कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ناندیڑ میں بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے کے سبب 7 سالہ معصوم بچے کی المناک موت، علاقے میں غم و غصے کی لہر

ناندیڑ: 7؍جون(نمائندہ اعتبار) ناندیڑواگھالہ شہر میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 12 میں واقع حمیدیہ کالونی میں بجلی کے ایک کھمبے میں اترے ہوئے کرنٹ کی زد میں آکر 7 سالہ معصوم بچے کی المناک موت کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس سانحہ کے بعد پورے علاقے میں غم کی فضا چھا گئی ہے، جبکہ مہاوترن (ایم ایس ای بی) کی مبینہ لاپرواہی کے خلاف شہریوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔متوفی بچے کی شناخت عادل ساجد خان پٹھان (عمر 7 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔ اس کے والد ساجد خان پٹھان تعلقہ لوہا کے متوطن ہیں اور روزگار کی غرض سے ناندیڑ کی حمیدیہ کالونی میں مقیم تھے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق 6؍جون کو شام تقریباً ساڑھے سات بجے عادل گھر سے کھیلنے کے لیے باہر گیا تھا۔ کافی دیر گزرنے کے باوجود جب وہ واپس نہ لوٹا تو اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کردی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی شہریوں سے تلاش میں تعاون کی اپیل کی گئی۔رات گئے علاقے سے گزرنے والے ایک گاڑی ڈرائیور نے بجلی کے کھمبے کے قریب ایک بچے کو زمین پر پڑا ہوا دیکھا۔ اس نے فوری طور پر مقامی افراد کو اطلاع دی۔ شہری جب موقع پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ عادل کی موت کرنٹ لگنے کے سبب ہو چکی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق علاقے میں ٹوٹی ہوئی سروس وائر کے باعث بجلی کا کرنٹ کھمبے میں اتر آیا تھا۔ ماہرین کے مطابق بارش کے موسم سے قبل بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی کو متعدد احتیاطی اور مرمتی کام انجام دینا ضروری ہوتے ہیں، اور اگر یہ کام مناسب طریقے سے نہ کیے جائیں تو ایسے حادثات رونما ہوسکتے ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ خطرناک بجلی کی تاروں، ٹوٹی ہوئی وائرنگ اور بجلی کی فراہمی سے متعلق مسائل کے بارے میں کئی مرتبہ دیگلور ناکہ کے مہاوترن دفتر میں شکایات درج کرائی گئی تھیں، لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ حکام نے مسلسل شکایات کے باوجود لاپرواہی برتی۔ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں کرنٹ لگنے سے ایک بکری ہلاک ہو چکی تھی، تاہم ضروری مرمت اور حفاظتی اقدامات نہ کیے جانے کے نتیجے میں اب ایک معصوم بچے کی جان چلی گئی، جس پر عوام نے شدید افسوس کا اظہار کیا۔حادثے کے بعد عادل کو فوری طور پر سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔اس دلخراش واقعہ کے بعد مشتعل شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ذمہ دار افسران کے خلاف قتلِ خطا کا مقدمہ درج کیا جائے اور متوفی بچے کے اہل خانہ کو فوری مالی امداد اور انصاف فراہم کیا جائے۔ شہریوں کا سوال ہے کہ بار بار شکایات کے باوجود غفلت برتنے والے افسران کی جواب دہی طے کی جائے گی یا نہیں۔ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے