कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اورنگ آباد کے درخشاں شاعر، اردو ادب کا ایک روشن باب ’قمر اقبال‘

از قلم : رازق حُسین
اورنگ آباد، دکن ۔
موبائیل نمبر : 8149588808

اردو ادب کی تاریخ میں اورنگ آباد دکن کو ہمیشہ ایک ممتاز مقام حاصل رہا ہے۔ اس شہر نے ولی دکنی، سراج اورنگ آبادی اور دیگر نامور شعرا و ادبا کی صورت میں اردو زبان کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا ہے۔ اسی ادبی روایت کو آگے بڑھانے والے اہم شعرا میں قمر اقبال کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک خوش فکر شاعر تھے بلکہ صحافی، ادیب اور اردو زبان کے مخلص خدمت گزار بھی تھے۔ ان کی شاعری میں جذبوں کی سچائی، فکری گہرائی، زبان کی شگفتگی اور انسانی اقدار کی خوشبو نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔
قمر اقبال کا اصل نام اقبال محمد خان تھا۔ آپ کی پیدائش 2 فروری 1944ء کو اورنگ آباد (مہاراشٹر) میں ہوئی۔ شاعری کی دنیا میں آپ نے "قمر” تخلص اختیار کیا۔ بچپن ہی سے ادب سے گہرا شغف تھا، جس نے انہیں شاعری کی طرف مائل کیا۔ مطالعہ، مشاہدہ اور زندگی کے تجربات نے ان کے شعری شعور کو جِلا بخشی اور وہ جلد ہی دکن کے معتبر شعرا میں شمار ہونے لگے۔
اپنے ہی نگر کی گلیوں میں جب غیروں جیسا حال ہوا
اقبال محمد خاں سے کوئی ایک روز قمر اقبال ہوا
قمر اقبال نے بنیادی طور پر غزل کو اظہار کا وسیلہ بنایا، لیکن انہوں نے نظم، ثلاثی، قطعات اور مزاحیہ شاعری میں بھی کامیاب تجربات کیے۔ ان کی غزلوں میں محبت، وفا، امید، جدوجہد، انسانی رشتوں کی نزاکت، سماجی مسائل اور عصری شعور نہایت دلکش انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کے اشعار میں نہ تو غیر ضروری پیچیدگی ہے اور نہ ہی تصنع؛ یہی سادگی ان کی شاعری کو عام اور خاص دونوں طبقوں میں مقبول بناتی ہے۔
خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں
قرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوں
قمر اقبال کی شخصیت کا ایک اہم پہلو صحافت بھی تھا۔ وہ روزنامہ "اورنگ آباد ٹائمز” کے مدیر رہے اور صحافت کے ذریعے بھی سماجی اور ادبی شعور کو فروغ دیا۔ انہوں نے ہمیشہ ادب اور صحافت کو معاشرے کی اصلاح اور فکری بیداری کا مؤثر ذریعہ سمجھا۔
ان کی شعری تصانیف میں "پنکھڑی گلاب سی”، "تتلیاں” اور "موم کا شہر” خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ افسری بیگم نے ان کا "کلیاتِ قمر اقبال” مرتب کرکے شائع کیا، جس سے ان کے ادبی ورثے کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا ہوا۔
قمر اقبال کی شاعری میں کلاسیکی اردو روایت کی خوبصورتی بھی ہے اور جدید دور کے احساسات بھی۔ ان کے یہاں لفظوں کا حسن، خیال کی تازگی اور جذبوں کی سچائی ایک ساتھ نظر آتی ہے۔ یہی خصوصیات انہیں اپنے عہد کے اہم شعرا میں ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔ ان کا کلام صرف جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ قاری کو زندگی، معاشرے اور انسانیت کے بارے میں غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے۔
18 جولائی 1988ء کو قمر اقبال اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کا ادبی سرمایہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کے اشعار مشاعروں، ادبی نشستوں اور اردو کے قارئین میں آج بھی پسند کیے جاتے ہیں۔ اورنگ آباد کی ادبی روایت میں ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جاتا رہے گا۔
گنگناؤ قمر اقبالؔ کی غزلیں لیکن
اک غزل اس کی اسے بھی تو کسی روز سناؤ
قمر اقبال ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے اپنے فن، کردار اور ادبی خدمات سے اردو زبان کو مالا مال کیا۔ ان کی شاعری محبت، انسان دوستی، امید اور اعلیٰ انسانی اقدار کا پیغام دیتی ہے۔ ان کا نام دکن کی ادبی تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گا، اور ان کا کلام آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوتا رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے