی وہ واحد انسان ہیں جنھیں ہمارے لطیفوں پر ہنسی آتی ہے
اور ہمارے باتوں کو خوب مسکرا کر سنتے ہیں ، اسی کے ساتھ ساتھ منے میاں کو ہمارا گنگنانہ بھی پسند ہے ، ہم کبھی کبھار دو مصرعے بھی پڑھ دیں تو ہماری بھدی آواز سے لوگوں کی کانوں سے خون نکل آئے ! لیکن گنگنانے اور گانے کا شوق منے میاں نے پورا کردیا ، ہم جو کچھ بھی گاتے ہیں منے میاں کے قہقہے گونجنے لگتے ہیں ۔
یہ ہمارے لیے بہت اعزاز کی بات ہے کہ منے میاں ہماری انگلیوں کو اپنے منہ میں ڈال کر کچھ اوں آں کرتے ہوئے ہمارے ہی گنگنانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔۔اب چند دن اور گزر گئے ، اب منے میاں کی عمر نے آگے قدم بڑھائے تو ،
منے میاں کے رونے اور ڈھونگ رچانے میں کمی توآئی لیکن ان کا ہمیں پریشان کرنے کا طریقہ بدل گیا ۔
اب سارے جہاں کی چیزوں پر گویا ان کا ہی حق ہے ، ہر چیز کی انھیں خواہش ہے ۔اور ہر  چیز کی  شدت سے طلب ہوتی ہے ، اور گویا یہ  دنیا جہاں بھر کے مفلس اور بھوکے  ہیں؟؟ یہ ہر کوئی بھی چیز کھانے کی کوشش کرتے ہیں ، منے میاں اپنی  بھوک مٹانے کی شروعات شال سے کرتے ہیں اور رینگتے ہوئے پورے گھر کا جائزہ لیتے ہیں کہ کہیں کوئی باریک چیز تو نہیں رہ گئی جس سے میں کھا لوں ؟
ان کی خدمت میں ہم سب اپنے ہی گھر میں قید رہتے ہیں اور سارے دروازے بند ہیں ، کہ کہیں منے میاں بھوک مٹانے رینگتے ہوئے گھر سے باہر نہ نکل پڑیں ؟
انھیں ہر چیز سے مسئلہ ہے، کپڑے کھینچنا ، کتابوں کے اوراق پھاڑ نا تو عام بات ہے
اسی کے ساتھ ساتھ ہمارے بال کھینچنے میں انھیں کیا ہی مزہ آتا ہوگا ؟؟ ہ جب بھی  ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو کسی بڑے بزرگ کی طرح نہایت ادباً سر پر دوپٹہ اوڑھ کرمخاطب ہوتے ہیں اس خوف سے کہ  سر پر  بچے کچے بال بھی منے میاں کی ملکیت نہ ہوجائیں ؟  ہمارے بالوں سے اگرچہ مسئلہ تھا ، لیکن منے میاں کو اپنے آپ کے خوبصورت زلفوں سے بھی مسئلہ تھا ، وہ اپنے بال بھی اسی شدت سے نوچنے لگے تھے، نتیجتاً منے میاں گنجے میاں کیا گیا
اب ہم انھیں منے میاں کی بجائے گنجے میاں کہنے لگے!
منے میاں میں نہ جانے کونسی توانائی کی لہر دوڑ گئی یا کس کا موٹیویشن کام کرگیا ؟ اور وہ ہمت ؟ ؟ یہ اپنے آپ کو کبھی کم نہیں سمجھتے ، سیڑھیوں پر چڑھنا ، کھڑے ہوکر جھولا کھیلنا ، گود میں کھڑے ہونا ، اونچائی پر چڑھنا ، اور کودنے کا شوق وغیرہ ۔
منے میاں کی عمر نے مزید کچھ قدم اور آگے بڑھائے تو اب منے میاں کی سمجھ بوجھ میں اصافہ ہونے لگا ، یہ لوگوں کو پہچاننے لگے ہیں ، ایک دو لفظ بھی  بول پاتے ہیں ۔  ہم نے فوراً منے میاں سے اپنا تعارف کروایا کہ ہم دیدی ہیں ۔ نہ جانے اردو جیسی خوبصورت زبان کو میں پھوپھی یا پھوپھو جیسے لفظ کو داخل ہونے اجازت کیوں دی ؟ کس نے دی؟ کیوں کہ یہ بہت ہی برا لفظ ہے؟ اور تو اور سارے جہاں بھر میں پھوپھو کے بارے میں اتنی منفی باتیں ،اور منفی ویڈیوز بنی ہیں کہ اس لفظ سے عجیب سی نفرت ہونے لگتی ہے۔۔
ہم ہر دن منے میاں کو اپنا تعارف دیدی یا آپی سے کراتے ہیں ۔
منے میاں ہم سے کچھ زیادہ ہی مانوس ہوگئے ہیں ، ہمیں دیکھتے ہی ان کا اک سوال ہوتا ہے ، کہ انھیں گود میں اٹھایا جائے ، یہ صرف ہمارے گود میں ہی نہیں رہتے ، دن بھر میں وہ ہمارے بدن کے تقریباً  بیسوں چکر کاٹ لیتے ہیں ، کبھی ہاتھوں میں ، کبھی پیروں پر ، کبھی پیٹ پر کبھی پیٖٹھ پر ، کبھی گھٹنوں پر ، کبھی کاندھوں پر تو کبھی سر پر ، تو دن میں دسوں دفعہ انھیں ہوا میں اچھالنا بھی پڑتا ہے
اور ان کے ساتھ موج و مستی کی جائے ، دن بھر ہم اور منے میاں مستیاں ، شوخیاں اور اٹھکھیلیاں کرتے کرتے تھکتے نہیں ہیں، منے میاں کو نہ جانے ہم سے کیسا لگاؤ ہے ، ہم جو کچھ کرتے ہیں منے میاں اس کی نقل اتارنے کی کوشش کرتے ہیں ، مثال کے طور پر ، اگر ہم پڑھ رہے ہیں تو منے میاں کو بھی کتاب چاہیے صرف کتاب ہی نہیں ، دو تین قلمیں ، بیاض ، ٹیبل ، کرسی ، وغیرہ ، اگر ہم نے موبائیل فون استعمال کیا تو منے میاں ، دنیا کے کسی کونے میں ہوں ، ہنستے مسکراتے ہمارے پاس آجاتے ہیں ، اور ان ہم کی تصویریں کھینچتے ہیں اور تصویر اور سیلفی کے لیے تو منے میاں ہمیشہ تیار ہی رہتے ہیں اور وہ ادائیں  ،نخرے اور شان کہ کیا ہی کہا جائے ؟ اگر وہ رو بھی رہے ہوں ان سے کہا جائے کہ آجاؤ بچہ ،سیلفی لی جائے ! ،اور سیلفی کے لیے منے میاں  سارے غم بھلا کر مسکرا اٹھتے ہیں ، اور پھر موبائیل فون میں بچوں کے قومی ترانے ،ہاتھی راجا کہاں چلے ، چڑیا رانی بڑی سیانی ، ٹونکل ٹونکل ، بابا بلیک شیپ ،چندا ماما، بندر ماما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ترانے اتنی دفعہ سن چکے کہ شاید اب سچ میں ، شیر اپنی بادشاہت سے استعفیٰ  دے کر ہاتھی کو کرسی سونپ دیں گے ، اور کرسی چٹر پٹر بول اٹھے ۔۔۔۔
قصہ مختصر یہ ہے ہا شاید اور دل کو بہلانے کے لیے غالب یہ خیال اچھا ہے ، کہ ،دورِ حاضر میں منے میاں کی پسندیدہ شخصیت ہم ہی ہیں  !!!
منے میاں نہ گھر سے کسی کو باہر جانے کی اجازت دیتے ہیں نہ ہی چاکلیٹ ،بسکٹ، چپس یا ٹافی کے بغیر اندر آنے کی اجازت ہے!
ایک دفعہ منے میاں رو رہے تھے ، ہم انھیں بہلانے کی ناممکن کاوشیں کر رہے تھے ، کیونکہ منے میاں کو اپنی مما سے زیادہ سے ہم سے لگاؤ ہے ۔ ہم نے خرگوش کی  طرح پھدک  پھدک کر منے میاں کو ہنسانے کی کوشش کرنے لگے ، منے میاں کو ہمارے پھدکنے سے ہنسی تو نہیں آئی تھی البتہ ہماری پھدکنے کی اوور ایکٹنگ دیکھ کر خاموش تو ہوگئے لیکن اچانک  ہماری نظر والد صاحب پر پڑی ، وہ نہ جانے ہمیں کب سے دیکھ رہے تھے ؟ہمیں شرمندگی محسوس ہوئی ، ہم نے بات کو ٹالنے کے لیے کہا کہ ، نہ جانے منے میاں کب بڑے ہوں گے ؟؟؟پچھلے سترہ مہینے بیت چکے ، مگر منے میاں چھوٹے ہی ہیں ؟؟
والد صاحب نے کہا کہ جس دن تمہارا بچپن ختم ہوا اس دن سمجھ لو منے میاں بڑے ہوچکے !!!
بات تو ادھوری رہ گئی ۔ گھر میں کچھ چیخنے چلانے کی آوازیں نہیں ہیں ، کوئی  شور و غل نہیں ہے ، کیونکہ منے میاں اپنے نانی امی سے ملنے گئے ہیں ، اور منے میاں کی یاد ستارہی ہے اس لیے ان یادوں کو مضمون میں قید کرلیا ۔۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے