कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

طلاق امت کا ایک سنگین معاشرتی بحران

محمد عادل ارریاوی

خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی حصہ ہے اور نکاح اس کی مضبوط بنیاد۔ اسلام نے اس رشتے کو محبت اور سکون کا ذریعہ بنایا ہے جبکہ طلاق کو صرف ناگزیر حالات میں آخری چارۂ کار کے طور پر جائز قرار دیا ہے۔ افسوس کہ آج اسی اختیار کا بے جا استعمال بڑھتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف گھر اجڑ رہے ہیں بلکہ پورا معاشرہ بھی اس کے منفی اثرات سے متاثر ہو رہا ہے۔
طلاق کے لغوی معنی آزاد کرنے اور جدائی اختیار کرنے کے ہیں۔
شرعی معنی مخصوص الفاظ کے ذریعہ رشتہ نکاح کو ختم کر دینا ہے۔ (ہداية ص ۳۷۳ ج ۲ کتاب الطلاق)
رشتۂ نکاح اللہ ربّ العزت کی ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعہ دو خاندانوں کے در میان یگانگت والفت پیدا ہوتی ہے اور انسان زنا کاری و بدکاری جیسی رذیل جرم کا مرتکب ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔ نیز انسانی معاشرہ بھی ان برائیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اس لئے کہ اس نعمت کی بدولت جو محبت و خلوص پیدا ہوتا ہے اس میں سادگی ہوتی ہے۔ جس کے سائے تلے آنے والی نسلوں کے کردار و عادات نکھرتے سنورتے اور بنتے ہیں۔ چنانچہ اسلام نے انسانی معاشرہ کی اس خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے طلاق جیسی مبغوض چیز کو بعض ناگزیر حالات میں جائز رکھا ہے ۔ کیونکہ بسا اوقات
انسان کئی اسباب کی بنا پر نکاح جیسی عظیم نعمت کی برکات سے محروم رہ جاتا ہے جن میں معاش کی تنگی ایک دوسرے کو پسند نہ کرنا دو مزاجوں کا آپس میں نہ ملنا جنسی کمزوری کا فقدان اور برے اخلاق شامل ہیں۔ انسان اس نعمت سے صلہ رحمی محبت والفت اور ہمدردی کے جذبات حاصل کرنے کے بجائے کینہ بغض و عداوت اور دشمنی جیسی تباہ کن امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ زندگی رحمت کی بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ اس طرح ازدواجی زندگی کے اس خوبصورت رشتہ کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے اس نازک موڑ پر تفریق کی ضرورت پڑتی ہے۔ شریعت مطہرہ نے ایسی پیچیدہ صورت حال میں طلاق کو روا رکھا ہے تاکہ زوجین ایک دوسرے سے جدائی حاصل کر کے خوشحال زندگی بسر کر سکیں تا کہ ایک مضبوط اور توانا معاشرے کی جڑیں کمزور نہ ہونے پائیں۔
دین اسلام نے طلاق کو استعمال کرنے کا ایک تفصیلی قانون وضع کیا ہے جو انسانوں کو اس کا بے جا استعمال کرنے سے منع کرتا ہے۔ بلکہ اس اختیار کو ایسی نا قابل برداشت صورت حال میں روا رکھا ہے جس میں زوجین کا باہمی نباہ دشوار ہو جائے۔ قرآن مجید نے زوجین کو طلاق کا استعمال کرنے سے پہلے اپنے اختلافات کو باہمی صلح و مصالحت کے ذریعہ ختم کرنے کا حکم دیا ہے اور حتی الامکان اس سے بچتے رہنے کی ترغیب دی ہے۔
یہ ایک نا قابل فراموش حقیقت ہے کہ آج دنیا میں طلاق کا بے جا استعمال ہو رہا ہے۔ جس کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔
طلاق دینے کا سب سے بڑا سبب انسان میں عدم برداشت ہے ۔ جس کی پاداش میں وہ اپنی عقل کھو بیٹھتا ہے اور الفاظ طلاق کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کا استعمال عقل مندی سمجھتا ہے جس کے بعد وہ کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔
طلاق دینے کا دوسرا سبب لوگوں کی دین سے دوری رشتہ ازدواج کی ناواقفیت اور میاں بیوی کا ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کو نہ پہچاننا ہے۔ بالفاظ دیگر طلاق کی شرح میں اضافے کا سب سے بڑا سبب لا علمی اور جہالت ہے ۔ اسی لئے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کے اندر ازدواجی رشتہ کی اہمیت کو اجاگر کریں اور اسلام کے اختیار طلاق کو بے جا استعمال کرنے پر وعیدوں سے ان کو روشناس کروایا جائے۔
طلاق کا تیسرا سبب خاندانی اور گھریلو ناچاقیاں ہیں۔ سسر ساس نند بھاوج کے درمیان لڑائیاں رشتوں میں زیادہ کشیدگی پیدا کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے گھر میں سکون کی بجائے حسد و بغض عداوت اور انتظام کی ایسی آگ بھڑک اٹھتی ہے جو کبھی بجھتی نہیں اور والدین اور رشتہ داروں کی ذاتی عداوت و نفرت شوہر کو طلاق دینے پر مجبور کر دیتی ہے اور وہ بلا وجہ اپنے
والدین اور رشتہ داروں کے کہنے پر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے جس سے اس کی بیوی اور بچوں کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ بلا وجہ والدین یا رشتہ داروں کی ذاتی عداوت کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دینا خلاف شریعت
ہے۔
طلاق کا ایک سبب عورت کا بد خلق ہونا اور دستور کے مطابق شوہر کی فرمانبرداری نہ کرنا۔
شوہر کا اپنی بیوی پر ظلم و تشدد کرنا اور انصاف سے کام نہ لینا۔ زوجین کا ایک دوسرے کے حقوق کو نہ پہچاننا۔
زوجین کا شراب منشیات اور تمباکو کا استعمال کرنا جو کہ یورپ میں اب ایک فیشن ہے۔اعاذنا الله منه ۔ عورت کا صفائی ستھرائی کا اہتمام نہ کرنا اور اپنے شوہر کے سامنے زیب و زینت کا نہ کرنا۔ بیوی کا اپنے شوہر سے اچھے انداز سے گفتگو نہ کرنا۔ زوجہ کا اپنے شوہر سے ملاقات کے وقت خوشی اور مسرت کا اظہار نہ کرنا۔
طلاق صرف چار لفظوں پر مشتمل ایک معمولی جملہ نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کے ٹوٹ جانے کا نام ہے۔ اس کے نتیجے میں بچے ماں یا باپ کی شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں دو خاندان ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اور کئی زندگیاں بکھر کر رہ جاتی ہیں۔ اس لیے حتی الامکان طلاق سے بچنا چاہیے الا یہ کہ کوئی سخت اور ناگزیر شرعی عذر موجود ہو۔
آج بے شمار گھروں میں ہزاروں عورتیں طلاق کی وجہ سے اپنے گھروں میں بیٹھی ہیں اور اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ بڑی مشکل سے گزار رہی ہیں۔ کوئی جوانی ہی سے اس آزمائش کا شکار ہے تو کوئی عمر کے آخری حصے میں اس درد کو سہہ رہی ہے۔ بچے نہ مکمل طور پر ماں کی شفقت پا سکتے ہیں اور نہ ہی باپ کی محبت و تربیت سے بہرہ مند ہو پاتے ہیں۔
اس موضوع سے متعلق ایسی بے شمار تلخ حقیقتیں ہیں کہ انہیں قلم بند کرتے ہوئے دل کانپ اٹھتا ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے طلاق کی حقیقت کو پہچانیے اور حتی الامکان اس سے بچیے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر کم از کم ان پر رحم کیجیے۔ افسوس اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سی مطلقہ خواتین صرف اس لیے دوسرا نکاح نہیں کرتیں کہ انہیں معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ سوچ اسلامی تعلیمات کے منافی اور معاشرتی ناانصافی ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہمارے گھروں میں محبت سکون اور رحمت عطا فرما ہمیں طلاق جیسے ناپسندیدہ عمل سے محفوظ رکھ اور ہمارے خاندانوں کو ہمیشہ آباد رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے