कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وہ یادگار صبح، وہ حکیمانہ مسکراہٹ

That Memorable Morning, That Wise Smile

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

ایک مرتبہ ممبئی حج ہاؤس میں ایک عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف گوشوں سے علمائے کرام، دانشورانِ ملت، سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ معزز شخصیات نے شرکت فرمائی۔ اس پروگرام میں راقم کو مہمانوں کی خدمت و میزبانی کی ایک اہم ذمّہ داری سونپی گئی، جس کے باعث متعدد اکابرین کے قریب رہنے اور ان سے استفادہ کا موقع ملا۔
حضرت مولانا اسد اسرائیلیؒ ان اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے جن کی شخصیت میں علم، تدبر، حاضر جوابی اور بے ساختہ مزاح ایک ساتھ جمع تھے۔ وہ قرآن فہمی کے ذوق، علمی سنجیدگی اور شگفتہ گفتگو کی وجہ سے اپنے حلقۂ احباب میں خاص مقام رکھتے تھے۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا کبھی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا تھا، کیونکہ وہ بڑی سے بڑی حقیقت کو بھی نہایت سادہ، دلنشیں اور مزاحیہ انداز میں بیان کر دیتے تھے۔
حضرت مولانا اسد اسرائیلیؒ کی مجلس میں بیٹھنے والے احباب بخوبی جانتے تھے کہ ان کی شگفتگی محض طبیعت کی لطافت نہیں بلکہ فکر و بصیرت کا آئینہ تھی۔ وہ معمولی سے معمولی واقعے میں بھی ایسا پہلو تلاش کر لیتے تھے جو بیک وقت مسکراہٹ بھی بکھیر دیتا اور دل و دماغ کو ایک نئی سوچ بھی عطا کرتا۔ ان کے بے ساختہ جملے کبھی کسی کی تحقیر کے لیے نہیں ہوتے تھے، بلکہ انسانی کمزوریوں، معاشرتی رویّوں اور بدلتی ہوئی ترجیحات پر نہایت لطیف انداز میں روشنی ڈالتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی محفلوں میں سنائے جانے والے متعدد واقعات آج بھی ان کے رفقاء اور شاگردوں کی یادوں میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے ہر واقعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ حقیقی مزاح وہی ہے جس کے دامن میں اخلاق، شائستگی اور حکمت جمع ہو، اور جو انسان کو صرف ہنسائے نہیں بلکہ اپنی ذات اور معاشرے پر غور و فکر کی دعوت بھی دے۔
انہی دنوں حضرت مولانا اسد اسرائیلی صاحب—جنہیں حضرت مولانا سید حامد علیؒ کے انتقال کے بعد جب سید قطب شہیدؒ کی شہرۂ آفاق تفسیر فی ظلال القرآن کے اردو ترجمے کی ذمّہ داری سونپی گئی تھی—نے خواہش ظاہر کی کہ نمازِ فجر کے بعد ممبئی کی کسی پُرسکون اور دلکش جگہ کی سیر کی جائے۔ یہ سعادت بھی راقم کے حصے میں آئی۔
میں مولانا کو گرگاؤں چوپاٹی لے گیا۔ علی الصبح سمندر کا کنارہ اپنی تازگی، ٹھنڈی ہوا اور خاموش لہروں کے ساتھ ایک روح پرور منظر پیش کر رہا تھا۔ مگر اس صبح کی اصل رونق سمندر نہیں بلکہ مولانا کا بے ساختہ طنز و مزاح تھا، جس نے اس مختصر سی سیر کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
چوپاٹی پر ہر عمر کے لوگ صحت کی تلاش میں مصروف تھے۔ کوئی تیز قدموں سے چل رہا تھا، کوئی دوڑ رہا تھا، کوئی سانسیں بحال کرنے کی ناکام کوشش میں تھا، اور کوئی ورزش کے نام پر اپنے جسم کو آخری وارننگ دے رہا تھا۔
اسی دوران ایک صاحب ہماری نگاہوں کے سامنے سے گزرے۔ ان کا پیٹ اپنی پوری خودمختاری کے ساتھ ان سے کئی قدم آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا، جب کہ خود موصوف نہایت آہستہ آہستہ دوڑ رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے جسم کے تمام اعضا الگ الگ رائے رکھتے ہوں۔ مولانا نے ایک نظر انہیں دیکھا، مسکرائے اور نہایت سنجیدگی سے فرمایا:
"دیکھو… جینے کے لیے مر رہا ہے!”
مولانا کا یہ فقرہ صرف ایک موٹے آدمی پر تبصرہ نہیں تھا بلکہ ہماری زندگی کے اس عمومی رویّے کی عکاسی بھی تھا کہ انسان برسوں اپنی صحت کو نظر انداز کرتا رہتا ہے اور پھر اچانک بڑھاپے میں چند دنوں کے اندر سب کچھ درست کر لینے کی جدوجہد میں خود کو مشقت میں ڈال دیتا ہے۔
میں بے اختیار ہنس پڑا۔ مولانا نے مزید فرمایا:
"بھئی! اگر ساری عمر جسم کو اس حال تک پہنچنے دیا، تو اب آخری عمر میں اس بے چارے سے انتقام کیوں لیا جا رہا ہے؟”
چند لمحوں کے لیے ہم دونوں خاموش رہے، مگر مولانا کے یہ چند الفاظ اس پورے منظر کی ایسی تصویر بن گئے کہ آج بھی یاد آتے ہیں تو ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ دراصل اکابر کا مزاح محض ہنسانے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پردے میں اصلاح، حکمت اور معاشرتی تنقید پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ کسی فرد کا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ انسان کی کمزوریوں کی طرف اس انداز سے متوجہ کرتے ہیں کہ مخاطب بھی مسکرا دے اور سننے والا بھی اپنی اصلاح پر آمادہ ہو جائے۔
اس زمانے کا ممبئی آج کے ہنگامہ خیز اور تیز رفتار شہر سے کسی قدر مختلف محسوس ہوتا تھا۔ صبحِ صادق کے بعد شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا کرتا تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک کا شور کم، فضا میں سمندر کی نمکین خوشبو زیادہ، اور ماحول میں ایک عجیب سی تازگی گھلی ہوئی ہوتی تھی۔ گرگاؤں چوپاٹی کی سنہری ریت پر ٹھنڈی ہوائیں آہستہ آہستہ چلتی تھیں، لہریں خاموشی سے ساحل کو چھوتیں اور پھر واپس پلٹ جاتیں، گویا اپنے ہی ساز پر کوئی مدھم نغمہ چھیڑ رہی ہوں۔ کہیں عمر رسیدہ افراد ہاتھ پیچھے باندھے خراماں خراماں چہل قدمی کر رہے تھے، کہیں نوجوان دوڑ لگا رہے تھے، کہیں یوگا اور ورزش کے حلقے قائم تھے، تو کہیں چند لوگ خاموش بیٹھے طلوعِ آفتاب کا انتظار کر رہے تھے۔ اس پُرسکون منظر میں حضرت مولانا اسد اسرائیلی صاحب کی شگفتہ گفتگو اور برجستہ جملے اس صبح کو اور بھی دل آویز بنا رہے تھے۔
گرگاؤں چوپاٹی سے روانگی کے بعد ہم حاجی علی کی سمت چل پڑے۔ اس وقت سمندر کے بیچ واقع درگاہ تک جانے والا راستہ صبح کی نرم روشنی میں نہایت دلکش دکھائی دیتا تھا۔ مدوجزر کی لہروں کے درمیان دور سے نظر آنے والی سفید عمارت روحانیت اور حسنِ تعمیر کا حسین امتزاج پیش کر رہی تھی۔ عام دنوں میں یہاں زائرین کی خاموش آمدورفت رہتی تھی، مگر اس روز منظر کچھ مختلف تھا۔ فلمی دنیا کی چکاچوند نے اس پُرسکون ماحول کو ایک عارضی میلے کی صورت دے دی تھی۔ کیمرے، روشنیاں، معاون عملہ، تماشائیوں کا ہجوم، اور فلمی ستاروں کی ایک جھلک پانے کے لیے بے تاب نگاہیں—یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دو مختلف دنیائیں ایک ہی مقام پر آمنے سامنے کھڑی ہوں؛ ایک طرف روحانیت کی خاموش کشش، اور دوسری جانب شہرت کی رنگین چمک۔ ایسے ہی ماحول میں مولانا اسد اسرائیلیؒ کا وہ برجستہ جملہ سننے کو ملا، جس نے اس پورے منظر کی حقیقت کو نہایت لطیف مگر گہرے انداز میں آشکار کر دیا۔
وہاں سے ہم حاجی علی درگاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی صبح کا ابتدائی وقت تھا، لیکن وہاں غیر معمولی چہل پہل نظر آئی۔ معلوم ہوا کہ کسی فلم کی شوٹنگ جاری ہے۔ ایک معروف ہیرو اور مشہور اداکارہ کسی منظر کی عکس بندی میں مصروف تھے اور اردگرد لوگوں کا ہجوم تھا۔
اسی ہجوم میں ایک نیا نویلا شادی شدہ جوڑا بھی موجود تھا۔ دولہا کافی دیر سے بے چین اور پریشان دکھائی دے رہا تھا کہ کسی طرح اپنے پسندیدہ فلمی ہیرو کے ساتھ تصویر بن جائے۔ اچانک موقع ملا تو اس کے چہرے پر ایسی مسرت دوڑ گئی جیسے برسوں کی مراد پوری ہوگئی ہو۔ وہ فوراً اپنی دلہن کو تقریباً کھینچتے ہوئے ہیرو کے پہلو میں لے گیا اور بڑے اہتمام سے تصویریں بنوانے لگا۔ گویا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اسی لمحے میں سمٹ آئی ہو۔
یہ منظر دیکھ کر مولانا اسد اسرائیلیؒ کب خاموش رہنے والے تھے! انہوں نے نہایت حسرت آمیز مگر شگفتہ انداز میں فرمایا:
"یوں لگ رہا ہے جیسے جنت کی کنجیاں وصول کر رہا ہو!”
یہ جملہ کہہ کر فوراً "استغفر اللہ… استغفر اللہ” پڑھنے لگے۔
میں ایک مرتبہ پھر اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکا۔ مولانا کی بات میں نہ کسی کی تحقیر تھی، نہ تلخی؛ بلکہ زمانے کی بدلتی ترجیحات پر ایک لطیف مگر گہرا طنز تھا۔ وہ اکثر چند الفاظ میں ایسی حقیقت بیان کر دیتے تھے جس پر انسان پہلے ہنستا تھا، پھر سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان جن شخصیات کو اپنا آئیڈیل بناتا ہے، رفتہ رفتہ انہی کی قدریں اس کی زندگی پر غالب آ جاتی ہیں۔ مولانا کے اس مختصر جملے میں اسی بدلتے ہوئے معاشرتی رجحان پر ایک لطیف تبصرہ تھا کہ بعض اوقات عارضی شہرت انسان کے نزدیک دائمی کامیابی سے بھی زیادہ اہم بن جاتی ہے۔
اسلامی روایت میں شگفتگی کو ہمیشہ پسند کیا گیا ہے، بشرطیکہ اس میں جھوٹ، تحقیر یا دل آزاری نہ ہو۔ ہمارے اکابر کا مزاح بھی اسی معیار کا حامل تھا۔ وہ مسکراہٹ بکھیرتے تھے مگر کسی کی عزّت مجروح نہیں کرتے تھے، ہنساتے تھے مگر ساتھ ہی سوچنے پر بھی مجبور کر دیتے تھے۔
حضرت مولانا اسد اسرائیلیؒ کے معاصرین، رفقائے دعوت اور ان کی مجالس سے فیض یاب ہونے والے احباب عموماً اس بات کا ذکر کرتے تھے کہ ان کی گفتگو میں علم کی سنجیدگی اور مزاح کی شگفتگی ایک دوسرے کے لیے زینت بن جاتی تھی۔ وہ مجلس کا ماحول خوشگوار ضرور بنا دیتے تھے، مگر کبھی حدودِ شریعت، اخلاق اور شائستگی سے تجاوز نہ کرتے۔ ان کی حاضر جوابی میں نہ طنز کی تلخی ہوتی تھی، نہ کسی کی دل آزاری؛ بلکہ انسانی کمزوریوں، معاشرتی رویّوں اور بدلتی ہوئی ترجیحات پر ایک ایسا لطیف اشارہ ہوتا تھا جو سننے والوں کے لبوں پر مسکراہٹ بھی بکھیر دیتا اور دل و دماغ کو سوچنے پر بھی آمادہ کر دیتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی مختصر سی بات بھی دیر تک ذہن میں گونجتی رہتی تھی۔ ان کے رفقاء کا تاثر یہی تھا کہ وہ مزاح کو تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاحِ نفس، تہذیبِ فکر اور حسنِ معاشرت کا ایک مؤثر وسیلہ سمجھتے تھے، اور ان کی یہی ادا ان کی شخصیت کا ایک منفرد اور دلکش پہلو بن گئی تھی۔
آج بھی وہ صبح، گرگاؤں چوپاٹی کی لہریں، حاجی علی کا ساحل، اور مولانا کے وہ برجستہ جملے ذہن میں اسی تازگی کے ساتھ محفوظ ہیں۔ بعض اوقات کسی بزرگ کی چند شگفتہ باتیں، طویل وعظ و نصیحت سے زیادہ اثر چھوڑ جاتی ہیں، کیونکہ ان میں مزاح بھی ہوتا ہے، حکمت بھی، اور زندگی کا ایک گہرا سبق بھی۔
آج جب گفتگو میں طنز کے نام پر تلخی، اور مزاح کے نام پر تمسخر عام ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں مولانا اسد اسرائیلیؒ جیسے بزرگوں کی شگفتگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بہترین مزاح وہ ہے جو دل کو خوش کرے، عقل کو بیدار کرے اور کردار کی اصلاح کا ذریعہ بھی بن جائے۔ یہی مزاح دیرپا بھی ہوتا ہے اور یادگار بھی۔
🗓 (2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے