कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علمِ حدیث کی مبارک زنجیر

تحریر: فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

سلسلۂ علم و معرفت اور نوری علوم کا وہ رواں دواں دریا جو بطنِ تاریخ سے پھوٹتا ہے، جب زمان و مکان کی سرحدوں کو پار کرتا ہوا قلوب و اذہان کو سیراب کرتا ہے، تو اس کی تازگی و توانائی میں ذرا برابر کمی نہیں آتی۔ علمِ حدیث دراصل ان نوری کرنوں کا مجموعہ ہے جو مدینۃ العلم کی روشن فضاؤں سے چلی اور امتِ مسلمہ کے جلیل القدر محدثین و علماء کے پاکیزہ سینوں سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی۔ یہ وہ امانت ہے جس کی حفاظت کے لیے تاریخ نے اپنے سینے پر بے شمار جاں نثاروں کے نام ثبت کیے۔
آج صبح ہی جب افق سے نورِ سحر نمودار ہو رہا تھا، جامعہ ازہرِ ایشیا، دارالعلوم دیوبند کی عظمت اور اس کے علمی جاہ و جلال پر *حضرت مولانا مفتی محمد اسحاق نازکی قاسمی صاحب کشمیری* (غفرلہ الباری) استاذ دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کشمیر کی ایک انتہائی بصیرت افروز اور روح پرور تحریر نظر سے گزری۔ حضرت مفتی صاحب کی اس موتیوں جیسی تحریر نے روح کو کشادگی بخشی اور دل میں یہ خواہش مچل اٹھی کہ اس مبارک و مسعود تحریر کو مزید چند کلمات سے مزین کر کے قارئین کی نذر کیا جائے۔
مفتی صاحب نے جس سندِ حدیث کا تذکرہ فرمایا ہے، وہ علم کے اس لامتناہی سلسلے کی ایک درخشندہ زنجیر ہے جو ہمارے عہد سے جڑتی ہوئی مستقیم آفتابِ رسالت تک پہنچتی ہے۔ آپ رقم طراز ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کے بانی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ نے علمِ حدیث حضرت شاہ عبد الغنی مجددی سے حاصل کیا، جنہوں نے حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی سے، اور انہوں نے محدثِ وقت حضرت مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی سے استفادہ کیا۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتے ہوئے امام الہند حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے ہوتا ہوا شیخ ابو طاہر مدنی، شیخ ابراہیم کردی، شیخ احمد قشاشی، شیخ احمد شناوی، اور شارحِ صحیح بخاری حضرت شیخ محمد بن احمد رملی تک پہنچتا ہے۔
اس معتبر سند کا اگلا جلی عنوان شیخی الاسلام حضرت شیخ زکریا انصاری ہیں، جن کا سلسلۂ تلمذ حافظ الدنیا حضرت شیخ ابن حجر عسقلانی، شیخ ابراہیم تنوخی، شیخ حجار ابن شحنہ، شیخ ابو علی زبیدی، اور شیخ ابو الوقت ابن عیسیٰ سے ہوتا ہوا شیخ ابو الحسن بن محمد داؤدی، شیخ ابو محمد، اور راویِ صحیح بخاری حضرت شیخ ابو عبداللہ فربری کے ذریعے امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ تک پہنچتا ہے۔
علمِ حدیث کی یہ مقدس لہر یہاں سے آگے بڑھ کر حضرت شیخ حماد، جلیل القدر محدث حضرت شیخ عبداللہ بن مبارک، اور فقاہت کے امامِ اعظم حضرت امام ابو حنیفہ سے ہوتی ہوئی حضرت شیخ حماد بن سلیمان کے توسط سے جلیل القدر صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے اور بالآخر یہ درخشاں سلسلۃ الذہب شفیعِ اعظم، سرورِ کائنات، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمینِ مبارکین سے جا ملتا ہے۔ (بحوالہ: درسِ ترمذی، جلد 1، صفحہ 94؛ اور علمائے دیوبند کون ہیں؟)
سندِ حدیث کا یہ با برکت تسلسل اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ دارالعلوم دیوبند یہ مدینہ منورہ کے نوری سرچشمے سے جڑا وہ علمی و روحانی متصل دھارا ہے جس نے ظلمتِ کفر و جہالت کے ادوار میں بھی حق و صداقت کے چراغ جلا کر رکھے اور سنتِ نبوی کی پاسبانی کا حق ادا کیا۔
یہ ہم سب کے لیے باعثِ فخر و سعادت ہے کہ ہمارے اکابر کا تعلق اس عظیم الشان اور متصل نسبِ علمی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ مفتی محمد اسحاق نازکی قاسمی صاحب کی علمی و قلمی کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور ہم سب کو اکابرِ دیوبند کے اس مقدس علمی نقشِ قدم پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
بقولِ شاعر:
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے