कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وہ جو تاریک راہوں پے مارے گئے غزہ کے 2900 معصوم پھول صہیونی جارحیت کی نذر ہو کر لاپتہ

غزہ:14؍اپریل:غزہ کی پٹی میں اپنے مسمار شدہ گھر کے ملبے کے ڈھیر پر کھڑی مجدل سعد اللہ کی آنکھیں کسی خلا میں گم ہیں اور وہ ان آخری لمحات کو اپنے حافظے میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں جو انہوں نے اپنے آٹھ سالہ لختِ جگر احمد کے ساتھ گزارے تھے۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتی ہیں کہ وہ ہنس رہا تھا، اس نے اپنا کھلونا سینے سے لگایا ہوا تھا اور مجھ سے معصومیت سے پوچھ رہا تھا کہ ماں! میں اپنے کمرے میں سونے کے لیے کب واپس آں گا؟مجدل اس حقیقت سے بے خبر تھیں کہ یہ ان کے لختِ جگر کی آخری جھلک تھی۔ وہ مکان جہاں ہجرت کے دکھ سہنے کے بعد اس خاندان نے پناہ لی تھی، قابض اسرائیل کی سفاکیت کا نشانہ بن کر زمین بوس ہو گیا اور ننھا احمد آج تک ملبے کی تہوں میں دبا ہوا ہے کیونکہ سنگدل دشمن کی مسلسل بمباری اور پابندیوں کے باعث امدادی ٹیمیں اس معصوم تک پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔مجدل کا یہ دکھ کوئی اکلوتی داستان نہیں ہے بلکہ یہ ان ہزاروں لرزہ خیز قصوں کا ایک باب ہے جو غزہ کی پٹی میں لاپتہ ہونے والے بچوں کے المیے کو بیان کرتے ہیں۔ اس ہولناک جنگ نے جس میں فلسطینیوں کی باقاعدہ نسل کشی کی جا رہی ہے، زندگی کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے اور اب اپنوں کو کھو دینا بقا کی جدوجہد کا ایک لازمی اور اذیت ناک حصہ بن چکا ہے۔مرکز برائے مفقودین کے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غزہ میں 2900 سے زائد بچوں کا مقدر تاحال گمنامی کی دھول میں چھپا ہوا ہے۔ ان میں سے تقریبا 2700 معصوم کلیاں اب بھی ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں کیونکہ قابض اسرائیل کی جانب سے بھاری مشینری کی فراہمی پر پابندی، ایندھن کی قلت اور مسلسل سنگ باری نے شہری دفاع کے اہلکاروں کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔مرکز کی ڈائریکٹر ندی نبیل کے مطابق غزہ کی پٹی میں لاپتہ ہونے والوں کا مجموعی زخم 7 سے 8 ہزار افراد پر مشتمل ہے، جن میں سینکڑوں ایسے معصوم بھی ہیں جو زندگی کے مختلف کٹھن راستوں پر گم ہو گئے۔ کوئی بھوک مٹانے کی جستجو میں نکل کر مٹ گیا تو کوئی جبری ہجرت کے پرخار راستوں پر بچھڑ گیا یا دشمن کی سنگینوں کے سائے میں لاپتہ ہو گیا۔
خوراک کی تلاش اور موت کا تعاقب
بچوں کا یہ بچھڑنا صرف بارود کی بارش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس جنگ نے ان کے کاندھوں پر ان کی عمر سے کہیں بھاری بوجھ لاد دیے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں جاری قحط اور فاقہ کشی نے ان نونہالوں کو خوراک اور ایندھن کی تلاش میں ان مقتل گاہوں تک جانے پر مجبور کر دیا ہے جہاں قابض فوج کے درندے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔مختلف چشم دید گواہ بتاتے ہیں کہ کئی معصوموں کو آخری بار امدادی مراکز یا دشمن کے زیرِ تسلط علاقوں کے گرد و نواح میں دیکھا گیا، جس کے بعد وہ گویا زمین میں جذب ہو گئے یا آسمان انہیں نگل گیا۔ ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات کا نہ ہونا اس لرزہ خیز خدشے کو جنم دیتا ہے کہ وہ دشمن کی جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں یا قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں اذیتیں سہہ رہے ہیں۔انہی بدنصیبوں میں 15 سالہ ابراہیم ابو زاہر بھی شامل ہے جو جون سنہ 2025 میں اپنے بھوکے خاندان کے لیے نوالہ تلاش کرنے زیکیم کے علاقے کی طرف گیا اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے اس علاقے کو گھیرے میں لے کر کئی شہریوں کو اغوا کیا تھا۔ کچھ غیر مصدقہ خبریں یہ بھی ہیں کہ اسے سدے تیمان نامی بدنام زمانہ قابض صہیونی عقوبت خانے میں دیکھا گیا ہے، مگر دشمن کی طرف سے اس کی گرفتاری پر خاموشی کی مہر لگی ہوئی ہے۔اسی طرح 17 سالہ محمد ابو العلا کا انجام بھی اکتوبر سنہ 2023 سے اب تک ایک معمہ بنا ہوا ہے جو خان یونس کے مشرقی محاذ پر حالات دیکھنے نکلا اور تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا۔ ہسپتالوں کی راہداریوں اور سرد خانوں کی خاک چھاننے کے باوجود اس کے بوڑھے والدین کو اب تک صرف خاموشی ہی ملی ہے۔ یہ واقعات اس تلخ حقیقت کا آئینہ دار ہیں کہ غزہ میں اب زندگی بچانے کی تگ و دو بھی موت کے کنویں میں جھانکنے کے مترادف ہے۔
تباہ شدہ مکانات اور گمنام قبرستان
مکنہ وسائل کی عدم موجودگی اور ملبہ ہٹانے والے آلات پر پابندی نے غزہ کے تباہ شدہ گھروں کو گمنام قبرستانوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ معصوم بچوں کے جسدِ خاکی مہینوں سے ملبے تلے پڑے سسک رہے ہیں، جس کی وجہ سے سوگوار خاندان اپنے جگر گوشوں کو رخصت کرنے اور انہیں وقار کے ساتھ مٹی تلے چھپانے کے آخری حق سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ عالمی قوانین کی بدترین پامالی ہے، جو خاندانوں کو اپنے پیاروں کے انجام سے باخبر رہنے کا حق دیتے ہیں۔ جبری گمشدگی انسانیت کے ماتھے پر وہ کلنک ہے جسے عالمی ضمیر خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔آج غزہ کی مائیں ایک ایسے انتظار کے صحرا میں کھڑی ہیں جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ ہر گزرتا دن ایک نیا سوال بن کر ابھرتا ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ کیا ان کے لختِ جگر ابھی سانس لے رہے ہیں یا وہ اس سفاک نسل کشی کا ایندھن بن چکے ہیں؟غزہ میں بچپن اب پھولوں کی سیج نہیں بلکہ بارود کے ڈھیر پر بکھرا ایک خواب ہے جہاں ہر لمحہ غائب ہو جانے کا خوف سائے کی طرح ساتھ رہتا ہے۔ جب تک یہ جنگ اور نسل کشی جاری ہے، لاپتہ بچوں کا یہ المیہ تاریخ کے سینے پر ایک ایسا زخم رہے گا جو کبھی نہیں بھر پائے گا، جہاں درد بچھڑنے سے شروع ہوتا ہے اور کبھی ختم نہ ہونے والے انتظار کی صورت میں ابد تک پھیل جاتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے