कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسمارٹ فون، اسکرین ٹائم اور کتابی مطالعہ

تحریر: عبد اللہ یوسف میواتی

آج کے اس دور میں آۓ دن کوئی نہ کوئی نئی چیز ہماری سماعتوں سے ٹکراتی اور ہماری بصارتوں سے گزرتی ہے، روز افزوں ترقیات کا ایک سلسلہ جاری ہے، سائنس ہر چیز کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش میں مصروف ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیوی اعتبار سے لوگوں نے غور وخوض کر کے بڑی ترقی و کامیابیاں حاصل کر لی ہیں، ایک طرف چاند پر پہنچنے کے دعوے ہیں تو دوسری طرف زمین کی تہہ تک پہنچنے کی کوششیں، کہیں آسمان کو کنٹرول کرنے کی محنتیں ہیں تو کہیں سمندروں میں گوہرِ نایاب کو تلاش کرنے کی تگ و دو، اس سے انکار نہیں کہ یہ ساری ایجادات واختراعات لوگوں کے لیے سہولت اور آسانی کا باعث ہیں؛ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جہاں یہ اپنے دامن میں آسانی اور راحت کو چھپائے ہوئے ہیں تو وہیں ان میں نقصانات اور تباہیوں کا بھی بڑا راز مخفی ہے۔
چناں چہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں من جملہ جدید أشیاء کے ایک بڑی اہم اور قابلِ ذکر چیز اسمارٹ فون ہے، بل کہ کہا جائے تو سب سے زیادہ شہرت اور ہر گھر تک رسائی حاصل کرنے والی اشیاء میں موبائل فون سب سے جدا اور ممتاز ہے، یہ صحیح ہے کہ موبائل فون نے دوریوں کو قربت سے تبدیل کر دیا، مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ اس نے قریب کو دور کر دیا، یہ بھی تسلیم ہے کہ موبائل نے ہزاروں لاکھوں میل دور لوگوں کو پاس لا کھڑا کر دیا، مگر سچائی یہ ہے کہ اس نے خود قرب وجوار کے لوگوں سے نا آشنا کر دیا، نادانستہ اور اجنبی لوگوں کو مانوس کر دیا؛ مگر خود خاندان اور معاشرے کے لوگوں سے بیزار کر دیا، بل کہ حقیقت تو یہ ہے کہ موبائل فون نے انسان کو خود اپنے سے ہی بے خبر کر دیا ہے، چناں چہ ہر شخص نقصانات وخطرات کے باوجود اپنانے پر مجبور ہے, نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔
موبائل بینی صرف ایک رابطہ کا آلہ نہیں، محض خبروں کی رسائی یا تشہیر کا ذریعہ نہیں، بل کہ ایک جنون ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "حبک الشیئ یعمی ویصم” ترجمہ: "کسی چیز سے زیادہ تعلق اندھا بہرا کر دیتا ہے” (مشکوۃ، کتاب الآداب، باب المفاخرہ حدیث نمبر 4908) جنون کی جملہ تعریفات میں یہ بات قدرِ مشترک ہے کہ آدمی کو جس چیز کا جنون ہو، اس کے غیر کی خبر نہ رہے یعنی آدمی اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر پاتا، انجام سے غافل ہو جاتا ہے اور نتیجہ سے بے خبر، چناں چہ اسی اسمارٹ فون کی بناء پر ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں کہ سن کر کان سُن ہو جاتے ہیں اور زبانیں گنگ، دل دہل جاتا ہے اور آنکھیں اشک بار، کہیں موبائل نہ دینے پر بیٹی نے والدہ کو ہی قتل کر دیا تو کہیں اپنے آپ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا لیا، کہیں اپنے گھر کو خیر آباد کہ دیا تو کہیں اپنے والد اور والدہ سے رشتہ توڑ لیا، کہیں اپنے بہن بھائیوں سے قطعِ تعلق کر لیا تو کہیں اسلام تک سے رشتہ موڑ لیا، اس نام نہاد ترقی یافتہ دور میں ان سب معاملات میں کیا بڑا دخل اسمارٹ فون کا نہیں؟ ہے اور یقیناً ہے۔
؀ تو پھر بتائیں کہ یہ جنوں نہیں تو اور کیا ہے؟ :
سائنسی تحقیقات کے مطابق یومیہ تین چار گھنٹے اسکرین ٹائم (اسکرین خواہ موبائل فون کی ہو یا ٹیب کی، لیپ ٹاپ کی ہو یا ٹی وی کی) نہ صرف ضیاعِ وقت ہے بل کہ ذہنی اور جسمانی ہر طرح کے نقصانات کا پیش خیمہ بھی، چناں چہ بہ کثرت موبائل بینی نہ صرف یہ کہ ذہن کو کمزور کرتی ہے؛ بل کہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے، اسکرین پر مستقل توجہ مرکوز رکھنا مختلف ذہنی وجسمانی امراض کو جنم دیتا ہے، انسان سست اور کاہل بن جاتا ہے، ایسے شخص سے کسی نئے کام کا صدور تو دور کی بات، روزمرہ کے معمولات کی انجام دہی بھی مشکل ہو جاتی ہے، غرض یہ کہ موبائل اسکرین آدمی کو ہڈیوں کا ڈھانچہ کر چھوڑتی ہے، بہ کثرت موبائل بینی انسان کی اخلاقی ومعاشرتی زندگی کو تباہ وبرباد کر دیتی ہے، یہ وہ نقصانات ہیں جن سے اسمارٹ فون رکھنے والا ہر شخص گزر رہا ہے اور اپنی ہنستی کھیلتی زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں ذلت وپستی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
خطرناک حد سے یہ بڑھ کر ہوا ہے
سبھی کو ہی اس نے تو پاگل کیا ہے
غلط کہہ رہے ہیں ضروری ہوا ہے
یہ بچوں بڑوں کا بھی دشمن ہوا ہے
یہ آنکھوں کا دشمن یہ کانوں کا دشمن
کتابوں کا دشمن زبانوں کا دشمن
سبھی کو لگے یہ ترقی کی چابی
مگر کر رہا ہے خرابی خرابی
(غلام محمد)
مطالعہ کا سدِ باب :
یہ نقصانات تو وہ ہیں جن سے اسمارٹ فون رکھنے والا ہر کس وناکس اور ایک نارمل زندگی گزارنے والا انسان سامنا کر رہا ہے، مگر مدارس اور یونیورسٹیوں میں موجود جو تعلیم حاصل کرنے والا طبقہ ہے، اس کا تو اس موبائل فون نے ایسا ستیاناس کیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ ان کو اپنے آپ سے مانوس کیا، بل کہ ان کے ہاتھوں سے کتابیں ہی چھین لی، ان کی میزوں سے کتابوں کو دور کر دیا، ان کے سرہانے سے قلم اور کاغذ کو بر طرف کر دیا، ان کی کتابی الماری کو روپوش کر دیا اور ان کے کمروں کو کتابوں سے خالی کر دیا۔ غرض یہ کہ ان کی زندگیوں میں اس طرح داخل ہو گیا کہ ان کا سفر وحضر کا مصاحب اور رفیق بن گیا، روزانہ کی چہل قدمی کا دوست بن گیا، شبانہ نیند کا دیر تک جاگنے والا ساتھی بن گیا، ایسا صاحب بنا اور ایک طالب علم کو اپنے آپ سے ایسے چمٹا لیا کہ گھڑ سوار کی مانند اس پر سوار ہو گیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ طالب علم جس کا سارا دن کتابوں کے کھنگالنے میں گزرتا تھا، اب وہ فون کی رفاقت میں گزرنے لگا، وہ طالب علم جس کی راتیں کتب بینی میں گزرتی تھی اب وہ اسکرین بینی میں کٹنے لگی، وہ طالب علم جس کی چہل قدمی سوانحِ اکابر سے موسوم تھی، اب وہ چہل قدمی ہی نہیں رہی بل کہ موبائل فون پر وقت گزاری ہونے لگی، وہ طالب علم جس کی بغل میں ہر وقت کتابوں کا دستہ یا بستہ نظر آتا تھا، اب اس کے دستان پر موبائل کے آثار اور نشانات نظر آنے لگے، وہ طالب علم جس کی شب بیداری کتب بینی وآہ و زاری سے عبارت تھی، اب وہ بے جا لہو ولعب فیس بک اور انسٹاگرام چیٹنگ کی نذر ہو گئ، وہ طالب علم جس کی گفتگو اور مباحثوں میں علمی نکات اور مضبوط گرہیں سلجھتی تھی، اب وہ خود گرہوں میں پھنس کر رہ گیا، وہ طالب علم جس کی شان طلبِ علم اور حصولِ علم تھی افسوس کہ اب وہ احساس بھی ختم ہو گیا۔
؀ آہ ! رے موبائل تیرے انجام پہ رونا آیا :
یہ موبائل فون جس نے ہمیں اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے، اپنے گھیرے میں باندھ لیا ہے، اپنے قبضے میں جکڑ لیا ہے، چناں چہ کھانے، پینے، سونے، جاگنے، ہنسنے، رونے ہر وقت یہ دیمک کی طرح ہمارے ساتھ لگ چکا ہے، ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے، ہماری روز مرہ کی عادات میں داخل ہو چکا ہے، بنایا تو اسے انسان کے استعمال کے لیے گیا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج انسان موبائل کو نہیں، بل کہ موبائل انسان کو استعمال کر رہا ہے، موبائل تو انسانی ضروریات کی تکمیل کے لیے تھا؛ مگر آج خود انسان موبائل کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے، بل کہ یہ اسمارٹ فون ایک مستقل مرض اور زہریلے وائرس کی طرح ہمارے ساتھ لگ کر ہمارے علمی اور معاشرتی خاندانوں کو تباہ کر رہا ہے، پہلے تو صرف یہ چوک اور چوراہوں پر ٹی وی کی شکل میں خال خال نظر آتا تھا، اس کے بعد گلیوں اور محلوں سے ہوتے ہوئے ہمارے گھروں تک آ پہنچا اور صرف یہیں نہیں رکا؛ بل کہ ہماری جیب میں داخل ہوا اور یوں لباس کی مانند ہمارا جسمانی جزو بن کر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ہاتھوں سے کتاب رکھی، اسمارٹ فون کو تھام لیا اور مطالعہ کو تو گویا بھول ہی گئے اور صرف بھولے ہی نہیں؛ بل کہ نسیاً منسیا کر دیا، یعنی بھولنے کا احساس بھی ختم ہو گیا، علامہ اقبال کے الفاظ میں:
وائے ناکامی ! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زياں جاتا رہا
پڑھئیے سعود عثمانی کے اس خوب صورت شعر کو اور جائزہ لیجئے اپنے آپ کا اور اپنے قریبی دوست واحباب کا کہ کیا یہ شعر مکمل طور پر صادق نہیں آ رہا ہے یا ابھی بھی کچھ باقی ہے؟
کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
اور ہاں پڑھئیے 1964ء کے لکھے اس اقتباس کو اور رونا روئیے اپنی بے بسی ولاچارگی کا اور اپنے بچوں کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا برطانوی ادیب ناول نگار "رولڈ ڈال” 1964ء میں بچوں کے لئے شائع ہونے والے ایک ناول "Charlie and the Chocolate Factory” (چارلی اینڈ دی چاکلیٹ فیکٹری) میں لکھتے ہیں کہ ’’خدارا ! خدارا ! ہم ہاتھ جوڑتے ہیں، جاؤ ! اپنے ٹی وی پھینک آؤ اور ان کی جگہ اسی دیوار پر کتابوں کی ایک خوبصورت الماری نصب کر لو۔‘‘
آج سے پچاس سال پہلے جب کہ ٹی وی اپنے بلکل ابتدائی دور میں تھا اور صرف گلی چوراہوں پر نہیں، بل کہ شہروں تک میں بھی خال خال دست یاب تھا، بل کہ کہیے کہ اس وقت ٹیلی ویژن کا استعمال اکثر تعلیم کے لیے ہی تھا، مگر اس وقت میں بھی اس کی سنگینی اور زہریلا پن مخفی نہ رہا اور ایک خامہ نگار کے دل کا درد کتاب چہ کی زینت بن گیا، اس سے اندازہ لگائیں کہ اس وقت تو یہ ٹیلی ویژن گویا شاذ ونادر تھا، مگر آج تو اس سے بھی زیادہ آسان صورت میں اور صرف ہر گاؤں، ہر گلی اور ہر گھر نہیں بل کہ ہر فرد تک جا پہنچا اور جلوت وخلوت کا دائمی زندگی میں تباہ کن رفیق ٹھہرا۔
محاسبہ کریں ! :
آپ تجربہ کر کے دیکھیں کہ صرف ایک گھنٹہ اسکرین پر گزارنے کے بعد ذہن پر کیا اثر پڑتا ہے؟ نیز یہ کہ مذکورہ بالا خرابیاں تو وہ ہیں جن کا کراہت اور حرمت سے کوئی لینا دینا نہیں، ورنہ اگر شریعت کی روشنی میں اسمارٹ فون کا جائزہ لیا جائے تو پے درپے مکروہ اور حرمت کے فتوے لگتے چلے جائیں گے، نیز یہ کہ مضمون میں اس سے بھی بحث نہیں کہ طلبۂ کرام کو انتظامہ کی جانب سے اسمارٹ فون کی اجازت ہے یا نہیں، بل اس سب سے قطعِ نظر ایک نارمل انسان پر اور ایک عام طالب علم پر اسمارٹ فون اور موبائل بینی کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ ان کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔
اخیر میں میں خود اپنی ذات، اپنے دوست واحباب اور اپنے ہی ہم عمر طلبۂ کرام سے مخاطب ہوں کہ اپنے شب وروز کے 24/ گھنٹوں کا محاسبہ کریں کہ ہمارا کتنا وقت اور کہاں کہاں گزر رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں اپنے اکثر وقت کا احساس ہی نہ ہو کہ وہ کہاں صرف ہو رہا ہے، کتنا وقت ہمارا سونے میں جا رہا ہے اور کتنا پڑھنے میں، کتنا ضرورتِ بشریہ میں گزر رہا ہے اور کتنا ذکر وتلاوت اور نماز میں، نیز اس سب کے علاوہ بقیہ وقت ہمارا بھلا کہاں گزر رہا ہے، اس کے لئے نظام الاوقات بنائیے اور یومیہ ایک پارہ تلاوت اور چند صفحات کا مطالعہ اپنے ذمہ لازم اور فرض کر لیں۔
گرچہ مضمون کا عنوان مستقل مطالعہ نہیں ہے؛ مگر چوں کہ تقابل میں بہ ہرحال مطالعہ کا ذکر ہے، اس لیے مطالعہ کے سلسلہ میں کم از کم اتنا ضرور یاد رکھیں کہ مطالعہ محض مفید ہی نہیں بل کہ نقصان دہ بھی ہے، کسی ماہر کا قول ہے کہ : مطالعہ دو دھاری تلوار ہے” یعنی اس کے دو پہلو ہیں کسی مشیر اور مربی کی رہنمائی میں ہو تو مطالعہ کے جتنے فوائ

د ہیں اس سے کہیں زیادہ بغیر رہنمائی حاصل کیے مطالعہ کرنے کے نقصانات ہیں، اس لیے ہمیشہ کسی مشیر اور مربی کی رہنمائی میں ہی مطالعہ کریں۔
مطالعہ سے یاد آیا کہ دہلی میں کسی پروگرام میں أستاذ محترم حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری دام ظلہ تقریر فرما رہے تھے: "کہ ہر عالم کے لئے یومیہ کم از کم 100/ صفحات کا مطالعہ لازم اور ضروری ہے” وہیں امیر الہند حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری رح بھی تشریف فرما تھے، حضرت قاری صاحب فرمانے لگے "کہ مولانا! آپ 100/ صفحات کی بات کر رہے ہیں، یہ تنزلی کا دور ہے، اگر روزانہ 10/ صفحات کا بھی مطالعہ ہو جائے تو غنیمت ہے” واقعہ یہی ہے کہ آج 10/ صفحہ بھی مشکل ہو چکے ہیں، اس لئے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم مطالعہ میں تسلسل کو لازم پکڑیں، چاہے یومیہ دو چار صفحے ہی کیوں نہ ہوں ؛ کیوں کہ اگر تسلسل کی عادت بن گئی تو پھر یہ تسلسل صرف صرف 10/ صفحے پر نہیں رکے گا؛ بل کہ 100/ صفحات سے بھی آگے نکل جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالی
بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سبھی کو اس موبائل کے فتنہ سے محفوظ رکھے اور کتابی مطالعہ کی توفیق مرحمت فرماۓ آمین یارب العالمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے