कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آئینہ خانہ: جین-زی کا انسٹاگرام انقلاب اور ’نیشنل ٹیکسٹنگ ایجنسی‘

از : سید رشید اللہ حسینی ، اطہر کلیم احمد

ہماری سیاست میں استعفے کا مطلب اپنی ناکامی یا غلطی ماننا بالکل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ”دیکھو، میں اتنا نیک اور پارسا ہوں کہ مجھ سے تمہارے بچوں کی یہ پڑھائی لکھائی اور فضول قسم کی محنت برداشت نہیں ہو رہی۔“ دھرمیندر پردھان جی کا حالیہ استعفیٰ بھی دراصل سیاسی تاریخ کی وہ عظیم الشان قربانی ہے جسے پڑھ کر شاید سقراط بھی زہر کا پیالہ پینے کے بجائے اپنا استعفیٰ ٹائپ کرنے بیٹھ جاتا۔ پردھان جی کا استعفیٰ نامہ غور سے پڑھیں تو لگتا ہے وہ وزیرِ تعلیم نہیں، بلکہ ہمدردی اور جذبات کا کوئی چلتا پھرتا ڈسپنسر ہیں۔ ان کا فرمانا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ اس لیے دیا تاکہ ”ملک دشمن طاقتیں“ اس صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں۔ یعنی وہ پیپر مافیا جو پرچے بیچ کر کروڑوں کما گیا، وہ تو سچا محبِ وطن تھا، اصل ملک دشمن تو وہ نالائق طلبہ ہیں جو سال بھر کتابوں میں سر دے کر پڑھنے کے بعد اب امتحان میں پاس ہونے کی غیر آئینی ڈیمانڈ کر رہے تھے! حکومت نے کتنی شاندار ”ہوم ڈیلیوری ایجوکیشن اسکیم“ نکالی تھی کہ بچارے طلبہ کو امتحانی مرکز جانے کی زحمت ہی نہ کرنی پڑے اور پرچہ رات کو ہی واٹس ایپ پر نازل ہو جائے، مگر کیا کریں، اس ملک میں اچھی اور تیز سروس کی کسی کو قدر ہی نہیں۔ ادھر کانگریس اور اپوزیشن کا حال اس مرغے جیسا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ سورج اسی کی اذان سے نکلتا ہے۔ جیسے ہی وزیر موصوف نے استعفے کا لولی پاپ عوام کی طرف اچھالا، کانگریس نے فوراً لپک کر اسے ہندوستان کے ”جین-زی“ (Gen-Z) اور راہل گاندھی کا لایا ہوا انقلاب قرار دے دیا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جس نئی نسل کو کل تک پب جی اور انسٹاگرام پر ریلز بنانے کے طعنے دیے جاتے تھے، آج ان کی لاٹھیوں سے سُجی پیٹھ پر اپوزیشن اپنا سیاسی اسپاٹ لائٹ چمکا رہی ہے۔ جین-زی نے بھی ثابت کر دیا کہ وہ صرف سوشل میڈیا پر برانڈز کو ”کینسل“ نہیں کرتے، موڈ میں آئیں تو پوری کی پوری وزارت ہی کینسل کر دیتے ہیں۔ البتہ جنتر منتر پر دہلی پولیس نے طلبہ کو لاٹھیوں کا جو جدید اور خصوصی ”فزیکل ایجوکیشن پیکج“ فراہم کیا ہے، اس کے بعد شاید ہی کوئی طالب علم اب ڈاکٹر بننے کا سوچے، اب سب ڈبلیو ڈبلیو ای کے اکھاڑے کی ہی تیاری کریں گے۔ پرکاش راج اور سوناکشی سنہا جیسی فلمی شخصیات کا ٹویٹر پر ہمدردی جتلانا تو اس پورے ٹریجڈی ڈرامے میں وہ آئٹم نمبر تھا جس کے بغیر کوئی بھی بالی ووڈ اسکرپٹ نامکمل رہتا ہے۔
اور اب آتے ہیں اس پوری کامیڈی فلم کے سب سے شاہکار اور سسپنس سے بھرپور کلائمکس پر۔ غصے سے بپھری ہوئی سرکار نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (جسے اس کی خدمات کے پیشِ نظر اب ’نیشنل ٹیکسٹنگ ایجنسی‘ کہنا زیادہ مناسب ہے) کے ۴۷؍ افسران کو راتوں رات فارغ کر دیا ہے۔ یقین جانیے، یہ ۴۷؍ افراد سسٹم کے وہ خطرناک ترین ماسٹر مائنڈز ہوں گے جن کا اصل کام دفتر میں فوٹو کاپی مشین کا پلگ لگانا، ڈائریکٹر صاحب کی کرسی سیدھی کرنا اور کلرکوں کو چائے پلانا ہوگا۔ اصل مگرمچھ تو اب بھی اسی تالاب کے ٹھنڈے پانی میں مزے سے تیر رہے ہیں اور اگلے سال کے پیپرز کی بولی لگانے کا ٹینڈر تیار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت نے یہ دھماکہ خیز اور ہنسنے پر مجبور کر دینے والادعویٰ بھی کیا ہے کہ اگلے صرف ۳۰؍ دن میں ایک ایسا ”لیک پروف“ نظام بنایا جائے گا کہ ’لیک مافیا‘ تو کیا، خود پرچہ بنانے والے کو بھی نہیں پتہ ہوگا کہ اس نے پرچے میں کیا سوالات ڈالے ہیں۔ جس ملک میں کروڑوں روپے کا نیا نویلا فلائی اوور پہلی بارش میں شرما کر زمین میں دھنس جاتا ہو، وہاں ۳۰؍ دن میں ایسا فول پروف ڈیجیٹل نظام لانے کی بات پر تو خود ہالی ووڈ کی سائنس فکشن فلمیں بھی ٹینشن میں آ جائیں۔ ویسے اس ”لیک پروف“ نظام کا ایک نہایت آسان، سستا اور دیسی حل یہ بھی ہے کہ حکومت امتحانات لینے کی فرسودہ روایت ہی سرے سے ختم کر دے۔ نہ امتحان ہوگا، نہ پرچہ چھپے گا، اور نہ ہی لیک ہوگا۔۔۔ سیدھا ماسٹر اسٹروک! جب تک ایسا نہیں ہوتا، طلبہ کو چاہیے کہ قلم اور کتاب کے ساتھ ساتھ تھوڑا بہت جوڈو کراٹے بھی سیکھ لیں، کیا پتا کل کو پرچہ پاس کروانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالت کے جج کو بھی باکسنگ رنگ میں ہرانا پڑے۔ یہاں اصل المیہ یہ نہیں کہ پرچے لیک ہو رہے ہیں، بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے نظامِ تعلیم کو ایک ایسی چھلنی بنا دیا ہے جس میں سوراخ بند کرنے کے بجائے ہم صرف چھلنی کا رنگ بدل کر خوش ہو جاتے ہیں۔ ایک وزیر کا استعفیٰ اور ۴۷؍ افسران کی قربانی دراصل اس پرانے اور بوسیدہ تھرلر ڈرامے کا نیا سین ہے جس میں اصل ولن کبھی نہیں پکڑا جاتا، بس ہجوم کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے چند کمزور پیادوں کو سولی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ ہمارے اربابِ اختیار کا کمالِ وژن دیکھیے کہ وہ طلبہ کو صرف نصابی کتابوں کے رٹے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ ان کا ماننا ہے کہ آج کا طالب علم اگر صرف فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی ہی پڑھے گا تو عملی دنیا کی چالاکیوں کا مقابلہ کیسے کرے گا؟ اس لیے اسے ’پریکٹیکل لائف‘ کی ٹریننگ دینے کے لیے پہلے جنتر منتر پر پولیس کی لاٹھیاں کھانا سکھایا جاتا ہے، پھر تاریخ کی طویل ترین عدالتی پیشیوں کے ذریعے قانون کا سبق دیا جاتا ہے، اور آخر میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر نظام آپ کے حق پر ڈاکہ ڈالے تو سڑکوں پر گلا کیسے پھاڑنا ہے۔ یہ وہ ’جامع اور عملی تعلیم‘ ہے جو دنیا کی کوئی آکسفورڈ یا کیمبرج یونیورسٹی نہیں دے سکتی، یہ اعلیٰ ترین سہولت صرف ہمارے دیسی اور ’آتم نربھر‘ تعلیمی ماڈل میں ہی دستیاب ہے۔
قصہ مختصر، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری اس سیاسی دنگل میں اگر کوئی واقعی چاروں خانے چت گر رہا ہے، تو وہ ان لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل ہے جو اس پرانی خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ محنت اور قابلیت سے کوئی بھی میدان مارا جا سکتا ہے۔ انہیں اب یہ کڑوا سچ نگل لینا چاہیے کہ ہمارے ہاں میڈیکل کی سیٹ قابلیت سے نہیں، بلکہ ”جگاڑ، سفارش اور استقامت“ کے سنہرے ٹرائینگل سے ملتی ہے۔ حکومت کے ۳۰؍ روزہ ’لیک پروف‘ دعوے پر بس اتنی ہی امید رکھی جا سکتی ہے کہ شاید اگلی بار پرچہ واٹس ایپ کے بجائے کسی زیادہ جدید اور محفوظ ایپ پر لیک ہو، تاکہ ڈیجیٹل انڈیا کا بھرم بھی قائم رہے اور مافیا کا منافع بخش کاروبار بھی۔ اگر حالات یہی رہے تو حیرت نہیں ہوگی کہ حکومت بہت جلد عوام کی سہولت کے لیے ”پردھان منتری پیپر لیک بیمہ یوجنا“ جیسی کوئی شاندار اسکیم متعارف کروا دے، تاکہ پرچہ آؤٹ ہونے کی صورت میں کم از کم طلبہ کے امتحان کی فیس تو ’’کلیم‘‘ کی جا سکے۔ تب تک جین-زی کو چاہیے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز کو فل چارج رکھیں، کیونکہ کیا پتا نیا امتحانی نظام اتنا ڈیجیٹل ہو جائے کہ اگلا امتحان امتحانی مرکز میں نہیں، بلکہ سیدھا ٹویٹر کے کسی ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ پر دینا پڑے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے