कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لوگ کیا کہیں گے؟یہ جملہ ناکام لوگوں کا قومی ترانہ ہے

تحریر:محمد عادل ارریاوی

ایک بات میں بہت دنوں سے غور کر رہا ہوں ایک زمانے سے دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار لوگ صلاحیت ہونے کے باوجود صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ وہ ہر وقت ایک ہی جملہ سوچتے رہتے ہیں۔
لوگ کیا کہیں گے؟
یہ چار لفظ نہ جانے کتنے خوابوں کا گلا گھونٹ چکے ہیں کتنے لوگوں کو روڈ پہ لے آئے ہیں نہ جانے کتنے نوجوانوں کو آگے بڑھنے سے روک چکے ہیں اور نہ جانے کتنے لوگوں کو کامیابی کے دروازے تک پہنچ کر واپس لوٹا چکے ہیں۔
کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہے مگر ڈر جاتا ہے کہ اگر نقصان ہوگیا تو لوگ کیا کہیں گے؟ کوئی دینی یا دنیاوی میدان میں آگے بڑھنا چاہتا ہے مگر رک جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ کوئی حق بات کہنا چاہتا ہے مگر خاموش رہ جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ لوگوں کا کام کہنا ہے۔ آپ کچھ نہ کریں تب بھی لوگ کہیں گے۔ آپ کچھ کریں تب بھی لوگ کہیں گے۔ آپ کامیاب ہو جائیں تب بھی لوگ کہیں گے آپ ناکام ہو جائیں تب بھی لوگ کہیں گے۔ کیونکہ لوگوں کا ہی ہے کہنا ۔ تو پھر آخر کیوں انسان اپنی پوری زندگی لوگوں کی سوچ کا قیدی بن کر گزار دے؟
یاد رکھیے دنیا کے جتنے کامیاب لوگ گزرے ہیں اگر وہ لوگ کیا کہیں گے کے خوف میں مبتلا رہتے تو آج ان کا نام و نشان بھی نہ ہوتا۔
اس لیے اپنے خوابوں کو لوگوں کے خوف پر قربان مت کیجیے اپنے ارادوں کو دوسروں کی باتوں کی نذر مت کیجیے اور اپنی زندگی کا فیصلہ لوگوں کی زبانوں پر مت چھوڑیے۔
کیونکہ ایک دن لوگ تو خاموش ہو جائیں گے لیکن یہ حسرت باقی رہ جائے گی کہ کاش میں نے لوگوں کے ڈر سے اپنی زندگی برباد نہ کی ہوتی۔ لہٰذا میں یہی کہوں گا کہ لوگوں کی باتوں سے زیادہ اپنے مقصد کی فکر کرو کیونکہ لوگ صرف باتیں کرتے ہیں جبکہ کامیابی صرف عمل کرنے والوں کو ملتی ہے۔
اور سچ تو یہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ یہ جملہ میرے نزدیک ناکام لوگوں کا قومی ترانہ ہے جبکہ کامیاب لوگوں کا نعرہ یہ ہے کہ لوگ جو چاہیں کہیں مجھے اپنی منزل تک پہنچنا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے