कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نل کھل گیا

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

جون کا مہینہ تھا ، سورج اپنی بھرپور توانائی اور تیز ترین شعاؤں سے سر پرسوار تھا ،ندی نالے تالاب خشک ہوگئے تھے،لیکن بارش کے کوئی آثار دکھائی نہ دیتے تھے۔ لوگ کچھ پانی کے لیے پریشان ضرور تھے ۔ بور ویل کا پانی بھی تقریباً سوکھ چکا تھا، بہت دنوں سے نل کا کچھ کام کیا جارہا تھا،سارے گاؤں میں اسی کی چرچے ہوتے تھے، اس گاؤں کی پائپ لائن کسی دوسرے گاؤں یا شہر سے جوڑی جارہی تھیں۔۔ کام پورا ہوچکا تھا۔۔
اچانک کانوں میں آواز سنائی دی کہ نل کھل گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اب گاؤں والوں کا حال ملاحظہ فرمائیں۔۔۔پورے گاؤں میں ہل چل مچ گئی،اتنا کہ آج گدھے بھی چست نظر آنے لگے اور وہ بھی پانی بھرنے لگے۔ سارے برتن بھرے جانے لگے ،ہر چیز میں پانی ہی پانی نظر آتا تھا،۔ آج کے دن پڑوسیوں کے بیچ محض ایک بالٹی پانی کے لیے لڑائی ہوئی، اس دھما چوکڑی میں ایک چھوٹی سی بچی گر پڑی ، اس نے اپنے قیمتی آنسو بہائے لیکن کسی نے اس پر توجہ نہ دی ، اس کے آنسو نل کے پانی سے زیادہ قیمتی نہ تھے ۔ بہت سے بیت الخلاؤں میں بھی پانی ہی پانی تھا۔ ہفتوں بھرے میلے کچیلے بچے آج خوب نہا رہے تھے ، دادی اماں اپنی عینک کو بھی نہلا رہی تھیں، عورتوں کے جذبے جوش اور ہمت کو کسی نیوز میں بھی دکھایا جانے لگا، اگلے دن اخبار میں بھی ان کی تصویر چھپی اور ان کی تعریف پر ایک کالم بھی لکھا گیا، کہ وہ اپنے گھر ، بچے ، بکریاں اور بھینسوں کو بھی نہلا رہی تھیں، آج کے اس بے بہا خوشی والے دن جو مرد حضرات نے بھی شرفِ قبولیت بخشا اور اسے عید کا دن قرار دیا،کام سے آدھے دن کی چھٹی لے لی، اور خوشی کے اس موقع پر عورتوں کے لئے،بالٹی، برتن،ہانڈیاں،جگ جیسی چیزیں تحفے کے طور پر پیش کیے ، اس خوشی میں بوڑھیوں نے طعنے اور ڈانٹنے کے بجائے پانی بھرنے میں اپنے آپ کو مصروف رکھا، مہینوں بعد گھوڑے آج اچھل رہے تھے کیونکہ ان کا اصطبل آج دھو یا گیا تھا ورنہ اسے روزانہ گوچڑ اور جوئیں پریشان کر رہی تھیں، اونٹوں نے اگلے سال بھر کا پانی پی لیا تھا، آج بلی خالہ نےبھی چپ چاپ پانی ہر اکتفا کرلیا، بھینسوں،گائے اور بکریوں کے بس میں ہوتا تو وہ دودھ کے بجائے پانی ہی دیتیں، یہ دن صرف مسلمانوں کے لیے ہی عید کا دن نہ تھا ،بلکہ ہندوؤں کی دیوالی، عیسائیوں کے لیے کرسمس کا دن تھا، پورا گاؤں پانی پانی ہوگیا تھا جو گاؤں کی ندی کو شرمندہ کر رہا تھا جس میں بہت تھوڑا پانی تھا ،جس میں بچے کرکٹ کھیل رہے تھے یا کتے سو رہے تھے، پورا گاؤں صاف ستھرا دُھلا دُھلا دکھائی دیتا تھا،اس نل کھلے ہوئے خوشی کے  عید والےدن ایک مار پیٹ ہوئی تھی ،اس شخص کی جو وقت سے پہلے نل کا بٹن بند کرنے جارہا تھا۔۔۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے