कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خاموش قاتل: آپ کے باورچی خانے میں چھپی خطرناک بیماریاں

زہرِ خوش ذائقہ: کیا ہم بچوں کو خوراک دے رہے ہیں یا بیماری؟آپ کے بچے کی پلیٹ میں کیا ہے؟ محبت یا سست موت؟

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

ہسپتال کے سفید راہداریوں میں پھیلی جراثیم کش ادویات کی مخصوص بو کے درمیان، دس سالہ زین کی بھاری ہوتی سانسیں ایک ایسے خاموش بحران کا نوحہ ہیں جو ہمارے کچن کی الماریوں سے شروع ہو کر بچوں کی شریانوں تک جا پہنچا ہے۔ زین، جس کا وزن اپنی عمر کے اوسط بچوں سے کہیں زیادہ ہے، محض موٹاپے کا شکار نہیں بلکہ وہ ایک ایسی حیاتیاتی جنگ کا زخمی ہے جو عالمی فوڈ کارپوریشنز نے کئی دہائیوں سے انسانی صحت کے خلاف چھیڑ رکھی ہے۔ جب ڈاکٹروں نے اسے ’نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز‘ (NAFLD) کی تشخیص دی، تو اس کے والدین کے لیے یہ لفظ اجنبی تھا۔ وہ حیران تھے کہ ایک بچہ جو شراب کے نام سے بھی واقف نہیں، اس کا جگر کسی دائمی شرابی کی طرح کیوں جواب دے رہا ہے؟ لیکن اس کا جواب ان رنگین پیکنگ والے سیریلز اور ڈبہ بند جوسز میں چھپا تھا جنہیں ’وٹامن سے بھرپور‘ سمجھ کر اسے روزانہ پیش کیا جاتا رہا۔ زین کا ننھا جگر دراصل اس ’ہائی فرکٹوز کارن سیرپ‘ اور ’ایملسیفائرز‘ کے بوجھ تلے دب چکا تھا جو الٹرا پروسیسڈ غذاؤں (UPF) کا لازمی جزو ہیں۔ یہ صرف زین کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس عالمی ’میٹابولک زلزلے‘ کا نقشہ ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کے ڈی این اے کو بدل رہا ہے۔
ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی ’ورلڈ اوبیسٹی اٹلس 2023‘ کی رپورٹ کے مطابق، اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2035 تک دنیا کی نصف سے زائد آبادی موٹاپے کا شکار ہوگی، اور بچوں میں یہ شرح سب سے تیزی سے بڑھے گی۔ جنوبی ایشیا اور خلیجی ممالک اس وبا کا مرکز بن چکے ہیں۔ سعودی عرب میں حالیہ طبی سروے بتاتے ہیں کہ وہاں تقریباً 30 سے 35 فیصد بچے اوسط سے زیادہ وزن رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان اور بھارت میں شہری آبادی کے 15 سے 18 فیصد بچے اس طبی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں بلکہ ایک ایسی نسل کا اعلان ہیں جو شاید تاریخ میں پہلی بار اپنے والدین سے کم عمر پائے گی۔ ہم نے نادانستگی میں ’غذائی قلت‘ کو ’غذائی زہر‘ سے بدل دیا ہے، جہاں غریب بستیوں میں تازہ پھلوں کے بجائے سستے بسکٹ اور برگر آسانی سے دستیاب ہیں۔
اس تباہی کی سائنسی جڑوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو کے پروفیسر کارلوس مونیزو کی ’نوا‘ (NOVA) کلاسیفکیشن کو سمجھنا ہوگا، جسے اب اقوامِ متحدہ اور عالمی ادارہ صحت بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس نظام نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف چینی یا چکنائی کا نہیں بلکہ ’پروسیسنگ‘ کے اس صنعتی عمل کا ہے جو خوراک کو لیبارٹری میں تیار کردہ ایک کیمیائی مصنوعہ بنا دیتا ہے۔ الٹرا پروسیسڈ فوڈز وہ اشیاء ہیں جن میں پانچ یا اس سے زائد ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو عام کچن میں نہیں پائے جاتے، جیسے کہ ہائیڈروجنیٹڈ آئل، ایملسیفائرز، اور فلیور انہانسرز۔ یہ مصنوعات محض پیٹ بھرنے کے لیے نہیں بلکہ انسانی دماغ کے ’ریوارڈ سسٹم‘ کو ہائی جیک کرنے کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ جب گندم سے اس کا ریشہ چھین کر اس میں صنعتی گوند شامل کی جاتی ہے، تو وہ پیٹ میں جا کر ایک ایسا سوزشی عمل شروع کرتی ہے جو ہمارے ’گٹ مائیکروبائیوم‘ کو تباہ کر دیتا ہے۔ آنتوں میں موجود یہ مفید بیکٹیریا ہماری قوتِ مدافعت کے ضامن ہیں، لیکن کیمیکلز کی مسلسل یلغار انہیں ختم کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں کینسر، ذیابیطس اور نفسیاتی امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے معروف تحقیقاتی صحافی مائیکل موس نے اپنی کتاب ’سالٹ شوگر فیٹ‘ میں اس انڈسٹری کے ’بلس پوائنٹ‘ (Bliss Point) کا پردہ چاک کیا ہے۔ یہ چینی، نمک اور چکنائی کا وہ خاص تناسب ہے جو دماغ میں ڈوپامائن کا ایسا ہیجان پیدا کرتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور شے سے ہوتا ہے۔ فوڈ کارپوریشنز کے پاس سائنسدانوں کی وہ فوج ہے جو صرف اس بات پر تحقیق کرتی ہے کہ کسی چپس کے ٹوٹنے کی آواز (Crunch) کتنی ہونی چاہیے کہ بچہ اسے بار بار کھانے پر مجبور ہو جائے۔ یہ ’نیورو مارکیٹنگ‘ کا وہ جال ہے جس کے سامنے بچوں کا معصوم ذہن بالکل بے بس ہے۔ عالمی سطح پر فوڈ انڈسٹری سالانہ اربوں ڈالر صرف اس مارکیٹنگ پر خرچ کرتی ہے جس کا ہدف براہِ راست بچے ہوتے ہیں۔ کارٹون کرداروں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ذریعے ان زہریلی غذاؤں کو ’کول‘ اور ’لازمی‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ان کی تیاری پر آنے والی لاگت ان کی مارکیٹنگ کی لاگت سے کہیں کم ہوتی ہے۔
اس بحران کا ایک اور بھیانک پہلو ’فوڈ ڈیزرٹس‘ (Food Deserts) اور معاشی ناانصافی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں غریب بستیوں کے قریب تازہ سبزیوں کی دکانیں عنقا ہیں لیکن ہر نکڑ پر سستا فاسٹ فوڈ دستیاب ہے۔ یہ ایک ایسی معاشی جاگیرداری ہے جہاں کم آمدن والے خاندان سستا زہر خریدنے پر مجبور ہیں کیونکہ تازہ اور نامیاتی (Organic) خوراک اب صرف اشرافیہ کی پہنچ میں ہے۔ برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال براہِ راست قبل از وقت موت اور 30 سے زائد مختلف بیماریوں سے جڑا ہوا ہے۔ بچپن کا موٹاپا صرف جسمانی بوجھ نہیں بلکہ یہ ایک معاشی خودکشی بھی ہے؛ 2030 تک اس کے طبی اخراجات عالمی معیشت پر 2 ٹریلین ڈالر کا بوجھ ڈالیں گے۔
تاہم، جہاں یہ سیاہ بادل گہرے ہیں، وہاں چلی (Chile) جیسے ممالک نے امید کی ایک نئی راہ دکھائی ہے۔ 2016 میں چلی نے دنیا کا سب سے سخت غذائی قانون نافذ کیا، جس کے تحت ہر نقصان دہ خوراک کے پیکٹ پر ’اسٹاپ سائن‘ جیسے سیاہ لیبل لگانا لازمی قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں میں ان اشیاء کی تشہیر اور فروخت پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ نتائج حیران کن تھے؛ محض چند سالوں میں میٹھے مشروبات کے استعمال میں 24 فیصد کمی آئی۔ میکسیکو اور برطانیہ نے بھی ’شوگر ٹیکس‘ کے ذریعے کمپنیوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی مصنوعات میں چینی کی مقدار کم کریں۔ یہ اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ جب ریاستیں کارپوریٹ منافع کے بجائے عوامی صحت کو ترجیح دیتی ہیں، تو صدیوں پرانے مسائل بھی حل ہونے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر کرس وین ٹلکن، جو ’الٹرا پروسیسڈ پیپل‘ کے مصنف ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں ان غذاؤں کو ’کھانا‘ کہنا ہی چھوڑ دینا چاہیے، کیونکہ یہ دراصل ’ایڈیکٹو انڈسٹریل سبسٹنس‘ (نشہ آور صنعتی مادے) ہیں۔
تبدیلی کا سفر اب ہمارے دسترخوان سے شروع ہونا چاہیے۔ یہ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک کا تقاضا ہے۔ ہمیں ’فوڈ لیبلز‘ پڑھنے کی عادت ڈالنی ہوگی؛ اگر کسی پیکٹ پر ایسے اجزاء درج ہیں جو آپ کی دادی کے لیے اجنبی تھے، تو وہ آپ کے بچے کے لیے بھی مضر ہیں۔ اسکولوں کو ’نو یو پی ایف‘ زون قرار دینا اور کچن میں واپس فطری اجزاء کو جگہ دینا ہی وہ واحد راستہ ہے جو زین جیسے کروڑوں بچوں کو بچا سکتا ہے۔ سات دن کا فیملی چیلنج؛ جس میں تمام ڈبہ بند اور پیکٹ والی اشیاء کو نکال کر تازہ اناج، دالوں اور پھلوں کو لایا جائے، ایک انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
زین کی کہانی ایک انتباہ بھی ہے اور ایک امید بھی۔ آج وہ ایک طویل علاج کے بعد صحت یابی کی طرف گامزن ہے، لیکن اس کے جگر پر لگے نشان شاید کبھی نہ مٹیں۔ ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو اسکرینوں اور کیمیکلز کے درمیان گھری ہوئی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی غذائی ترجیحات نہ بدلیں، تو مستقبل کا مورخ ہمیں اس بنیاد پر مجرم قرار دے گا کہ ہم نے اپنے بچوں کو اپنی ہی فراہم کردہ ’محبت‘ کے نام پر سست موت کے حوالے کر دیا۔ ایک صحت مند قوم کی بنیاد ہسپتالوں میں نہیں بلکہ کچن میں رکھی جاتی ہے۔ یہ وقت بیدار ہونے کا ہے، اس سے پہلے کہ یہ دھیما زہر ہماری نسلوں کی بنیادیں کھوکھلی کر دے۔ قلم ابھی ہمارے ہاتھ میں ہے اور زین جیسے بچوں کا مستقبل اب بھی ہمارے آج کے فیصلوں سے وابستہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے