कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دنیا راستہ ہے، منزل نہیں: سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں دنیا و آخرت کا فکری جائزہ

The World is a Path, Not the Destination: A Thoughtful Reflection on This World and the Hereafter in the Light of the Prophetic Seerah ﷺ

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسان کی زندگی کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ وہ دنیا میں کتنا کامیاب ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا مقصد کیا سمجھا۔ جب دنیا وسیلہ کے بجائے مقصد بن جائے اور آخرت، جو اصل منزل ہے، نگاہوں سے اوجھل ہونے لگے تو فکری، اخلاقی اور روحانی زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے اپنی سیرتِ طیبہﷺ کے ذریعے انسان کو یہی ابدی حقیقت سمجھائی کہ دنیا عارضی ہے، آخرت دائمی؛ دنیا امتحان ہے، آخرت اس کا انجام؛ اور دنیا راستہ ہے، منزل نہیں۔ زیرِ نظر مضمون قرآنِ مجید اور سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں دنیا اور آخرت کے صحیح تعلق کو واضح کرنے، موجودہ دور کی دنیا پرستی کے فکری و اخلاقی اثرات کا جائزہ لینے، اور ایک مسلمان کی ترجیحات کو ازسرِنو متعین کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فکری مسئلہ یہ رہا ہے کہ انسان نے ہمیشہ دنیا اور آخرت کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں لغزش کی ہے۔ دنیا، جو حقیقت میں ایک عارضی سفر، ایک امتحان گاہ اور آخرت کی تیاری کا میدان ہے، اکثر انسان کے لیے زندگی کا آخری مقصد بن جاتی ہے۔ انسان اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ دنیا ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں؛ ایک وسیلہ ہے، مقصد نہیں۔ چنانچہ وہ ذریعہ جو اسے اصل منزل تک پہنچانے کے لیے عطا کیا گیا تھا، خود اس کی زندگی کی سب سے بڑی ترجیح بن جاتا ہے، اور وہ امانت جو ذمّہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے دی گئی تھی، اسی کا غلام بن بیٹھتا ہے۔
رسول اکرمﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں انسان کو یہی شعور عطا فرمایا کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے، دل میں نہیں؛ دنیا سے فائدہ اٹھایا جائے، لیکن اس کی غلامی اختیار نہ کی جائے۔ آپﷺ نے دنیا کی حقیقت، اس کی ناپائیداری اور آخرت کی عظمت کو نہایت مؤثر، سادہ اور حکیمانہ مثالوں کے ذریعے واضح فرمایا، تاکہ انسان ظاہری چمک دمک کے پردے میں چھپی ہوئی اصل حقیقت کو پہچان سکے اور اپنی ترجیحات کو درست سمت میں متعین کر سکے۔ انسان جب اپنی حقیقت اور مقصدِ زندگی کو سمجھ لیتا ہے تو دنیا اور آخرت کا تعلق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: "میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے” (الذاریات: 56)۔
یہ عبادت محض چند ظاہری اعمال کا نام نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا، ہدایت اور اخلاقی اصولوں کے مطابق گزارنے کا نام ہے۔ انسان کا مال، علم، اقتدار، صلاحیتیں اور دنیاوی وسائل سب اسی مقصد کی تکمیل کے ذرائع ہیں۔ دنیا دراصل انسان کے لیے میدانِ عمل ہے، جب کہ آخرت اس عمل کا ابدی نتیجہ اور اصل منزل ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے تو وہ ذریعہ کو مقصد، عارضی قیام گاہ کو مستقل ٹھکانہ اور امتحان گاہ کو کامیابی کی آخری منزل سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ فکری غلطی ہے جو انسان کو دنیا کی ظاہری کشش میں گرفتار کر دیتی ہے اور اسے آخرت کی دائمی حقیقت سے غافل کر دیتی ہے۔
سیرتِ طیبہﷺ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ رسول اکرمﷺ صحابۂ کرامؓ کے ساتھ کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک بکری کا مردہ بچّہ پڑا ہوا تھا۔ آپﷺ اس کے قریب رک گئے اور صحابہؓ سے فرمایا: "تم میں سے کون اسے خریدنا پسند کرے گا؟”۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللّٰہﷺ! یہ تو مرا ہوا بکری کا بچّہ ہے، ہم تو اسے مفت بھی لینا پسند نہیں کریں گے”۔ اس پر رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "اللّٰہ کی قسم! دنیا اللّٰہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے”۔
یہ محض ایک مثال نہیں بلکہ ایک مکمل فکری انقلاب تھا۔ آپﷺ نے انسان کو یہ سمجھایا کہ جس دنیا کے حصول کے لیے انسان اپنی عمریں، صلاحیتیں، تعلقات اور کبھی کبھی اصول تک قربان کر دیتا ہے، اللّٰہ کے نزدیک اس کی حیثیت اتنی بھی نہیں جتنی ایک مردہ جانور کی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسلام دنیا کو ترک کرنے کا نہیں بلکہ دنیا کو صحیح مقام دینے کا دین ہے۔ دنیا اگر اللّٰہ کی اطاعت، انسانیت کی خدمت اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بن جائے تو یہی دنیا عبادت بن جاتی ہے، لیکن اگر دنیا انسان کے دل پر قبضہ کرلے تو یہی دنیا آزمائش اور فتنہ بن جاتی ہے۔
قرآن مجید نے متعدد مقامات پر دنیا کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش ہے” (الحدید: 20)۔ اس آیت کا مقصد دنیا کی جائز نعمتوں کی نفی نہیں، بلکہ انسان کو اس دھوکے سے بچانا ہے کہ وہ ظاہری کامیابی کو ہی حقیقی کامیابی سمجھ بیٹھے۔ دنیا کی رونق عارضی ہے، جب کہ کردار، ایمان اور نیک اعمال وہ سرمایہ ہیں جو آخرت میں انسان کے ساتھ جائیں گے۔
رسول اکرمﷺ نے دنیا اور آخرت کے فرق کو ایک اور عظیم مثال کے ذریعے واضح فرمایا۔ آپﷺ نے سمندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنی انگلی سمندر میں ڈبو کر نکالی تو انگلی پر لگنے والا پانی کتنا ہوگا؟ صحابہؓ نے عرض کیا: "بہت تھوڑا”۔ آپﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے انگلی پر لگے ہوئے چند قطرے اور پورا سمندر۔
یہ مثال انسان کے محدود شعور کو وسعت عطا کرتی ہے۔ انسان چند سالوں کی زندگی کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ قرآن کے مطابق آخرت کی زندگی دائمی ہے۔ دنیا محدود ہے، آخرت لا محدود؛ دنیا فنا ہونے والی ہے، آخرت باقی رہنے والی؛ دنیا آزمائش ہے، آخرت نتیجہ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کیوں رہتا ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو اپنی آخری منزل کیوں سمجھ لیتا ہے۔
رسول اکرمﷺ کی ایک اور عظیم تعلیم شامل کی جا سکتی ہے: رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "دنیا میں ایسے رہو گویا تم مسافر ہو یا راستے سے گزرنے والے ہو” (صحیح بخاری)۔ یہ تعلیم انسان کے اندر ایک متوازن رویہ پیدا کرتی ہے۔ مسافر راستے کی ضروریات پوری کرتا ہے، لیکن راستے کو اپنا مستقل گھر نہیں بناتا۔ اسی طرح مومن دنیا کی ضروریات پوری کرتا ہے، ترقی کرتا ہے، رزق حاصل کرتا ہے، مگر اس کا دل آخرت کی منزل سے وابستہ رہتا ہے۔
رسول اکرمﷺ نے دنیا اور آخرت کے باہمی فرق کو ایک نہایت مؤثر اور بامعنی مثال کے ذریعے واضح فرمایا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی حقیقت آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبو کر نکالے اور دیکھے کہ اس انگلی پر کتنا پانی لگا ہے۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللّٰہﷺ! بہت تھوڑا۔” آپﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں اسی قدر ہے جتنی انگلی پر لگے ہوئے چند قطروں کی نسبت پورے سمندر سے ہے۔ یہ مثال انسان کے محدود شعور کو وسعت عطا کرتی ہے اور اسے یہ حقیقت سمجھاتی ہے کہ جس دنیا کو انسان اپنی تمام تر جدوجہد، خواہشات اور منصوبہ بندی کا مرکز بنا لیتا ہے، وہ دراصل آخرت کی بے پایاں زندگی کے مقابلے میں نہایت مختصر اور محدود ہے۔ انسان چند سالہ زندگی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے، حالانکہ قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آخرت کی زندگی دائمی اور حقیقی زندگی ہے۔
دنیا محدود ہے، جب کہ آخرت لامحدود؛ دنیا فنا ہونے والی ہے، جب کہ آخرت باقی رہنے والی؛ دنیا آزمائش کا مرحلہ ہے، جب کہ آخرت اس آزمائش کے نتائج کا مقام ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کیوں رہتا ہے یا دنیاوی ضروریات کیوں پوری کرتا ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو اپنی آخری منزل کیوں سمجھ لیتا ہے اور اس عارضی قیام گاہ کو اپنا مستقل ٹھکانہ کیوں بنا لیتا ہے۔ اسی حقیقت کو رسول اکرمﷺ نے ایک اور عظیم تعلیم کے ذریعے واضح فرمایا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: "دنیا میں ایسے رہو گویا تم مسافر ہو یا راستے سے گزرنے والے ہو” (صحیح بخاری)۔
یہ تعلیم انسان کو دنیا اور آخرت کے درمیان صحیح توازن قائم کرنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ مسافر راستے کی ضروریات پوری کرتا ہے، سفر کے لیے سامان تیار کرتا ہے، راستے کے وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن راستے کو اپنی مستقل منزل نہیں سمجھتا۔ اسی طرح ایک مومن دنیا میں رہتا ہے، رزق حاصل کرتا ہے، ترقی کرتا ہے، اپنے فرائض ادا کرتا ہے اور دنیاوی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے، مگر اس کا دل آخرت کی دائمی منزل سے وابستہ رہتا ہے۔ اسلام انسان کو دنیا چھوڑنے کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ دنیا کو صحیح مقام دینے کی رہنمائی کرتا ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو دنیا کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے؛ دنیا اس کے ہاتھ میں ہو، لیکن اس کے دل پر حکومت نہ کرے۔
رسول اکرمﷺ نے ایک اہم حقیقت بیان فرمائی: "ہر اُمّت کا ایک فتنہ ہے، اور میری اُمّت کا فتنہ مال ہے”۔ یہ حدیث اُمّت کے لیے ایک گہری تنبیہ ہے۔ مال بذاتِ خود برا نہیں، بلکہ مال کی محبت، اس کی غلامی اور اسے زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لینا خطرناک ہے۔ مال انسان کے ہاتھ میں ہو تو وہ نعمت ہے، لیکن جب مال انسان کے دل پر حکومت کرنے لگے تو وہ فتنہ بن جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی قومیں غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ عیش، تکبر اور دنیا پرستی کی وجہ سے زوال کا شکار ہوئیں۔ اسلام نے تجارت کی اجازت دی، ترقی کی حوصلہ افزائی کی، رزقِ حلال کو پسند فرمایا، مگر انسان کو یاد دلایا کہ دولت منزل نہیں، ذمّہ داری ہے؛ ملکیت نہیں، امانت ہے۔
اسلام نے مال کی مذمت نہیں کی بلکہ مال کی بے جا محبت اور دل کی غلامی سے خبردار کیا ہے۔ اصل خطرہ یہ نہیں کہ انسان کے پاس دولت ہو، بلکہ خطرہ یہ ہے کہ دولت انسان کے دل پر قابض ہو جائے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "اگر آدمی کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا، اور آدمی کا پیٹ مٹی ہی بھر سکتی ہے” (صحیح بخاری/ صحیح مسلم)۔ یہ حدیث انسانی خواہشات کی بے انتہاء وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر دل کو قناعت اور آخرت کے یقین سے نہ سنبھالا جائے تو دنیا کی کوئی مقدار انسان کو مطمئن نہیں کرسکتی۔
آج اُمّتِ مسلمہ کے بڑے فکری مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کے تعلق میں وہ توازن کمزور ہو گیا ہے جو اسلام نے عطا کیا تھا۔ دنیا، جو اسلام کی نظر میں ایک امتحان گاہ، ایک ذمّہ داری اور آخرت کی تیاری کا میدان ہے، بہت سے لوگوں کے لیے زندگی کا آخری مقصد بن گئی ہے۔ اس کے برعکس آخرت، جو حقیقی کامیابی، دائمی زندگی اور اصل انجام کا مقام ہے، محض ایک نظری تصور یا رسمی عقیدے تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان ظاہری کامیابی کو اصل کامیابی سمجھنے لگتا ہے اور روحانی و اخلاقی اقدار کو ثانوی حیثیت دے دیتا ہے۔ چنانچہ ترجیحات کا نظام بدل جاتا ہے؛ انسان دنیا کے حصول کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کرتا ہے، لیکن آخرت کی تیاری کے لیے وقت، توجہ اور محاسبۂ نفس کو اہمیت نہیں دیتا۔
آج بہت سے مسلمانوں کی عملی زندگی میں ایک افسوس ناک تضاد نظر آتا ہے: دنیا حقیقت بن گئی ہے اور آخرت محض خیال؛ دنیا یقین کا درجہ اختیار کر چکی ہے اور آخرت کا تصور کمزور پڑ گیا ہے؛ دنیا کے لیے جدوجہد مسلسل ہے اور آخرت کے لیے امیدیں محدود؛ دنیا کی کامیابی مطلوبِ اول ہے اور دین اکثر گفتگو اور رسم و روایت تک محدود ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام کا اصل تصور اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام دنیا سے بے رغبتی یا ترکِ دنیا کا نام نہیں، بلکہ دنیا کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنانے کا نام ہے۔ مومن کے لیے دین زندگی کی رہنمائی، محبت اور مقصد ہونا چاہیے، جب کہ دنیا اس مقصد کے حصول کا ایک وسیلہ اور ضرورت ہے۔ دین حاکم ہو اور دنیا اس کے تابع؛ دین منزل کا تعین کرے اور دنیا سفر کے وسائل فراہم کرے۔
لیکن جب یہ ترتیب بدل جاتی ہے تو انسان دنیا کا پیروکار بن جاتا ہے اور دین کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے لگتا ہے۔ پھر عبادات میں روح باقی نہیں رہتی، اخلاق کمزور پڑ جاتے ہیں، مفادات اصولوں پر غالب آ جاتے ہیں اور انسان بھول جاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیا کے وقتی حصول میں نہیں، بلکہ اللّٰہ کی رضا اور آخرت کی دائمی کامیابی میں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اُمّت اپنے فکری اور عملی سفر کا ازسرِنو جائزہ لے؛ دنیا کو ذمہ داری کے ساتھ اختیار کرے، مگر دل کا تعلق آخرت سے مضبوط رکھے۔ کیونکہ اسلام کا مطلوب یہ نہیں کہ انسان دنیا چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا انسان کو چھوڑ دے؛ یعنی دنیا اس کے اختیار میں ہو، مگر اس کے دل پر قابض نہ ہو۔
اسلام رہبانیت کا دین نہیں۔ رسول اللّٰہﷺ نے صحابہؓ کو دنیا سے فرار اختیار کرنے کا نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اللّٰہ کی رضا حاصل کرنے کا راستہ دکھایا۔ صحابۂ کرامؓ میں تاجر بھی تھے، زمیندار بھی، حکمران بھی، مجاہد بھی، لیکن ان کے دل دنیا کے غلام نہیں تھے۔ ان کے ہاتھ میں مال تھا مگر دل میں اللّٰہ کی محبت تھی۔ وہ دنیا کماتے تھے مگر دنیا انہیں نہیں کماتی تھی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ جیسے عظیم صحابی مالدار تھے، مگر مال ان کے لیے خدمت، صدقہ اور خیر کا ذریعہ تھا۔ حضرت عثمان بن عفانؓ نے اپنی دولت کو اُمّت کی ضرورتوں کے لیے وقف کیا۔ ان کے پاس دنیا تھی، لیکن دنیا ان کے اندر نہیں تھی۔ یہی اسلام کا مطلوبہ توازن ہے۔
صحابۂ کرامؓ اور سلف صالحین دنیا سے بے نیاز اس معنی میں تھے کہ دنیا ان کے دلوں پر حکومت نہیں کرتی تھی۔ حضرت عمر بن خطابؓ جیسے حکمران سادہ زندگی گزارتے تھے، حالانکہ ان کے پاس دنیا کی طاقت موجود تھی۔ ان کا اصول یہ تھا کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے، دل میں نہیں۔ وہ اقتدار کو عزّت نہیں بلکہ ذمّہ داری سمجھتے تھے، مال کو فخر نہیں بلکہ امانت سمجھتے تھے، اور زندگی کو عیش نہیں بلکہ جواب دہی کا سفر سمجھتے تھے۔
آج دنیا پرستی صرف مال جمع کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کی نئی شکلیں سامنے آئی ہیں:
• شہرت کی طلب اور ہر حال میں نمایاں ہونے کی خواہش۔
• سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں قبولیت تلاش کرنا۔
• ظاہری کامیابی کو کردار پر ترجیح دینا۔
• آسائشوں کو ضرورت سے بڑھا کر زندگی کا مقصد بنا لینا۔
• انسان کی قدر کو اس کے اخلاق کے بجائے اس کے مال، عہدے اور مقبولیت سے ناپنا۔
یہ سب جدید دور کے وہ مظاہر ہیں جو انسان کو آخرت کی جواب دہی سے غافل کرسکتے ہیں۔
جب دنیا انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جاتی ہے اور آخرت کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے معاشرے کی فکری، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی انسان کی ترجیحات کو بدل دیتی ہے؛ وہ حق و باطل، اچھائی اور برائی، عزت اور ذلت کے پیمانے بھی مادی مفادات کی بنیاد پر طے کرنے لگتا ہے۔ دنیا کی غیر متوازن محبت سب سے پہلے انسان کے اخلاقی وجود کو متاثر کرتی ہے۔ جب مفاد زندگی کا اصل معیار بن جائے تو سچائی، دیانت، امانت اور ایثار جیسی اقدار کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ انسان اصولوں کے بجائے فائدے کو ترجیح دینے لگتا ہے، اور حق و باطل کا فیصلہ بھی اپنی خواہشات اور مادی منفعت کے مطابق کرنے لگتا ہے۔
دنیا پرستی کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اپنے تعلقات کو بھی مفاد کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ رشتوں میں محبت، خلوص اور قربانی کی جگہ فائدہ اور ضرورت کا تصور غالب آنے لگتا ہے۔ پھر انسان کی قدر اس کے کردار، علم اور اخلاق سے نہیں بلکہ اس کے مال، عہدے، شہرت اور ظاہری حیثیت سے کی جانے لگتی ہے۔ جب معاشرے میں دولت عزت کا معیار اور طاقت حق کا متبادل بن جائے تو انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ بااثر افراد کے لیے آسانیاں اور کمزوروں کے لیے مشکلات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ نتیجتاً قانون کی بالادستی، معاشرتی اعتماد اور انسانی ہمدردی متاثر ہوتی ہے۔
دنیا پرستی کا سب سے گہرا اثر انسان کی روحانی زندگی پر پڑتا ہے۔ ظاہری ترقی، آسائش اور کامیابی کے باوجود دل کا سکون، مقصدِ زندگی کا شعور اور اللّٰہ سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ بظاہر ترقی یافتہ، خوشحال اور جدید نظر آ سکتا ہے، لیکن اندر سے روحانی خلا، بے اطمینانی اور اخلاقی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسلام انسان کو ترقی، خوشحالی اور دنیاوی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ دنیا کو ذمّہ داری، عدل اور خیر کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انسان کے پاس دنیا کتنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا حاصل کرتے ہوئے وہ اپنے ایمان، کردار اور آخرت کے سرمائے کو کتنا محفوظ رکھتا ہے۔
اسلام انسان کو کامیابی کا ایک ایسا متوازن تصور عطا کرتا ہے جو نہ دنیا سے بے رغبتی سکھاتا ہے اور نہ دنیا کی غلامی اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ قرآن مجید انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی وسائل اور نعمتیں دراصل آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، نہ کہ زندگی کا آخری مقصد۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جو کچھ اللّٰہ نے تمہیں دیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو اور دنیا میں اپنا حصّہ نہ بھولو” (القصص: 77)۔ یہ آیت اسلام کے معتدل اور جامع تصورِ زندگی کو واضح کرتی ہے۔ اسلام نہ انسان کو دنیا چھوڑنے کا حکم دیتا ہے اور نہ دنیا کو زندگی کا واحد مقصد بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کی نعمتوں کو اللّٰہ کی عطا سمجھ کر استعمال کرے، اپنے فرائض ادا کرے، مخلوقِ خدا کے حقوق کا خیال رکھے اور اپنی زندگی کو آخرت کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ گزارے۔
اسی حقیقت کو رسولِ اکرمﷺ نے موت کی یاد کے ذریعے واضح فرمایا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: "لذتوں کو توڑ دینے والی چیز (موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو” (ترمذی)۔ موت کا تصور انسان کو مایوس یا زندگی سے بددل نہیں کرتا، بلکہ اسے حقیقت شناس اور ذمّہ دار بناتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے ربّ کے حضور حاضر ہونا ہے، وہ اپنی زندگی کے ہر عمل میں احتیاط اختیار کرتا ہے۔ وہ ظلم سے بچتا ہے، حقوق ادا کرتا ہے، تکبر سے دور رہتا ہے اور دنیاوی اختیارات و وسائل کو ایک امانت سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کتنا جمع کرتا ہے، کتنی شہرت حاصل کرتا ہے یا کتنی ظاہری کامیابیاں حاصل کرتا ہے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا کے سفر کو اس انداز سے مکمل کرے کہ آخرت میں اللّٰہ کی رضا کا مستحق قرار پائے۔ کیونکہ دنیا کی کامیابیاں عارضی ہیں، جب کہ آخرت کی کامیابی دائمی اور حقیقی ہے۔
رسول اکرمﷺ نے اپنی تعلیمات اور اسوۂ مبارکہ کے ذریعے دنیا کی حقیقت کو واضح فرما دیا اور آخرت کی عظمت کا شعور عطا کیا۔ آپﷺ نے انسان کو یہ حقیقت سمجھائی کہ دنیا قیام کی جگہ نہیں بلکہ سفر کی منزلوں میں سے ایک منزل ہے، اور اصل کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی دائمی زندگی کے لیے تیاری کرتا ہے۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ اس مختصر اور عارضی زندگی کے لیے ایسی جدوجہد کرتا ہے جیسے اسے ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے، لیکن آخرت کی تیاری کے معاملے میں ایسی غفلت اختیار کر لیتا ہے جیسے اسے کبھی اپنے ربّ کے حضور حاضر ہی نہیں ہونا۔ وہ دنیا کی تعمیر کے لیے تو بے شمار منصوبے بناتا ہے، مگر اپنی روح، کردار اور انجام کی فکر سے غافل ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں اور دنیا و آخرت کے درمیان قائم اسلامی توازن کو دوبارہ زندہ کریں۔ دنیا کو ہاتھ میں رکھیں، دل میں نہ رکھیں؛ مال کمائیں، مگر مال کے غلام نہ بنیں؛ ترقی کریں، مگر اپنے مقصدِ زندگی کو فراموش نہ کریں؛ کیونکہ دنیا کی ہر نعمت ایک امانت ہے جس کے بارے میں آخرت میں جواب دینا ہوگا۔ حقیقت یہی ہے کہ دنیا اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود چند قطروں کی مانند ہے، جب کہ آخرت ایک بے کنار سمندر ہے۔ دانا اور صاحبِ بصیرت وہی ہے جو چند روزہ دنیا کے حصول میں ایسی غفلت اختیار نہ کرے کہ ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت کو بھول جائے۔
دنیا راستہ ہے، منزل نہیں؛ دنیا عمل کا میدان ہے، انجام کی جگہ نہیں؛ اور حقیقی کامیابی اسی کی ہے جو اس مختصر سفر کو اس طرح طے کرے کہ آخرت کی ابدی منزل میں کامیابی اس کا مقدر بن جائے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے