कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رسم ورواج کے بوجھ تلے دبی شادیاں

تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

شادی، انسانی زندگی کا وہ خوبصورت باب ہے جس میں خواب حقیقت کا روپ دھارتے ہیں اور دو اجنبی لوگ ایک مقدس رشتے میں بندھ کر زندگی کی نئی داستان رقم کرتے ہیں۔ یہ رشتہ محبت کی لطافت، اعتماد کی مضبوطی اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ مگر افسوس عہد حاضر میں ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس پاکیزہ بندھن کو رسم و رواج کی گرد نے اس قدر دھندلا دیا ہے کہ اس کی اصل چمک ماند پڑتی جا رہی ہے۔ جہیز اور شادیوں میں ہونے والا بے جا لین دین اس خوبصورت تعلق پر ایسے بوجھ کی مانند ہے جو صرف رشتوں کی نزاکت کو ہی مجروح نہیں کرتا بلکہ انسانی وقار کو بھی تار تار کررہا ہے۔بیٹیوں کو شادی میں تحائف دینا کبھی والدین کی محبت کا ایک اظہار ہوا کرتا تھا لیکن آج ایک کڑی شرط اور سماجی جبر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ وہ تحائف جو کبھی بیٹیوں کے لیے سہولت کا ذریعہ تھے، اب سسرال میں اس کی عزت کا پیمانہ بن گئے ہیں۔ اس تبدیلی نے نہ صرف روایت کی روح کو مسخ کیا بلکہ اسے ایک ایسے بوجھ میں تبدیل کردیا ہے جس کے نیچے نہ جانے کتنے والدین کی امیدیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ ایک باپ، جو اپنی بیٹی کو خوشیوں کے ساتھ رخصت کرنا چاہتا ہے اکثر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس رسم کی نذر کر دیتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کو دفن کر دیتا ہے، قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، صرف اس لیے کہ معاشرے کی نگاہ میں سرخرو رہ سکے۔ یہ صرف مالی معاملہ نہ ہوکر ایک گہرا نفسیاتی اور جذباتی المیہ بن گیا ہے۔ بیٹی کی پیدائش پر جہاں خوشی کا چراغ جلنا چاہیے، وہاں اکثر دلوں میں ایک انجانا خوف سر اٹھانے لگتا ہے۔ یہ خوف اس دن کا ہوتا ہے جب بیٹی کو جہیز کے بوجھ کے ساتھ رخصت کرنا ہوگا۔ یوں ایک نعمت کو غیر محسوس انداز میں زحمت میں بدل دیا جاتا ہے اور یہی ہمارے سماجی رویوں کی سب سے بڑی شکست ہے۔ شادیوں میں بڑھتا ہوا لین دین اس المیے کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ تقریبات اب سادگی سے نکل کر نمود و نمائش کے میلے میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ اپنی بیٹیوں کو اوروں کی بیٹیوں سے بڑھ کر جہیز اور تحائف دینے کی خواہش، دکھاوے کی نیت نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ہر طرف ایک خاموش مقابلہ جاری ہے۔ جہیز دینا جہاں کچھ والدین مجبوری میں قبول کرتے ہیں وہیں کچھ والدین اپنی جائیدادیں بیچ کر داماد کی جھولی جہیز سے بھر رہے ہیں۔ لڑکے کے والدین اپنے فرزند کی جاب بھی کیش کرواتے ہیں۔ قیمتی لباس، پرتکلف دعوتیں اور مہنگے تحائف، یہ سب اس دوڑ کا حصہ ہیں جس کا اختتام اکثر والد اور بھائیوں کی خالی جیبوں اور تھکے ہوئے دلوں پر ہوتا ہے۔ اس سب کے درمیان وہ اصل جذبہ کہیں کھو جاتا ہے جس کے لیے شادی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جہیز کی روایت کا سب سے گہرا زخم عورت کی عزتِ نفس پر لگتا ہے۔ جب کسی لڑکی کی قدر اس کے ساتھ آنے والے سامان سے وابستہ کر دی جائے تو یہ اس کی ذات کی نفی کے مترادف ہے۔ اس کا علم، اس کا کردار اور اس کی شخصیت سب کچھ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور نمایاں رہ جاتا ہے تو صرف وہ سامان جو اس کے ساتھ آیا ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہی کمی یا زیادتی اس کے لیے سسرال میں تضحیک، طعن و تشنیع اور حتیٰ کہ ظلم کا باعث تک بن جاتی ہے۔اسی طرح بڑے بڑے فنکشن ہالز میں شادی کی تقریبات رکھنا، انواع واقسام کے کھانے بنوانا، ان کھانوں کا آدھا کھایا جانا اور آدھا ضائع کرنا، ویڈیو گرافی پر ہزاروں روپے خرچ کرنا، غرض کئی بے جا رسومات نے شادی کی تقریبات میں جگہ لے لی ہے۔ یہ رویہ قابل مذمت ہونے کے ساتھ سماج کی اخلاقی پستی کا آئینہ دار بھی ہے۔ اگر ہم روحانی اور اخلاقی تعلیمات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ حقیقت مبرہن ہوجاتی ہے کہ سادگی ہی اصل حسن ہے۔ ہمارے مذہب اسلام میں نکاح کو آسان بنانے کی تلقین کی گئی ہے تاکہ زندگی کے اس اہم مرحلے کو بوجھل نہیں بلکہ خوشگوار بنایا جا سکے۔ مگر ہم نے اس آسانی کو مشکل میں بدل کر رحمت کو زحمت بنا دیا ہے۔ ہم نے رسم کو رشتے پر فوقیت دے دی ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے۔یہ مسئلہ کسی ایک گھر، ایک طبقے یا ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے میں پھیل چکا ہے۔ اس کا علاج بھی اجتماعی شعور کی بیداری میں مضمر ہے۔ جب تک ہم اپنی سوچ کو نہیں بدلیں گے، یہ روایت اپنی جڑیں مضبوط کرتی رہے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس خاموش جبر کے خلاف آواز اٹھائیں، سادگی کو اپنائیں اور اس بات کو سمجھیں کہ عزت کا تعلق کردار سے ہے نہ کہ دولت سے ہے۔نوجوان نسل اس تبدیلی کی سب سے بڑی امید ہے۔ اگر وہ عزم کر لیں کہ وہ جہیز کو قبول نہیں کریں گے اور شادی کو سادہ رکھے گے تو یہ روایت خود بخود دم توڑنے لگے گی۔ والدین بھی اگر اپنی ترجیحات بدل لیں اور بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کو جہیز پر فوقیت دیں تو معاشرہ ایک مثبت سمت میں گامزن ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ شادی کا حسن اس کی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ محبت، خلوص اور احترام وہ عناصر ہیں جو کسی بھی رشتے کو مضبوط بناتے ہیں نہ کہ مہنگے تحائف یا دکھاوے کی چمک۔ جب ہم اس حقیقت کو دل سے قبول کر لیں گے تو نہ صرف جہیز جیسی فرسودہ رسم کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے پائیں گے جہاں سبھی بیٹیوں کو عزت اور رشتوں کو وقار نصیب ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے