कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ناندیڑ:گھریلو کچرا مینجمنٹ قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور فوجداری کارروائی

کارروائی کے اختیارات ضلع کلکٹر کو

ناندیڑ:21؍مئی ( نمائندہ اعتبار) ضلع کے تمام شہریوں اور BWG (بڑے پیمانے پر کچرا پیدا کرنے والے اداروں) سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھریلو کچرا مینجمنٹ قواعد 2026ء اور معزز سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے اطراف کو صاف ستھرا رکھیں۔ ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ فوجداری کارروائی بھی کی جائے گی، ایسا انتباہ ضلع کلکٹر راہول کرڈیلے نے دیا ہے۔حکومتِ ہند کی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے گھریلو کچرا مینجمنٹ قواعد 2026ء نافذ کیے گئے ہیں، جن پر یکم اپریل 2026ء سے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ اسی طرح معزز سپریم کورٹ کے 5 مئی 2026ء کے حکم کے مطابق ناندیڑ ضلع میں 14 مئی 2026ء کو ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے۔ان قواعد کے مطابق ہر شہری کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے گھریلو کچرے کو چار اقسام میں تقسیم کرے: گیلا کچرا، خشک کچرا، سینیٹری کچرا اور گھریلو خطرناک کچرا، اور اسے گھنٹہ گاڑی کے حوالے کرے۔ کھلے مقامات پر کچرا جلانا ممنوع ہے۔ عوامی مقامات یا نالیوں میں کچرا پھینکنے کی اجازت نہیں ہے۔ سینیٹری پیڈ اور ڈائپر کو مناسب طریقے سے لپیٹ کر صفائی عملے کے حوالے کیا جائے۔ کسی بھی صورت میں طبی یا خطرناک کچرا گھریلو کچرے میں شامل نہ کیا جائے۔ سڑک کے کنارے کاروبار کرنے والے دکاندار اور تاجر بچا ہوا کھانا، استعمال شدہ پلیٹیں، گلاس، کپ، کین، ناریل کے چھلکے اور پیکنگ مواد سڑک پر نہ پھینکیں بلکہ الگ الگ ڈبوں میں محفوظ کریں۔قواعد کے تحت Bulk Waste Generator یعنی رہائشی سوسائٹیز، اپارٹمنٹس، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے، ریلوے و بس اسٹیشن، مالز، ہوٹل، اسپتال، مارکیٹ، شادی ہال اور اسٹیڈیم وغیرہ، جن کا رقبہ 20 ہزار مربع میٹر ہو یا روزانہ 40 ہزار لیٹر پانی استعمال کرتے ہوں یا روزانہ 100 کلو یا اس سے زیادہ کچرا پیدا کرتے ہوں، ان کے لیے لازم ہے کہ وہ کچرے کی درجہ بندی کرکے گیلا کچرا وہیں پراسیس کریں اور خشک و سینیٹری کچرا میونسپل اداروں یا مجاز ایجنسیوں کے حوالے کریں۔ اگر کوئی ادارہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا تو ضلع کلکٹر کو اس کے پانی اور بجلی کی فراہمی بند کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
گیلا کچرا:
اس میں کھانے پینے کی باقیات، سبزیاں، پھولوں کی پنکھڑیاں، گھاس، باغیچہ کا کچرا، کاغذ کے ٹکڑے، دودھ و دہی کے برتن اور جانوروں کی خوراک کی باقیات شامل ہیں۔
خشک کچرا:
پلاسٹک (بوتل، پاؤچ، بیگ)، کاغذ (اخبارات، رسائل، کتابیں)، دھات (ایلومینیم، اسٹیل، تانبا)، شیشہ، لکڑی، ربڑ، پرانے کپڑے وغیرہ شامل ہیں۔
سینیٹری کچرا:
سینیٹری پیڈ، ڈائپر، فیس ماسک، وائپس، دستانے، ادویات کی بوتلیں و پیکنگ اور متعدی مواد شامل ہیں۔
گھریلو خطرناک کچرا:
بیٹریاں، ٹیوب لائٹس، بلب، کیڑے مار ادویات، ای۔کچرا (پرانے موبائل، کمپیوٹر پارٹس) اور کیمیائی مادے جیسے پینٹ اور زہریلے مائعات شامل ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے