कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

از قلم یوسف اقبال (موظف مدرس)
کانڈلی ضلع ایوت محل
حال مقیم مانورہ واشم ۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
موت آدم علیہ السلام کی میراث ہے، جب کسی کی بھی زندگی کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو وہ اس جہان فانی سے کوچ کر جاتا ہے مگر کچھ لوگ ایسے بھی جاتے ہیں جن کے جانے سے کءی دل مضطرب اور ہزاروں آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں ، انہی میں سے ایک،حسن اخلاق اور با وقار شخصیت کے انتقال پر اہلِ علاقہ میں رنج و غم کی لہردوڑ گئی۔
نہایت افسوس اور رنج و غم کے ساتھ اطلاع ہے کہ کانڈلی ضلع ایوت محل، حال مقیم قلمنوری ضلع ہنگولی کی ایک مخلص، امن پسند، منکسر المزاج اور رشتہ داری کو نبھانے والی معروف شخصیت اعجاز علی خان ابن الحاج اصغر علی خان پٹیل مؤرخہ 9 اگست بروز اتوار، تقریباً 71 سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کی روح قفسِ عنصری کی طرف پرواز کر گئی ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحوم کو بعد نمازِ مغرب قاضی پورہ مسجد قلمنوری میں نماز جنازہ ادا کر کے قریب کے ہی شہر خموشاں میں اشکبار آنکھوں سے سپردخاک کیا گیا ۔۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ علاقہ میں غم کی لہر دوڑ گئیں۔
مرحوم نہایت خوش اخلاق، نرم مزاج، ملنسار اور ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آنے والے انسان تھے۔ رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ ساتھ تعلقات کو بھی ہمیشہ اہمیت دیتے اور ہر حال میں رشتوں کا پاس و لحاظ رکھتے تھے۔ وہ امن پسند ، بھائی چارے اور باہمی محبت کے قائل تھے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی و نرمی، رویے میں عاجزی اور معاملات میں خلوص نمایاں تھا۔انھوں نے اپنی زندگی میں سادگی ، خلوص، شرافت، حسن زن، حسن اخلاق کو ہمیشہ مقدم رکھا اور لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور خوشی کے مواقع پر اپنوں کے ساتھ کھڑا رہنے کو اپنا فرض سمجھتے تھے ۔ ان کی وفات سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ ان کے عزیز و اقارب دوست و احباب نے بھی ایک مخلص اور محبت کرنے والے انسان کو کھو دیا ہے مگر! جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والے کی یاد آتی ہے
مرحوم نے اپنے پیچھے تین فرزندان چھوڑے ہیں جن میں بڑے فرزند شہباز علی خان مدرس، رضاءے نوری اسکول قلمنوری، مرحوم شاہنواز علی خان مدرس،اردو ہائی اسکول بالا پور اکھاڑا میں زیرِ ملازمت تھے کہ مؤرخہ، 12 مارچ 2023 کو حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ اور مرحوم کے چھوٹے فرزند ارجمند شیراز علی خان مدرس اردو ہائی اسکول مانوت میں زیرِ ملازمت ہے اور اپنے والدین کی علمی،اخلاقی اور تربیتی روایات کو آگے بڑھارہے ہیں ۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اعجاز علی خان کی شخصیت میں جو خلوص، ملنساری بردباری اور رشتے داری نبھانے کا جذبہ تھا ، وہ انھیں ہمیشہ یاد رہے گا اور مرحوم کی یاد یں سبھی کے دل میں سدا زندہ رہیں گی ۔ مرحوم اعجاز علی خان صاحب کے انتقال پر ان کے وطن اصلی اور قلمنوری و اطراف کے مختلف حلقوں سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے ۔لوگوں نے مرحوم کے لیے دعاے مغفرت کرتے ہوئے پسماندگان سے اظہار ہمدردی کیا ہے ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جملہ اہل خانہ و پسماندگان افراد خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین ۔
مرحوم کے والد محترم المقام الحاج اضغر علی خان پٹیل صاحب بھی اپنے وطن اصلی کانڈلی کی ایک مشہور و معروف علمی و سماجی شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں اردو، عربی، انگریزی، سنسکرت اور مراٹھی زبانوں پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ وہ ایک بہترین مقرر بھی تھے اور اپنی علمی قابلیت، شائستگی اور مؤثر اندازِ بیان کے باعث اہلِ علاقہ میں خاص مقام رکھتے تھے۔ موصوف کا انداز بیاں بھی بہت اچھا تھا ۔علمی و ادبی ذوق اور مستند کتب کے گہرے مطالعے نے انہیں بام عروج تک پہنچا دیا تھا یہی وجہ تھی کہ موصوف ہر کس و ناکس میں مقبول تھے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے آمین یارب العالمین ۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
آمین یارب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے