कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خدا کی یہ عظیم کائنات

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی، پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

خدائے برتر کی یہ کائنات کتنی عظیم اور وسیع ترین ہے۔ خدا کی یہ کائنات میں اربوں بلکہ انگنت سیارے ہیں، جو اپنے عمل میں سرگرم اور مصروف ہیں۔ خدا نے پہاڑوں کو کرۂ ارض پر استحکام سے کھڑا کیا ہے۔ اور زمین کو انسانوں کے لیے ہموار کیا۔ یعنی اس زمین کو انسان کے لیے بچھونا بنایا۔ انسان ایک زمانہ میں اپنی ناقص عقل سے یہ سوچتا تھا کہ رات میں یہ چمکتے ہوئے سیارے آسمان پر چسپاں ہیں ہے۔ قرآن نے یہ بتایا کہ ہر سیارہ اپنی اپنی مدار میں فرض شناسی کے ساتھ گھوم رہا ہے۔ کل فی فلک یسبحون۔ (سورۂ یٰسین) اور سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
ایک بہت بڑی طاقت نے جو اپنی بے پناہ صلاحیت کے ساتھ اس عظیم کائنات کی تخلیق کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہوتا تو آپ کو وحی نازل ہونے سے پہلے گھنٹی جیسی آواز محسوس ہوتی تھی، اور پھر وحی کا نزول۔ آج گفت و شنید کے جو ذرائع ایجاد ہوئے ہیں ان سے بھی بات یا کوئی پیغام کو ریسیو کرنے سے قبل گھنٹی کی آواز آتی ہے یا کوئی ہلکا سا اشارہ، جس کو موجد (Inventor) نے قرآن سے ہی اخذ کیا ہے۔ گویا کہ سائنس کی ہر (Invention) ایجاد قرآن اور اللہ کی بے پناہ قدرت کا شاہکار ہے۔
اللہ نے سمندروں کو ٹھاٹے مارتا ہوا بنایا ہے۔ اور سیاروں کو سمندروں میں راستوں کی نشاندہی کے لیے۔ کائنات ایک عظیم اور قدرت کا شاہکار ہے۔ (Charles Darwin) چارلس ڈارون نے اپنی کتاب (Origin of Species) میں کہا ہے۔ انسان، پہلے سے انسان نہیں تھا۔ بلکہ بندر تھا، اور آہستہ آہستہ بنتا رہا۔ قرآن نے اس کی سب سے پہلے تردید کی۔ دنیا کا سب سے پہلا انسان آدمی کی شکل میں اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اور کوئی جرثومے سے نہیں مٹی سے پیدا کیا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کریم میں واضح ہے کہ اللہ نے انسان کی تخلیق کو ایک بہترین سانچے میں (Creation) پیدا کیا ہے۔ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔
چناں چہ (Charles Darwin) کے فرضیہ ارتقائی نظریہ کی تردید میں بہت سارے قدیم سائنس دان (Scientists) نے اللہ کی موجودگی (God Existence) اور ساری کائنات کی تخلیق کا اظہار کیا ہے۔ (Isaac Newton) اسحاق نیوٹن فادر آف فزکس رقم طراز ہے کہ یہ کائنات کا بہترین اور منظم سسٹم صرف ایک قادر مطلق (Omnipotent) کے ہی ایماء اور حکم سے رونما ہوسکتا ہے، اور رونما ہوا ہے۔
البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) کہتا ہے کہ میں (Atheist) ملحد نہیں ہوں، ایک طفل کے مانند ہوں جو ایک بہت بڑی لائبریری میں داخل ہوا ہوں۔ البیرونی اور ابن الہیثم جو مسلم سائنس دان ہیں، کہتے ہیں کہ سائنس خدائی نشانیوں اور اس کی خوبصورت تخلیق کو سمجھنے کا نام ہے۔ دور جدید کے سائنس دان جیسے پروفیسر فرانسس (Francis Collins) امریکہ، کہتا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے انسان کا پورا DNA بڑھنے والا، سائنس اور ایمان میں کوئی تضاد نہیں۔ مزید گویا ہے کہ DNA خدائے برتر کی لکھی کتاب ہے۔
پروفیسر کیتھ مور، (Professor Keith Moore) جو دنیا کا سب سے بڑا جنین (Embryology) کا ماہر تھا۔ قرآن میں جنین کے بارے میں آیات دیکھ کر مسلمان ہوا۔ جہاں قرآن کریم میں ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس کو نطفہ میں تبدیل کیا۔ جو محفوظ اور مخصوص جگہ ہے۔
غرض کہ دور قدیم اور دور جدید کے سائنس دانوں نے خدا کے وجود (Existence of God) اور اس کی خوبصورت تخلیق کا اظہار کیا ہے۔ چناں چہ (Charles Darwin) کے مفروضہ ارتقائی نظریہ کی مکمل تردید کی ہے۔ اور اس خام نظریہ کو گویا کہ ردی کی ٹوکری میں رکھ دیا گیا۔ یہ بات الگ ہے کہ کچھ یونیورسٹیز اس تھیوری کو پڑھاتی۔
گھڑی جو وقت بتاتی ہے، جو اپنے آپ نہیں بنتی، گھڑی کو بنانا پڑتا ہے۔ جب ایک معمولی گھڑی اپنے آپ نہیں بنتی، تو پھر یہ انسان اور اتنی بڑی کائنات (Automatic) کیسے وجود میں آتی۔ خدا مسبب الاسباب ہے، اور دنیا اور یہ لامتناہی کائنات کے تخلیق کا سبب بھی خدا ہی ہے۔ جو ہمیشہ سے ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔
ایک حرف خود سے نہیں بن سکتا، تو پھر اتنی عظیم کائنات کیسے تخلیق پاتی۔ ان فی خلق السموات والارض واختلاف الیل والنہار لایت لاولی الالباب۔ خدا کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ رات اور دن کی تبدیلی، جس میں غور و فکر اور تدبر کی دعوت سخن اور تلقین ہے۔
اللہ کا ارشاد ہے۔ اس کرۂ ارض پر گھومو اور سیاحت کرو، اور دیکھو کہ اللہ نے ظلم کرنے والوں اور ظالموں کا کیسا حال اور کیسی ان کی درگت بنائی۔ اور اللہ کی نشانیوں اور خوبصورت تخلیق پر غور کرو۔ یہ کائنات اور اس میں ہمہ قسم کی تخلیق انسان کو غور و فکر کی دعوت سخن دیتی ہے۔
چناں چہ اللہ کا ارشاد ہے، آسمانوں اور زمین کے درمیان جو ہے، اس کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ بلکہ ایک بامقصد زندگی گزارنے کا ذریعہ جو اللہ کو مطلوب ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس لامتناہی کائنات میں انسان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے اور نہیں کے برابر ہے۔ اور خدا کتنا عظیم ہے۔ جس نے ان پہاڑوں اور سمندروں اور اربوں سیاروں کو انسان کے لیے تھامے رکھا ہے۔
اس عظیم کائنات میں اللہ نے انسان کا مرتبہ صرف تقویٰ کی بنیاد پر رکھا ہے۔ تم میں بہترین وہ ہے جو تقویٰ پرست انسان ہے۔ وہ انسان اس کرۂ ارض پر چمکتے ہوئے سیارہ کی مانند ہے۔ اور اس کے برعکس ایک بجھا ہوا چراغ جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔
اللہ قرآن میں انسانوں سے مخاطب ہے۔ کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ آپ کو یوں ہی پیدا کیا گیا، کیا آپ میری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے۔ چناں چہ قرآن اور سائنس دونوں اس بات پر نشاندہی اور اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ دنیا یہ کائنات یوں ہی وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کا خالق (Creator) بڑی طاقت اور قدرت والا ہے۔
لیکن اتنی بڑی اور لا محدود کائنات میں صرف ایک انسان ہی ہے جب وہ آسائش میں ہوتا ہے تو اللہ کو بھول جاتا ہے۔ اور جب کوئی چھوٹی سی مصیبت آن پڑتی ہے تو وہ اللہ کو یاد کرتا ہے۔ قرآن نے کہا ہے۔ اے انسان تو اچھے اور برے اعمال کرنے میں مشقت اور محنت کرتے رہتا ہے۔ پھر ایک دن ایسا بھی نمودار ہوتا کہ تجھے مرنے کے بعد رب کے حضور حساب کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
چنانچہ یہ کائنات کی تخلیق اور انسان کی پیدائش اور موت خدا کی طرف سے محض ایک امتحان ہے۔ انسان اور جن کو اسی لیے پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے۔ یہ کائنات آسمان اور زمین بے فائدہ اور بے مقصد پیدا نہیں کیے گئے۔ اسی طرح انسان کی تخلیق اور پیدائش کا بھی ایک اہم مقصد ہے، اور وہ یہ کہ اللہ کی رضا اور اس کی عبادت اور اللہ کے احکامات پر زندگی گزاریں۔ قرآن کا نزول اسی لیے ہوا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے