कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایس آئی آر کے بعد شہریت پر شبہ کا سایہ اور ہماری خاموشی

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ۔۔۔993493392

بہار، مغربی بنگال سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کی مہم کے اختتامی مراحل سے گزرنےکے بعد جو حکومتی موقوف سامنے آیا ہے، اس نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ سنجیدہ سماجی، آئینی اور انسانی حقوق کے مبصرین کو بھی فکر مند کر دیا ہے۔ ابتدا میں اس مہم کو محض ووٹر لسٹ کی تطہیر، فرضی ووٹروں کی شناخت اور انتخابی شفافیت کی ایک معمول کی کارروائی قرار دیا گیا تھا، لیکن اب حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات نے اس پورے عمل کے پس پردہ موجود ممکنہ عزائم پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خاص طور پر بہار اور مغربی بنگال میں یہ عندیہ دیا جانا کہ وہ افراد جو مختلف وجوہات کی بنا پر ایس آئی آر کے دوران اپنے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رکھنے یا اندراج کرانے میں ناکام رہے، ان کی شہریت مشکوک سمجھی جا سکتی ہے، نہایت تشویشناک امر ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایسے افراد کو سرکاری سہولتوں سے محروم کرنے، ان کی شناختی دستاویزات کی دوبارہ جانچ کرانے اور بعض صورتوں میں انہیں “غیر ملکی” قرار دینے جیسے امکانات کی خبریں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایس آئی آر اور این آر سی و سی اے اے کے درمیان موجود فاصلہ کم ہوتا محسوس ہونے لگا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں شہریت، شناخت اور دستاویزی وجود کے سوالات کو جس طرح سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، اس نے عام شہری کو ذہنی اضطراب اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ آسام میں این آر سی کے تجربے نے لاکھوں لوگوں کو برسوں اذیت سے دوچار رکھا۔ ایسے خاندان بھی مشتبہ قرار دیے گئے جن کے آباؤ اجداد آزادی سے قبل سے ہندوستان میں آباد تھے۔ ہزاروں افراد کے پاس تمام سرکاری دستاویزات موجود ہونے کے باوجود انہیں غیر ملکی ٹریبونلوں کے چکر لگانے پڑے۔ بعض لوگ محض نام کے ہجے(spelling) کی غلطی، تاریخِ پیدائش کے فرق یا تکنیکی خامیوں کی وجہ سے اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور ہوئے۔ اب جب بہار اور مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد اسی نوعیت کا ماحول پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے تو فطری طور پر خدشات ہونے لگے ہیں۔
مغربی بنگال میں ستائیس لاکھ سے زائد رائے دہندگان کے معاملات مختلف ٹریبونلوں میں زیر غور ہونے کی خبریں معمولی نہیں ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا مشتبہ شہریوں کی فہرست میں شامل ہونا محض انتظامی خامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک جمہوری ملک میں ووٹر لسٹ کی معمول کی نظرِ ثانی کس طرح شہریت کے تعین کا پیمانہ بن سکتی ہے؟ ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونا یا حذف ہونا انتخابی عمل کا حصہ ضرور ہے، لیکن اسے کسی شخص کی حب الوطنی، قانونی حیثیت اور شہریت سے جوڑ دینا نہ صرف خطرناک رجحان ہے بلکہ دستور کی روح کے بھی منافی محسوس ہوتا ہے۔
حزب مخالف۔جماعتوں کی جانب سے سافٹ ویئر میں خامی کے شبہ کا اظہار اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ اس پورے عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ اگر سرکاری نظام اور ڈیجیٹل سافٹ ویئر میں تکنیکی خامیاں موجود ہیں تو اس کا خمیازہ عام شہری کیوں بھگتے؟ ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع ملک میں، جہاں کروڑوں لوگ اب بھی تکنیکی سہولتوں سے پوری طرح واقف نہیں، جہاں دیہی علاقوں میں دستاویزات کی درستگی ایک مستقل مسئلہ ہے، وہاں کمپیوٹرائزڈ خامیوں کی بنیاد پر لوگوں کی شہریت مشکوک قرار دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے سرکاری کاغذات ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں آج بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کے نام مختلف دستاویزات میں الگ الگ درج ہیں۔ کہیں والد کے نام میں فرق ہے، کہیں تاریخِ پیدائش بدل گئی، کہیں ہجے مختلف ہیں اور کہیں سرکاری اہلکاروں کی لاپروائی نے مستقل مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ریاست شہریوں کے وجود کو صرف کاغذات سے جوڑ دے تو سب سے زیادہ متاثر وہی طبقات ہوں گے جو پہلے ہی سماجی و معاشی کمزوری کا شکار ہیں۔
اصل مسئلہ صرف حکومت کا رویہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے توجہی بھی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب تک خطرہ ہمارے اپنے دروازے تک نہیں پہنچتا، ہم اسے دوسروں کا مسئلہ سمجھ کر خاموش رہتے ہیں۔ آج اگر کسی غریب مزدور، کسان، مدرسے کے طالب علم یا دیہی خاتون کا نام ووٹر لسٹ سے غائب ہو جاتا ہے تو شہری سماج کا ایک بڑا طبقہ اسے محض ایک سرکاری کارروائی سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہی خاموشی بعد میں بڑے بحرانوں کی شکل اختیار کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شہری حقوق اچانک ختم نہیں کیے جاتے بلکہ انہیں آہستہ آہستہ کمزور کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ لوگ مزاحمت کی قوت بھی کھو بیٹھتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ہندوستان کا دستور ہر شہری کو برابری، وقار اور قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ شہریت کا سوال محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ اگر ریاستی ادارے اپنی کوتاہیوں، تکنیکی خامیوں یا سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر لوگوں کی شناخت مشکوک بنانے لگیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان جمہوریت کو پہنچتا ہے۔ اس سے ایک ایسا ماحول بنتا ہے جہاں شہری مسلسل خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی میں مبتلا رہتا ہے۔ جب ایک عام آدمی کو یہ اندیشہ ہونے لگے کہ کسی دن اس کے کاغذات ناکافی قرار دے دیے جائیں گے، تو پھر جمہوریت کا اعتماد مجروح ہونے لگتا ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اب بھی دستاویزات، قانونی حقوق اور سرکاری کارروائیوں کے معاملے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ہمارے معاشرے میں کاغذات کو محفوظ رکھنے، سرکاری نوٹس کو سنجیدگی سے لینے اور قانونی عمل میں بروقت حصہ لینے کی روایت کمزور رہی ہے۔ یہی لاپروائی بعد میں سنگین مشکلات کا سبب بنتی ہے۔ حکومتوں کی نیت پر سوال اٹھانا اپنی جگہ ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شہری اپنے تمام ضروری کاغذات درست رکھے، ووٹر لسٹ کی جانچ باقاعدگی سے کرے اور کسی بھی مشتبہ یا امتیازی کارروائی کے خلاف قانونی و جمہوری آواز بلند کرے۔ خاموشی اور بے حسی کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ اگر آج شہری حقوق کے سوال پر سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو ممکن ہے کہ کل یہی خاموشی ہمارے اجتماعی وجود کے لیے خطرہ بن جائے۔
یہ معاملہ کسی ایک مذہب، زبان یا طبقے تک محدود نہیں ہے۔ آج اگر ایک مخصوص طبقہ نشانہ بنتا دکھائی دے رہا ہے تو کل کوئی دوسرا طبقہ بھی اسی دائرے میں آسکتا ہے۔ جمہوری نظام کی اصل طاقت یہی ہوتی ہے کہ وہ ہر شہری کو یکساں تحفظ فراہم کرے۔ اگر ریاست کی نظر میں شہری مسلسل شک کے دائرے میں رہے تو جمہوریت کا بنیادی تصور ہی کمزور پڑ جاتا ہے۔
اس نازک صورتِ حال میں ملی تنظیموں، سماجی اداروں اور سیکولر سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ایسے حساس معاملات پر وقتی بیانات اور رسمی احتجاج سے آگے بڑھنے کی سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آتیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ تنظیمیں زمینی سطح پر بیداری مہم چلائیں، لوگوں کو ان کے آئینی و قانونی حقوق سے واقف کرائیں اور خاص طور پر غریب، دیہی اور کم تعلیم یافتہ طبقات کی دستاویزات درست کرانے میں عملی تعاون فراہم کریں۔ کئی علاقوں میں ایسے خاندان موجود ہیں جنہیں آج تک یہ معلوم نہیں کہ کن کاغذات کی قانونی حیثیت زیادہ اہم ہے اور کن دستاویزات کی عدم موجودگی مستقبل میں ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
ملی و سماجی اداروں کو چاہیے کہ وہ مقامی سطح پر “دستاویزاتی امدادی مراکز” قائم کریں، جہاں لوگوں کی رہنمائی کی جا سکے، ان کے ضروری کاغذات کی جانچ ہو، غلطیوں کی اصلاح کرائی جائے اور سرکاری دفاتر میں پیش آنے والی دشواریوں میں قانونی تعاون فراہم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وکلا، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے افراد کو بھی اس مسئلے پر متحد ہو کر عوامی بیداری پیدا کرنی چاہیے تاکہ خوف اور افواہوں کے بجائے قانونی شعور فروغ پائے۔ مدارس، مساجد، خانقاہوں اور سماجی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ اس معاملے کو صرف سیاسی بحث تک محدود نہ رکھیں بلکہ عوامی خدمت اور قانونی رہنمائی کے ایک منظم مشن کے طور پر لیں۔ اگر سماج کے باشعور طبقات اس وقت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو آنے والے دنوں میں اس کے سنگین نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی اس حکومتی رویے کی مضبوط مخالفت ضروری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو محض انتخابی نعرہ نہ بنائیں بلکہ پارلیمنٹ، اسمبلیوں، عدالتوں اور عوامی پلیٹ فارموں پر سنجیدگی کے ساتھ اٹھائیں۔ اگر کسی پالیسی یا انتظامی کارروائی سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کے خلاف آئینی اور جمہوری مزاحمت وقت کی اہم ضرورت بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں اکثر سنجیدہ مسائل بھی وقتی سیاسی فائدے اور بیان بازی کی نذر ہو جاتے ہیں، جبکہ ایسے معاملات مستقل مزاجی، قانونی جدوجہد اور عوامی بیداری کے متقاضی ہوتے ہیں۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ شہری وقار، آئینی تحفظ اور اجتماعی بیداری کا نام ہے۔ ایس آئی آر کے بعد ابھرنے والا حکومتی بیانیہ اس بات کی وارننگ ہے کہ ملک میں شناخت اور شہریت کے سوالات کو نئی شکل دی جا رہی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم وقتی سیاسی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر دستور، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کی بات کریں۔ کیونکہ جب ریاست شہری کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے تو پھر صرف کاغذات نہیں، پورا سماج کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے