कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پردہ، اختیار اور مکالمے کا ادب

Veiling, Agency, and the Ethics of Dialogue

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

سوشل میڈیا کے اس ہنگامہ خیز دور میں بعض اوقات چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو پورے معاشرے کے فکری مزاج، تہذیبی ترجیحات اور باہمی احترام کے معیار پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ حالیہ دنوں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) کی ایک پریس کانفرنس کے حوالے سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک خاتون رپورٹر اور برقع پوش مسلم خاتون کے درمیان پردے کے موضوع پر تلخ جملوں کا تبادلہ دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ بھی گردش کر رہا ہے کہ خاتون رپورٹر نے برقع پوش خاتون کے چہرہ ڈھانپنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا: "جاؤ، پہلے شریعت سے اپنا چہرہ دکھانے کی اجازت لے کر آؤ”۔
اس کے جواب میں برقع پوش خاتون نے اپنے اختیار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پردہ کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی پسند ہے اور انہیں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر دوسروں کو اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے کی آزادی حاصل ہے تو انہیں بھی اپنی پسند کے مطابق پردہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ یہ چند جملے بظاہر ایک معمولی بحث معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے اندر آزادی، مذہب، عورت کے اختیار، حجاب، شناخت، صحافت، تہذیب اور باہمی احترام جیسے کئی بڑے سوالات پوشیدہ ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں اختلافِ رائے کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ بلکہ زندہ معاشروں کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہاں مختلف آرا رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے سامنے اپنے دلائل پیش کر سکتے ہیں۔ مسئلہ اختلاف کا نہیں، اختلاف کے اظہار کے اسلوب کا ہے۔
کسی خاتون سے یہ سوال کرنا کہ وہ پردہ کیوں کرتی ہیں، ایک صحافتی یا سماجی سوال ہوسکتا ہے؛ لیکن سوال اور تحقیر کے درمیان ایک باریک مگر نہایت اہم حد موجود ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان خاتون پردہ کرتی ہے تو اس کے مذہبی عمل پر سوال اٹھانے کا حق رکھنے والے کو یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اس سوال کا جواب دینے والی شخصیت بھی عزت، وقار اور شخصی آزادی کی مستحق ہے۔ اسلامی تہذیب میں گفتگو کا حسن صرف اس بات میں نہیں کہ انسان کیا کہتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ کس انداز سے کہتا ہے۔ قرآن مجید کا حکم ہے: "وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا۔ لوگوں سے اچھی بات کہو”۔ یہ حکم صرف ہم خیال لوگوں کے لیے نہیں؛ انسانوں کے ساتھ حسنِ گفتگو کا عمومی اصول ہے۔
مسلمان عورت کے لیے حجاب یا نقاب محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں۔ بہت سی خواتین کے لیے یہ ان کے مذہبی شعور، حیا، شناخت اور ذاتی اطمینان سے وابستہ ایک عمل ہے۔ قرآن مجید میں عورتوں کے لباس اور حیا کے حوالے سے متعدد احکام موجود ہیں۔ سورۂ نور میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہوں کی حفاظت اور پاکیزگی اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جب کہ سورۂ احزاب میں ازواجِ مطہرات، بناتِ رسولﷺ اور مؤمن خواتین کے لباس کے حوالے سے ہدایات بیان ہوئی ہیں۔
البتہ چہرے کے نقاب کے فقہی حکم کی تفصیلات میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف بھی موجود ہے۔ بعض فقہاء نے چہرہ ڈھانپنے کو لازم قرار دیا، جب کہ بعض نے چہرے کو اصلِ ستر میں شامل نہیں کیا اور مخصوص حالات میں نقاب کو فضیلت یا احتیاط کے درجے میں رکھا۔ اس لیے اس مسئلے کو ایک ہی فقہی تعبیر تک محدود کر دینا علمی طور پر درست نہیں۔ یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے: فقہی اختلاف، ایک دوسرے کی تحقیر کا جواز نہیں بنتا۔ جو خاتون نقاب کرتی ہے، اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے معتبر دینی فہم کے مطابق عمل کرے؛ اور جو خاتون نقاب نہیں کرتی، اسے بھی محض اس بنیاد پر اپنے ایمان یا کردار کے بارے میں فیصلے سنانے کا حق کسی فرد کو حاصل نہیں۔
جدید معاشرے میں شخصی آزادی کا تصور بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ انسان کو اپنے لباس، طرزِ زندگی، تعلیم، پیشے اور بہت سے ذاتی معاملات میں اپنی پسند کے مطابق فیصلے کرنے کا حق دیا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ قانون کی حدود میں ہوں۔ یہ اصول اگر واقعی آزادی کا اصول ہے تو اسے دو طرفہ ہونا چاہیے۔ اگر ایک عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق لباس اختیار کرے تو دوسری عورت کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مذہبی یا شخصی پسند کے مطابق لباس اختیار کرے۔ آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان کو اپنی پسند کے مطابق کچھ کرنے کی اجازت ہو؛ آزادی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انسان کو دوسروں کی جائز پسند کا احترام کرنے کی تربیت حاصل ہو۔ ایک عورت اگر حجاب نہیں کرنا چاہتی تو اسے محض اس بنیاد پر مجبور یا ذلیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ اور ایک عورت اگر مکمل پردہ اختیار کرنا چاہتی ہے تو اسے بھی محض اس بنیاد پر طنز، تمسخر یا سماجی دباؤ کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ آزادی کا اصل حسن انتخاب میں نہیں، انتخاب کے احترام میں ہے۔
یہ واقعہ صحافت کے ایک اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔ صحافی کا کام سوال کرنا ہے۔ مشکل سوال کرنا بھی صحافت کا حصّہ ہے۔ مذہبی اداروں، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور بااثر شخصیات سے سوال کرنا ایک آزاد معاشرے میں صحافت کا بنیادی فریضہ ہے۔ لیکن سوال کی طاقت اس وقت بڑھتی ہے جب اس کے ساتھ تحقیق، شائستگی اور غیر جانب داری بھی موجود ہو۔ اگر کوئی صحافی کسی مذہبی مسئلے پر سوال اٹھانا چاہتا ہے تو بہتر سوال یہ ہوسکتا ہے، "اسلامی فقہ میں چہرے کے پردے کے بارے میں مختلف آرا کیا ہیں، اور آپ کا ادارہ اس اختلاف کو کس طرح دیکھتا ہے؟”۔ یہ سوال علمی بھی ہے، سخت بھی ہوسکتا ہے اور جواب طلب بھی۔ لیکن کسی شخص کے ذاتی مذہبی انتخاب کو طنزیہ انداز میں چیلنج کرنا مکالمے کو تحقیق سے نکال کر تصادم کی طرف لے جاتا ہے۔ صحافت کا مقصد صرف خبر پیدا کرنا نہیں، بلکہ حقیقت تک پہنچنا بھی ہے۔
دوسری جانب، برقع پوش خاتون کا یہ کہنا کہ "یہ میری زندگی ہے اور مجھے اپنے فیصلے کرنے کا حق ہے” بھی جدید معاشرے کے ایک بنیادی تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں ایک دلچسپ فکری صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔ ایک طرف جدید معاشرہ عورت کے اختیار اور آزادی کی بات کرتا ہے، اور دوسری طرف اگر کوئی عورت اپنے اختیار سے مذہبی پردہ اختیار کرلے تو بعض اوقات اس کے انتخاب کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ سوال سنجیدگی سے پوچھا جانا چاہیے، اگر عورت کا اختیار واقعی بنیادی قدر ہے تو کیا اس اختیار کا احترام صرف اس وقت کیا جائے گا جب عورت ہماری پسند کا انتخاب کرے؟ اگر کوئی عورت جدید لباس اختیار کرتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ اس کا حق ہے۔ اگر کوئی عورت حجاب اختیار کرتی ہے تو بھی اصولاً کہا جانا چاہیے کہ یہ اس کا انتخاب ہے۔ ورنہ آزادی کا تصور یک طرفہ بن جاتا ہے۔
عورت کے بارے میں ہمارے معاشرتی مباحث میں ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔ کبھی عورت کو صرف مظلوم سمجھا جاتا ہے، کبھی صرف آزاد فرد؛ کبھی اسے مذہب کی نمائندہ بنا دیا جاتا ہے اور کبھی مذہب کے خلاف مزاحمت کی علامت۔ حالانکہ عورت سب سے پہلے ایک مکمل انسان ہے۔ اس کے اپنے خیالات ہیں، اپنے تجربات ہیں، اپنی ترجیحات ہیں، اپنی روحانی کیفیات ہیں اور اپنی زندگی کے بارے میں اپنے فیصلے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر پردہ کرنے والی عورت مجبور ہو۔ ضروری نہیں کہ ہر بے پردہ عورت آزاد ہو۔ ضروری نہیں کہ ہر مذہبی لباس جبر کی علامت ہو اور ضروری نہیں کہ ہر جدید لباس آزادی کی ضمانت ہو۔ لباس کو دیکھ کر انسان کی پوری شخصیت کا فیصلہ کرنا فکری سطحیت ہے۔
اسلامی دعوت کا بنیادی اسلوب بھی محض حکم چلانا نہیں بلکہ حکمت، موعظۂ حسنہ اور بہترین اندازِ گفتگو ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے، "ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ۔ اپنے ربّ کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ”۔ یہ اصول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مذہبی گفتگو میں بھی جذبات کے بجائے علم، طعنوں کے بجائے دلیل اور تحقیر کے بجائے حکمت کو جگہ دی جائے۔ اگر کوئی خاتون پردے کے بارے میں سوال کرتی ہے تو ایک مسلمان کا بہترین جواب یہ نہیں کہ وہ اسے برا بھلا کہے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ قرآن، سنت، فقہ اور اسلامی تہذیب کی روشنی میں پُرسکون اور مدلل جواب دے۔ اور اگر کوئی خاتون پردہ کرتی ہے تو اس کے انتخاب کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، نہ کہ فوری طور پر اسے کسی خاص ذہنی یا سماجی خانے میں ڈال دیا جائے۔
اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جس میں سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنا "میڈیا ہاؤس” بنا دیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، چند سخت جملے اور چند جذباتی تبصرے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مکالمہ کم اور محاذ آرائی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایک جملہ دوسرے جملے کو جنم دیتا ہے، دوسرا تیسرا، اور پھر اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ پردے پر گفتگو شروع ہوئی تھی، مگر چند لمحوں میں بحث "آزادی بمقابلہ مذہب”، "جدیدیت بمقابلہ روایت” اور "عورت کے حقوق” کی جنگ بن جاتی ہے۔ یہی سوشل میڈیا کی سب سے بڑی آزمائش ہے، وہ اختلاف کو مکالمہ بنانے کے بجائے تماشا بنا دیتا ہے۔
اس پورے واقعے سے ایک گہرا سوال ابھرتا ہے: ہم انسان کے ظاہری انتخاب کو دیکھ کر اس کی آزادی کا فیصلہ کیوں کرنے لگتے ہیں؟ چہرہ ڈھکا ہوا ہو تو بھی انسان آزاد ہوسکتا ہے، اور چہرہ کھلا ہو تو بھی انسان کسی نہ کسی سماجی دباؤ میں ہوسکتا ہے۔ آزادی کا تعلق صرف لباس سے نہیں؛ آزادی کا تعلق اختیار، شعور، رضامندی اور عزّتِ نفس سے ہے۔ اسی طرح مذہب کا تعلق بھی صرف لباس سے نہیں؛ مذہب ایمان، عبادت، اخلاق، معاملات، عدل، رحم، ذمّہ داری اور انسان کے پورے کردار سے متعلق ہے۔ لہٰذا پردے کے مسئلے کو عورت کی مکمل شخصیت کا پیمانہ بنا دینا بھی درست نہیں اور اسے محض فرسودہ روایت کہہ کر نظر انداز کر دینا بھی علمی رویہ نہیں۔
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں سب لوگ ایک جیسا لباس پہنیں، ایک جیسی زبان بولیں اور ایک جیسی سوچ رکھیں۔ مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود انسان کی عزّت محفوظ رہے۔ کوئی عورت نقاب کرے، کوئی حجاب کرے، کوئی صرف باوقار لباس اختیار کرے—اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے شعور اور رضامندی سے کرے اور معاشرہ اس کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق پیش آئے۔ اسی طرح مذہبی اختلاف رکھنے والے افراد بھی ایک دوسرے سے سوال کرسکتے ہیں، اختلاف کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ شدید علمی تنقید بھی کرسکتے ہیں؛ مگر تحقیر، تمسخر اور تضحیک کو دلیل کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔
اس مبینہ واقعے کا سب سے بڑا سبق شاید پردے کے بارے میں نہیں بلکہ ہمارے مکالمے کے بارے میں ہے۔ ہم چہرہ ڈھانپنے یا کھولنے پر بحث کرسکتے ہیں، مگر کیا ہم اپنے لہجے کو بھی تھوڑا سا ڈھانپ سکتے ہیں—تکبر سے؟ کیا ہم اپنی زبان کو طنز سے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا ہم یہ تسلیم کرسکتے ہیں کہ دوسرے انسان کو بھی وہی انسانی وقار حاصل ہے جس کا ہم اپنے لیے مطالبہ کرتے ہیں؟ اسلامی اخلاق ہمیں صرف لباس کا شعور نہیں دیتا؛ وہ زبان، نگاہ، دل اور رویے کی اصلاح بھی چاہتا ہے۔ اسی لیے اصل پردہ شاید صرف چہرے کا نہیں؛ زبان کا بھی ہے، نگاہ کا بھی ہے، نیت کا بھی ہے اور کردار کا بھی۔ چہرہ کھلا ہو یا نقاب میں ہو، اگر گفتگو میں احترام باقی ہے تو معاشرہ سلامت ہے۔ اور اگر چہرے بے نقاب ہوں مگر دلوں میں نفرت، زبانوں پر طنز اور گفتگو میں تحقیر ہو تو پھر مسئلہ صرف پردے کا نہیں رہتا؛ پوری تہذیب کے آداب سوال بن جاتے ہیں۔
🗓 (19.09.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے