कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جنگی بیانیوں کا بحران: اسرائیلی معاشرے میں بدلتا ہوا تصورِ فتح و شکست

The Crisis of War Narratives: The Changing Perception of Victory and Defeat in Israeli Society

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسانی تجربات کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اقوام کی زندگی میں آزمائشوں کے ادوار آتے رہتے ہیں۔ کبھی یہ آزمائشیں میدانِ جنگ میں ظاہر ہوتی ہیں، کبھی فکری محاذوں پر اور کبھی سیاسی و تہذیبی کشمکش کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے بھی انسانی تاریخ کے واقعات کو محض طاقت کے ٹکراؤ کے طور پر نہیں بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم، حکمت و غفلت اور عمل و کردار کے آئینے میں دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کامیابی کا مفہوم صرف ظاہری غلبے، مادی طاقت یا وقتی فتح تک محدود نہیں۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جس میں اصول، اخلاق، عدل اور انسانیت کی پاسداری شامل ہو۔ اسی لیے تاریخ میں کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ بظاہر طاقتور قوتیں اپنے وسائل اور لشکروں کے باوجود کمزور ہوئیں، جب کہ صبر، استقامت اور واضح مقصد رکھنے والی اقوام نے نامساعد حالات میں بھی اپنا اثر قائم رکھا۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشمکش بھی اسی وسیع تاریخی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ یہ صرف سرحدوں، ہتھیاروں یا سیاسی مفادات کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات عوامی ذہنوں، معاشرتی اعتماد، سیاسی فیصلوں اور عالمی بیانیوں تک پھیلتے ہیں۔ جنگیں صرف میدانِ نبرد میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ نظریات، اطلاعات اور عوامی تصورات کے میدان میں بھی جاری رہتی ہیں۔ مسلمانوں کے لیے تاریخ کا مطالعہ محض واقعات کی فہرست نہیں بلکہ عبرت اور فہم کا ذریعہ ہے۔ قرآن ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ طاقت کے زعم، ظلم کے انجام اور فیصلوں کے نتائج کو سمجھا جائے۔ اسی اصول کے تحت کسی بھی عالمی تنازعے کا جائزہ جذبات سے بڑھ کر علم، حکمت اور حقیقت پسندانہ تجزیے کے ساتھ لینا ضروری ہے۔
آج جب دنیا جنگوں، سیاسی کشمکش اور بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کا مشاہدہ کر رہی ہے، تو سب سے اہم سوال یہ ہے کہ طاقت کا حقیقی معیار کیا ہے؟ کیا صرف عسکری برتری کامیابی کی ضمانت ہے، یا عوامی اعتماد، اخلاقی جواز، سیاسی بصیرت اور مستقبل کی حکمتِ عملی بھی کسی قوم کے عروج و زوال میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے؟ اسی پس منظر میں اسرائیلی معاشرے میں جنگی نتائج، حکومتی بیانیے اور علاقائی طاقت کے توازن کے بارے میں سامنے آنے والی آرا ایک اہم مطالعے کا موضوع بن جاتی ہیں۔ یہ جائزہ کسی ایک فریق کے دعوے کی تائید یا مخالفت سے زیادہ اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش ہے کہ جدید جنگوں میں فتح اور شکست کے پیمانے کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں، اور قوموں کے اندر پیدا ہونے والے سوالات کس طرح مستقبل کی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
جنگیں صرف میدانِ نبرد میں نہیں لڑی جاتیں، بلکہ وہ بیانیوں، تصورات اور عوامی ذہنوں میں بھی جاری رہتی ہیں۔ کسی بھی تنازعے کا حقیقی اثر صرف فوجی کامیابیوں یا نقصانات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے بھی طے ہوتا ہے کہ عوام اسے کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ حالیہ اسرائیلی سروے کے نتائج اسی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں کہ جنگ کے بعد داخلی سطح پر پیدا ہونے والے سوالات کس طرح ریاستی بیانیے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک حالیہ سروے میں اسرائیلی عوام کی بڑی اکثریت نے یہ رائے ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ ہونے والے تنازع اور اس کے بعد سامنے آنے والی سفارتی صورتِ حال میں تہران نسبتاً مضبوط پوزیشن کے ساتھ ابھرا۔
عبرانی یونیورسٹی یروشلم اور آگام انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کیے گئے سروے میں 92؍ فیصد سے زائد شرکاء نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ایران نے اس کشمکش میں کامیابی حاصل کی۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی وسیع علاقائی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ ایران طویل عرصے سے اپنی علاقائی حکمتِ عملی، اتحادی نیٹ ورک اور سفارتی روابط کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے، جب کہ اسرائیل اپنی سلامتی کو علاقائی خطرات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اسی تناظر میں کسی بھی جنگ یا تنازعے کے نتائج کا جائزہ وسیع علاقائی تناظر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
جنگوں میں فتح ہمیشہ ایک ہی معنی نہیں رکھتی۔ عسکری کامیابی، سیاسی کامیابی اور نفسیاتی کامیابی تین مختلف پہلو ہیں۔ ایک فریق اگر میدان میں کچھ اہداف حاصل بھی کر لے، لیکن عوامی اعتماد، سفارتی حمایت اور طویل المدتی استحکام کے مسائل سے دوچار ہو تو اس کی کامیابی محدود سمجھی جا سکتی ہے۔ اسی لیے جدید دور میں جنگی نتائج کا تجزیہ صرف میزائلوں، فوجی کارروائیوں اور جغرافیائی کامیابیوں سے نہیں بلکہ معاشرتی ردعمل اور سیاسی اثرات سے بھی کیا جاتا ہے۔ یہ نتیجہ اس اعتبار سے قابلِ توجہ ہے کہ اسرائیلی سیاسی منظرنامہ عموماً قومی سلامتی، عسکری طاقت اور دفاعی برتری کے تصورات کے گرد تشکیل پاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر عوام کی بڑی تعداد کسی مخالف قوت کو فاتح تصور کرنے لگے تو یہ صرف ایک جنگی نتیجہ نہیں بلکہ داخلی اعتماد، سیاسی حکمتِ عملی اور ریاستی بیانیے کے لیے بھی ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سروے کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کے حامیوں میں بھی ایک بڑی اکثریت نے ایران کو مضبوط فریق قرار دیا۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ معاملہ صرف سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ عوامی سطح پر جنگ کے نتائج کے ادراک میں ایک وسیع تبدیلی کا ہے۔ اسرائیلی معاشرہ تاریخی طور پر قومی سلامتی کے معاملات میں متحد نظر آتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں سیاسی تقسیم، حکومتی فیصلوں پر تنقید اور جنگی حکمتِ عملی کے حوالے سے اختلافات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق مسئلہ صرف بیرونی خطرات کا نہیں بلکہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ریاست اپنی طاقت کو کس حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کرتی ہے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے کس طرح پیش کیے جاتے ہیں۔
سروے کے دیگر نتائج بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بڑی تعداد میں اسرائیلی شہریوں نے رائے دی کہ ایران کے خلاف طویل فوجی مہم نے اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی کے سوال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے نزدیک عسکری کارروائیاں وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتی ہیں، لیکن اگر ان کے نتیجے میں سیاسی استحکام، سفارتی کامیابی اور دیرپا تحفّظ حاصل نہ ہو تو جنگی حکمتِ عملی پر سوال اٹھتے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے کہ جدید جنگوں میں فتح کا تصور تبدیل ہو چکا ہے۔ ماضی میں فتح کا معیار صرف دشمن کے علاقوں پر قبضہ، فوجی نقصان یا میدان میں برتری سمجھا جاتا تھا، لیکن موجودہ دور میں سیاسی اثرات، عوامی حوصلے، عالمی حمایت اور طویل المدتی استحکام بھی کامیابی کے اہم پیمانے بن چکے ہیں۔
سروے میں ایک بڑی تعداد نے اس دعوے کو بھی قبول نہیں کیا کہ اسرائیل نے اپنے تمام جنگی اہداف مکمل طور پر حاصل کر لیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوامی سطح پر یہ احساس موجود ہے کہ صرف عسکری طاقت کا استعمال مسائل کا مکمل حل فراہم نہیں کرتا۔ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی، معاشی اور سفارتی مشکلات بھی ریاستوں کے فیصلوں کا حصّہ بن جاتی ہیں۔ تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں کہ طویل جنگیں صرف دشمن کو نقصان نہیں پہنچاتیں بلکہ جنگ میں شامل معاشروں کے اندر بھی تھکن، سوالات اور سیاسی تبدیلیوں کو جنم دیتی ہیں۔ عوام کا اعتماد کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے، اور جب عوام سرکاری بیانیے اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق محسوس کرنے لگیں تو سیاسی قیادت کو نئے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امریکی پالیسیوں کے حوالے سے بھی سروے میں عوامی تحفّظات سامنے آئے، جہاں بڑی تعداد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمتِ عملی کو مؤثر قرار نہیں دیا۔ یہ رجحان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اتحادی طاقتوں کے فیصلے بھی اب عوامی جائزے سے محفوظ نہیں رہے۔ اسی طرح 7؍ اکتوبر 2023ء کے بعد شروع ہونے والی عسکری کارروائیوں کے بارے میں بھی کئی اسرائیلی شہریوں نے یہ رائے دی کہ حماس اور حزب اللہ کے حوالے سے اعلان کردہ بنیادی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگی اعلانات اور زمینی حقیقتوں کے درمیان فرق عوامی شعور میں نمایاں ہو رہا ہے۔
موجودہ دور میں میڈیا اور اطلاعاتی جنگ بھی عسکری محاذ کی طرح اہم ہو چکی ہے۔ ہر فریق اپنی کامیابی کو اجاگر کرنے اور مخالف کے نقصان کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں عوامی رائے صرف میدانِ جنگ کے واقعات سے نہیں بلکہ اطلاعات کی ترسیل، ذرائع ابلاغ اور سیاسی تعبیرات سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ سروے ایک اہم سیاسی اور سماجی حقیقت کو سامنے لاتا ہے: جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتی، بلکہ اعتماد، حکمتِ عملی، سفارت کاری اور مستقبل کے واضح وژن سے بھی کامیابی حاصل کی جاتی ہے۔ اگر کسی ریاست کا اپنا معاشرہ ہی جنگی نتائج کے بارے میں سوالات اٹھانے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف بیرونی محاذ پر نہیں بلکہ داخلی سطح پر بھی موجود ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں صرف اپنی فوجی قوت سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد اور درست فیصلوں کی بنیاد پر مضبوط رہتی ہیں۔ جنگوں کے بعد اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ کون اپنی کمزوریوں کا اعتراف کر کے اصلاح کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون صرف نعروں کے ذریعے حقیقت کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ بالآخر جنگوں کا سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ کوئی قوم اپنی طاقت کے ساتھ اپنی حقیقت کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ وقتی فتح کا اعلان کرنا آسان ہے، لیکن دیرپا امن، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کا حصول ہی حقیقی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
🗓 (22.06.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے