कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مطالعہ ترقی یافتہ قوموں کا پوشیدہ راز

تحریر:محمد عادل ارریاوی
8235703061

زندہ قوموں کی پہچان ان کے مطالعہ سے ہوتی ہے۔ کتاب سے وابستگی انسان کے علم فکر اور کردار کو نکھارتی ہے اسی لیے مطالعہ ہر طالبِ علم اور ہر صاحبِ شعور کی ناگزیر ضرورت ہے۔
علم انسان کو دیگر مخلوقات سے امتیاز عطا کرتا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ علم انسان کی بنیادی ضرورت بھی ہے اور اس کے حصول کے جہاں دیگر ذرائع ہیں وہیں ایک معتبر و مضبوط ذریعہ مطالعہ بھی ہے۔
مطالعہ نہ صرف ذاتی ترقی کا باعث ہے بلکہ مذہب وملت اور معاشرے کی تعمیر وترقی کا بھی اہم عصر ہے۔ مطالعہ کی اہمیت یوں بھی واضح ہے کہ انسان اس کے ذریعے آہستہ آہستہ اپنی معلومات میں وسعت پیدا کرتا ہے جس کی بدولت اس کی فکر و نظر کا زاویہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
الغرض مطالعہ استعداد کی کنجی اور صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا بہترین آلہ ہے۔
لغت میں مطالعہ کا معنی یہ لکھا ہے کہ کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا ۔ ( اردو لغت ج ۱۸ ص ۲۱۵) مطالعہ کے اور بھی معانی ہیں جیسے غور توجه دھیان وغیرہ (فیروز اللغات ) جب کہ اصطلاح میں بذریعہ تحریر مصنف یا مؤلف کی مراد سمجھنا مطالعہ کہلاتا ہے۔
مطالعہ سے علم بڑھتا ہے یادر ہے کہ علم سیکھنے ہی سے آتا ہے اس کے حصول کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے۔ حدیث شریف میں فرمایا گیا: إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلم ترجمہ بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے۔ (کنز العمال ج ۱۰ ص ۱۰۴) اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ مطالعہ ہے۔
مطالعہ حصول معرفت کا ذریعہ ہے یہ حقیقت ہے کہ انسان کتاب کے مطالعہ سے آغاز کرتا ہے اور پھر کائنات کے مطالعہ ( مشاہدہ) کی طرف متوجہ ہوتا اور پھر اس پر درجہ بدرجہ کا ئنات کے سربستہ رازوں کے پردے کھلتے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان معرفت نفس و جہاں سے ترقی کرتے کرتے معرفت باری تعالیٰ کے راستوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ گویا مطالعہ معرفت کے لئے سیڑھی کا کام کرتا ہے۔
مطالعہ سے عقل وشعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزتیں سمیٹتا ہے اور بے شعور کے حصہ میں اکثر نا کامی وذلت آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا بولنا اور کیا کرنا ہے یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول و فعل ادا کرتا ہے اور بے شعور کو سوچنے سمجھنے کی نوبت ہی نہیں آتی لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے بس وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔
مطالعہ انسان کی دینی اور دنیاوی دونوں ترقیوں کا سبب بنتا ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اگر مقاصد معین کر کے مطالعہ کیا جائے تو وہ دین اور دنیا دونوں کی ترقی سے ہم کنار کرتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ ہر دو لحاظ سے مطالعہ کی سمت درست ہو۔
تعلیم کے ذرائع عموم مدارس اور اسکول ہوتے ہی انھیں سے پڑھ کر بڑے بڑے عالم فلسفی ڈاکٹر اور انجینئر تیار ہوتے ہیں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں نے چونکہ بڑے مدرسہ یا بڑے اسکول میں تعلیم پائی ہے اس لئے وہ بڑا عالم یا بڑا ڈاکٹر ہے صحیح بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے آدمی بڑا عالم یا زیادہ پڑھا لکھا اس سے نہیں ہوتا کہ اس نے کسی بڑے مدر سے واسکول میں تعلیم پائی ہے اگر ایسا ہوتا تو ایک ہی مدرسہ واسکول کے تعلیم یافتہ لوگوں میں علم کی کمی و زیادتی کا یہ فرق ہم نہ دیکھتے جو روزانہ کا تجربہ ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ بڑے مدرسہ کے تعلیم یافتہ ہونے کا اس کی ذہنی صلاحیت پر اثر ضرور پڑتا ہے۔
بڑوں کی عظمت کا راز یہ ہے کہ انھوں نے مدرسوں اور اسکولوں میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ برابر مطالعہ اور ان تھک کوششوں سے انھوں نے اپنے علم کو وسیع کیا اپنی معلومات کو بڑھایا اسکولوں اور مدرسوں میں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ تعلیم کی انتہاء نہیں ہوتی اُسے تعلیم کی ابتداء کہنا چاہئے وہ آگے ترقی کا زینہ ہوتی ہے وہ راستہ بتاتی ہے کہ اب تم خود اپنی محنت سے آگے بڑھو اور تمہارا طریقہ اس سلسلہ میں یہ ہونا چاہئے چونکہ بڑے لوگوں نے اس راز کو جانا اسی لئے انھوں نے اپنی رسمی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کبھی بھی اپنی تعلیم کو کم نہیں سمجھا وہ برابر مطالعہ سے اپنے علم کو جلا بخشتے رہے بڑھاتے رہے اپنے کو ساری عمر طالب علم سمجھنے پر فخر محسوس کرتے رہے مدرسہ و اسکول کی تعلیم اگر تعلیم کی انتہاء ہوتی تو آج دنیا میں مختلف موضوعات وفنون پر یہ ساری کتابیں وجود میں نہ آتیں یہ مطالعہ ہی کی برکت ہے کہ جس سے انسان کے علم اور جانکاری میں اضافہ ہوتا ہے اس کی معلومات بڑھتی ہیں اور وہ اس قدر ترقی کرتا جا رہا ہے مدرسہ کے نصاب تعلیم کے علاوہ خارجی مطالعہ بہت اہمیت رکھتا ہے گذشتہ دور میں بھی اس کی اہمیت مسلم تھی اور آج بھی اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
کسی کہنے والے نے سچ کہا ہے کہ مطالعہ روح کی غذا ہے اس میں شک نہیں کہ بات بالکل صحیح ہے اس سے بھلا کے انکار ہو سکتا ہے لیکن اس غذا کے انتخاب کے سلسلے میں بڑی ہوشیاری اور ذہانت کی ضرورت ہے جس طرح جسمانی صحت کے لئے خراب اور غلط غذا مصر اور نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اسی طریقے سے روح کی غذا کے منتخب کرنے میں بھی یہ بات پیش نظر رکھنی ضروری ہے کہ ہم نے جو غذا اپنے لئے منتخب کی ہے اس میں صحت مند اجزاء پائے جاتے ہیں یا وہ اپنے دامن میں خراب اور زہریلے اثرات رکھتی ہے یہ انتخاب کوئی معمولی چیز نہیں ہے روحانی غذا کے صحیح انتخاب پر ہی مستقبل کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہے روح کی غذا کا غلط انتخاب انسانی ذہن کو بالکل اسی طرح غلط راہ پر ڈال دیتا ہے جس طرح جسم کے لئے غلط اور خراب غذا کا استعمال بیماری اور امراض کو دعوت دیتا ہے اس لئے اپنی روح کی صحت مند غذا حاصل کرنے میں بھی بڑی دوراندیشی سمجھ بوجھ اور ہوشیاری کی ضرورت ہے فرق صرف یہ ہے کہ ایک کا غلط انتخاب انسان کے جسم کو بیمار بناتا ہے اور دوسرے کا غلط انتخاب روح و ضمیر کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔
مطالعہ کو اسی وقت مطالعہ کہا جائے گا جب وہ فکر کی سلامتی علم کی گیرائی و گہرائی اور عزائم وحوصلوں میں پختگی کے ساتھ ساتھ فرحت بخش اور بہار آفریں بھی ہو۔ بقول شخصے کہ مطالعہ ایسی کتابوں کا ہو جو نگاہوں کو بلند سخن کو دل نواز اور جاں کو پرسوز بنا دے۔ آج اس مسابقت بھرے زمانے میں جدھر دیکھئے ذرائع ابلاغ کی بہتات ہے ہر طرف مجلوں اخباروں اور کتابوں کی فراوانی ہے اور ہر دن کوئی نہ کوئی نئی کتاب بازار میں آجاتی ہے۔
قوت حافظہ کے لئے جہاں اور دوائیں استعمال اور وظائف کئے جاتے ہیں وہیں ایک دوا مطالعہ بھی ہے۔ چنانچہ امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام شاہ محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ سے عرض کی گئی حافظے کی دوا کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا ادْمَانُ النَّظْرِ في الكتب یعنی کتب بنيی (جامع بيان العلم ج ۲ ص۳۹۰)۔
حضرت امام برہان الدین زرنوجی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اے طالب علم تو ہمیشہ درس و مطالعہ میں مصروف رہ اس سے کبھی جدا نہ ہو کیونکہ مطالعہ کے سبب ہی علم میں ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم ص ۵۹)۔
کوشش کیجئے کہ کتاب ہر وقت ساتھ رہے کہ جہاں موقع ملے کچھ نہ کچھ مطالعہ کر لیا جائے اور کتاب کی صحبت بھی میسر رہے۔
یاد رکھیں وہی قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے جو مطالعے کی عادی ہو۔
مسلمانوں سے گزارش ہے کہ مطالعہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اپنے گھروں میں لائبریری قائم کریں کتابیں خریدیں اور انہیں پڑھنے کا معمول بنائیں ورنہ یاد رکھو جس قوم نے اپنی کتابوں اور تاریخ سے رشتہ توڑ لیا اس کی تاریخ بھی رفتہ رفتہ مٹنے لگتی ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں علم نافع اور کثرتِ مطالعہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے