कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بڑے کالجوں میں طلبہ کی تنہائی

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان
9967893333

رات خاصی ڈھل چکی ہے۔ کسی نامور انجینئرنگ کالج کے ہاسٹل میں ایک کمرے کی بتی بجھی ہوئی ہے، مگر فون کی اسکرین جل رہی ہے۔ بستر پر بیٹھا لڑکا گھر کو پیغام لکھتا ہے، مٹاتا ہے، پھر لکھتا ہے۔ آخر میں بس اتنا جاتا ہے: "سب ٹھیک ہے، امّی۔”
سیکڑوں کلومیٹر دور ماں یہ چند لفظ پڑھتی ہے، اطمینان کا سانس لیتی ہے اور جائے نماز تہہ کر دیتی ہے۔ بیٹا جانتا ہے کہ یہ سچ نہیں۔ ماں کا دل بھی شاید کہیں نہ کہیں جانتا ہے۔ پھر بھی دونوں اس جملے پر راضی ہو جاتے ہیں، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو بچانا چاہتے ہیں۔ ہماری اعلیٰ تعلیم کا ایک بڑا المیہ اسی چھوٹے سے جملے کے دونوں سروں کے بیچ کہیں رہتا ہے۔
یہ منظر مجھے ۲۵ ستمبر ۲۰۲۶ء کے "ٹائمز آف انڈیا” میں پروفیسر وی رام گوپال راؤ کا مضمون پڑھتے ہوئے یاد آیا۔ آئی آئی ٹی دہلی کے سابق ڈائریکٹر اور بِٹس پلانی گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے موجودہ وائس چانسلر نے یہ مضمون آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ٹی بمبئی میں طلبہ کی حالیہ خودکشیوں کے پس منظر میں لکھا ہے۔ وہ احتیاط سے بات شروع کرتے ہیں: خودکشی ایک پیچیدہ اور گہرا ذاتی معاملہ ہے، اسے کسی ایک وجہ سے جوڑ دینا غلط ہوگا۔ لیکن جب بے چینی بار بار سر اٹھائے تو ہر واقعے کو الگ حادثہ کہہ کر آگے بڑھ جانا بھی ممکن نہیں؛ ہمیں اس ماحول کو دیکھنا ہوگا جو ہم سب نے مل کر بنایا ہے۔
ان کی تشخیص سیدھی ہے۔ آئی آئی ٹی سمیت ملک کے صفِ اوّل کے ادارے بہت تیزی سے پھیلے ہیں۔ یہ پھیلاؤ ضروری تھا اور اس نے بہت سے نوجوانوں کے لیے دروازے کھولے۔ مگر طلبہ کی تعداد جتنی جلدی بڑھ جاتی ہے، ہاسٹل، کلاس روم، لیبارٹریاں، کونسلنگ کا نظام اور اساتذہ اتنی جلدی نہیں بڑھتے۔ نتیجہ یہ کہ استاد اور شاگرد کے بیچ فاصلہ بڑھتا ہے، سہارے کے نظام کھنچ جاتے ہیں اور طالب علم رفتہ رفتہ ایک بے نام چہرہ بن جاتا ہے۔
پھر ایک سماجی تبدیلی ہے جسے ہم نے شاید ٹھیک سے سمجھا ہی نہیں۔ کبھی ہاسٹل خود ایک سہارا تھا۔ لڑکے کمرے بانٹتے، شامیں ساتھ گزارتے، اور سب کو پتا چل جاتا کہ کون ٹھیک نہیں ہے۔ آج بہت سے طلبہ اپنی نجی دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کی سماجی زندگی فون میں سمٹ آئی ہے۔ یوں ایک طالب علم ہزاروں کے بیچ رہ کر بھی بالکل اکیلا ہو سکتا ہے، اور یہ تنہائی اندھیری نہیں، اسکرین کی چمک میں چھپی ہوئی روشن تنہائی ہے۔ اس پر نسبتی گریڈنگ، پلیسمنٹ کی دوڑ، اور یہ توقع کہ ڈگری کو ایک خاص نوکری اور خاص تنخواہ تک پہنچنا ہی ہے۔
کلاس روم بھی بدل گیا ہے۔ آج ایک ہی کلاس میں ایسے طلبہ بیٹھے ہو سکتے ہیں جن کے جے ای ای ایڈوانسڈ رینک ایک ہندسے سے پانچ ہندسوں تک پھیلے ہوں، اور زبان اور اسکول کا فرق الگ۔ استاد آہستہ چلے تو کچھ اکتا جاتے ہیں، تیز چلے تو کچھ پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔ پروفیسر راؤ کے نزدیک کئی طلبہ کی مشکل قابلیت کی نہیں، اس تعلیمی، لسانی اور سماجی سہارے کی کمی کی ہے جو انہیں جلد قدم جمانے میں مدد دیتا۔
ان کے حل چار ہیں۔ شمولیت داخلے پر ختم نہ ہو: برج کورس، لسانی مدد، ٹیوشن، ریکارڈ شدہ لیکچر، اور پانچ سالہ لچک دار بی ٹیک جس میں جو چاہے چار برس میں کریڈٹ پورے کرے اور جسے ضرورت ہو وہ بغیر کسی ٹھپّے کے پانچ برس لے؛ رفتار کارکردگی طے کرے، رینک نہیں، اور معیار وہی رہے۔ ذہنی صحت نصاب کا حصہ بنے، کیونکہ کونسلنگ سینٹر تک پہنچتے پہنچتے اکثر دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ہر طالب علم کا ایک استاد رہنما ہو جو اسے نمبروں سے آگے جانتا ہو، اور سابق طلبہ، ہاسٹل کی برادری اور طلبہ انجمنیں اس سہارے کو مضبوط کریں۔ اور ادارہ اتنا ہی پھیلے جتنی گنجائش ہو: اساتذہ، کونسلر اور ہاسٹل ساتھ بڑھیں، اساتذہ کو خود بھی سہارا ملے، اور کمیٹیوں میں طلبہ کی آواز شامل ہو۔
ان کی آخری بات دل کو لگتی ہے: ہر سانحے کے بعد کسی ایک کو قصوروار ٹھہرانا یا ایک اور کمیٹی بنا دینا حل نہیں۔ مقصد ایسے پُر اعتماد نوجوان تیار کرنا ہے جو ناکامی، غیر یقینی اور خود زندگی کا سامنا کر سکیں۔
یہ ایک تجربہ کار منتظم کا مخلص نسخہ ہے۔ مگر ہر نسخہ کسی میز پر لکھا جاتا ہے، اور ہر میز کے سامنے اپنی کھڑکی ہوتی ہے۔ وائس چانسلر کی کھڑکی سے عمارتیں، تناسب اور بجٹ دکھتے ہیں۔ میں چالیس برس سے ممبرا کی درس گاہوں میں بچوں اور ان کے ماں باپ کے بیچ کھڑا ہوں، اس لیے یہی مسئلہ دو اور کھڑکیوں سے دیکھنا چاہتا ہوں: ایک ہاسٹل کے بند کمرے کی، اور دوسری کسی قصبے کے اس چھوٹے سے گھر کی جہاں سے یہ کیمپس خواب کی طرح دکھائی دیتا ہے۔
اس لڑکے کی کہانی کیمپس سے نہیں، کوچنگ سینٹر سے شروع ہوتی ہے۔ برسوں اسے یہی سکھایا گیا کہ ذہانت کا مطلب رفتار ہے۔ سوال دیکھو، اس کی قسم پہچانو، فارمولا لگاؤ، آگے بڑھو۔ وہ اس کھیل میں ماہر ہو گیا اور اسی مہارت نے اسے اس دروازے تک پہنچا دیا۔ پھر پہلے ہی ہفتے کوئی پروفیسر ایسا سوال پوچھتا ہے جس کی کوئی "قسم” ہی نہیں، جو "کیسے” سے نہیں، "کیوں” سے شروع ہوتا ہے۔ جس ہنر پر اس کی پوری پہچان کھڑی تھی، وہ یہاں کی زبان ہی نہیں بولتا۔ یہ ہار نہیں، ایک نئی زبان سیکھنے کا مرحلہ ہے۔ مگر کوئی اسے یہ بتاتا نہیں، سو وہ اسے اپنی کمی سمجھ بیٹھتا ہے۔
رینک اس کے لیے محض ایک عدد نہیں تھا، آئینہ تھا۔ اپنے قصبے میں وہ سب سے آگے تھا۔ یہاں اس کے دائیں بائیں وہ بیٹھے ہیں جو اپنے اپنے شہروں کے سب سے اوپر والے نام تھے؛ کسی کا رینک ایک ہندسے کا، اس کا پانچ ہندسوں کا۔ کوئی اس کا ذکر نہیں کرتا، مگر وہ اسے سینے پر ٹنکے ایک نادیدہ بِلّے کی طرح محسوس کرتا ہے۔ جو عمر بھر اوّل آیا ہو، وہ پہلی بار اوسط ٹھہرے تو چوٹ نمبروں پر نہیں، پہچان پر لگتی ہے، اور یہ ڈر جڑ پکڑنے لگتا ہے کہ میں یہاں غلطی سے آ گیا ہوں۔
اب اس میں زبان کا بوجھ جوڑیے۔ جس نے طبیعیات اردو، ہندی یا مراٹھی میں سمجھی ہو، اس کے لیے انگریزی لیکچر دوہری محنت ہے۔ پہلے لفظ کا ترجمہ، پھر تصور کی سمجھ، اور اتنے میں استاد اگلے صفحے پر۔ اس کا ذہن کمزور نہیں، ایک ساتھ دو کام کر رہا ہے، اس لیے اسے وقت زیادہ چاہیے۔ میں نے اپنی درس گاہوں میں اردو میڈیم کے بچوں کو برسوں انگریزی سے جوجھتے دیکھا ہے۔ جس دن انہیں یقین آ جاتا ہے کہ ان کی مادری زبان ان کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی سوچ کی جڑ ہے، اسی دن ان کی چال بدلنے لگتی ہے۔
نسبتی گریڈنگ کے ایک پہلو پر کم بات ہوتی ہے۔ جب دوست کی کامیابی تمہارا گریڈ نیچے کھینچ سکتی ہو تو دوستی بھی حساب کتاب بن جاتی ہے۔ نوٹس دینے سے پہلے ہاتھ رک جاتا ہے۔ ہم بچوں سے کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کا خیال رکھو، اور پھر ایسا پیمانہ بناتے ہیں جو خیال رکھنے کی قیمت وصول کرتا ہے۔
اور پھر مدد مانگنے کا مرحلہ۔ جسے پورا قصبہ کامیابی کی مثال کہتا ہو، اس کے لیے کونسلنگ سینٹر کا دروازہ کھٹکھٹانا گویا ہار مان لینا ہے، سو وہ انتظار کرتا ہے کہ حالات خود سنبھل جائیں۔ اسی لیے یہ تجویز اتنی اہم ہے کہ مدد مانگنا نصاب کا حصہ ہو۔ جو بات نصاب میں ہو اس پر شرم نہیں آتی۔ اسے ایک ایسا استاد چاہیے جو اسے رول نمبر سے نہیں، نام سے جانتا ہو، اور جس کے سامنے "مجھے سمجھ نہیں آیا” کہنا بے عزتی نہ لگے۔
اب اس گھر میں چلیے جہاں وہ پیغام پہنچا تھا۔ باپ کسی کارخانے میں مزدور ہے، یا کھیت میں کسان، یا نکڑ پر چھوٹی سی دکان چلاتا ہے۔ داخلے کا خط فریم ہو کر دیوار پر ٹنگا ہے، محلے بھر نے مبارک باد دی ہے۔ اس گھر کے لیے یہ داخلہ ایک بیٹے کی پڑھائی نہیں، پورے خاندان کی کشتی ہے جو تنگ دستی کے دریا سے پار لگا سکتی ہے۔ اس کشتی کا کرایہ کبھی تعلیمی قرض سے ادا ہوا، کبھی ماں کے زیور گروی رکھ کر۔ ہاسٹل میں بیٹھا لڑکا صرف اپنا خواب نہیں اٹھائے ہوئے، ایک پورے گھر کی امید کا امانت دار ہے، اور امانت کا بوجھ خواب کے بوجھ سے کہیں بھاری ہوتا ہے۔
یہ ماں باپ اپنے بچے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، مگر اس کی نئی دنیا کی زبان نہیں جانتے۔ انہیں کیا پتا کہ سی جی پی اے کیا ہے، یا پہلے سال میں اوسط نمبر آ جانا کوئی قیامت نہیں۔ سو فون پر وہی پوچھتے ہیں جو پوچھنا آتا ہے: "کھانا کھایا؟ طبیعت کیسی ہے؟” اور بیٹا وہی کہتا ہے جو انہیں فکر سے بچا لے۔ یہ بے حسی نہیں، محبت کی ایک دکھ بھری شکل ہے: بچہ ماں باپ کو بچا رہا ہے، اور ماں باپ سمجھ رہے ہیں کہ بچہ محفوظ ہے۔
پروفیسر راؤ اس توقع کا ذکر کرتے ہیں کہ تعلیم کو ایک خاص نوکری اور خاص تنخواہ تک پہنچنا ہے۔ کھاتے پیتے گھروں میں یہ توقع کبھی کبھی دکھاوا ہوتی ہے؛ غریب گھر میں یہ حساب ہے۔ تنخواہ یعنی قرض کی قسط، بہن کی شادی، باپ کی وہ فراغت جو برسوں سے ٹل رہی ہے۔ اسی لیے یہ تسلی کہ ایک چھوٹی ہوئی پلیسمنٹ زندگی کا فیصلہ نہیں کرتی، آسودہ گھر کے بچے کے لیے جتنی سچی ہے، مقروض گھر کے بچے کے لیے اتنی ہی ادھوری۔ ایسے بچے کو تسلی کے ساتھ کوئی ٹھوس سہارا بھی چاہیے، ورنہ تسلی کے الفاظ کھوکھلے لگتے ہیں۔
یہیں پانچ سالہ بی ٹیک کا سوال ایک نئے رخ سے سامنے آتا ہے۔ تعلیمی لحاظ سے یہ تجویز بڑی سمجھ داری کی ہے اور میں اس کا حامی ہوں۔ مگر غریب باپ کی کھڑکی سے فوراً ایک سوال اٹھتا ہے: یہ پانچواں سال کس کی جیب سے جائے گا؟ کھاتے پیتے گھر کے لیے ایک سال زیادہ لگنا محض لچک ہے۔ غریب گھر کے لیے اس کا مطلب ایک اور سال کی فیس، ہاسٹل کا خرچ، قرض پر سود، اور باپ کی ایک سال مزید مشقت ہے۔ اگر یہ وقت مالی مدد کے بغیر دیا گیا تو خوش حال طالب علم آرام سے پانچ برس لے گا، اور نادار طالب علم اپنی صحت داؤ پر لگا کر چار برس میں نکلنے کی کوشش کرے گا۔ برابری کے لیے کھولا گیا دروازہ انجانے میں ایک نئی طبقاتی لکیر بن جائے گا۔
اسی لیے میں کہتا ہوں کہ وقت بھی ایک وظیفہ ہے۔ جیسے ہم ذہین مگر نادار طالب علم کی فیس معاف کرتے ہیں، ویسے ہی ضرورت مند کو اضافی وقت دیتے ہوئے اس وقت کی قیمت بھی معاف کرنی ہوگی۔ جو ادارہ پانچواں سال دے، وہ ضرورت مند طلبہ کے لیے اس سال کی فیس اور رہائش کا بوجھ خود اٹھائے یا اس کا کوئی پکا انتظام کرے۔ ورنہ یہ سہولت کاغذ پر سب کے لیے ہوگی اور حقیقت میں صرف ان کے لیے جو اسے خرید سکیں۔
ایک مسئلہ کیمپس کی دیوار کے باہر بھی ہے۔ کیمپس کے اندر شاید پانچ برس لینے والے پر کوئی ٹھپّا نہ لگے، مگر قصبے میں؟ جب کوئی رشتہ دار پوچھے گا، "پانچ سال کیوں؟ فیل ہو گیا تھا کیا؟” تو ماں باپ کے پاس جواب نہیں ہوگا۔ آج زیادہ تر ادارے والدین سے دو ہی موقعوں پر بات کرتے ہیں: فیس کے وقت، یا جب کوئی تادیبی معاملہ ہو۔ جب تک یہ رشتہ نہیں بدلتا، گھر اور کیمپس کے بیچ پُل نہیں بنے گا۔
یہ باتیں نئی نہیں۔ سر سید احمد خان نے ۱۸۷۵ء میں علی گڑھ میں جو مدرسۃ العلوم قائم کیا، جو آگے چل کر محمڈن اینگلو اورینٹل کالج بنا، اسے انہوں نے ایک اقامتی برادری کے طور پر سوچا تھا، جہاں ہاسٹل، دسترخوان اور کھیل کا میدان بھی اتنی ہی تعلیم تھے جتنا کلاس روم۔ آج ہمارے ہاسٹل عمارت کے طور پر کہیں بڑے ہیں، مگر برادری کے طور پر شاید چھوٹے ہو گئے ہیں۔ ہم نے کمرے تو بنا لیے، وہ صحن کھو دیا جہاں کمرے آپس میں ملا کرتے تھے۔
ہمارا نظام الٹا چلتا ہے: سب کو ایک ہی گھڑی تھما دیتا ہے، اور جو اس میں نہ سما سکے، اسے کمزور کہہ دیتا ہے۔اس مسئلے کی جڑیں ہمارے اسکولوں تک جاتی ہیں۔ ہم بچوں کو سکھاتے ہیں کہ جواب کتنی جلدی دینا ہے، یہ نہیں سکھاتے کہ غلط جواب کے بعد کیا کرنا ہے۔ جس بچے نے اسکول میں ہارنا نہیں سیکھا، وہ کیمپس کی پہلی ہار کیسے سہے گا؟
کیا کیا جائے؟
پروفیسر راؤ کی تجاویز بنیاد ہیں؛ ان دو کھڑکیوں سے دیکھ کر میں کچھ باتیں جوڑوں گا۔ پانچواں سال دیا جائے تو ضرورت مند طلبہ کی فیس اور رہائش کا انتظام بھی ساتھ ہو۔ ادارے والدین سے ان کی اپنی زبان میں وقتاً فوقتاً ملیں، تاکہ وہ جان سکیں کہ ایک اوسط گریڈ آفت نہیں، اور بچے کی آواز میں چھپی تھکن پہچاننا سیکھ لیں۔ لسانی مدد احسان نہیں، معمول کی سہولت ہو۔ سابق طلبہ کی رہنمائی میں وہ لوگ شامل ہوں جو غریب گھروں سے آئے، کسی سال پیچھے رہے اور پھر سنبھلے، کیونکہ کسی کی کہانی تب امید بنتی ہے جب اس کا آغاز اپنے آغاز جیسا ہو۔ مشکل میں پڑے طالب علم کو پہچاننے کے نظام نگرانی نہیں، نگہداشت کے جذبے سے بنیں۔ اور غریب طالب علم کے لیے مالی رہنمائی اور ہنگامی امدادی فنڈ اتنے ہی ضروری ہیں جتنی کونسلنگ۔
اگر یہ آوازیں نہ سنی گئیں تو سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ غریب گھروں میں یہ خاموش یقین بیٹھ جائے کہ بڑے ادارے "ہم جیسوں کے لیے نہیں”۔ جس دن کسی قصبے کا ذہین بچہ ماں باپ کی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر بڑے خواب دیکھنا چھوڑ دے گا، وہ نقصان کسی رینکنگ میں درج نہیں ہوگا، مگر سب سے گہرا ہوگا۔ ہمارے ادارے یا تو سیڑھی بن سکتے ہیں یا چھلنی۔ سیڑھی ہر قدم پر سہارا دیتی ہے؛ چھلنی بس یہ دیکھتی ہے کہ کون نیچے گرا اور کون اوپر رہ گیا۔
کسی ادارے کی بڑائی اس کی عمارتوں، رینکنگ یا پلیسمنٹ کے اعداد سے نہیں ناپی جائے گی۔ وہ اس دن ناپی جائے گی جس دن ہاسٹل کے کسی بند کمرے میں بیٹھا کوئی لڑکا بلا خوف لکھ سکے: "امّی، آج میں ٹھیک نہیں ہوں۔” جس دن ماں یہ پڑھ کر گھبرائے نہیں، کیونکہ اسے بھروسا ہو کہ اس کا بچہ ایسی جگہ ہے جہاں اس کی سنی جاتی ہے۔ اور جس دن وہ ادارہ یہ بات ماں سے بھی پہلے سن چکا ہو۔ جس دن یہ تینوں باتیں ایک ساتھ سچ ہوں گی، اس دن "سب ٹھیک ہے” پردہ نہیں رہے گا، سچ بن جائے گا۔
asadullah_khn@yahoo.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے