कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وقت کی قدر اور علم کی روشنی کامیابی کا راز

تحریر: (مولانا)محمدمعروف سیدنپوری
رابطہ نمبر:9648997110

قوموں کی ترقی کا انحصار صرف قدرتی وسائل، معاشی طاقت یا آبادی کی کثرت پر نہیں ہوتا بلکہ ان کی اصل قوت وقت کی قدر، علم سے وابستگی، اعلیٰ اخلاق اور مضبوط فکری بنیادوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جن قوموں نے اپنے وقت کو قیمتی سرمایہ سمجھا، مطالعہ کو زندگی کا لازمی حصہ بنایا اور تعلیم کو کردار سازی کا ذریعہ بنایا، وہ دنیا کی قیادت کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس کے برعکس جو معاشرے وقت کی ناقدری، علمی جمود اور فکری بے حسی کا شکار ہوئے، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔وقت دراصل انسان کی زندگی کا دوسرا نام ہے۔ دولت، شہرت اور اقتدار دوبارہ حاصل کیے جا سکتے ہیں، مگر گزر جانے والا ایک لمحہ کبھی واپس نہیں آتا۔ اسی لیے وقت کا درست استعمال کامیاب زندگی کی پہلی شرط ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہماری اجتماعی زندگی میں وقت کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ فضول مشاغل، غیر ضروری مصروفیات اور سوشل میڈیا پر بے مقصد وقت گزارنا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں علمی ذوق، تخلیقی صلاحیت اور عملی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔بلاشبہ جدید ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے، مگر سہولت اور علم ایک ہی چیز نہیں۔ معلومات کی فراوانی کے باوجود فکری گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل مختصر ویڈیوز، چند سطروں پر مشتمل پوسٹوں اور سطحی مواد کو علم سمجھنے لگی ہے، حالانکہ حقیقی علم غور و فکر، تحقیق اور مسلسل مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے آج معلومات تو بہت ہیں، لیکن صاحبِ فکر اور صاحبِ بصیرت افراد کی تعداد کم ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔
مطالعہ انسان کی ذہنی، فکری اور روحانی نشوونما کا بنیادی ذریعہ ہے۔ کتاب محض کاغذ کے چند صفحات نہیں بلکہ صدیوں کے تجربات، مشاہدات اور دانش کا خلاصہ ہوتی ہے۔ ایک اچھی کتاب انسان کے سوچنے کا زاویہ بدل دیتی ہے، اس کے اندر سوال پیدا کرتی ہے، تحقیق کا جذبہ بیدار کرتی ہے اور حقیقت تک پہنچنے کی جستجو عطا کرتی ہے۔ یہی جستجو انسان کو عام افراد سے ممتاز بناتی ہے اور معاشروں کو ترقی کی راہ دکھاتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کتاب دوستی کا رجحان کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ گھروں میں کتابوں کی جگہ موبائل فون نے لے لی ہے اور لائبریریوں کی رونق ماند پڑتی جا رہی ہے۔ حالانکہ اسکرین کی چمک کبھی کتاب کے نور کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ کتاب انسان کو ٹھہر کر سوچنا سکھاتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا کا بیشتر مواد انسان کو جلد بازی، سطحیت اور غیر ضروری انتشار کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں دوبارہ مطالعہ کا ذوق پیدا کیا جائے اور انہیں کتاب سے دوستی کی ترغیب دی جائے۔
علم کی اشاعت میں قلم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ میں بے شمار ایسے انقلابات برپا ہوئے جن کی بنیاد تلوار نہیں بلکہ قلم تھا۔ طاقت حکومتیں قائم کر سکتی ہے، لیکن دلوں کو فتح صرف علم، حکمت اور کردار ہی کرتے ہیں۔ ادیب، مفکر اور دانشور ہر دور میں قوموں کی فکری رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ ادب انسان کو برداشت، محبت، ہمدردی اور رواداری کا درس دیتا ہے، جبکہ علمی تحریریں انسان کے شعور کو وسعت بخشتی ہیں اور اسے صحیح و غلط میں تمیز کرنا سکھاتی ہیں۔زبان بھی کسی قوم کی تہذیبی شناخت کا اہم ستون ہوتی ہے۔ ہر زبان اپنے اندر تاریخ، ثقافت، احساسات اور تہذیبی روایات کا ایک وسیع سرمایہ محفوظ رکھتی ہے۔ ہندوستان کی خوبصورتی بھی اس کے لسانی اور ثقافتی تنوع میں مضمر ہے، جہاں مختلف زبانیں اور ثقافتیں مل کر باہمی احترام اور ہم آہنگی کا خوبصورت نمونہ پیش کرتی ہیں۔ یہ تنوع ہمیں ایک دوسرے کے خیالات اور اقدار کا احترام کرنا سکھاتا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔تاریخ کا مطالعہ بھی قوموں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتی ہیں، وہ مستقبل کو زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار کرتی ہیں۔ تاریخ ہمیں صرف واقعات نہیں بتاتی بلکہ کامیابیوں اور ناکامیوں کے اسباب بھی واضح کرتی ہے، تاکہ آنے والی نسلیں انہی غلطیوں کو دہرانے سے محفوظ رہ سکیں۔اس تمام فکری اور تعلیمی گفتگو کے درمیان دینی تعلیم کی اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دینی تعلیم صرف چند مذہبی معلومات کا نام نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی، روحانی اور عملی تربیت کا مکمل نظام ہے۔ قرآن کریم انسان کو علم، تدبر، انصاف، دیانت، صبر، رحم اور خدمتِ خلق کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ سیرتِ طیبہ ان تمام تعلیمات کی عملی تفسیر ہے۔ یہی تعلیمات ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتی ہیں جہاں عدل، محبت، امانت اور احترامِ انسانیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔آج جب مادہ پرستی، خود غرضی اور اخلاقی زوال نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، دینی تعلیم پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا مقصد صرف دولت، عہدہ یا شہرت حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ کی رضا، اچھے اخلاق اور انسانیت کی خدمت بھی ہے۔ درحقیقت تمام آسمانی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان اپنے خالق سے تعلق مضبوط کرے اور مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مدارس اور دینی تعلیم کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ مدارس کے کردار کو محدود نظر سے دیکھتے ہیں، حالانکہ ایک مسلمان کی عملی زندگی کے ہر اہم مرحلے میں مدارس کے فارغین نمایاں خدمات انجام دیتے ہیں۔ بچے کی پیدائش پر اذان سے لے کر نکاح، عبادات، دینی رہنمائی اور وفات کے بعد نمازِ جنازہ تک، علماء ، حفاظ اور ائمہ مسلسل معاشرے کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کی ان خدمات کا اعتراف کرنا اور انہیں عزت و احترام دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ دور تخصص اور مہارت کا دور ہے۔ اس لیے دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم، جدید زبانوں، کمپیوٹر، ٹیکنالوجی، سماجی علوم اور معاشی مہارتوں کو بھی شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر مدارس کے طلبہ دینی علوم کے ساتھ جدید تقاضوں سے بھی واقف ہوں تو وہ نہ صرف مذہبی میدان بلکہ تعلیم، سماجی خدمت، قومی تعمیر اور فکری رہنمائی میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مسئلہ دینی تعلیم نہیں بلکہ ہماری ترجیحات اور محدود سوچ ہے۔ جب ہم علم کو جامع تصور کے ساتھ دیکھیں گے تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔
اسی طرح استاد کا کردار بھی انتہائی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ استاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ نسلوں کی تعمیر کرتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں کے اندر اعتماد، دیانت، نظم و ضبط، تحقیق اور کردار کی بنیادیں مضبوط کرتا ہے۔ دوسری طرف طالب علم کی ذمہ داری بھی صرف امتحان میں کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ علم کو اپنی عملی زندگی، کردار اور سماجی خدمت کا حصہ بنانا ہے۔ علم اور کردار کا باہمی رشتہ ہی کسی بھی معاشرے کو حقیقی ترقی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔والدین کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں نہایت اہم ہے۔ اگر بچپن ہی سے بچوں کو کتابوں سے محبت، سوال کرنے کی آزادی، تحقیق کا ذوق اور مطالعہ کی عادت دی جائے تو وہ مستقبل میں بہتر انسان، بہتر شہری اور بہتر رہنما بن سکتے ہیں۔ گھروں میں کتابوں کا ماحول، مطالعہ کے لیے مخصوص وقت اور علمی گفتگو نئی نسل کی شخصیت پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقت کی قدر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، مطالعہ کی روایت کو دوبارہ زندہ کریں، کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، دینی اور عصری تعلیم کے درمیان مصنوعی فاصلے ختم کریں اور نئی نسل کو علم، کردار اور اخلاق کے حسین امتزاج سے آراستہ کریں۔ صرف ڈگریاں، ملازمتیں اور معاشی کامیابیاں کسی قوم کی حقیقی ترقی کی ضمانت نہیں ہوتیں، بلکہ اصل ترقی وہ ہے جس میں علم کے ساتھ کردار، شعور کے ساتھ اخلاق اور کامیابی کے ساتھ انسانیت بھی پروان چڑھے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے