कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تبصروں کی گرد سے بلند رہنے کا ہنر

فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

زندگی کی شاہراہ پر قدم رکھنے والا ہر شخص تعریف و تحسین کے پھول بھی دیکھتا ہے اور تنقید و ملامت کے کانٹے بھی۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ جن لوگوں نے زمانے کو کوئی نئی فکر، کوئی نیا پیغام یا کوئی نئی راہ دی، انہیں سب سے پہلے اعتراضات، طعن و تشنیع اور بے جا تبصروں کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر وہ ہر آواز پر رک جاتے، ہر اعتراض کے جواب میں اپنی رفتار کھو دیتے اور ہر مخالف رائے کو منزل سمجھ لیتے، تو نہ کوئی کارنامہ وجود میں آتا، نہ کوئی انقلاب برپا ہوتا اور نہ ہی تاریخ ان کے نام سے روشن ہوتی۔
اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اسی استقامت کا درس دیتے ہوئے فرمایا:
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ
(سورۂ ہود: 112)
ترجمہ: "پس آپ اسی طرح ثابت قدم رہیے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے۔”
انسان جب اپنی نگاہ لوگوں کے تبصروں پر جما لیتا ہے تو اس کے قدموں کی روانی متاثر ہونے لگتی ہے۔ دل میں وسوسے جنم لیتے ہیں، ارادوں کی حرارت مدھم پڑ جاتی ہے، حوصلوں کی بلندیاں سمٹنے لگتی ہیں اور عزائم کی مضبوطی کمزور ہونے لگتی ہے۔ پھر وہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے یہ سوچنے لگتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، اور یہی سوچ اسے منزل کی طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے۔
حالانکہ ہر تبصرہ خیرخواہی پر مبنی نہیں ہوتا۔ کچھ آرا حسد کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں، کچھ تعصب کے پردے میں لپٹی ہوتی ہیں، کچھ ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کی ترجمان بنتی ہیں، اور بعض اس لیے سامنے آتی ہیں کہ کسی کی ترقی دوسروں کی طبیعت پر گراں گزرتی ہے۔ ایسے تبصروں کو معیارِ حق سمجھ لینا دانش مندی نہیں، اپنے عزم کو دوسروں کی خواہشات کے سپرد کر دینا ہے۔
عربی ادب کا ایک نہایت معروف شعر ہے:
*وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ نَشْرَ فَضِيلَةٍ*
*طُوِيَتْ أَتَاحَ لَهَا لِسَانَ حَسُودِ*
"جب اللہ تعالیٰ کسی پوشیدہ فضیلت کو نمایاں کرنا چاہتا ہے تو کسی حسد کرنے والے کی زبان کو اس کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔”
رسولِ اکرم ﷺ نے بھی اہلِ ایمان کو عزم و استقامت کا یہی سبق دیا ہے:
*احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَلَا تَعْجِزْ*
(صحیح مسلم، حدیث: 2664)
ترجمہ: "جو چیز تمہارے لیے نفع بخش ہو، اس کے حصول کی کوشش کرو، اللہ سے مدد مانگو اور کم ہمت نہ بنو۔”
اہلِ بصیرت کا شیوہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنی نگاہ منزل پر رکھتے ہیں، راستے کے شور پر نہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسافر کو راستے میں گرد بھی ملے گی اور پتھر بھی، مگر جو شخص ہر کنکر کو اٹھا کر دیکھنے لگے، وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو حوصلہ دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
(سورۂ آلِ عمران: 139)
ترجمہ: "نہ کمزور پڑو، نہ غم کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔”
علامہ اقبالؒ نے اسی مسلسل جدوجہد کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
*ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں*
*ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں*
اس لیے کامیابی کا راستہ یہی ہے کہ انسان اپنے مقصد کو اللہ تعالیٰ کی رضا سے وابستہ رکھے، اپنے ضمیر کو اپنا سب سے بڑا منصف بنائے، اور حق و اخلاص کے ساتھ اپنے سفر کو جاری رکھے۔ لوگوں کی زبانیں کبھی ایک نہیں ہو سکتیں، مگر اللہ تعالیٰ کی رضا ایک ایسی دولت ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام تعریفیں اور تمام ملامتیں ہیچ ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(سورۂ الأنعام: 162)
ترجمہ: "کہہ دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔”
جو شخص لوگوں کی باتوں میں الجھ جاتا ہے، وہ سفر کھو دیتا ہے؛ اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصود بنا لیتا ہے، وہ راستوں کی دشواریوں سے بے نیاز ہو کر منزل تک پہنچ جاتا ہے۔
منزل انہی کے قدم چومتی ہے جو راستے کے شور سے زیادہ اپنے رب کی رضا کی صدا سنتے ہیں۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے