कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سہارنپور کی ۱۱۵ سالہ قدیم مسجد کی شہادت کا ناقابلِ فراموش سبق

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام

سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطے میں ایک صدی سے زائد عرصے سے قائم مسجد جمعہ کی شب سیل کی گئی اور ہفتہ کی علی الصباح کثیر نفری پولیس کی موجودگی میں بلڈوزر چلا کر اس کی دیواروں کو ملبے میں تبدیل کردیا گیا۔ چند ہی لمحوں میں محرابیں زمین بوس ہوگئیں اور ایک ایسی عبادت گاہ کا وجود ختم ہوگیا جس سے کئی نسلوں کی مذہبی یادداشت وابستہ تھی۔ انتظامیہ کے لیے یہ ایک غیر قانونی تعمیر تھی، لیکن مسجد سے وابستہ لوگوں کے لیے یہ محض اینٹ، پتھر اور گارے کی عمارت نہیں بلکہ ایک صدی سے زیادہ پرانی مذہبی اور تاریخی یادگار تھی۔
انتظامیی کی اس انہدامی کاروائئ نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ قدیم مذہبی مقامات سے متعلق قانونی تنازعات میں قانون کی بالادستی کے ساتھ انصاف، شفافیت اور تاریخی ورثے کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے؟
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مسجد سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی اور اسے ہٹانے کی کارروائی سٹی مجسٹریٹ کے احکامات کے مطابق کی گئی۔ دوسری جانب مسجد سے وابستہ افراد اور کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ کوئی حالیہ تعمیر نہیں تھی بلکہ ۱۹۱۱ سے اس مقام پر موجود تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسجد کی زمین سے متعلق ملکیتی دستاویزات بھی موجود ہیں اور ریکارڈ میں زمین کی ملکیت وحید خان اور یعقوب خان کے نام درج ہے۔ ان کے مطابق کارروائی سے قبل سماعت کے دوران متعلقہ دستاویزات پیش کی گئیں، اس کے باوجود مسجد کے انہدام کا حکم جاری کیا گیا۔
اگر یہ دعوے درست ہیں تو معاملہ صرف ایک قدیم عمارت کے انہدام کا نہیں بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پیش کیے گئے تاریخی اور ملکیتی شواہد کا قانونی طور پر کس حد تک جائزہ لیا گیا اور ان پر کیا فیصلہ دیا گیا؟
مسجد انتظامیہ کے مطابق کلکٹریٹ احاطے میں موجود یہ مسجد کلکٹریت کی تعمیر سے قبل ۱۹۱۱ میں تعمیر ہوئی تھی۔ یعنی اس کی موجودگی کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔ اس دوران کئی نسلیں بدل گئیں مگر مسجد اپنی جگہ قائم رہی اور وہاں نماز ادا ہوتی رہی۔
یہ درست ہے کہ کسی عبادت گاہ کی قدامت بذاتِ خود زمین کی ملکیت کا قطعی ثبوت نہیں ہوسکتی۔ لیکن ایک صدی سے زیادہ عرصے تک کسی مقام پر کسی مذہبی عمارت کا قائم رہنا بھی ایسی حقیقت ہے جسے محض ایک معمولی تجاوزات کے معاملے کے طور پر دیکھنا آسان نہیں، خصوصاً اس وقت جب متعلقہ فریق زمین کی ملکیت سے متعلق دستاویزات موجود ہونے کا دعویٰ کررہا ہو۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ان دستاویزات کی قانونی حیثیت کیا تھی؟ ان کا محکمۂ مال کے ریکارڈ سے کیا تعلق تھا؟ سماعت کے دوران پیش کیے گئے شواہد کی تصدیق کس سطح پر کی گئی؟ اور حتمی حکم جاری کرتے وقت ان دستاویزات اور دعووں کو کس حد تک زیرِ غور لایا گیا؟
یہ سوال خالصتاً قانونی نوعیت کے ہیں۔ اسی لیے ایسے حساس معاملات میں انتظامی کارروائی سے قبل ہر متعلقہ دستاویز، ریکارڈ اور دعوے کی مکمل جانچ ضروری ہوجاتی ہے۔
مسجد سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ انہدام سے قبل سماعت ہوئی اور اس دوران زمین کی ملکیت سے متعلق دستاویزات بھی پیش کی گئیں۔ اس کے باوجود مسجد ہٹانے کا حکم جاری کردیا گیا اور اس سے قبل کہ سٹی مجسٹریٹ کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاتا، مسجد مسمار کردی گئی۔
ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ متعلقہ فریق کو اپنے دعوے کے دفاع کے لیے مؤثر موقع فراہم کیوں نہیں کیا گیا؟ اور کیا دستیاب قانونی چارہ جوئی کے تمام راستے مکمل ہونے کے بعد ہی انہدام کی کارروائی عمل میں لائی گئی؟
یہ سوال کسی ایک مذہب کی عبادت گاہ کی حمایت یا مخالفت کا نہیں بلکہ قانونی عمل کی شفافیت کا ہے۔
جمہوریت میں انتظامیہ کو قانون نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اس اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی وابستہ ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب معاملہ کسی قدیم مذہبی مقام کا ہو تو کارروائی کا ہر مرحلہ شفاف، غیر جانب دار اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کیونکہ کسی عمارت کو منہدم کرنے کے بعد اسے اسکی تاریخی حیثیت کے ساتھ دوبارہ واپس لانا ممکن نہیں ہوتا۔
بہرحال حکومت کی منشاء اگر سرکاری زمین کو تجاوزات سے پاک کرنا ہے تو اسے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ سرکاری اراضی پر کسی بھی مذہب کی غیر قانونی تعمیر کو صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔ لیکن قانون کی بالادستی کا اصل امتحان یہی ہے کہ اس کا اطلاق یکساں معیار کے ساتھ ہو۔
اگر کوئی مسجد قانونی طور پر غیر مجاز تعمیر ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے؛ لیکن یہی اصول کسی مندر، گرجا گھر، گردوارے یا کسی بھی دوسرے مذہبی مقام پر بھی یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ قانون کی نظر میں عمارت کی مذہبی شناخت نہیں بلکہ اس کی قانونی حیثیت بنیادی سوال ہونی چاہیے۔ اسی اصول سے آئینی نظام پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
بابری مسجد کے بعد کی حساسیت:
بابری مسجد کی شہادت ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعی حافظے پر ایک گہرا زخم چھوڑ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جب بھی کسی قدیم مسجد، درگاہ یا دوسرے مذہبی مقام سے متعلق تنازع سامنے آتا ہے تو اس کے اثرات محض مقامی سطح تک محدود نہیں رہتے۔
سہارنپور کا واقعہ بھی اسی حساس ماحول میں پیش آیا ہے۔ اس پر سیاسی جماعتوں اور مختلف حلقوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آنا فطری ہے۔ اپوزیشن اور دیگر حلقے اسے مذہبی اقلیتوں کے مقامات سے متعلق حکومتی رویے سے جوڑ سکتے ہیں، جبکہ انتظامیہ کا مؤقف قانون اور مجاز اتھارٹی کے حکم پر عمل درآمد کا ہے۔
الزامات اور جوابی الزامات سیاسی سطح پر جاری رہ سکتے ہیں، لیکن عام شہری کے لیے بنیادی سوال بہت سادہ ہے: کیا قانون سب کے لیے یکساں ہے؟ کیا قدیم مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات میں دستاویزات کی یکساں اور غیر جانب دارانہ جانچ ہوتی ہے؟ کیا متعلقہ فریقوں کو مؤثر سماعت کا موقع ملتا ہے؟ اور کیا کسی مذہبی مقام کو منہدم کرنے سے قبل تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کرنے دیے جاتے ہیں؟
ان سوالات کا جواب صرف سہارنپور کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک میں قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔
اقلیتوں کو بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا:
تاہم صرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا کر ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔ سہارنپور کا واقعہ مسلم معاشرے اور مذہبی اداروں کے لیے بھی ایک واضح انتباہ ہے۔ اقلیتی طبقے کو یہ خوش فہمی ترک کرنا ہوگی کہ کوئی مسجد یا درگاہ اگر سو سال سے قائم ہے تو اسے قانونی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا۔ تاریخ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن تاریخ کے ساتھ دستاویز بھی ضروری ہے۔
ملک بھر کی مسجد کمیٹیوں، درگاہوں کے متولیوں، قبرستانوں اور عیدگاہوں کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اپنے مذہبی مقامات کے تمام ریکارڈ کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ زمین کا کھاتہ، خسرہ، پلاٹ نمبر، رجسٹری، وقف سے متعلق ریکارڈ، پرانی رسیدیں، سرکاری خط و کتابت، تعمیر کی اجازت، نقشہ اور دیگر دستیاب ثبوت محفوظ کیے جائیں۔
جہاں اصل دستاویزات دستیاب نہ ہوں وہاں مصدقہ نقول حاصل کی جائیں اور پرانے کاغذات کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جائے، تاکہ کسی حادثے یا دوسری وجہ سے اصل ریکارڈ ضائع ہونے کی صورت میں ثبوت باقی رہیں۔
مذہبی اداروں کو وقتاً فوقتاً ماہرینِ قانون سے اپنے ریکارڈ کی جانچ بھی کرانی چاہیے۔ اگر زمین کے ریکارڈ میں کوئی خامی ہے تو اسے وقت رہتے درست کرایا جائے۔ کسی سرکاری نوٹس کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے اور کسی تنازع کو برسوں تک لٹکانے کے بجائے بروقت قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔ یہ احتیاط خوف کی علامت نہیں بلکہ دوراندیشی کی علامت ہے۔
مسلمانوں کو یہ حقیقت بھی سمجھنی ہوگی کہ احتجاج اور جذباتی ردِعمل اپنی جگہ، لیکن قانونی جنگ مضبوط دستاویزات، ٹھوس شواہد اور مؤثر قانونی دلائل سے لڑی جاتی ہے۔ اگر کسی مسجد کے پاس اپنی زمین سے متعلق مکمل اور منظم ریکارڈ موجود ہے تو وہ اس کے قانونی دفاع کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ریکارڈ بکھرا ہوا ہو، دستاویزات افراد کے ذاتی قبضے میں ہوں یا نسل در نسل منتقل ہوتے ہوئے ضائع ہوجائیں تو کسی تنازع کے وقت مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
تمام مسجد، مذہبی مقام اور عبادت گاہ کی ایک باقاعدہ دستاویزی فائل ہونی چاہیے جس میں زمین سے متعلق تمام ریکارڈ محفوظ ہو۔ کمیٹی کے ذمہ داران بدلتے رہیں، لیکن دستاویزات کا نظام قائم رہے۔ کسی ایک شخص کے انتقال یا عہدہ چھوڑنے کے ساتھ ادارے کا ریکارڈ ختم نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح ہر درگاہ، قبرستان، عیدگاہ اور خانقاہ کے ذمہ داران کو بھی اپنے ریکارڈ کی باقاعدہ جانچ کرانی چاہیے۔ کیونکہ آج کی گئی معمولی سی احتیاط کل کسی بڑے بحران میں اپنے حق کے دفاع کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔
سہارنپور کی مسجد اب موجود نہیں۔ اس کی محرابیں، دیواریں اور چھت ملبے کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن اس ملبے سے ایک اہم سوال ضرور اٹھ رہا ہے: کیا ہم اپنی تاریخی اور مذہبی عمارتوں کے تحفظ کے لیے صرف جذبات پر انحصار کرتے رہیں گے یا قانونی تیاری بھی کریں گے؟
اس واقعے پر افسوس ہونا فطری ہے۔ قانونی اور سیاسی سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔ حکومت سے شفافیت کا مطالبہ بھی ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔
کیا ہماری مساجد کے کاغذات مکمل ہیں؟ کیا ہمیں اپنی مذہبی زمین کی قانونی حیثیت معلوم ہے؟ کیا پرانے ریکارڈ محفوظ ہیں؟ کیا ان کی مصدقہ نقول موجود ہیں؟ کیا وقف اور محکمۂ مال کے ریکارڈ میں اندراج درست ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر وقت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نہیں۔
سہارنپور کا ملبہ ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اپنی غفلت ختم کریں۔ اپنی مساجد، درگاہوں، قبرستانوں، عیدگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کے کاغذات درست کریں۔ اپنی تاریخی وراثت کو صرف جذبات میں نہیں بلکہ دستاویزات میں بھی محفوظ کریں۔ قانون کو سمجھیں، ماہرینِ قانون سے مشورہ لیں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی و قانونی راستوں پر اعتماد کریں۔کیونکہ آج کے دور میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’یہ مسجد بہت پرانی ہے‘‘۔ عدالت اور انتظامیہ یہ بھی پوچھ سکتی ہے کہ اس کی زمین کا قانونی ثبوت کہاں ہے؟ اور اس سوال کا جواب ہمارے پاس ہونا چاہیے۔
سہارنپور کی ۱۱۵ سالہ مسجد کی شہادت کو اگر ہم صرف ایک اور سانحہ سمجھ کر بھول گئے تو شاید ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ لیکن اگر اس کے ملبے سے ایک نئی قانونی بیداری پیدا ہوئی، ملک بھر کی مسجد کمیٹیوں نے اپنے ریکارڈ درست کرنے شروع کردیے، درگاہوں اور قبرستانوں کی زمینوں کے کاغذات محفوظ کرلیے گئے اور مذہبی اداروں نے اپنی قانونی حیثیت مضبوط کرلی تو یہ سانحہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم سبق بن سکتا ہے۔مساجد کی حفاظت صرف میناروں اور محرابوں سے نہیں ہوتی؛ ان کی حفاظت تاریخ، دستاویز، قانون اور بیدار ذہنوں سے بھی ہوتی ہے۔
آج سہارنپور کی مسجد کا ملبہ ہمارے سامنے ہے۔ کل کسی اور مذہبی مقام کا سوال نہ اٹھے، اس کے لیے آج ہی بیدار ہونا ہوگا۔
غم کو شعور میں، احتجاج کو قانونی جدوجہد میں اور جذبات کو دوراندیش حکمتِ عملی میں تبدیل کرنا ہی سہارنپور کی مسجد کی شہادت کا سب سے بڑا سبق ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے