कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رفیقِ درس سے رفیقِ علم تک

ڈاکٹر محمد صلاح الدین: ایک خراجِ تحسین

از: شیخ اعجاز
( موظف مدرس مدینۃ العلوم ہائی اسکول ناندیڑ )

زندگی کے سفر میں بعض لوگ ایسے ملتے ہیں جن کے ساتھ برسوں کی رفاقت تو رہتی ہے، مگر ان کی شخصیت کے کئی روشن پہلو وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ منکشف ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد صلاح الدین میرے ایسے ہی رفیقِ درس ہیں۔ ہم دونوں مدینۃ العلوم ہائی اسکول، ناندیڑ کے طالب علم تھے۔ دسویں جماعت تک ایک ہی جماعت میں ساتھ پڑھنے کا موقع ملا، پھر تعلیمی سفر نے ہمیں مختلف راستوں پر ڈال دیا۔ میں نے اپنی فطری دلچسپی کے مطابق فنونِ لطیفہ اور ادب کو اپنا میدان بنایا، جبکہ ڈاکٹر محمد صلاح الدین نے انگریزی زبان و ادب میں اپنی علمی شناخت قائم کی۔ اس وقت شاید ہم دونوں میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ برسوں بعد ہم دونوں پیشہ تدریس سے وابستہ ہوں گے، اگرچہ الگ الگ اداروں میں۔ وقت نے اگرچہ ہماری راہیں جدا کر دیں، لیکن علم اور تدریس کی مشترک وابستگی نے اس رفاقت کو ایک نئی معنویت عطا کر دی۔
وقت گزرتا گیا۔ بعد کے برسوں میں جب ان کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا تو بے اختیار حیرت اور مسرت ہوئی۔ انہوں نے ملازمت کو محض ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ اسے علم، تحقیق اور مسلسل خود سازی کا وسیلہ بنا لیا۔ کچھ لوگ اپنی صلاحیتوں کا چرچا کرتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنے کام میں لگے رہتے ہیں، اور ان کا عمل ہی ان کا تعارف بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد صلاح الدین اسی قبیل کے انسان ہیں۔
ان کے گھر کا ماحول دینی اور تعلیمی تھا۔ ان کے والدِ محترم، مولوی محمد زین الدین صاحب، مدینۃالعلوم ہائی اسکول، ناندیڑ کے صدر مدرس تھے۔ وہ نہایت دیندار، بااصول، منظم اور نظم و ضبط کے پابند انسان تھے۔ان کی خواہش تھی کہ دینی مزاج کے ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کی جائے، خصوصاً انگریزی زبان میں مہارت پیدا ہو۔ اس اعتبار سے انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر اسی جذبے سے توجہ دی گویا وہ اپنے محدود دائرہ عمل میں وہی کردار ادا کرنا چاہتے تھے جس کی وکالت ایک دور میں سر سید احمد خان نے مسلمانوں کے لیے کی تھی۔
مولوی محمد زین الدین صاحب کی ایک یاد آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ اسکول کے ٹائم ٹیبل میں ظہر کی نماز کے لیے وقفہ رکھا گیا تھا تاکہ طلبہ نماز ادا کرسکیں۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ کچھ بچے نماز کے بجائے میدان میں شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں تو انہوں نے ایک نہایت خوب صورت تدبیر سوچی۔ اپنی ذاتی لائبریری سے متعدد کتابیں لاکر اسکول کے صحن میں قائم چمن میں ایک کھلی لائبریری بنا دی تاکہ بچے مطالعے کی طرف مائل ہوں۔
لیکن شرارتی بچوں نے پہلے ہی دن ان کتابوں کو وہاں سے اٹھا کر اپنے بستوں میں رکھ لیا۔ نماز کے بعد مولوی صاحب نے ہر جماعت میں جا کر کتابیں تلاش کیں، اور جہاں کتابیں ملیں وہاں سزا بھی دی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ہماری جماعت میں کسی نے ایک کتاب خاموشی سے صلاح الدین کے بینچ کے نیچے رکھ دی۔ مولوی صاحب اپنے اصولوں کے اتنے پابند تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی بے قصور ہونے کے باوجود سزا دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر صلاح الدین کو یہ واقعہ آج بھی یاد ہے یا نہیں، لیکن میں چونکہ ان شرارتی بچوں میں شامل تھا جن کی دلچسپی اس زمانے میں تعلیم سے زیادہ شرارتوں میں تھی، اس لیے یہ منظر آج بھی میرے حافظے میں پوری تازگی کے ساتھ محفوظ ہے۔آج جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اصول پسندی کی یہی تربیت بعد میں ڈاکٹر صلاح الدین کی پوری زندگی کا سرمایہ بن گئی۔
طالب علمی کے زمانے میں وہ کھیل کود میں بھی بھرپور حصہ لیتے تھے، خصوصاً کرکٹ ان کا پسندیدہ کھیل تھا۔ ان کی باؤلنگ خاصی عمدہ ہوتی تھی اور میدان میں بھی وہ اتنے ہی متحرک نظر آتے تھے جتنے کلاس روم میں سنجیدہ۔بعد کے برسوں میں انہوں نے اپنی علمی پیاس کو کبھی بجھنے نہیں دیا۔ 1995 میں مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد 1996 میں مراٹھواڑہ یونیورسٹی، اورنگ آباد سے ایم اے (انگریزی) مکمل کیا۔، پھر 2013 میں انہوں نے سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان ‘Milton’s God: Jehovah or Jesus (”ملٹن کے تصورِ خدا: یہوواہ یا حضرت عیسیٰؑ؟”)تھا۔۔ عنوان ہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مطالعہ محض انگریزی ادب تک محدود نہیں تھا بلکہ ادب، مذہب اور الٰہیات کے باہمی تعلق پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ ایسے دقیق موضوع کا انتخاب ان کے سنجیدہ علمی ذوق اور تحقیقی مزاج کا غماز ہے۔
اس کے بعد 2018 میں انہوں نے اسی جامعہ سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مقال? تحقیق کا عنوان تھا:”Booker Prize Winning Indian Novels of Salman Rushdie, Arundhati Roy, Kiran Desai and Aravind Adiga: A Comparative Study”اس موضوع کا انتخاب اس بات کا مظہر ہے کہ ان کا مطالعہ کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ عالمی معیار کے ہندوستانی انگریزی ادب اور اس کے فکری و سماجی مباحث سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔2021 میں انہوں نے فرانسیسی زبان میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک تعلیم کسی سند کے حصول پر ختم نہیں ہوتی بلکہ سیکھنے کا سفر پوری زندگی جاری رہتا ہے۔
بعد ازاں انہی علمی دلچسپیوں کا اظہار ان کی تصنیفات میں بھی ہوا۔ان کی دو اہم کتابیں
Paradise Lost: A Study of Milton’s Theology” (2019) اور "From Bethlehem to Makkah” (2022) شائع ہوئیں۔ ان کے انگریزی مضامین ملک کے ممتاز اخبارات اور مختلف ادبی، سماجی اور سیاسی جرائد میں مسلسل شائع ہوتے رہے، جس سے ان کی فکری وسعت اور قلمی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
یکم ستمبر 1997 کو انہوں نے قریشیہ ہائی اسکول میں انگریزی معلم کی حیثیت سے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو پڑھاتے ہوئے انہوں نے انگریزی مضمون کا نتیجہ مسلسل نوّے فیصد کے قریب رکھا، جو ان کی تدریسی مہارت اور طلبہ سے مخلصانہ وابستگی کا روشن ثبوت ہے۔ 30 جون2026 کو وہ محسنِ خدمات کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔
مولوی زین الدین صاحب کی دینی بصیرت، اصول پسندی اور دعوتی مزاج کا گہرا اثر ڈاکٹر محمد صلاح الدین کی شخصیت پر بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ سادگی، متشرع طرزِ زندگی، فرائض کی ادائیگی میں احساسِ ذمہ داری، قول و فعل کی یکسانیت اور دینی دعوت سے وابستگی، یہ تمام اوصاف انہیں اپنے والد کی تربیت سے ورثے میں ملے۔ جہاں بھی موقع ملا، خیر کی دعوت کو اپنا فریضہ سمجھا۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ صالح والدین کی تربیت اولاد کی فکری اور عملی زندگی پر کس قدر دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے۔
آج جب وہ تدریسی خدمات سے سبکدوش ہو رہے ہیں تو بظاہر ان کی ملازمت کا ایک باب اختتام کو پہنچ رہا ہے، لیکن اہلِ علم کی زندگی ملازمت کی مدت کی پابند نہیں ہوتی۔ ان کا علم، ان کی تحقیق، ان کی تصانیف، ان کے شاگرد اور ان کا کردار آنے والے زمانوں میں بھی ان کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر محمد صلاح الدین صاحب کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں صحت، عافیت اور عمرِ دراز نصیب فرمائے اور آئندہ بھی ان کے علم، قلم، تجربے اور فکری رہنمائی سے تعلیمی دنیا، قوم اور ملت کو فیض پہنچاتا رہے۔ آمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے