कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

روٹی

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

روٹی اس دائرہ نما ٹکرے کو کہتے ہیں ، جو اناج کو پیس کر آٹا گوندھ کر بنائی جاتی ہے ، اس بیلنے کے بعد چولھے پر سینکا جاتا ہے ۔وہ اناج ، گہیوں ، جوار ، باجرہ ، جو وغیرہ ہوسکتے ہیں ۔ یا میدے کی روٹی ،  رومالی روٹی ، مکھن کی روٹی، تندوری روٹی وغیرہ ، روٹی کی ایک قسم ہے جس میں بریڈ بھی شامل ہے ۔گیہوں کی روٹی کو عام طور پر چپاتی کہتے ہیں اور ،اسے گھی یا مکھن سے سنوارا جائے تو پراٹھا کہلاتی ہے ۔
اسی کے ساتھ ساتھ لچھے دار پراٹھے ، آلو کے پراٹھے ، سبزی اور قیمے کے پراٹھے وغیرہ بھی مشہور ہیں ۔
روٹی ، یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعے انسان اپنی بھوک مٹاتا ہے ۔ مختلف لوگ اس روٹی کو مختلف طریقوں سے کھاتے ہیں مثال کے طور پر اگر گہیوں کی روٹی جسے عام طور پر عام انسان شوربے (سالن ) یا دال ،اور چٹنی کے ساتھ ، کھالیتے ہیں تو کہیں یہی روٹی ناشتہ کے طور پر چائے   کے ساتھ کی جاتی ہے ، بچے عام طور پر دودھ روٹی کھاتے ہیں ، تو وہیں ضعیف سالن میں بھیگی روٹی کھانا پسند کرتے ہیں کچھ شوقین لوگ فروٹ جام اور گھی مکھن سے روٹی کھاتے ہیں ، کہیں لوگوں کو حالات اور وقت روٹی اور مرچ کھانے پر مجبور کر تے ہیں ۔ لیکن ہماری وہ عوام جنھیں تیکھے کھانوں سے بہت الفت ہوتی ہے وہ روٹی کے ساتھ بھی مرچی کے مزے لوٹتے ہیں ۔۔
یہ روٹی بنانے کے بہت سے مختلف طریقے ہوتے ہیں ،
یہ روٹی صرف کھانوں کی حد تک محدود نہیں ہوتی ، بلکہ اس کی وسعت تو انسان کی بنیادی ضروریات( روٹی ، کپڑا ، مکان ) سے لے کر ہر جگہ ہے۔ یہی روٹی تو ہے جس کے لیے انسان زندگی بھر کشمکش کرتا رہتا ہے ، اور یہی روزی روٹی کے لیے لاکھ کاوشیں اور محنت کرتا ہے ۔
روٹی صرف پیٹ بھر کھانے کو نہیں کہتے بلکہ ،  اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں ، کہیں روزی روٹی کے نام پر دولت کی چاہ ، کہیں  ملازمت ، کہیں محنت اور مزدوری ، بعض اوقات  یہی روزی روٹی  فقیر ی لاتی ہے تو کہیں امیری ، کہیں خوف اور تو کہیں بے باکی، کہیں تہذیب کے بکھرتے آداب تو کہیں ، بھوک سے بلکتے شباب ، کہیں جائیدادجاگیریں ،کہیں کمزوروں کے حقوق پر ،تو کہیں لٹیروں کی صورت میں ،کہیں روزی روٹی کے نام پر عیاشی ، کہیں روٹی کے لیے خواب دیکھے جاتے ہیں تو کہیں ،روٹی خود خواب دکھاتی ہے۔
اس کے علاوہ ہوٹل کی روٹی بھی ہوتی ہے جو چند روپیوں میں خریدی جاسکتی ہے ۔ روٹی کا سوال ہر انسان ، جانور ، چرند پرند ہر کوئی کرتا ہے ۔ ہر کسی کو اس کی حاجت ہوتی ہے ، ہر وہ شخص جو زندہ رہنے کے لیے جو بھی جدوجہد کرتا ہے روٹی کے لیے کرتا ہے ، اس کے معنی پیسے بھی ہوسکتے ہیں ، یہ بات شاید ہمارے فقیروں کو زیادہ ہی بھا گئی ہے ، وہ سوال تو روٹی کا کرتے ہیں اور پیسے مانگتے ہیں ۔
عام طور روٹی کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہو پا تا لیکن ، ہاسٹل کی زندگی کی مشکلات جھیلنے والے اور وہ جن کی بہن یا بیٹی ابھی روٹی بنانے کے میدان میں بغیر اسلحہ کے اترتی ہے وہ اس کی اہمیت کا اندازہ لگا  سکتے ہیں ۔
یہ روٹی تو اتنی مقبول ہے کہ اسے دعوتوں بھی کھلایا جاتا ہے ، جیسے ہمارے شہرِ اورنگ آباد میں نان اور خلیہ کی صورت میں روٹی کھلائی جاتی ہے ، یہ روٹی صرف انسان ہی کھانا پسند نہیں کرتے بلکہ گائے ،  بیل اور  بھینس بھی شوق سے کھاتے ہیں ۔۔ دور حاضر میں ڈیپریشن کے مریضوں کے تعداد میں جوں جوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو انسان کتے اور بلیوں کو پالنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ، خیر وہ روٹی کی محبت میں کتوں کو بھی روٹی کھلاتے ہیں اور بعض اوقات بسکٹ بھی۔
لڑکیوں کے روٹی سیکھنا بہت ضروری سمجھا جاتاہے اور جوں ہی روٹی کا  ذکر چھڑ جاتا ہے اور مفت میں  ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہے اور نانی دادی کو اپنے زمانے کی  چولھے کی آگ اور کویلے کی انگار پر بنی روٹی کی یادیں تازہ ، گرم ہوتی ہیں کیونکہ یہ لڑکیاں ایسی ایسی روٹی بنا لیتی ہیں کہ جن پر تو ناچیز اپنی آپ بیتی کسی اور مضمون میں بیان کرنا چاہتی ہے ۔ کیونکہ وہ روٹی کبھی کبھار اگر نرم بن بھی جاتی ہے تو کچی پکی لگتی ہے ، کبھی اتنی سخت کہ بیل بھی چبا نہ پائے ، کبھی جل جائے تو کبھی موٹی ہوجائے ، کبھی نئی نئی شکل وجود میں آجائے ، لیکن وہی ناراض روٹی ٹھیک سے بن نہ پائے،
غرض ٹکنالوجی کی ترقی نے لڑکیوں کو روٹی بنانے کا کام آسان کردیا ہے ۔
یہ روٹی اتنی مقبول ہے کہ اسے ریاضی کے سوالات نے بھی اپنایا ، اسی کے ساتھ ساتھ کہانی نگاروں نے بھی ٫ بندر کاانصاف؛ نامی کہانی روٹی کی مثال لے کر ہی بنائی ۔
یہی روٹی اگر پیٹ میں ہو تو نت نئے خواب اور خیالات سوجھتے ہیں یہ روٹی پیٹ کی آگ بجھاتی ہے اور اگر یہی روٹی کے لیے محنت کش کرنے والوں کے ساتھ بے وفائی کرتی ہے تو فاقہ کشی اور مفلسی گلے لگاتی ہے
پھر وہ گلزار کیا ؟چمن کیا ؟ اور فصل بہار کیا؟ انھیں تو چاند ، سورج ، سیارے ، سب روٹی نظر آنے لگتے ہیں۔۔۔
روٹی کے لیے، عالم عالم ہے، مولوی مولوی ہے ، پجاری ہے تو روٹی کے لیے ،سیاست داں ہےتو روٹی کے لیے ، ڈاکٹر صرف روٹی کے لیے ڈاکٹر ہے تو ، ٹیچر بھی روٹی کے لیے ٹیچر ہے ،  وہ پیر یا ملا ہو یا کوئی اداکارہ ہو صرف روٹی کے کارنامے ہیں ۔یہی روٹی روزی روٹی کے لیے ضمیر اور ظرف بھی بکتے ہیں ، شاہ اور فقیر بکتے ہیں ۔۔
یہی روٹی ہے جو خدا کی یاد بھی دلاتی ہے اور روٹی کی تلاش میں خدا کو بھی بھول جاتے ہیں ۔۔۔
اور ہمیں بھی چاہیے کہ کمزوروں ، لاچاروں ، غریبوں اور مفلسوں کا خیال رکھنا چاہیئے
یہی روٹی کے اہمیت کا اندازہ لگاتے ہوئے اشعار اور نظمیں بھی لکھیں گئیں ہیں ، جن میں نظیر اکبر ابادی کی نظم روٹی بہت مشہور ہے۔
یہی روٹی ہے جو ایمن فردوس کے مضمون کی آج زینت بنی ہے اور قارئین کو مضمون پڑھنے پر مجبور کر رہی ہے۔
میرے اس مضمون کو پڑھنے کے سبب میں آپ کے لیے دعا گوں ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی روزی روٹی میں برکت عطا فرمائے آمین۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے