कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسکول کا اصل کلچر کون بناتا ہے۔۔۔۔عمارت یا قیادت!

اچھا پرنسپل سب کو خوش نہیں کرتا، صحیح فیصلہ کرتا ہے!

تحریر: جنید عبدالقیوم شیخ سولاپور
( کالم نگار، مصنف، ماہر تعلیم)

ایک اسکول کی عمارت، خوبصورت کلاس روم، فرنیچر، نصاب، ٹیکنالوجی اور جدید سہولیات کو کسی حد تک نقل کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک مضبوط، مثبت اور بااصول اسکول کلچر کو نقل کرنا آسان نہیں۔ کیونکہ اسکول کا کلچر کسی ایک سرکلر، اصول, قانون یا میٹنگ سے نہیں بنتا؛ یہ روزانہ کے رویّوں، فیصلوں، عادات، گفتگو اور خاص طور پر قیادتِ کے طرزِ عمل سے بنتا ہے۔ پرنسپل کسی استاد کی غلطی پر کیسے ردِعمل دیتے ہیں، والدین کی شکایت کو کس طرح سنتے ہیں، مشکل وقت میں اپنی ٹیم کے ساتھ کیسے کھڑے ہوتے ہیں اور صحیح و غلط کے درمیان کس طرح فیصلہ کرتے ہیں—یہ سب پورے ادارے کے ماحول کو تشکیل دیتا ہے۔
قیادت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب غلطی یا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ اگر کسی استاد سے غلطی ہو جائے اور سربراہ فوراً غصے، ڈانٹ یا الزام تراشی کا راستہ اختیار کرے تو کچھ عرصے بعد ایک خطرناک ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ لوگ مسئلہ حل کرنے کے بجائے مسئلہ چھپانے لگتے ہیں۔ استاد سوال پوچھنے سے گھبراتا ہے، شکایت کو خطرہ سمجھتا ہے اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک سمجھدار قائد پوچھتا ہے: “غلطی کیوں ہوئی؟ اسے دوبارہ کیسے روکا جا سکتا ہے؟ اور اس کا بہتر حل کیا ہے؟” یہی انداز خوف کے ماحول کو سیکھنے کے ماحول میں تبدیل کرتا ہے۔
لیکن قیادت میں ایک دوسری انتہا بھی نقصان دہ ہے۔ بعض پرنسپل اساتذہ کے مسائل سنتے تو بہت ہیں، مگر ان کے حل کے لیے عملی قدم نہیں اٹھاتے۔ بظاہر یہ رویہ بہت نرم اور اچھا محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر ہر مسئلہ صرف سن لیا جائے اور فیصلہ نہ کیا جائے تو ادارے کا نظم و نسق آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ بعض اوقات ریٹائرمنٹ قریب ہونے کی وجہ سے بھی کوئی سربراہ مشکل فیصلوں سے بچنے اور ہر شخص سے خوشگوار تعلق برقرار رکھنے کو ترجیح دے سکتا ہے۔ لیکن ایک ادارے کو صرف ایسا سربراہ نہیں چاہیے جو سب کو خوش رکھے؛ اسے ایسا قائد چاہیے جو انصاف، اصول اور طلبہ کے مفاد میں صحیح فیصلہ کرنے کی ہمت رکھتا ہو، چاہے وہ فیصلہ ہر شخص کو پسند نہ آئے۔
اسی طرح ایک اور خطرناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خوشامد کو کارکردگی پر ترجیح ملنے لگے۔ اگر کام سے بچنے والے ملازمین، غیر ذمہ دار افراد یا بدتمیزی کرنے والے طلبہ کو صرف اس لیے برداشت کیا جائے کہ ان کے والدین بااثر ہیں یا انتظامیہ سے ان کے تعلقات اچھے ہیں، تو محنت کرنے والے اساتذہ کے اندر بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر بعض والدین اساتذہ یا اسکول کے خلاف ایسے مطالبات یا قواعد پیش کریں جو تعلیمی نظم و ضبط کو نقصان پہنچاتے ہوں، تو پرنسپل کا کام ہر مطالبہ مان لینا نہیں، بلکہ طلبہ کے بہترین مفاد، ادارے کے اصول اور انصاف کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: شکایت سننا اچھی قیادت ہے، لیکن ہر شکایت کو درست مان لینا اچھی قیادت نہیں۔ ایک اچھا سربراہ ہر فریق کو سنتا ہے، حقائق جانچتا ہے، صورتحال کو سمجھتا ہے اور پھر غیر جانب دارانہ فیصلہ کرتا ہے۔ اگر کسی استاد کے خلاف شکایت آئے تو صرف شکایت کرنے والے کی بات پر فیصلہ کرنا انصاف نہیں؛ اسی طرح کسی استاد کی بات صرف اس لیے نظر انداز کرنا بھی درست نہیں کہ سامنے والا والدین یا کوئی بااثر شخص ہے۔ قیادت کا اصل معیار تعلق نہیں، انصاف ہے۔
مشہور کتاب "دَ سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹو پیپل” (The 7 Habits of Highly Effective People) میں ایک اہم تصور فعال طرزِ عمل کا ہے۔ یہی اصول اسکول پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ایک مضبوط ٹیم صرف یہ نہیں کہتی کہ “مسئلہ ہے” بلکہ ساتھ یہ بھی سوچتی ہے کہ “اس کا ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے؟” جب پرنسپل سوال پوچھنے، سوچنے اور حل تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو اساتذہ صرف احکامات پر عمل کرنے والے افراد نہیں رہتے بلکہ ادارے کے مسئلہ حل کرنے والے افراد بن جاتے ہیں۔
اسی طرح کتاب "لیڈرز ایٹ لاسٹ” (Leaders Eat Last) میں اعتماد اور قیادت کے تعلق کو اہمیت دی گئی ہے۔ اسکول میں بھی حقیقی قیادت صرف عہدے کا نام نہیں۔ ایک ایسا پرنسپل جو اپنی ٹیم کو عزت دیتا ہے، غلطی پر رہنمائی کرتا ہے، ذمہ داری بانٹتا ہے اور مشکل وقت میں اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اساتذہ کے اندر ملکیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ پھر استاد یہ نہیں سوچتا کہ "یہ اسکول کا مسئلہ ہے” بلکہ سوچتا ہے: "یہ میرے ادارے کا مسئلہ ہے، مجھے اس کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔”
اسکول کے کلچر کو جانچنے کے لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ "آپ کو ہمارے اسکول کا ماحول کیسا لگتا ہے؟” اصل جواب روزمرہ کے رویّوں میں نظر آتا ہے۔ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو کیا استاد صرف مسئلہ لے کر آتا ہے یا ممکنہ حل بھی پیش کرتا ہے؟ کیا لوگ اپنی غلطیاں کھل کر بتاتے ہیں یا انہیں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ٹیم خود قدم اٹھاتی ہے یا ہر چھوٹی بات کے لیے حکم کا انتظار کرتی ہے؟ کیا محنت کرنے والے اور غیر ذمہ دار افراد کے لیے احتساب کا معیار ایک جیسا ہے؟ یہی ادارے کا حقیقی رپورٹ کارڈ ہے۔
ایک اچھے اسکول میں والدین بھی اہم فریق ہوتے ہیں، لیکن والدین کو خوش رکھنا اور والدین کے ہر مطالبے کو مان لینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ والدین کی رائے کو احترام سے سننا چاہیے، مگر فیصلہ ہمیشہ بچے کی تعلیم، تربیت، نظم و ضبط اور ادارے کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ اگر کسی بچے کی غلطی کو صرف اس لیے نظر انداز کیا جائے کہ اس کے والدین ناراض ہو سکتے ہیں، تو نقصان صرف ایک استاد یا ایک کلاس کا نہیں ہوتا؛ اس سے پورے اسکول کے نظم و ضبط کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر محنت کرنے والے استاد کو صرف اس لیے دباؤ میں رکھا جائے کہ کوئی شکایت نہ کرے، تو بالآخر اس کا اثر طلبہ کی تعلیم پر پڑتا ہے۔
آخر میں ایک بنیادی حقیقت یاد رکھنی چاہیے: "آپ کی ٹیم آپ کی عادتوں کا آئینہ ہوتی ہے۔” اگر سربراہ ہر مسئلے پر غصہ کرے گا تو ٹیم مسائل چھپائے گی۔ اگر سربراہ ہر فیصلہ دوسروں پر چھوڑ دے گا تو ٹیم بھی ذمہ داری سے بچے گی۔ اگر خوشامد کو کارکردگی پر ترجیح دی جائے گی تو محنت کی قدر کم ہو جائے گی۔ لیکن اگر سربراہ انصاف، اعتماد، جواب دہی، پہل اور مسئلہ حل کرنے کی سوچ کو روزانہ اپنے عمل سے ظاہر کرے گا تو یہی اقدار پوری ٹیم میں پھیلیں گی۔
ایک اچھا پرنسپل صرف اسکول نہیں چلاتا؛ وہ ایک ایسا ماحول بناتا ہے جہاں استاد مسئلہ چھپانے کے بجائے سامنے لائے، غلطی سے سیکھے، طالب علم نظم و ضبط سیکھے، والدین کو احترام سے سنا جائے، محنت کی قدر ہو اور ہر فیصلہ ذاتی پسند یا خوشامد کے بجائے طلبہ اور ادارے کے بہترین مفاد میں کیا جائے۔ کیونکہ آخرکار ایک اسکول کی اصل پہچان اس کی عمارت نہیں، اس کا فرنیچر نہیں، بلکہ وہاں کام کرنے والے لوگوں کے رویّے، اعتماد اور قیادت کا معیار ہوتا ہے۔
"اسکول چلانا آسان ہے، اسکول کا کلچر بنانا مشکل!”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے