कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قلم کا سفر

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

اسکول میں مضمون نویسی مقابلہ تھا،اور میرے لیے تالیاں بجائی جارہیں تھیں ، اول انعام ۔۔۔۔۔،اور یہیں سے لکھنے کا شوق پیدا ہوا،نہ ہی ہمارے اردو مضمون کا درس دینے والے میرےشفیق استاد ریاض سر میری تعریف کرتے اور نہ ہی میں مصنفہ بننے کا خواب دیکھتی؟ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ لکھنا مجھے بہت پسند ہے،یہ اور بات ہے کہ کوئی پڑھتے اور ہماری جھوٹ موٹ ہی حوصلہ افزائی کرتے!!! ہمارے یہ مظلوم مظامین ،کمزور کہانیاں، کسی کو بھی پسند نہیں،انھیں پڑھنا دور کوئی سننا بھی نہیں چاہتا،میں اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرتی تو جواب سنیے گرما گرم طعنوں کے ساتھ،
ہاہاہا ،بہت بور ہے ،،
لکھنے والے کو چاہیے،پہلے وہ خود پڑھے،،
یار پکا مت نا،جا ،،،
ابھی ایسے چار بیاضیں (note book) لکھو پھر آنا،، ضرور پڑھیں گے،،
ارے ہم ایسی بکواس نہیں پڑھتے،ہم تو پروین شاکر،جون ایلیا،علامہ اقبال، میر تقی میر، غالب،فیض احمد۔۔۔۔ کے کلام سے لطف اندوز ہوتے ہیں یا ،
منشی پریم چند،سعادت حسن منٹو،کرشن چندر،بیدی۔۔۔۔۔ کے افسانے پڑھا کرتے ہیں ،
میں خوش ہو نے کے لیے پڑھتا ہوں ‘ بور ہونے کے لیے نہیں،،
تمہیں ایسا کیوں لگا کہ تم ،مصنفہ بن سکتی ہو؟؟؟ یہ کیا ہے؟ کیوں ،کیسے؟
چھوڑو یہ شوق ہر کسی کے بس کی بات نہیں ،،
یار کام کرو، سلائی کا کام سیکھ لو ،اس سے تمہارا مذاق تو نہ بنے؟؟
لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری ، ان سب طعنوں کے بعد ،میرے ایک بھائی میری تعریف کرتے اور لکھنے کے لیے کہتے،بیٹی اور باپ کا گہرا رشتہ ہوتا ہے ، اس لیے ہم والد صاحب کے پاس گئے، اس گہرے رشتہ کی گہرائی میں اتنے غوطے لگائے کہ والد صاحب بور ہوتے ہوتے نیند کی آغوش میں چلے گئے، لیکن وہ ہر کہانی ،ہر انشائیہ۔۔۔۔۔۔۔ پر ہماری تعریف کیا کرتے، کبھی کبھار امی کو سنادیا، کبھی بچوں کے پیچھے پڑگئے۔۔۔۔
والد صاحب کو ہم پر رحم آہی گیا،اپنے دوست سے ملاقات کی اور انھوں نے دوستی کا لحاظ رکھتے ہوئے ،بچوں کے شمارے میں ایک مضمون شائع کر دیا،لیکن وہ بچوں کا نہیں تھا،
پوچھنے پر بتایا کہ ہمارے اخبار میں بچوں کے علاوہ جگہ نہیں ہے، سارے مضامین کے لیے مصنف مقرر کیے گئے ہیں،۔۔۔ اس کے بعد پھر ایک مرتبہ شائع کیا،اگلے دیے گئے مضامین ، کہانیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شائع ہی نہیں ہوئے ۔کسی نے کہا ، کوئی دوسرا اپنے نام سے چھاپ لے گا ،اور تم م م م م م م ،میں نے سوچا اگر کوئی ایسا کرے تو کوئی مضائقہ نہیں، کوئی ہمیں پڑھ لے گا،لیکن افسوس وہ اتنے کمزور تھے کہ کوئی اسے چوری بھی کرنا نہ چاہے!
ان سب کے باوجود میں نے ہمت نہ ہاری، اپنے شوق کو پورا کرنے کی لیے لکھتی ہی رہی ،دوسرے اخباروں میں ای میل کیا، کہانی کی کتابوں ، ہر ماہ والی، ہفتہ ،۔۔۔۔۔۔۔۔کسی نے شائع نہیں کیا!
ایک دن ،کال آیا ، بات کرنے پر انھوں نے کہا دو دن بعد آجانا، میں ایسے خوش ہوئی جیسے مجھے تنخواہ دے کر بلایا جارہا ہو؟ میں نے وہ میم کے بہت سارے مضامین پڑھے تھے،ان کی پسند کے مطابق ،تازہ مضمون،کہانی، انشائیہ۔۔۔۔۔
بہت کچھ لکھا ،ان کے پاس گئے،ہلکی سی نظر دوڑائی اور سارے پیپر پھاڑ دیے جو میں نے ابھی لکھے ہوئے تھے ،، کچرے میں پھینکے گئے میرے مضامین، کے بارے میں کہا کہ اچھا لکھ لیتی ہو ۔۔۔۔۔۔ میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی،
لیکن
ایک سول پوچھا ،اب تک کتنی کتابیں پڑھیں؟؟ میں تو خاموش ہو گئی،کچھ گنے چنے نام لینے کی ہمت نہیں ہوئی،مضامین کے پھاڑ ڈالنے کے دکھ درد سے آنکھوں میں آنسو آگئے،انھوں نے کہا
’’اردو زبان کی ترقی میں رکاوٹوں کی ذمہ دار تم ہی ہو؟؟ ‘‘اور کیا کیا کہہ دیا،اب میری عمر کم ہے اس لیے، کیا میں اچھی مضمون نگار نہیں؟؟
کہا ’’جاؤ اور سو(100) کتابیں پڑھ کر پھر میرے پاس آؤ۔ ‘‘اور ہم آنسو صاف کرتے ہوئے وہاں سے واپس ہولیے ، کتابیں پڑھتی ہوں لیکن سوووووو۔۔۔۔۔میں سوچنے لگی کتنے خوش نصیب ہیں وہ جنہیں اردو اخبار یا کہانی کی کتاب کے مصنف کے طور پر لیا جاتا ہے،اور انہیں تنخواہیں بھی ہوتیں ہیں ،اور۔۔۔۔۔ایک میں ۔۔۔۔ کوئی مفت میں بھی ،پڑھنا نہ چاہے…!!!
گھر آنے کے بعد ہر کوئی ہمیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا؟ میں نےکہا میم نے کہا میرے لکھے مضامین ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں شائع کریں گے،کیونکہ وہ اس قابل نہیں ہیں کہ،انہیں اتنے چھوٹے سے اخبار میں شائع کیا جائے ، اور میرا جملہ پورا،نہیں ہوا تھا کہ سب کھ کھ کھھھھھھھھ کرتے ہوئے چلے گئے،۔۔
قلم کا سفر ابھی اعتبار نیوز پر جاری ہے۔۔۔۔۔نہ جانے کب کون ہنس دے، کوئی مذاق اڑائےاور کوئی کہے کہ سو کتابیں پڑھنے کے بعد پرتیلپی پر آجانا!!!
لیکن ان باتوں سے کچھ نہیں،ہم نے سب کو ہمارے بے بس اور لاچار مضامین ،اور مظلوم کہانیوں سے سب کو بیزار (بور) کرنے کی ٹھانی ہے!!!!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے