कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نفرت کے شعلوں میں جھلستا نیپال

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔۔۔۹۹۳۴۹۳۳۹۹۲

ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں کے دامن میں آباد نیپال کو طویل عرصے تک مذہبی رواداری، تہذیبی تنوع اور بقائے باہمی کی ایک روشن مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ دنیا کی واحد ہندو ریاست کی حیثیت سے پہچانے جانے والے اس ملک نے 2007ء میں سیکولر ریاست کا اعلان کیا اور 2015ء کے آئین کے ذریعے مذہبی آزادی، مساوی شہریت اور بنیادی حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ اس آئینی پیش رفت سے یہ امید بندھی تھی کہ مذہبی شناخت کے بجائے آئین، قانون اور جمہوری اقدار ہی قومی وحدت کی بنیاد بنیں گی، مگر حالیہ فرقہ وارانہ کشیدگی نے اس امید کو سخت امتحان سے دوچار کر دیا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی ملک میں صرف آئین کا وجود امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ جب سیاسی مفادات مذہبی جذبات سے وابستہ ہونے لگیں، افواہیں حقائق پر غالب آ جائیں اور سوشل میڈیا اشتعال انگیزی کا مؤثر ذریعہ بن جائے تو مضبوط سے مضبوط آئینی ڈھانچہ بھی آزمائش میں پڑ جاتا ہے۔ نیپال کے حالیہ واقعات اسی تلخ حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہیں۔
ایک مذہبی جلوس کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی نے دیکھتے ہی دیکھتے تشدد کی شکل اختیار کر لی۔ واقعات کی تفصیلات کے بارے میں مختلف ذرائع متضاد دعوے کر رہے ہیں، اس لیے کسی بھی حتمی رائے سے قبل غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب قانون کو ہاتھ میں لیا جائے، مذہبی جذبات کو بھڑکایا جائے اور اشتعال انگیز نعروں کے ذریعے ہجوم کو مشتعل کیا جائے اور مزہبی عبادتگاہوں کو نشانہ بنایا جائےتو اس کا انجام صرف تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسے حالات میں نقصان کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔
نیپال کی مسلمان آبادی اگرچہ تعداد کے اعتبار سے محدود ہے، لیکن تجارت، صنعت، تعلیم، دستکاری اور سماجی خدمات کے میدان میں اس کی خدمات نمایاں رہی ہیں۔ دوسری جانب نیپال کی ہندو اکثریت نے بھی طویل عرصے تک مذہبی رواداری اور بقائے باہمی کی قابلِ قدر روایت کو برقرار رکھا ہے۔ اس لیے چند شرپسند عناصر کے طرزِ عمل کو پوری برادری کی فکر قرار دینا نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ سماجی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کے مترادف بھی ہے۔
دورِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر واقعہ اب صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرین پر بھی برپا ہوتا ہے۔ چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو، ادھوری خبر یا بے بنیاد افواہ ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کے جذبات کو مشتعل کر دیتی ہے۔اور جب تک حقیقت سامنے آتی ہے، بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس دوران جلنے والے مکانات، ویران بازار، خوف زدہ خاندان اور باہمی اعتماد کا ٹوٹ جانا ایسے نقصانات ہیں جن کی تلافی برسوں میں بھی ممکن نہیں ہوتی۔
اسی لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کو صرف امن و امان کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ ریاستی نظم، سیاسی قیادت، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں اور پورے سماج کے اجتماعی کردار کا بھی امتحان ہوتی ہے۔ اگر حکومت بروقت، غیر جانب دار اور مؤثر کارروائی کرے، میڈیا تصدیق کے بغیر سنسنی نہ پھیلائے اور مذہبی و سماجی قیادت تحمل، بردباری اور قانون کی پاسداری کا پیغام دے تو بہت سے سانحات پیش آنے سےقبل ہی روکے جا سکتے ہیں۔
فرقہ وارانہ تصادم کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ اس کی آگ صرف جان و مال کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ دلوں میں بداعتمادی کے ایسے زخم چھوڑ جاتی ہے جو آسانی سے مندمل نہیں ہوتے۔ جو لوگ کل تک ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کرتے تھے، ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے تھے، وہ اچانک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ نفرت کی سیاست دراصل اسی کیفیت سے اپنی طاقت حاصل کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے ہر واقعے کے بعد اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہئےکہ پہلا پتھر کس نے پھینکا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ حالات اس نہج تک کیوں پہنچے جہاں قانون کی گرفت کمزور اور ہجوم کا حوصلہ بلند ہو گیا۔ اگر ایک معمولی تنازع چند گھنٹوں میں خوف، تشدد اور بداعتمادی میں بدل جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی نظم، سیاسی قیادت اور سماجی شعور میں کہیں نہ کہیں ایسی کمزوریاں موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
نیپال کا 2015ء کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوی حقوق اور قانون کے یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ یہی کسی بھی جمہوری ریاست کی اصل بنیاد ہے۔ اس لیے اگر کسی بھی مذہبی یا نسلی گروہ کو تشدد، دھمکی یا امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صرف ایک برادری کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ آئین کی بالادستی کا سوال بن جاتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ فریق کی مذہبی شناخت سے قطع نظر قانون کے مطابق کارروائی کرے، شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے اور انصاف کو ہر حال میں غالب رکھے۔ انصاف کی بنیاد مذہب، نسل یا سیاسی وابستگی نہیں بلکہ جرم اور ثبوت ہونے چاہییں۔
جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے ایک فطری حقیقت ہے، لیکن اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قانون اسی لیے وجود میں آتا ہے کہ کوئی فرد یا گروہ خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔جب ہجوم قانون کی جگہ لینے لگے، جذبات عقل و استدلال پر غالب آ جائیں اور مذہبی شناخت قانون شکنی کی ڈھال بن جائے تو ریاست کی عمل داری کمزور پڑنے لگتی ہے، معاشرتی توازن بکھر جاتا ہے اور انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں ذرائع ابلاغ کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ صحافت اگر تحقیق، توازن اور دیانت داری کے اصولوں پر قائم رہے تو وہ بحران کے دوران بھی اعتماد کی فضا قائم رکھ سکتی ہے، لیکن اگر خبر کی صحت پر رفتار کو ترجیح دی جائے، غیر مصدقہ ویڈیوز اور اشتعال انگیز مواد کو بلا تحقیق نشر کیا جائے تو میڈیا خود بھی مسئلے کا حصہ بن جاتا ہے۔ ڈیجیٹل دور نے معلومات کی ترسیل کو تیز ضرور بنایا ہے، مگر جھوٹ، افواہوں اور نفرت انگیز مہمات کی رفتار بھی اسی تناسب سے بڑھ گئی ہے۔ ایسے حالات میں ذمہ دار، متوازن اور تحقیق پر مبنی صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
مذہبی قائدین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہر مذہب امن، انصاف، رواداری اور انسانی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر مذہبی اجتماعات اور عبادت گاہوں سے برداشت، مکالمے اور قانون کی پاسداری کا پیغام دیا جائے تو بہت سی کشیدگیاں ابتدا ہی میں ختم ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس نفرت انگیز زبان اور اشتعال پر مبنی خطابات وقتی جوش تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن ان کے اثرات معاشرے میں طویل عرصے تک باقی رہتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مذہبی جذبات کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، اس کا خمیازہ پورے معاشرے نے بھگتا۔ فسادات ختم ہو جاتے ہیں، مگر ان کے چھوڑے ہوئے زخم آسانی سے نہیں بھرتے۔ اعتماد ٹوٹ جائے تو اسے بحال کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں، جبکہ نفرت پھیلانے کے لیے چند لمحے ہی کافی ہوتے ہیں۔
تاریخ بار بار یہی سبق دہراتی ہے کہ نفرت وقتی فائدہ ضرور دے سکتی ہے، لیکن پائیدار امن کبھی نہیں۔
نیپال کے حالیہ واقعات بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھے جانے چاہییں۔ ملک کی اصل طاقت اس کے بلند و بالا پہاڑ، سیاحتی مقامات یا قدرتی حسن میں نہیں بلکہ اس کی تہذیبی ہم آہنگی اور مذہبی تنوع میں پوشیدہ ہے۔ مختلف عقائد کے ماننے والوں نے صدیوں تک ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر اس معاشرے کو استحکام بخشا ہے۔ اگر یہی سماجی ہم آہنگی کمزور پڑ جائے تو نقصان کسی ایک مذہبی طبقے کا نہیں بلکہ پورے نیپال کا ہوگا۔
ریاست کی ذمہ داری صرف حالات پر وقتی قابو پانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب حالات معمول پر آ جائیں۔ غیر جانب دارانہ تحقیقات، قصورواروں کا بلاامتیاز احتساب، متاثرین کی بازآبادکاری، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر کارروائی اور مختلف مذہبی طبقات کے درمیان اعتماد کی بحالی ایسے اقدامات ہیں جن کے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اسی کے ساتھ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو بھی رواداری، آئینی شعور اور بین المذاہب احترام کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
اسلام کی تعلیمات بھی اسی اصول کی مؤید ہیں، جہاں عدل و انصاف کو ہر حال میں مقدم رکھا گیا ہے۔ قرآن مجید عدل و انصاف کو ہر حال میں قائم رکھنے کی ہدایت دیتا ہے اور کسی قوم یا گروہ سے اختلاف کو انصاف سے انحراف کا جواز نہیں بناتا۔ اسی طرح ایک بے گناہ انسان کی جان کے تحفظ کو پوری انسانیت کے تحفظ کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہی اصول جدید آئینی ریاستوں کی روح بھی ہیں، جہاں شہریوں کے حقوق کا تحفظ مذہبی وابستگی کے بجائے قانون اور ثبوت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
نیپال کی سیاسی قیادت کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ مذہبی جذبات سے کھیل کر وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی قیمت قومی استحکام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ مضبوط ریاستیں تقسیم کی سیاست سے نہیں بلکہ مساوی شہریت، آئینی بالادستی اور قانون کی غیر جانب دارانہ عمل داری سے وجود میں آتی ہیں۔
نیپال کا موجودہ بحران پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔ اگر سیاست نفرت کے بجائے انصاف، اور تقسیم کے بجائے مساوی شہریت کو اپنی بنیاد بنائے تو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والے بھی ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہی راستہ نیپال کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے اور پورے خطے کے لیے امید کا پیغام بھی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نفرت کے شعلے بظاہر بہت بلند دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے، جبکہ ان کی تباہی دیرپا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس انصاف، رواداری اور قانون کی بالادستی وہ اقدار ہیں جو قوموں کو استحکام اور عزت عطا کرتی ہیں۔
اگر نیپال اس بحران سے یہ سبق حاصل کر لیتا ہے کہ پائیدار امن کی بنیاد طاقت نہیں بلکہ انصاف، رواداری اور قانون کی بالادستی ہے تو یہ تلخ تجربہ اس کے مستقبل کو زیادہ مضبوط بنا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر نفرت کی آگ کسی ایک شہر، ایک برادری یا ایک نسل تک محدود نہیں رہے گی۔ تاریخ کا اٹل سبق یہی ہے کہ قومیں نفرت سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں؛ تعصب سے نہیں، رواداری سے ترقی کرتی ہیں؛ اور انتقام سے نہیں، انسانیت سے اپنا مستقبل محفوظ بناتی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے