कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’شہادتِ حُسینؓ‘‘ حق کی خاطر عظیم قربانی اور آج کے ملّتِ اسلام کا المیہ

از قلم :سیّد شفیق الرحمٰن شفا
سماجی خدمتگار (پربھنی)
موبائل: (9518734540)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

تاریخِ انسانیت میں بعض قربانیاں ایسی ہوتی ہیں جو تا قیامت یاد رکھی جائیں گی، جن میں سے ایک عظیم قربانی ہے، جو ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک جذبہ، فکر، ایک پیغام اور ایک بے مثال تحریک بن گئی۔
حضرت امام حُسینؓ کی شہادت تا قیامت حق، انصاف، صداقت اور انسانی وقار کی خاطر اپنی جان نچھاور کرتے ہوئے شہادت کی لازوال مثال قائم کی ہے۔
حضرت امام حُسینؓ نے جو شہادت دی ہے، وہ اقتدار، مال و دولت یا دنیاوی مفادات کے لیے نہیں بلکہ دینِ اسلام اور انسانیت کی اصل روح کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے خاندان اور رفقائے سمیت ایک عظیم قربانی پیش کی۔
آپ جانتے تھے کہ حق کا راستہ آسان نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود ظالم یزیدِ باطل کے سامنے اپنا سر جھکانے کے بجائے اپنی بے مثال شہادت کو ترجیح دی، اور رہتی دنیا تک کربلا کا پیغام زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ سچائی اور حق کی خاطر جان و مال کی قربانی دی جا سکتی ہے، لیکن سچائی، انصاف اور حق کا سودا بالکل بھی نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن، لیکن افسوس در افسوس کہ آج ہم اسی امت کا حصّہ ہوتے ہوئے کربلا کے اصل پیغام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ آج ہم مسلک، قومیت، فرقے اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر جیسے چھوٹے چھوٹے عہدوں کی خاطر ایک دوسرے کا حق مارنے میں لگے ہوئے ہیں اور سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کر رہے ہیں، ایک دوسرے پر فوقیت پانے میں لگے ہیں۔ ہر شخص اور ہر ایک گروہ اپنے آپ کو حق پرست سمجھتا ہے، لیکن اپنے اعمال، کردار اور نیت کا جائزہ لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حق صرف دعویداری یا دعوؤں سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ انصاف، دیانت داری، اخلاق اور سچائی سے ظاہر ہوتا ہے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے حضرت امام حُسینؓ کی قربانی کو صرف ایک تاریخی واقعہ یا رسمی یادگار بنا دیا ہے، جبکہ اس کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ نہیں کیا۔ جو قوم بہادری اور دلیری کے لیے جانی جاتی تھی، وہ قوم بزدلی کی طرف جا رہی ہے۔ اگر ہم واقعی حضرت امام حُسینؓ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ظلم، ناانصافی، بدعنوانی، جھوٹ، مفاد پرستی، نفرت اور تعصب کے خلاف کھڑا ہونا ہی ہوگا۔ ہمیں آج کے حالات میں آپسی اختلافات کے باوجود ملت کی ترقی کے لیے ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا اور ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی اتحاد کو ترجیح دینا ہی ہوگا۔
کربلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق ہمیشہ تعداد، زور زبردستی اور طاقت سے نہیں جانا جاتا، بلکہ حضرت امام حسینؓ نے تو یہ ثابت کر دیا کہ ایک سچا انسان اگر حق پر قائم ہو تو وہ پوری دنیا کی تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں کربلا کے پیغام کو زندہ کریں، اور اپنے کردار کو حضرت امام حسین کی حق پرستی، بہادری اور اخلاق سے آراستہ کریں، اور معاشرے میں انصاف، محبت، آپسی رواداری اور اخوت کو فروغ دیں۔ یہی شہدائے کربلا کو حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا اور یہی وہ راستہ ہے جو امت کو انتشار سے نکال کر اتحاد اور ترقی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسین کی قربانی کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
قتلِ حُسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے