कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ماہ محرم فضائل و حقائق اور رائج رسم و رواج کی حقیقت

تحریر:محمد عادل ارریاوی

ماہ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے جو اپنی برکات و فضائل میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس مہینہ کی تاریخی حیثیت تو اپنی جگہ مسلم ہے لیکن اس کی حرمت اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس مہینہ میں خصوصی اعمال اس کی عظمت کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ تاریخ اسلامی کے کئی واقعات اسی مہینہ میں پیش آئے ہیں ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ کے بیشتر اہم اور سبق آموز واقعات اسی مہینہ میں رونما ہوئے ہیں ۔ لہذا جہاں ماہ محرم سال نو کی ابتداء کی نوید دیتا ہے وہیں ان واقعات و حادثات کی بھی خبر دیتا ہے جن کا یاد رکھنا امت مسلمہ کے لئے ضروری ہے۔ زندہ اقوام کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی تاریخ اسلاف کے کارناموں اور واقعات سے بے خبر نہیں رہتیں۔ تو محرم کا آغاز ہمیں ان تاریخی حقائق سے باخبر ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عاشوراء کے دن کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ اس دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مقدس نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا اس شہادت کے پیش آنے کی وجہ سے عاشوراء کا دن مقدس اور حرمت والا بن گیا ہے۔ یہ بات صحیح نہیں۔ خود حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں عاشوراء کا دن مقدس سمجھا جاتا تھا۔ اور آپ نے اس کے بارے میں احکام بیان فرمائے تھے۔ قرآن کریم نے اس کی حرمت کا اعلان فرمایا تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ تو حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریباً ساٹھ سال بعد پیش آیا تھا۔ لہٰذا یہ بات درست نہیں کہ عاشوراء کی حرمت اس واقعہ کی وجہ سے ہے بلکہ یہ تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مزید فضیلت کی دلیل ہے کہ اللہ ربّ العزت نے آپ کو شہادت کا مرتبہ اس دن عطا فرمایا جو پہلے ہی سے مقدس اور محترم چلا آ رہا ہے بہر حال عاشوراء کا دن ایک مقدس دن ہے۔
ماہ محرم اپنی فضیلت و عظمت حرمت و برکت اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کا حامل ہے۔ اسی وجہ سے شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے ابتدائی دور میں اس کے اعزاز واکرام میں قتال کو ممنوع قرار دیا گیا۔ ارشادربانی ہے
قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيرٌ ۔ (البقره: ۲۱۷)
ترجمہ کہہ دیجئے اس میں قتال کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
اسے حرمت والے مہینوں میں سے بھی شمار کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْراً … مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۔ (التوبة ٣٦) ترجمہ مہینوں کی گنتی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے ہے۔ ان میں چار مہینے ادب کے ہیں۔
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمانے کی رفتار وہی ہے جس دن اللہ ربّ العزت نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔
ایک سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں جن میں سے تین مہینے مسلسل ہیں یعنی ذوالقعدہ ذوالحجہ محرم اور ایک مہینہ رجب کا ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔
(صحیح بخاری ج ۲ ص ۶۷۲ باب قوله ان عدة الشهور الخ)
اس دن کے مقدس ہونے کی وجہ کیا ہے؟ یہ اللہ ربّ العزت ہی بہتر جانتے ہیں کس دن کو اللہ ربّ العزت نے دنوں پر کیوں فضیلت دی؟ اور اس دن کا کیا مرتبہ رکھا؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں ہمیں اس کی تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بعض لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں اترے تو وہ عاشوراء کا دن تھا اور جب نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد خشکی میں اتری تو وہ عاشوراء کا دن تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا اور اس آگ کو اللہ ربّ العزت نے ان کیلئے گلزار بنادیا وہ عاشوراء کا دن تھا اور قیامت عاشوراء کے دن قائم ہوگی ۔ یہ باتیں لوگوں میں مشہور ہیں لیکن ان کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ۔ کوئی صحیح روایت ایسی نہیں ہے جو یہ بیان کرتی ہو کہ یہ واقعات عاشوراء کے دن پیش آئے تھے۔
ماہ محرم برکات کا حامل مہنیہ ہے لیکن بعض لوگ اس کی برکات سے فائدہ حاصل کر نے کی بجائے بدعات و رسومات میں پڑ کر اس کی حقیقی فضیلت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
تعزیہ کرنا ناجائز ہے کیوں کہ قرآن مجید میں ارشاد باری ہے أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ۔ (الصافات (۹۵) ترجمہ کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جس کو خود ہی تم نے تراشا اور بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ تعزیہ انسان اپنے ہاتھ سے تراش کر بنا تا ہے پھر منت مانی جاتی ہے اور اس سے مرادیں مانی جاتی ہیں اسکے سامنے اولاد وغیرہ کی صحت کی دعائیں کی جاتی ہیں اس کو سجدہ کیا جاتا ہے اس کی زیارت کو زیارت امام حسین سمجھا جاتا ہے یہ سب باتیں روح ایمان اور تعلیم اسلام کے اعتبار سے ناجائز ہیں۔
ذکر شہادت کے لیے مجالس منعقد کرنا ان میں ماتم کرنا نوحہ کرنا روافض کی مشابہت کرنے کی وجہ سے نا جائز ہے۔ کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے
مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ۔ جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اس قوم میں سے ہے۔
(سنن ابی داؤد ج ۲ ص ۲۰۳)
بعض لوگ ماہِ محرم کو صرف رنج و غم کا مہینہ تصور کرتے ہیں اور اس وجہ سے شادی بیاہ خوشی کی تقریبات اور دیگر مسرت کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔ اسی طرح سیاہ لباس پہننا نوحہ و ماتم کرنا عورتوں کا زیب و زینت ترک کر دینا اور سوگ کی مختلف رسمیں ادا کرنا بھی بعض علاقوں میں رائج ہے۔ حالانکہ یہ تصور درست نہیں کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں ماہِ محرم کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے اسے محض غم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا شرعی اعتبار سے صحیح نہیں۔
بعض لوگوں کا یہ عقیدہ بن چکا ہے کہ خصوصاً محرم کے ابتدائی دس دنوں میں شادی کرنا یا خوشی کی کوئی تقریب منعقد کرنا جائز نہیں یا اس میں برکت نہیں ہوتی اور ایسا کام نحوست کا باعث بنتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض تعلیم یافتہ افراد بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں ایسی کوئی ممانعت موجود نہیں۔ نہ محرم میں اور نہ ہی کسی دوسرے مہینے میں نکاح سے روکا گیا ہے۔ بلکہ محرم میں عبادت اور نیکی کے اعمال کی ترغیب دی گئی ہے اور نکاح بھی ایک عظیم عبادت ہے کیونکہ اس کے ذریعے انسان عفت تقویٰ اور اللہ ربّ العزت کی رضا حاصل کرتا ہے۔ حدیثِ مبارک کا مفہوم ہے کہ جب کوئی شخص نکاح کر لیتا ہے تو اس کا آدھا دین مکمل ہو جاتا ہے لہٰذا اسے چاہیے کہ باقی آدھے دین کے بارے میں اللہ سے ڈرتا رہے۔ اس بنا پر محرم میں نکاح کرنا بالکل جائز ہے۔
محرم کے ایام میں بعض لوگ چند مخصوص کاموں کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، مثلاً حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر پانی یا شربت کی سبیل لگانا یا کھانا تیار کرکے تقسیم کرنا اور اسے باعثِ ثواب سمجھنا۔ اگرچہ صدقہ و خیرات اپنی جگہ نیک عمل ہے لیکن محرم کے پہلے عشرے کو خاص طور پر ان کاموں کے لیے مخصوص کر لینا اور اسے دین کا لازمی حصہ سمجھنا درست نہیں۔ بعض لوگ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ چونکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کربلا میں پیاس کی حالت میں شہید ہوئے تھے اس لیے یہ پانی اور شربت ان کی پیاس بجھانے کا ذریعہ بنتا ہے حالانکہ اس عقیدے کی کوئی شرعی بنیاد موجود نہیں۔ لہٰذا عبادات اور نیکی کے کام وہی اختیار کرنے چاہییں جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ماہِ محرم اسلام کے عظمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ اس مہینے کے بارے میں وہی عقائد اور اعمال اختیار کرنے چاہییں جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں۔ بے بنیاد رسموں غلط عقائد اور خود ساختہ پابندیوں سے بچتے ہوئے اس مہینے کو عبادت تقویٰ اور نیکی کے کاموں میں گزارنا چاہیے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں صحیح دین سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے بےجا رسم و رواج سے مکمل حفاظت فرمائیں آمین ثم آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے