कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حصول کمال کے لیے چار چیزیں

تحریر:ابو خالد قاسمی ۔
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ کلچھینہ غازی آباد ۔

خواجہ نظام الدینؒ کے ملفوظات میں موجود ہے ’’ کمال در انسان در چہار شَے ‘‘ یعنی انسان میں کمال چار چیزوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔
(۱) قلتِ طعام ، یعنی کم کھانا :
ہمارے ہاں کھانے میں بہت اسراف سے کام لیا جاتا ہے ۔
حضور نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ اللّٰہ نے پیٹ کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ ایک حصہ کھانے کیلئے ، دوسرا پانی کیلئے اور تیسرا ہوا یعنی سانس لینے کیلئے ۔ مگر ہمارے ہاں کچھ اس قسم کے عمل کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پیٹ کے تینوں حصے خوراک سے پُر کر لو اور پانی دراڑوں میں ڈال لو اور پھر سانس لینے کیلئے جگہ ڈھونڈتے رہو ۔ کھانے کا یہ معیار غلط ہے ۔ اگر ہم حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مقرر کردہ معیار اپنا لیں تو مسلمانوں کی اقتصادی حالت بھی ٹھیک ہو جائے ۔ دولتمند آدمی تو دن میں چھ مرتبہ کھاتے ہیں اور ان کے پیٹ کی ٹینکی ہر وقت فُل رہتی ہے ۔ جب دس آدمیوں کا کھانا ایک ہی آدمی کھا جائے تو اقتصادی طور پر بہت سے مسلمان بھوکے رہیں گے کیونکہ کھانا تو اِن پیٹ والوں نے اپنے پیٹوں میں ڈال لیا اور حضورؐ کا قائم کردہ معیار باقی نہیں رہا ۔ نبی علیہ السلام کا فرمان تو یہ ہے طعام الواحد یکفی الاثنین کہ ایک آدمی کا کھانا کفایت شعاری سے دو آدمیوں کو کفایت کر سکتا ہے اور چار آدمیوں کا کھانا آٹھ کیلئے کافی ہو سکتا ہے ۔ اگر ہم اپنے معاشرہ میں یہ معیار قائم کر لیں تو کوئی آدمی بھوکا نہ رہے بلکہ سب کو سہولت کے ساتھ کھانا میسر آتا رہے ، غرضیکہ خواجہ صاحب نے انسانی کمال کی چار چیزوں میں سے پہلی چیز قلتِ طعام کو قرار دیا کہ آدمی کم کھانے کو معمول بنا لے حتٰی کہ روزے میں بھی کم ہی کھائے ۔
(۲) قلتِ منام :
خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے انسان کے کمال کیلئے دوسری چیز کم خوابی کو قرار دیا ہے یعنی آدمی ہمیشہ کم سوئے ۔ نیند جتنی کم ہو گی اتنا ہی فائدہ ہو گا اور آدمی میں کمال پیدا کرنے کا باعث ہو گا ۔
(۳) قلتِ کلام :
فرمایا تیسری چیز کم کلامی ہے جس کے ذریعے انسان میں کمال پیدا ہوتا ہے ۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : کل کلام علیہ الّا ذکر اللّٰہ و امر بالمعروف او نھی عن المنکر۔ (زاد الطالبین)
یعنی ذکر الٰہی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے علاوہ آدمی جتنی باتیں کرتا ہے ، وہ اُسی کے اوپر پڑیں گی اور اُس کی ذمہ داری بڑھے گی ۔ مطلب یہ ہے کہ زیادہ باتیں کرنا جہنم کی طرف لے جانے کا باعث ہوں گی ۔
(۴) قلتِ صحبۃ الناس :
لوگوں سے رفاقت جس قدر کم ہو گی ، آدمی کیلئے اتنا ہی مفید ہو گا ۔ اور کوئی آدمی دوسروں میں جتنا دخیل ہو گا ، اتنا ہی غیر مفید ہو گا ۔ چنانچہ اعتکاف کی حکمت یہی ہے کہ آدمی کچھ عرصہ کیلئے لوگوں سے علیحدگی اختیار کر کے کچھ نہ کچھ روحانیت حاصل کر لے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
افادات : حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ
( ماہنامہ نصرۃ العلوم مئی ۲۰۱۸ء ص ۱۴ و ۱۵ )

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے