कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسان کے بدلتے ہوئے رجحانات ٹیکنالوجی اور اخلاقیات ایک تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ

از قلم :محمود علی لیکچرر

گزشتہ چند دہائیوں میں ٹیکنالوجی نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ مزید برآں تکنیکی استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں پر اس کا اثر پڑ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی ان کے مواصلات سیکھنے اور سوچنے کے عمل کو متاثر کررہی ہے معاشرے پر اس کا نمایاں اثر پڑرہا ہے، اور ٹیکنالوجی کے بغیر جدید زندگی کو دیکھنا بہت مشکل ہے۔
انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان کے تصورات اس کی عقل اور اس کی اخلاقیات وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ مگر موجودہ دور جسے ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے، اس تبدیلی کو نہایت تیز اور گہرا بنا چکا ہے۔ آج انسان نہ صرف اپنی زندگی کے انداز بدل رہا ہے بلکہ اپنے وجود، تعلقات اور اخلاقی اقدار کو بھی نئے سرے سے تشکیل دے رہا ہے۔
ماضی میں انسان کے تصورات مذہب، روایت اور معاشرتی اقدار کے زیر اثر تشکیل پاتے تھے۔ خیر و شر حلال و حرام، عزت و ذلت جیسے تصورات نسبتاً واضح اور مستحکم تھے۔ مگر جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع، نے ان تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ اب معلومات کی کثرت اور آراء کی بھرمار نے حق و باطل کے درمیان فرق کو بعض اوقات دھندلا دیا ہے۔
ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کو بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں اس نے انسانی سوچ پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان تیز رفتار، فوری نتائج کا عادی اور اکثر سطحی معلومات پر اکتفا کرنے والا بن چکا ہے۔ گہرائی غور و فکر اور تدبر جیسے اوصاف کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عقل کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے وہ زیادہ معلوماتی تو ہے مگر ضروری نہیں کہ زیادہ حکیمانہ بھی ہو۔
اخلاقیات کے میدان میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ پہلے جو باتیں معیوب سمجھی جاتی تھیں، آج بعض حلقوں میں قابلِ قبول ہو چکی ہیں۔ انفرادی آزادی کے نام پر اجتماعی ذمہ داری کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سچائی، دیانت اور احترام جیسے اقدار کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ خود غرضی، نمائش اور مفاد پرستی کو فروغ مل رہا ہے۔
تاہم اس صورتِ حال کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ ٹیکنالوجی نے علم تک رسائی کو آسان بنایا ہے شعور میں اضافہ کیا ہے اور دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگر اس کا درست استعمال کیا جائے تو یہ انسان کی فکری اور اخلاقی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے۔ اگر انسان اپنی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط رکھے اور عقل کو محض معلومات تک محدود نہ رکھے بلکہ حکمت سے جوڑے، تو ٹیکنالوجی اس کے لیے ایک نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہی ٹیکنالوجی انسان کو اخلاقی زوال کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔انگریزی کا مقولہ ہے کہ If we continue to develop our technology without wisdom or prudence, our servant may prove to be our executioner. یعنی اگر ہم حکمت اور سمجھداری کے بغیر اپنی ٹکنالوجی کو ترقی دیتے رہیں تو ہمارا خادم ہمارا جلاد ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ انسان کے بدلتے ہوئے تصورات، ٹیکنالوجی اور اخلاقیات کا باہمی تعلق ایک پیچیدہ مگر اہم موضوع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنے قابو میں رکھیں، نہ کہ خود اس کے تابع ہو جائیں، اور اپنی اخلاقی اقدار کو ہر حال میں برقرار رکھیں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے
Technology is teaching us to be human again
ٹیکنالوجی ہمیں دوبارہ انسان بننا سکھا رہی ہے۔
مگر ہم علامہ اقبال کو بھی یاد کر لیتے ہیں
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات
اور عرش ملسیانی کہتے ہیں
یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے
انگور کی مے کے دھوکے میں زہراب کا پینا مشکل ہے
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونی منظر سے
اس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے
لیکن ایک حدیث کا مفہوم ہے
یہ مختصر حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی مختصر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری عمر کا اس وقت سے موازنہ کرتے ہیں جب سوار کو سفر جاری رکھنے کے لیے بیدار ہونے سے پہلے درخت کے سائے میں جھپکی لینے میں لگتی ہے۔
ختم شد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے