कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایم مبین

ازقلم : نذیر فتح پوری
مدیر سہ ماہی اسباق ۔ پونا
9822516336

ایم ۔ مبین پر لکھتے وقت مجھے احساس ہو رہا ہے کہ اتنی بہت سی کتابوں کے مصنف پر آج تک میں نے چار سطریں بھی نہیں لکھیں ،کسی زمانے میں ایک تبصرہ ان کی کسی کتاب پر لکھا بھی تھا۔ لیکن وہ بر وقت شائع نہ ہو سکا اور پھر کاغذات کے انبار میں کہیں روپوش ہوا تو پھر ہاتھ نہ لگا۔ دوسری وجہ یہ بھی رہی کہ اس بندے نے کبھی خواہش بھی نہیں کی کہ میں ان کی کسی کتاب پر کچھ لکھوں، یہاں تک کہ جب تک اسباق جاری رہا۔ ایم۔ مبین اسباق کے لیے کبھی میری خواہش اور کبھی اپنی پسند سے وقتاً فوقتاً لکھتے رہے۔ اور ان کا لکھا اسباق کے قارئین تک پہنچتا بھی رہا جب ان کے دوست مظہر سلیم کے فکر وفن پر اسباق میں گوشہ شائع ہوا تو ایم ۔ مبین نے گوشے کی ترتیب کی ذمے داری بھی سنبھالی اور اسباق کے لیے حسب استطاعت تعاون بھی کیا اور لکھا بھی ۔ ایم مبین بلانوش تو نہیں لیکن باہوش ادیب ضرور ہیں۔ ان کے اظہار کی پہلی پسند ادب اطفال ہے۔ ان کے اندر کا بچپن آج بھی ان کے ذہن کی کتاب میں موجود ہے۔ یہ بچپن ، بچپن میں ضرور شرارت پسند رہا ہو گا ۔ مگر آج یہ بچپن سنجیدگی کا پیکر بن کر اپنی طفلی تخلیقات کے توسط سے کتابی صورت میں مسلسل اپنے قارئین کے روبرو جلوہ بار ہوتارہتا ہے۔ کبھی کہانی کی صورت میں کبھی ناول کے روپ میں اور کبھی نئے نئے مکالموں میں ڈھل کر ڈرامے کی شکل میں اسٹیج کی زینت بنتا رہا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ہی ڈرامے کی صورت میں ” مال مفت”، کے نام سے روبرو ہوئی تھی۔ اس یک بابی ڈرامے نے انگلی تھام کر ایم ۔ مبین کو ادب کے شہر میں داخل کیا تھا۔ جہاں معصومیت کے پیروں نے ان کا استقبال پر تپاک خیر مقدم کیا تھا۔ میرا ان سے پہلا تعارف معین الدین عثمانی ، جلگاؤں کی وجہ سے ہوا۔ عثمانی صاحب نے مجھے ایک ادبی سیمینار میں مدعو کیا اور دو افسانوں کا تجزیہ کرنے کی دعوت دی۔ ایک افسانہ مرحوم مظہر سلیم کا تھا اور دوسرا افسانہ ایم مبین کا۔ میرے لیے ادبی سیمینار میں شرکت کا یہ پہلا موقع تھا۔ مجھے یاد ہے، ایم مبین کے افسانے کا عنوان ‘برین ٹیومر’ تھا۔ مظہر سلیم اور ایم ۔ مبین اُن دنوں نوجوان افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے لکھنے اور چھپنے کی رفتار بھی دھیرے دھیرے ہاتھ پیر پھیلا رہی تھی مجھے یاد ہے دونوں افسانوں پر میں نے کہیں کہیں تنقید بھی کی تھی۔ لیکن یہ دونوں بندے واقعی’ بندہ ہاے خدا‘ ثابت ہوئے۔ کبھی مجھ سے خفگی کا اظہار نہیں کیا۔ جب ملے، محبت سے ملے ۔ جب فون ہے پر مخاطب ہوئے ، خوش خلقی کا مظاہرہ کیا۔ مظہر سلیم اپنا سہ ماہی رسالہ تکمیل نہ صرف یہ کہ پابندی سے میرے نام ارسال کرتے رہے بلکہ گاہے بہ گاہے میری تخلیقات بھی تکمیل کی زینت بنتی رہیں اور میرے تعلق سے ایک خوبصورت گوشہ بھی اپنے رسالے میں شائع کیا۔
بات ایم ۔ مبین کے تعلق سے ہو رہی ہے جن کی شخصیت کے محاسن بیان کرنے کے لیے ہم نے قرطاس و قلم سنبھالا ہے۔ ہر شخص کی زندگی کے دورخ ہوتے ہیں ۔ اچھا یا برا، لیکن ہم اچھائی کے پیروکار ہیں، جو لکھیں گے اچھا لکھیں گے جو کہیں گے سچا کہیں گے۔ ہم نے جب ندا فاضلی کی زندگی پر کتاب لکھی تو ان کی وہ اچھائیاں بیان کیں جن کے ہم شاہد تھے۔ کتاب پڑھنے کے بعد ایک شاعر نے ہمیں فون پر بتایا کہ آپ نے ندا کی زندگی کا وہی رخ بتایا ہے جو اچھا ہے اور واقعی ہم نے ندا کی زندگی کے جو روشن پہلو بیان کیے اس کے ہم خود گواہ تھے۔ اہم مبین کے تعلق سے بھی ہم وہی لکھ رہے ہیں جس کے ہم شاہد ہیں ۔ ایم ۔ مبین کو ادبی دنیا ایم ۔ مبین کے نام سے جانتی ہے ۔ ہم بتا دیں کہ ان کا نام محمد مبین شیخ “ ہے۔ جو مہاراشٹر کے تاریخی شہر ایولہ میں 2 جون 1958 کے روز عالم وجود میں آئے۔ بعد میں ان کے والدین نے مہاراشٹر کے تجارتی شہر بھیونڈی میں بود و باش اختیار کر لی ۔ ایم ۔ مبین اسی شہر کے ماحول میں پل کر جوان ہوئے۔ تعلیم حاصل کی اور ملازمت میں رہے اور سبک دوش بھی ہو گئے ۔ ایم مبین دشمنوں کے دشمن ہیں یا نہیں لیکن وہ دوستوں کے دوست ضرور ہیں۔ ہمارا ان کا ادبی رشتہ تو بہت پرانا ہے لیکن گزشتہ ایک دہے سے اس رشتے میں شفافیت کے عکس نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔ جس کا ثبوت بھی ان کی جانب سے ہی ملتا رہتا ہے ہم نے دوست پالے ہیں ، دشمن تو اپنے آپ بنتے چلے گئے ۔ کسی بزرگ سے کسی زمانے میں ہم نے سنا تھا کہ، خدارا اپنے مخالفین کی باتوں کا جواب نہ دیں ۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کا شمار دشمن پالنے میں ہونے لگ جائے گا۔ آپ کی جوابی تحریر دشمن کے لیے خوراک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایم مبین اس بات سے پوری طرح واقف ہیں ، ہم نے کوئی ایسی تحریر نہیں پڑھی جو ان کے خلاف لکھی گئی ہو اور اگر کسی نے ان کے خلاف کچھ لکھا بھی ہوگا تو اس سلسلے میں ان کی کوئی جوابی تحریر ہمارے مطالعہ میں نہیں آئی۔ لیکن ہوا ضرور کچھ ہوگا ۔ یار لوگوں نے میرو غالب کو نہیں بخشا تو مبین و نذیر کہاں کے دانا تھے لیکن ہم عصروں میں اختلاف اسی دانائی کے سبب ہوتا ہے۔ ایم ۔ مبین کی دانائی نے دھیرے دھیرے شہر کی فضا میں اپنے پر کھولنا شروع کر دیے۔ پھر کتابوں کی اشاعت کا لاتناہی سلسلہ افسانے لکھے جا رہے ہیں۔ ڈراموں کے مکالمے کرداروں کے مطابق موزوں کیے جارہے ہیں۔ ادب میں سب سے جان لیوا صنف ناول شائع ہو رہے ہیں۔ شخصیت تو اسی طرحبنتی ہے، نام تو اسی طرح ہوتا ہے۔ پھول تو اسی طرح کھیلتے ہیں ،جن کی خوشبوؤں کے میلے اسی طرح لگتے ہیں۔
دیکھنے والوں نے دیکھا۔ سمجھنے والوں نے سمجھا ، داد دینے والوں نے داد و تحسین سے نوازا گلی کوچوں سے نکل کر اپنی سخن طرازی کے سبب یہ شخص ملک کے بالا خانوں تک جا پہنچا۔ چلتے چلتے نہ جانے کب اردو کے ساتھ ہی ہندی کا پرچم اٹھا لیا۔ اب دونوں ہاتھ مصروف ہو گئے۔ کسی شاعر نے کہا تھا:
دل کو تھاما ان کا دامن تھام کے
اپنے دونوں ہاتھ نکلے کام کے
کچھ دن پہلے ہی انکشاف ہوا کہ انھوں نے اردو ہندی کے ساتھ مراٹھی سے بھی یاری کر رکھی ہے اور مراٹھی والوں سے اچھی خاصی رسم و راہ ہے۔ زبانیں اپنے شیدائیوں کا بڑا ساتھ دیتی ہیں۔ ایم ۔ مبین اس کی مثال ہے۔
میں تھکے ہوئے قلم سے ایم مبین کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہوں ۔ پھر بھی کوتاہ قلمی سے کام نہیں لوں گا۔ بخل تو نہ میری
سرشت میں ہے نہ فکر میں ۔ ایم مبین کی فراخ دلی کے چند شواہد میری یادوں کی زنبیل میں محفوظ ہیں ۔ ۲۰۱۷ میں جب مجھے بچوں کے لیے تحریر کردہ کہانیوں کی کتاب ”میرا دیش مہان” پر ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ ملا تو، خبر سن کر پہلی فرصت میں مبارک باد دینے والوں میں ایم ۔ مبین کا نام سر فہرست تھا۔ یہ بات تو مجھے بعد میں معلوم ہوئی کہ اس سال کی فہرست میں ان کی کتاب بھی شامل تھی اور انھیں امید تھی کہ اس بار ادب اطفال کا ایوارڈ ان کے حصے میں آئے گا۔ لیکن مبارکباد دیتے وقت ان کے لہجے میں کسی قسم کا اضمحلال نہیں تھا۔ نہ کسی قسم کا کوئی منفی احساس۔
میری بعد کی بہت سی کتابوں پر میری خواہش و فرمائش کے بغیر انھوں نے تبصرے کیے۔ ایک بات تو حافظے سے پھیلی جا رہی ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجھے موبائل پر ٹائپ کرنا نہیں آتا تھا۔ میں نے کسی خاص موقع کے لیے ایک مضمون لکھا تھا۔ جس کے کمپوزنگ کے سلسلے میں معین الدین عثمانی سے مشورہ کیا۔ انھوں نے ایم ۔ مبین کا نام بتایا۔ مجھ سے کہا: وہ آپ کو انکار نہیں کریں گے، یہی ہوا۔ عثمانی صاحب کا اعتماد مجھ میں سرائیت کر گیا، میں نے فورا ایم ۔ مبین کو فون لگایا، مسئلہ بتایا۔ انھوں نے ہامی بھر لی ۔ لیکن انھوں نے اس وقت جو بات کہی اس نے دل چھو لیا، کہنے لگے،
آپ اس عمر میں بھی ہمارے ساتھ چل رہے ہیں ، اس سے مجھے ذاتی طور پر خوشی ہوتی ہے ۔ آپ کبھی بھی مجھے یاد کر لیں ۔ میں انکار نہیں کروں گا۔”
بظاہر یہ ذرا سی بات ہو سکتی ہے، لیکن مجھ ایسے زود حس انسان کے دل پر ان کا یہ اپنائیت کا انداز اور محبت سے بھرا لہجہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رقم ہو گیا۔
علم اور محبت جیسی نعمتیں بندوں کے لیے عطیہ خداوندی ہیں۔ قدرت جس پر مہربان ہوتی ہے اسے بنا طلب کیے ہی یہ نایاب دولت بخش دیتی ہے۔ بعض بندے ایسے بھی ہیں جو قدرت کی اس بخشش کا نہایت سلیقے اور وسعت قلبی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں میں اپنے زیر مطالعہ مضمون کے ذریعہ ایم ۔ مبین کی شخصیت پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں لیکن ہم کسی ادیب کی زندگی پر بات کریں گے تو اس کی تخلیقی ہنر مندی بھی اپنے آپ ہی زیر بحث آجائے گی کیوں کہ اس ہنر مندی کی وجہ سے تو اس کی شخصیت نے ظہور پایا ہے۔ ایم مبین کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انھوں نے بچوں کے ڈراما نگار کی حیثیت سے ادبی جھروکوں سے پہلی بار جھانک کر دیکھا۔ اس وقت اُن کے دل میں یقینا خوف رہا ہوگا ، بے یقینی رہی ہوگی اور انہوں نے پھونک پھونک کر قدم اٹھائے ہوں گے۔ ہر قدم پر حوصلوں کو پکارا ہوگا ۔ اعتماد کی اگلی تھامی ہوگی ، اپنے چاروں طرف نظریں دوڑا کر دیکھا ہوگا کہ انہیں دیکھنے والی نظروں میں خلوص کتنا ہے، پیار کتنا ہے ، حوصلہ افزائی کی لائی کتنی ہے۔ ان نظروں کی بھیڑ میں حاسدوں کی نظر میں کتنی ہیں ٹھٹھول کرنے اور مذاق اڑانے والے انھیں کسی نظر سے دیکھ رہے ہیں جب ان کے اندر کے قلم کار کو اپنے قدم جمتے محسوس ہوئے تو انھوں نے دوسرا قدم افسانے کے میدان میں رکھ دیا۔ وہاں خود اعتمادی میں اضافہ ہوا تو انھوں نے طویل مسافت کے بعد ناول کو ہم سفر بنا لیا اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔ جن ہاتھوں میں پتھر تھے وہ پیچھے رہ گئے اور جن ہاتھوں میں پھول تھے وہ ان کے برابر چل رہے تھے۔ ، ڈرامے، افسانے اور ناول کے روپ میں اپنے تخلیقی سفر کا دائرہ پورا کر لینے کے بعد انھوں نے اس سمت دیکھا ادب میں جس طرف دیکھنے کی جسارت بہت کم لوگ کرتے ہیں۔
ہوا یہ کہ ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد ان کے قلم کی رفتار اور فکر کی پرواز نے چوتھی سمت کے سفر کا ارادہ کر لیا۔ اسے عام طور پر تنقید کا نام دیا جاتا ہے اور ہم عصر قلم کاروں کی کتابوں پر مضامین اور تبصروں نے ان کے اس جذبے کو ہوا دی اور آج ایم ۔ مبین نے اپنی ناقدانہ بصیرت کو بروئے کار لا کر باقاعدہ مضامین کی اشاعت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں اور خواہش بھی رکھتے ہیں کہ پہلے تین اسفار کی کامیابی کے بعد ان کو یہ چوتھا سفر بھی مزید کامیابی کی طرف لے جائے اور ان کی عزت و شہرت میں اضافے کے مزید در وا ہوتے چلے جائیں کیوں کہ عشق کے سفر میں کوئی مقام آخری نہیں ہوتا۔
Saira Manzil,
230/B/102 Viman Darshan,
Sanjay Park Lohgaon Road, Pune-411032, MS
Mob: 9822516338

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے