कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اللہ بچائے ڈھونگی پیر اور جعلی باباؤں سے

تحریر:محمد عادل ارریاوی

آج کل ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک فتنہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جدھر نظر اٹھاؤ وہاں کوئی نہ کوئی جعلی پیر ڈھونگی بابا یا نام نہاد عامل لوگوں کی سادہ مزاج اور جہالت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کو نہ قرآن کا علم ہے نہ حدیث کی سمجھ ہے اور نہ دین کی بنیادی تعلیمات سے واقفیت ہے لیکن انہوں نے اپنے گرد تقدس کا ایسا ہالہ بنا رکھا ہے کہ لوگ انہیں اولیاء اللہ سمجھ بیٹھے ہیں۔
ان کا کام ایسا ہے کہ اسے دیکھ کر شیطان بھی شرما جائے۔ کوئی تعویذ کے نام پر لوگوں کو لوٹ رہا ہے کوئی جنات نکالنے کے بہانے ہزاروں روپے بٹور رہا ہے اور کوئی غیب کی خبریں سنانے کا دعویٰ کرکے لوگوں کی جیبیں خالی کر رہا ہے۔
میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو بالکل جاہل ہیں لیکن لوگوں سے کہتے ہیں تمہارے گھر میں جن ہے تم پر جادو کیا گیا ہے تمہاری قسمت بند ہے فلاں شخص نے تم پر عمل کروایا ہے اگر اتنے ہزار روپے خرچ نہ کیے تو تم برباد ہوجاؤ گے۔ افسوس لوگ بھی ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی ان کے قدموں میں ڈال دیتے ہیں۔
ہمارے علاقے میں ایک شخص ہے جو دینی اعتبار سے بالکل بے علم ہے لیکن اس کے گھر کے باہر مردوں اور عورتوں کی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ اس سے ملنے کی فیس پانچ سے دس ہزار روپے ہے۔ وہ لوگوں کو ڈرا ڈرا کر غیب کی باتیں بتا کر اور جھوٹے عملیات کے نام پر لاکھوں روپے کماتا ہے۔ اسی ناجائز کمائی سے اس نے عالی شان مکان بنائے گاڑیاں خریدیں اور جگہ جگہ زمینیں خرید لیں۔
اسی طرح ایک عورت بھی ہے جو ایک رات کے جادو اور عملیات کے نام پر بیس سے تیس ہزار روپے وصول کرتی ہے اور مختلف خرافات اور ہندوانہ رسموں کو فروغ دیتی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ لوگ ان سب چیزوں کو دین سمجھ کر ان کے پیچھے بھاگتے ہیں۔
اے مسلمانو ذرا سوچو جو شخص خود قرآن و سنت سے ناواقف ہے وہ تمہاری تقدیر کیسے بدل سکتا ہے؟ جو اپنے نفع کے لیے تمہیں ڈراتا ہے وہ تمہارا خیر خواہ کیسے ہوسکتا ہے؟ غیب کا علم صرف اللہ ربّ العزت کے پاس ہے۔ کوئی پیر بابا یا عامل یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اسے تمہارے مستقبل یا پوشیدہ باتوں کا علم ہے۔
یہ لوگ آج حرام کے ذریعے دولت کے انبار تو جمع کر رہے ہیں مگر کیا انہیں موت نہیں آئے گی؟ کیا یہ مال ان کے ساتھ قبر میں جائے گا؟ کیا اللہ ربّ العزت کے سامنے انہیں ایک ایک پائی کا حساب نہیں دینا ہوگا؟
میں نے اپنے علاقے میں جمعہ کے بیانات میں کئی مرتبہ اس فتنے کے خلاف جلالی انداز میں گفتگو کی ہے اور لوگوں کو سمجھایا ہے کہ ایسے ڈھونگی پیروں اور جعلی عاملوں سے بچیں کیونکہ یہ لوگ عقیدے مال اور ایمان تینوں کے دشمن ہیں۔
اللہ ربّ العزت ہمیں صحیح دین کی سمجھ عطا فرمائے ہر قسم کے شرک بدعات توہمات اور ڈھونگ سے محفوظ رکھے اور امتِ مسلمہ کو ان فریب کاروں کے شر سے بچائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے