कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وقت کی تدبیر اور کامیابی کی شاہراہ

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی

زندگانی کا اصل سرمایہ روپیہ پیسہ یا مادی وسعتیں نہیں، بلکہ وہ ناپید کنار لمحے ہیں جو انسان کو خاموشی سے عطا کیے جاتے ہیں۔ جو قومیں یا افراد اس سرمائے کی قدر پہچان لیتے ہیں، زمانے کی باگ ڈور انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ نظامِ قدرت پر غور کیجیے؛ سورج کی کرنیں ہوں یا چاند کی گردش، فصلوں کا پکنا ہو یا موسموں کا بدلنا، ہر شئے ایک بہترین ترتیبی سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔ جب انسان اپنے روز و شب کو ایک منظم سانچے میں ڈھال لیتا ہے تو اس کا وجود بے مقصد نہیں رہتا، بلکہ اس کے قدم کامیابی و کامرانی کے اعلیٰ مدارج چھونے لگتے ہیں۔
بزرگانِ دین اور اکابرینِ امت کی حیاتِ طیبہ کا سب سے روشن پہلو یہی نظام العمل کی پابندی رہی ہے۔ انہی عظیم شخصیات میں سے ایک نمایاں نام حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جن کی زندگی کے ہر عمل میں نظم اور سلیقہ جھلکتا تھا۔ ان کا ایک فکر انگیز ارشادات ملاحظہ فرمائیے: *”ارشاد فرمایا کہ مجھے انضباطِ اوقات کا بچپن ہی سے بہت اہتمام ہے جو اس وقت سے لے کر اب تک بدستور موجود ہے اور یہ اسی کی برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر دینی کام مجھ سے لے لیا ہے۔ میں کبھی ایک لمحہ بھی بیکار رہنا برداشت نہیں کرتا۔ میرے استاد حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ ایک بار تھانہ بھون تشریف لائے۔ میں نے ان کے قیام اور راحت رسانی کے تمام ضروری انتظامات کئے۔ جب تصنیف کا وقت آیا تو بہ ادب عرض کیا کہ حضرت میں اس وقت کچھ لکھا کرتا ہوں، اگر حضرت اجازت دیں تو کچھ دیر لکھ کر پھر حاضر ہوجاؤں۔ فرمایا کہ ضرور لکھو، میری وجہ سے اپنا حرج ہرگز نہ کرنا۔ گو میرا دل اس روز کچھ لکھنے میں لگا نہیں لیکن ناغہ نہ ہونے دیا کہ بے برکتی نہ ہو۔ تھوڑا سا لکھ کر پھر جلد ہی حاضر خدمت ہوگیا۔ حضرت رحمہ اللہ کو تعجب ہوا کہ اس قدر جلد آگئے۔ عرض کیا حضرت صرف چند سطریں لکھ لی ہیں، معمول پورا ہوگیا۔”
(مآثر حکیم الامت، صفحہ 70)
حکیم الامت رحمہ اللہ کے اس واقعے سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ جب انسان اپنے مقررہ معمولات کو ہر حال میں قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو غیبی برکتیں اس کے سائے کی طرح ساتھ چلتی ہیں۔ استاذ محترم کی تشریف آوری اور ان کے بے حد احترام کے باوجود اپنے علمی معمول کو ترک نہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کام کی تسلسل میں ہی کامیابی کا راز چھپا ہے۔ ناغہ کرنے سے جو بے برکتی اور سستی پیدا ہوتی ہے، وہ انسان کو تدریجاً اپنے بڑے مقاصد سے دور کر دیتی ہے۔
آج ہماری زندگیوں میں سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ ہم اپنے دن رات کو کسی طے شدہ ضابطے کے تحت نہیں گزارتے۔ ہم گھنٹوں لائحہ عمل کے بغیر ضائع کر دیتے ہیں اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ وقت میں برکت نہیں رہی۔ اگر ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا وجود معاشرے کے لیے نافع بنے، ہماری محنتوں میں رنگ آئے اور علمی و عملی دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام پا سکے، تو ہمیں اپنے معمولات کو نظم و ضبط کا پابند بنانا ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے