कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جو کام وہ کریں تو مشکل اور دوسرا کریں تو آسان !

دورِ جدید میں اساتذہ کی سوچ کا تنقیدی جائزہ

تحریر:افروز روشن
موتلہ ،مہاراشٹر

استاد کسی بھی معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھوں قوموں کی تقدیر سنورتی ہے اور نسلوں کی فکری تربیت ہوتی ہے۔ ایک اچھا استاد صرف علم ہی نہیں دیتا بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور طرزِ عمل سے بھی طلبہ کی شخصیت تعمیر کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں تعلیم کے میدان میں بعض ایسے رجحانات بھی پیدا ہو رہے ہیں جو نہ صرف اداروں کے ماحول کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ اساتذہ کے باہمی تعلقات کو بھی کمزور بنا رہے ہیں۔
ان میں سب سے نمایاں سوچ یہ ہے کہ "جو کام وہ کریں مشکل ہے، لیکن وہی کام دوسرا کرے تو آسان ہے۔” یہی ذہنیت اختلاف، حسد، خود پسندی اور ٹیم ورک کی کمی کو جنم دیتی ہے۔
آج اکثر اساتذہ کی زبان پر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ "ہمارے جیسا کام کوئی نہیں کرتا۔” بلاشبہ ہر شخص اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے اور اپنی محنت کو محسوس بھی کرتا ہے، لیکن جب یہی احساس خود پسندی میں بدل جائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر استاد اپنی اپنی جگہ اہم کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی تدریس میں مصروف ہے، کوئی امتحانات کی تیاری کر رہا ہے، کوئی انتظامی امور سنبھال رہا ہے، تو کوئی طلبہ کی رہنمائی میں لگا ہوا ہے۔ اگر ہر شخص صرف اپنی محنت کو بڑا اور دوسروں کی محنت کو معمولی سمجھے تو ادارے میں باہمی احترام باقی نہیں رہتا۔
اسی طرح ایک اور عام جملہ ہے کہ "سب کام ہم کو ہی کرنا پڑتا ہے۔” بعض اوقات واقعی کسی فرد پر زیادہ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، لیکن اکثر یہ احساس حقیقت سے زیادہ ذاتی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر ہر استاد دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہو تو کسی ایک شخص پر تمام کاموں کا بوجھ نہیں پڑتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دوسروں کی خدمات کو بھی تسلیم کیا جائے اور اپنی ذمہ داری کو خدمت سمجھ کر ادا کیا جائے، نہ کہ احسان سمجھ کر۔
بعض افراد یہ بھی کہتے ہیں کہ "ہم ہیں تو ادارہ چل رہا ہے۔” یہ سوچ ادارے کے اجتماعی نظام کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی تعلیمی ادارہ صرف ایک فرد کے سہارے نہیں چلتا بلکہ اس میں پرنسپل، اساتذہ، غیر تدریسی عملہ، طلبہ اور انتظامیہ سب کا مشترکہ کردار ہوتا ہے۔ اگر ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پوری عمارت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی ایک شخص کا یہ سمجھنا کہ ادارہ صرف اسی کی وجہ سے قائم ہے، حقیقت پسندانہ سوچ نہیں بلکہ انا کا اظہار ہے۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بعض اوقات چند افراد اپنے مفادات کے لیے دلوں میں نفرت پیدا کرتے ہیں۔ ایک استاد کی بات دوسرے تک پہنچانا، غلط فہمیاں پیدا کرنا، گروہ بندی کرنا اور دوسروں کو بدنام کرنا ادارے کے ماحول کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ ایک معلم کا اصل کام محبت، اخوت اور برداشت کا سبق دینا ہے، نہ کہ اختلافات کو ہوا دینا۔ جو استاد بچوں کو اتحاد کا درس دیتا ہے، اسے خود بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ایک دلچسپ تضاد یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی اہم ذمہ داری دی جائے تو وہ فوراً کہتا ہے کہ "یہ تو ٹیم ورک ہے، سب کو ساتھ دینا چاہیے۔” لیکن جب وہی کام کسی دوسرے کو سونپا جائے تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ "یہ ہمارا کام نہیں ہے۔” یہ دوہرا معیار ادارے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ اگر ہم دوسروں سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں تو ہمیں بھی دوسروں کے کام میں تعاون کرنا چاہیے۔ کامیاب ادارے وہی ہوتے ہیں جہاں ہر شخص اپنی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اجتماعی مفاد کو بھی اہمیت دیتا ہے۔
دورِ جدید میں تعلیمی اداروں کے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسیاں، ٹیکنالوجی کا استعمال، سرکاری ہدایات، امتحانی نظام، والدین کی توقعات اور طلبہ کی بدلتی ہوئی نفسیات، یہ سب اساتذہ سے صبر، تعاون اور مثبت سوچ کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر اساتذہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے مخالف بن جائیں تو ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر استاد اپنی ذات کے بجائے ادارے کو ترجیح دے۔ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہو، ان کی محنت کو سراہنے کی عادت اپنائے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ عزت بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ تعریف کرنے سے شخصیت چھوٹی نہیں ہوتی بلکہ دل بڑے ہوتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک کامیاب استاد وہ نہیں جو صرف اپنی تعریف کرے بلکہ وہ ہے جو دوسروں کی خوبیوں کو بھی تسلیم کرے۔ ادارہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ سب کا ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص یہ سوچ لے کہ "ہم سب مل کر ادارہ چلاتے ہیں” تو محبت، اعتماد اور تعاون کی فضا قائم ہوگی۔ لیکن اگر ہر شخص یہی کہتا رہے کہ "جو کام وہ کریں تو مشکل، اور ہم کریں تو آسان” تو نہ صرف تعلقات خراب ہوں گے بلکہ ادارے کی ترقی بھی رک جائے گی۔
آئیے عہد کریں کہ ہم انا، حسد اور خود پسندی کو چھوڑ کر اخلاص، احترام اور ٹیم ورک کی ثقافت کو فروغ دیں گے، کیونکہ مضبوط ادارے مضبوط افراد سے نہیں بلکہ مضبوط ٹیموں سے بنتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے