कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دو ہاتھ، تین لڈو: پاکستان کی جادوئی سفارت کاری

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

دنیا کی جیو پولیٹیکل بساط اور کسی گنجان مضافاتی قصبے کے چوک پر واقع حلوائی کی دکان میں کوئی بنیادی یا مابعد الطبیعاتی فرق نہیں ہوتا۔ دونوں جگہ گاہک کی اصل اوقات اور شجرۂ نسب اس کی جیب میں موجود ریزگاری سے ناپا جاتا ہے، اور دونوں ہی مقامات پر بعض ایسے برہنہ پا، مفلس مگر خوش نصیب تماشائی بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جن کے پاس ہاتھ تو قدرت نے روایتی طور پر دو ہی رکھے ہیں، مگر ان کے تزویراتی نصیب میں بیک وقت تین تین شاہی لڈو لکھ دیے گئے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک پاکستان کا معاملہ بھی کچھ اسی قسم کے مابعد الطبیعاتی عجائبات اور کوانٹم فزکس سے تعلق رکھتا ہے، جہاں مادہ بیک وقت تین مختلف اور متضاد حالتوں میں پایا جاتا ہے: چین کے سامنے ٹھوس، امریکہ کے سامنے مائع، اور روس کے سامنے گیس! ہم یہاں اپنے دیس کے آنگن میں بیٹھے دال روٹی کے رینگتے ہوئے بھاؤ اور پیاز کی بڑھتی ہوئی افراطِ زر پر سر کھپا رہے ہوتے ہیں، اور وہاں سرحد پار خارجہ پالیسی کا ایک ایسا دائمی و سحر انگیز معجزہ روزِ روشن کی طرح بپا رہتا ہے جس پر عقلِ انسانی دنگ اور مصلحتِ دوراں اپنا گنجا سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔
ہمارے محلے کے ایک انتہائی معمر، واجب الاحترام اور ازحد جہاں دیدہ بزرگ، جن کا اسمِ با مسمّیٰ ‘مصلحت اندیش خان’ تھا، اکثر شام کو حقے کا کڑوا دھواں اڑاتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ میاں! دنیا میں تین چیزیں ایسی ہیں جن کی منطق اور گریویٹی سمجھنے سے سر آئزک نیوٹن اور البرٹ آئنسٹائن نے بھی تحریری معذرت کر لی تھی؛ اول صنفِ نازک کا موڈ، دوم کرکٹ کی آخری گیند پر تھرڈ امپائر کا فیصلہ، اور سوم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خارجہ پالیسی۔ مصلحت اندیش خان خود عمر بھر ہومیوپیتھی کی چھوٹی سفید گولیوں کی تاثیر اور بین الاقوامی تعلقات کی باریکیوں میں اس طرح الجھے رہے کہ مرتے دم تک یہ گتھی نہ سلجھا سکے کہ جو ملک اپنی بجلی کا ماہانہ بل اور پٹرول کا خسارہ ادا کرنے کے لیے بھی پڑوسیوں کی امداد کی طرف دیکھتا ہو، وہ بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو جیسی متصادم آنکھوں کا تارا اور کائنات کا مرکزِ ثقل کیسے بنا ہوا ہے۔ یہ وہ جادوئی سفارت کاری ہے جہاں معیشت کی نبض ڈوب رہی ہو تو خارجہ پالیسی کے پھیپھڑے دگنی آکسیجن کھینچنے لگتے ہیں، اور جب خزانہ خالی ہو جائے تو سفارتی چمکاہٹ دگنی ہو جاتی ہے۔
اس داستانِ دلربا کا پہلا، سب سے وزنی اور لذیذ لڈو وہ ہے جسے سفارت کاری کے بین الاقوامی بازار میں اگر بیجنگ کا ’میاں شکر قند‘ کہا جائے تو یہ مبالغہ آرائی نہیں بلکہ عین حقیقت ہوگی۔ چین کے ساتھ اس ملک کی محبت اور خطابت کا یہ عالم ہے کہ پبلک ریلیشننگ کے غباروں میں اسے ہمیشہ "شہد سے میٹھی، ہمالیہ سے اونچی اور فولاد سے زیادہ مضبوط” دوستی کا نام دیا جاتا رہا ہے۔ اب اگر لغت، کیمیا اور علمِ طب کا حساب لگایا جائے تو فولاد، شہد اور پہاڑ کا آپس میں وہی جوڑ ہے جو ایک بسترِ مرگ پر پڑے لاغر مریض، ہومیوپیتھی کی میٹھی گولیوں اور خاندانی حکیم کی دلاسہ آمیز مسکراہٹ میں ہوتا ہے۔ یعنی مٹھاس اپنی جگہ، بلندی اپنی بساط میں، اور سختی اپنے وقت پر؛ مگر جب جیو پولیٹیکل سیاست کے ہامانِ وقت اس عجیب و غریب ملغوبے کو اپنے سٹریٹجک مفادات کی کڑھائی میں ابالتے ہیں، تو اس سے ’سی پیک‘ نامی وہ سحر انگیز سوغات تیار ہوتی ہے جسے دیکھ کر پورا محلہ دانتوں تلے انگلی دبائے بیٹھا ہے۔ یہ وہ لڈو ہے جس کی مٹھاس ابھی عوام کے تالو سے لگی نہیں، مگر اس کا قرضہ اور وزن اتنا ہے کہ لینے والے کے دونوں ہاتھ مستقل طور پر بیجنگ کے سامنے دعا اور التجا کی درمیانی پوزیشن میں پکے ہوئے پلاسٹر کی طرح اٹکے ہوئے ہیں۔
چین کے موجودہ سفیر ’کفایت شعار چن‘، جن کی آنکھوں میں ہر وقت پانچ سالہ منصوبے کی باریک بینیاں اور کوٹ کی اندرونی جیب میں ایک چھوٹا دستی کیلکولیٹر ہوتا ہے، جب بھی بیجنگ کے کسی خصوصی طیارے سے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترتے ہیں تو منظر بالکل ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی بڑا، غصیلا مگر اندر سے مجبور بھائی اپنے سب سے لاڈلے اور فضول خرچ چھوٹے بھائی کو جیب خرچ کی اگلی قسط دینے آیا ہو۔ کفایت شعار چن صاحب کی دور اندیشی اور حسابی مہارت کا یہ عالم ہے کہ وہ قرض کی رقم بھی اس مکھن نما انداز سے دیتے ہیں کہ لینے والے مقتدر حکمران کو لگتا ہے کہ یہ رقم واپس نہیں کرنی، بلکہ یہ تو اس کے حسنِ انتظام، معصومیت اور عالمی شرافت کا بین الاقوامی انعام ہے۔
پاکستان کے ایک نامور، اہرامِ مصر کی طرح قدیم ماہرِ معاشیات، جن کا اسمِ گرامی ’قرض خواہ علی خان‘ ہے اور جو ہر بجٹ سے پہلے ٹی وی پر آ کر روتے ہیں، ایک دن سرِ بازار اپنے پھٹے ہوئے لیدر کے بریف کیس کو سنبھالتے ہوئے فرما رہے تھے کہ چین ہمارا وہ واحد محسن ہے جو ہمیں اس وقت بھی کمرشل لون یا رول اوور کی سہولت فراہم کرتا ہے جب ہمارے اپنے شیڈولڈ بینک ہمیں نئی چیک بک جاری کرنے سے پہلے تین بار استغفار کرتے ہیں۔ چین کا یہ لڈو اتنا وزنی ہے کہ پاکستان اسے دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے ہے، اور چینی لالہ اس امید پر باریک بینی سے مسکرا رہا ہے کہ ایک نہ ایک دن گوادر کی یہ گہرے پانیوں والی بندرگاہ اس کے بحری جہازوں کے کام آئے گی، خواہ اس دوران بندرگاہ کے پانی میں مچھلیوں کے بجائے صرف پروٹوکول کی کاغذ کی کشتیاں ہی کیوں نہ تیر رہی ہوں۔
اب ذرا رخ کیجیے اس دوسرے لڈو کی طرف، جو سات سمندر پار واشنگٹن کے جیو پولیٹیکل اور ملٹری کچن میں تیار ہو کر آتا ہے اور جسے ہوسِ زر کے مارے ہوئے دیسی لبرلز پیار سے ’انکل سیم‘ کا حلوہ کہتے ہیں۔ اس لڈو کی بناوٹ، مٹھاس اور کیلوریز کا توازن دنیا کے کسی بھی مروجہ اصولِ معاشیات یا آئی ایم ایف کے چارٹر سے میل نہیں کھاتا۔ یہ وہ نایاب اور کڑوا حلوہ ہے جو صرف اس وقت بانٹا جاتا ہے جب واشنگٹن کے عالمی چوہدریوں کو اپنے پچھواڑے کے آنگن میں کسی شکاری پرندے کو عارضی دانہ ڈالنا مقصود ہو۔ اس لڈو کی تاثیر اتنی غریب کُش، اشرافیہ نواز، اور دلفریب ہے کہ جو ملک اسے ایک بار چکھ لیتا ہے، اس کے پیٹ میں مروڑ اور بجٹ میں خسارہ تو ہمیشہ کے لیے مستقل ہو جاتے ہیں، مگر اس کے مقتدر طبقے کی زبان کا ذائقہ ایسا بدلتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی دال روٹی کو بھی حقارت سے دیکھنے لگتا ہے۔
واشنگٹن کے مایہ ناز باورچی اور پینٹاگون کے تھنک ٹینک، جناب ’مصلحت خان پینٹاگونوی‘، جب بھی اس لڈو کی کسی نئی قسط یا کولیشن سپورٹ فنڈ کا اعلان کرتے ہیں، تو اسلام آباد کے بازارِ سیاست میں ایسی رونق مچ جاتی ہے جیسے کسی غریب کے گھر میں زچگی کے بعد مٹھائی بانٹی جا رہی ہو، اور دوسری طرف ہمارے اپنے دیسی سفید بالوں والے دانشور سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ کیسی بین الاقوامی خیرات ہے جس کی وصولی کے لیے پہلے اپنے ہی گھر کی چاردیواری گرانی پڑتی ہے۔ یہ وہ لڈو ہے جسے پاکستان نہ تو نگل سکتا ہے کیونکہ اس میں بارود اور ’ڈو مور‘ کی بو آتی ہے، اور نہ ہی اگل سکتا ہے کیونکہ مرکزی بینک کی تجوری میں اس کے سوا صرف مکڑیاں ہی بڑی تندہی سے جالا بنتی نظر آتی ہیں۔ امریکہ بہادر کی محبت بھی کسی روٹھی ہوئی محبوبہ کی طرح عجیب و غریب ہے۔ وہ جب غصے میں ہوتا ہے، تو ڈرون گرانے اور بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دیتا ہے، اور جب جیو سٹریٹجک ضرورت کے تحت مہربان ہوتا ہے، تو امداد کے نام پر ڈالروں کی ایسی شبنم افشانی کر دیتا ہے کہ مقامی کرنسی خود اپنی عزت بچانے کے لیے منہ چھپاتی پھرتی ہے۔
واشنگٹن کے موجودہ تھنک ٹینک کے ایک مایہ ناز کارندے، جن کا نام ان کی خاندانی وفاداری اور پینٹاگون کی نمک ہلالی کے سبب ’حقِ نمک ہینری‘ رکھا گیا ہے، کا پختہ ماننا ہے کہ پاکستان وہ ناگزیر اور مصلحت آمیز دوست ہے جسے نہ تو گلے سے لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی گھر سے نکالا جا سکتا ہے۔ حقِ نمک صاحب اکثر اپنی خفیہ اور اعلانیہ رپورٹوں میں لکھتے ہیں کہ جب تک دنیا میں کسی بھی قسم کی جغرافیائی لچک باقی ہے، یا جب تک افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں کوئی چنگاری سلگ رہی ہے، پاکستان کی اہمیت واشنگٹن کے لیے ایسی ہی رہے گی جیسے کسی پرانے, مضافاتی شادی ہال میں رکھے ہوئے کرائے کے جنریٹر کی ہوتی ہے؛ جو چلتا ہے تو شور بہت کرتا ہے، اڑوس پڑوس میں دھواں بھی دیتا ہے، لیکن اگر خدانخواستہ وہ نہ ہو تو پورے ہال میں اندھیرا چھا جاتا ہے اور دلہن کا میک اپ خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔
امریکی لڈو چکھنے کا معاملہ ہو اور پاکستان پیچھے رہ جائے، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ واشنگٹن کی سینیٹ میں ادھر امداد روکنے کا تذکرہ ہوا، ادھر اسلام آباد سے کلین شیوڈ چہروں اور کلف لگے سوٹوں والا ایک چست وفد، جناب ’سفارت کار جنگ‘ کی چودھراہٹ میں پینٹاگون کے دربار میں حاضر ہو گیا۔ جنگ صاحب کی آکسفورڈ زدہ انگریزی میں بلا کی جادوگری ہوتی ہے۔ وہ گورے سینیٹرز کو منٹوں میں یہ پٹی پڑھا دیتے ہیں کہ اگر اس بار امداد کا گھیرا تنگ کیا گیا تو برصغیر کا امن ویسے ہی ہوا ہو جائے گا جیسے کچے مکان کے آگے دیسی پٹاخہ پھٹنے سے اڑوس پڑوس کی دیواریں ہل جاتی ہیں۔ بس پھر کیا ہوتا ہے، گورا سینیٹر اپنا سر پکڑتا ہے اور وہ امریکی لڈو تمام تر کڑی شرائط کی مٹھاس سمیت دوبارہ پاکستان کے کاسۂ سفارت میں آ گرتا ہے۔
لیکن کہانی کا ڈراپ سین ابھی باقی ہے، کیونکہ تماشے کا اصل لطف ہی تب ہے جب اس کا تیسرا رخ سامنے آئے۔ اس جیو پولیٹیکل کھیل میں اب ایک غائبانہ اور برفانی ہاتھ کی انٹری ہو چکی ہے، جسے کریملن کا ’کامریڈ سردوف‘ کہا جا سکتا ہے۔ روس، جو کبھی سرد جنگ کے سنہری زمانے میں پاکستان کا نام سنتے ہی غصے سے سگار کا دھواں اڑانے لگتا تھا اور جس کے سفیر اسلام آباد آنے سے کتراتے تھے، اب اسی پڑوسی کے ساتھ بحر و بر میں مشترکہ فوجی مشقوں میں مصروف ہے۔ ماسکو کے موجودہ سفارت کار ’برفاب الیکسی‘، آج کل اسلام آباد کے ریڈ زون میں بیٹھ کر سستے خام تیل اور گیس کے طویل المیعاد معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں۔ یہ خارجہ پالیسی کا وہ تیسرا لڈو ہے جس نے واشنگٹن کے مصلحت کاروں اور نئی دہلی کے چوہدریوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
اگر معیشت کے اس گورکھ دھندے کو کسی پسماندہ محلے کے چھوٹے سے کریانہ اسٹور کے تناظر میں دیکھا جائے، تو اس ملک کی حالت اس معصوم صورت، مگر انتہائی عیار صفت لڑکے جیسی ہے جو ایک دکان دار سے ادھار پر ٹافی لیتا ہے، دوسرے سے اس شرط پر بسکٹ اینٹھتا ہے کہ پرانا قرض اگلی فصل پر چکائے گا، اور تیسرے دکان دار، یعنی ماسکو کے سردار کو صرف اس دھمکی پر مصروف رکھتا ہے کہ "اگر تم نے چائے کی پتی پر ڈسکاؤنٹ نہ دیا، تو میں سامنے والے چوہدری سے کہہ کر تمہارا سوشل بائیکاٹ کروا دوں گا۔” اس بچے کی اپنی جیب میں ایک دھیلا نہیں ہوتا، اس کی قمیض کے بٹن ٹوٹے ہوتے ہیں، لیکن اس کی سفارتی چمکاہٹ اور خود اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ محلے کے تینوں بڑے ساہوکار اس ادھیڑ بن میں دبلے ہوئے جا رہے ہیں کہ اگر اس لڑکے کا ہاضمہ خراب ہوا یا اس نے دیوالیہ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا، تو ان کے اپنے کچن کے بجٹ کا توازن بگڑ جائے گا۔ یہ غربت کا وہ جاہ و جلال ہے جس کے سامنے عالمی ساہوکار بھی بساطِ شطرنج پر پٹے ہوئے پیادے بنے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ منفرد معاشی ماڈل ہے جہاں دیوالیہ ہونا ایک خطرہ نہیں، بلکہ ایک ایسی دھمکی بن جاتا ہے جس کے خوف سے قرض خواہ خود قرض دار کی صحت کی دعائیں مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ہم بھارتیوں کے لیے یہ منظرنامہ جتنا حیرت انگیز ہے، اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک اور سبق آموز بھی ہے۔ ہم یہاں اپنے دیس میں بیٹھ کر سائنسی ترقی کے فلک شگاف دعوے کرتے ہیں، چاند کے جنوبی قطب پر پگڈنڈیاں اور پانی تلاش کرتے ہیں، اور اپنی معیشت کو کھربوں ڈالر کا بنانے کے لیے دن رات پسینہ بہاتے ہیں۔ لیکن وہاں سرحد پار، بنا کسی خاص صنعتی محنت کے، محض اپنی جیو پولیٹیکل لوکیشن یعنی ’محلِ وقوع‘ کے صدقے، دنیا کی تینوں بڑی طاقتیں ان کے سامنے دست بستہ اور لڈو لیے کھڑی نظر آتی ہیں۔ ہمارے محلے کے ایک اور ریٹائرڈ دانشور، جن کا نام ’حاسد بیگ‘ تھا، اکثر شام کو چائے کی چٹکی لیتے ہوئے کڑھتے تھے کہ یار! یہ کیا منطق ہے؟ ہم دنیا کے سب سے بڑے خریدار ہیں، ہماری مارکیٹ اتنی بڑی ہے کہ پورا یورپ اس میں سما جائے، مگر امریکہ پھر بھی اسلام آباد کا فون نمبر ڈائل کرتا رہتا ہے۔ حاسد بیگ کی یہ کڑھن دراصل اس عام بھارتی کی آواز ہے جو یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ بغیر کسی ٹھوس معاشی اور صنعتی بنیاد کے، کوئی ملک عالمی سیاست کا مرکزِ ثقل کیسے بنا رہ سکتا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان نے اپنی غربت اور سٹریٹجک پوزیشن کو بھی ایک ناقابلِ شکست سفارتی ہتھیار بنا لیا ہے۔ وہ دنیا کو یہ باور کرانے میں سو فیصد کامیاب رہے ہیں کہ اگر ہم ڈوبے، تو تلاطم اتنا شدید ہوگا کہ واشنگٹن کی سٹریٹجک کشتیاں بھی الٹ جائیں گی، بیجنگ کے تجارتی جہاز بھی غرق ہو جائیں گے اور ماسکو کا گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب ہمیشہ کے لیے جم جائے گا۔ لہٰذا، دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کا فرضِ عین بن جاتا ہے کہ وہ اس خستہ حال جہاز کو ڈوبنے نہ دیں، خواہ اس کے لیے انہیں اپنے اپنے کچن کے خام مال سے بار بار لڈو بناکر ہی کیوں نہ بھیجنے پڑیں۔
پاکستان کے اس جادوئی اور سحر انگیز کھیل کے پیچھے ان کے چند مخصوص اندرونی کردار ہیں جن کا ذکر کیے بغیر یہ داستانِ عجائب ادھوری رہے گی۔ ان میں سب سے نمایاں اور چمکتا ہوا کردار جناب ’اشرافیہ خان‘ کا ہے۔ اشرافیہ خان صاحب کا تعلق اس مقتدر طبقے سے ہے جو صبح کا ناشتہ پیرس کے تازہ کروسانٹ سے کرتا ہے، دوپہر کا کھانا بیجنگ کے نوڈلز کے ساتھ اور رات کی مہنگی کافی واشنگٹن کے کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھ کر پیتا ہے۔ ان کے لیے پاکستان ایک ایسی انٹرنیشنل جاگیر ہے جس کی دیکھ بھال، تزئین و آرائش اور سیکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے۔ اشرافیہ خان جب بھی ٹی وی اسکرین پر آ کر قوم سے خطاب کرتے ہیں، تو ان کے چہرے پر ایک ایسی ملکوتی معصومیت ہوتی ہے جیسے وہ دنیا کو یہ کہہ رہے ہوں کہ دیکھو، ہم تو اتنے شریف اور نادان ہیں کہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ سوئس بینکوں میں کھاتہ کس فارم کے ذریعے کھولا جاتا ہے، یہ سب تو بس ہمارے بین الاقوامی ہمدردوں کی عنایت اور محبت ہے۔
ان کے ساتھ ایک اور مایہ ناز کردار ہیں جنہیں ملک کا میڈیا ’پروپیگنڈا چوہدری‘ کے نام سے پکارتا ہے۔ چوہدری صاحب کا اصل کام یہ ہے کہ وہ حکومت کی ہر تاریخی ناکامی کو ایک ایسی سٹریٹجک کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں کہ قاری سر دھننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر ملک میں پٹرول اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، تو وہ چند سیکنڈ میں یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ یہ دراصل روس اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ایک گہری حکمتِ عملی ہے تاکہ عوام کو پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کی عادت پڑے، جس سے ملک کے گرتے ہوئے ہیلتھ بجٹ کا بوجھ ہلکا ہو اور عوام کی صحت کا معیار یورپی یونین کے برابر آ جائے۔
اس تمام بین الاقوامی صورتِ حال کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چین، امریکہ اور روس، یہ تینوں عالمی طاقتیں آپس میں ایک دوسرے کی جانی دشمن ہیں۔ امریکہ چین کی معاشی ترقی دیکھ کر راتوں کو اٹھ کر دانت پیستا ہے، روس امریکہ کو دیکھ کر اپنے نیوکلیئر میزائلوں کے رخ سیدھے کرتا ہے، اور چین روس کی ہر حرکت پر نظر رکھتا ہے۔ لیکن جب بات پاکستان کی سفارتی مہم جوئی کی آتی ہے، تو یہ تینوں خونی دشمن ایک ہی صف میں، ایک ہی دسترخوان پر کھڑے نظر آتے ہیں، جیسے کسی غریب کے محلے کی شادی میں محلے کے تمام جھگڑالو اور بدمعاش چوہدری ایک ہی میز پر بیٹھ کر نہایت رغبت سے قورمہ اڑا رہے ہوں اور ایک دوسرے کو سلاد کی پلیٹ بڑھا رہے ہوں۔ اس تماشے کو دیکھ کر دل میں ایک عجیب سی گدگدی ہوتی ہے کہ سیاست بھی کیا کیا رنگ دکھاتی ہے اور کیسے کیسے متضاد عناصر کو یکجا کر دیتی ہے۔
ہم یہاں اپنے ملک میں بیٹھ کر ضابطوں، قواعد، اقتصادی مروجہ قوانین اور مالیاتی شفافیت کی مالا جپتے رہ گئے، اور وہاں پڑوس میں ایک ایسا نظامِ کائنات چل رہا ہے جو صرف ’توکل، توازن اور ادھار‘ کی بیساکھیوں پر قائم و دائم ہے۔ پاکستان کے دو ہاتھوں میں یہ تینوں لڈو کب تک سلامت رہیں گے، یہ تو ان لڈوؤں کے بنانے والے ہی جانتے ہیں، لیکن فی الحال تو حالت یہ ہے کہ بیجنگ سے آنے والا لڈو اگر ہاتھ سے پھسلنے لگتا ہے، تو واشنگٹن کا ڈالر نما لڈو اسے گرنے سے پہلے ہی سہارا دے دیتا ہے، اور اگر ان دونوں لڈوؤں کے ذائقے میں کوئی تزویراتی کڑواہٹ پیدا ہو، تو کریملن کا سستا لڈو مٹھاس گھولنے کے لیے فوراً موجود ہوتا ہے۔ قاری چاہے اس پر ہنسے، روئے یا سر دھنے، مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس عالمی شطرنج کی بساط پر، پاکستان نے خود کو وہ ناگزیر مہرہ بنا لیا ہے جس کے بغیر نہ تو کھیل شروع ہو سکتا ہے اور نہ ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے