कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

احتجاج کٹہرے میں!

ایس آئی آر مخالف تحریک میں نیہا بورا اور ابھیجیت ڈپکے کے خلاف عدالتی کارروائی، جمہوریت کی آزمائش اور شہری آزادیوں کا سوال

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔۔۹۹۳۴۹۳۳۹۹۲

جمہوریت کی اصل طاقت اختلافِ رائے کے احترام اور شہریوں کی آواز سننے میں ہے۔ اسی لیے جب ووٹر لسٹوں کی شفافیت پر سوال اٹھیں اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا جائے، تو جمہوری نظام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان آوازوں کو دبانے کے بجائے دلیل، شفافیت اور جواب دہی کے ذریعے ان کا جواب دے کر خدشات کو دور کریں۔ لیکن اگر پُرامن احتجاج کرنے والوں کو حراست، مچلکوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ قانون کا نفاذ شہری آزادیوں کے تحفظ کا ذریعہ ہے یا ان پر قدغن لگانے کا۔ دہلی میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف تحریک اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر نیہا بورا وابھیجیت ڈپکے سمیت متعد تحریک کار کے خلاف عدالتی کارروائی نے اسی بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔ معاملہ محض چند تحریک کاروں کی حراست کا نہیں، بلکہ پُرامن احتجاج کے حق، انتظامی اختیارات اور جمہوری اداروں کی جوابدہی کا بھی ہے۔
ایس آئی آر اور انتخابی شفافیت:ـ
انتخابی فہرستیں جمہوریت کی بنیاد ہیں، کیونکہ شہری انہی کے ذریعے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے حذف ہو جائے تو وہ اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم ہو سکتا ہے۔ اس لیے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا عمل شفاف، قابلِ اعتماد اور جوابدہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح شہریوں کو اپنے نام کی موجودگی جانچنے، اعتراض درج کرانے اور غلطیوں کی اصلاح کا مؤثر موقع ملنا بھی ضروری ہے۔
ایس آئی آر کے مخالفین کا مطالبہ ہے کہ انتخابی فہرستوں سے متعلق خدشات دور کیے جائیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جوابدہی طے کی جائے۔ ان کے مطالبات میں چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب، انتخابی کمیشن کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد مردہ افراد، نقل اندراجات اور نااہل ووٹروں کے ناموں کو ہٹا کر فہرستوں کی تطہیر کرنا ہے۔ ان دونوں مؤقف کے درمیان بنیادی سوال یہ ہے کہ اس عمل کے دوران کسی اہل ووٹر کا نام حذف ہونے کی صورت میں اصلاح کا مؤثر اور قابلِ رسائی طریقہ کیا ہوگا۔
میرا مقصد کسی سیاسی جماعت یا تحریک کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں، بلکہ انتخابی نظام پر عوام کے اعتماد کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ انتخابی اداروں کو چاہیے کہ وہ اعتراضات کا واضح جواب دیں، متعلقہ اعداد و شمار سامنے لائیں اور یہ یقینی بنائیں کہ کوئی اہل شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ محض انتخابات کرا دینا کافی نہیں، انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانب داری پر عوام کا اعتماد بھی ناگزیر ہے۔
احتجاج اور تحریک کاروں کے خلاف کارروائی:ـ
ایس آئی آر مخالف تحریک کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت ڈپکے سمیت متعدد رہنماؤں، بالخصوص سورَو داس اور اشوتوش رانکا، کے خلاف دہلی پولیس کی جانب سے احتیاطی کارروائیاں کی گئیں۔ بعض کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ کچھ کو عدالتی حراست میں بھیجا گیا۔ رہائی کے لیے مچلکے جمع کرانے اور احتجاج سے متعلق شرائط کی پابندی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ پولیس نے ان اقدامات کی بنیاد امتناعی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی اور امن و امان میں خلل کے خدشات کو بتایا۔
بلاشبہ، امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر احتجاج کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ یا کسی قابلِ سزا جرم کے شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم، حکومتی پالیسی پر تنقید، انتخابی ادارے سے سوال یا کسی عہدے دار کے استعفے کا مطالبہ بذاتِ خود جرم نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام کارروائی واضح شواہد پر مبنی ہو اور متعلقہ فرد کے کردار اور حالات کو ملحوظ رکھا جائے۔
قانون کی بالادستی کا تقاضا صرف احکامات پر عمل درآمد نہیں، بلکہ اختیارات کا منصفانہ اور متناسب استعمال بھی ہے۔ کسی ممکنہ خلاف ورزی کے اندیشے کی بنیاد پر سخت شرائط عائد کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خطرہ کتنا حقیقی ہے اور کیا اسے روکنے کے لیے محدود اقدامات کافی ہو سکتے ہیں۔
نیہا بورا کا معاملہ اور ہائی کورٹ کا فیصلہ:
ایس آئی آر مخالف تحریک کے دوران اے آئی ایس اے کی قومی صدر نیہا بورا کے خلاف کارروائی نے احتیاطی اختیارات کی حدود اور شہری آزادیوں کے تعلق سے بحث کو مزید اہم بنا دیا۔ 16 اکتوبر کو منڈی ہاؤس کے علاقے میں احتجاج کے دوران انہیں احتیاطی حراست میں لیا گیا۔ رہائی کے بعد خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے انہیں دس ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ جمع کرانے اور امن برقرار رکھنے سے متعلق نوٹس دیا۔
ان کے خلاف پیش کیے گئے الزامات میں نعرے بازی، امتناعی احکامات کے باوجود احتجاج اور کناٹ پلیس میں لوگوں کو اکسانے جیسے نکات شامل تھے۔ نیہا بورا نے اس نوٹس کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس میں امن و امان خراب ہونے کے خدشے کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں احتجاج کی اپیل ان کی تنظیم نے نہیں کی تھی اور وہ کاکروچ جنتا پارٹی کے اس مخصوص احتجاج سے وابستہ نہیں تھیں۔
23 اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت کے مطابق، ابتدائی مواد کی بنیاد پر احتیاطی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے اور اس مرحلے پر مکمل عدالتی تحقیقات جیسی تفصیلی کارروائی ضروری نہیں۔ تاہم، عدالت نے یہ ہدایات بھی دیں کہ متعلقہ مواد نیہا بورا کو فراہم کیا جائے اور قدرتی انصاف کے اصولوں کی پابندی کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ احتیاطی کارروائی کا مقصد سزا دینا نہیں، بلکہ ممکنہ خلاف ورزی کو روکنا ہے۔
عدالتی فیصلے کے باوجود نیہا بورا نے مچلکے کی شرط پر اعتراض برقرار رکھا۔ 24 اکتوبر کو انہوں نے مچلکے پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شرائط پُرامن احتجاج کے حق کو محدود کر سکتی ہیں۔ ان کے نزدیک امن برقرار رکھنے کے نام پر مچلکہ طلب کرنا شہریوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک طرف ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے، جس میں اس مرحلے پر احتیاطی کارروائی کو قابلِ جواز مانتے ہوئے متعلقہ ہدایات دی گئیں۔ دوسری طرف نیہا بورا کا اعتراض ہے، جو احتیاطی اختیارات کے استعمال اور شہری آزادیوں پر ان کے اثرات سے متعلق ہے۔ عدالتی فیصلے کا احترام اپنی جگہ، لیکن اس سے قانون کے عملی نفاذ اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن پر بحث ختم نہیں ہو جاتی۔
احتیاطی اختیارات کی حدود:
احتیاطی کارروائی کا مقصد کسی ممکنہ خلاف ورزی کو پہلے ہی روکنا ہے، نہ کہ کسی ایسے جرم کی سزا دینا جو ثابت نہ ہوا ہو۔ اسی لیے ان اختیارات کے استعمال میں معقولیت، تناسب اور شواہد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ کسی شخص سے امن برقرار رکھنے کا مچلکہ طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس خدشے کی بنیاد کیا ہے۔
اگر ہر احتجاج کے بعد محض اندیشوں کی بنیاد پر مچلکے طلب کیے جانے لگیں تو شہری اپنے جمہوری حقوق استعمال کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ اس کا اثر صرف متعلقہ فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان تمام لوگوں پر پڑتا ہے جو کسی عوامی مسئلے پر آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب، احتجاج کے نام پر قانون شکنی کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شہری آزادیوں کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے درمیان منصفانہ توازن قائم کیا جائے۔
اس مقصد کے لیے انتظامی کارروائیوں میں شفافیت، مناسب جواز اور عدالتی نگرانی ضروری ہے۔ شہریوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے خلاف کارروائی کن بنیادوں پر کی جا رہی ہے اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع حاصل ہے۔
احتجاج کا حق اور حکومت کی ذمہ داری:
آئین شہریوں کو اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کا حق دیتا ہے، اگرچہ ان حقوق پر قانون کے مطابق معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتظامیہ اپنی سہولت کے مطابق احتجاج کے راستے محدود کر دے۔ ہر پابندی کے پیچھے معقول جواز اور ضرورت کا ہونا لازمی ہے۔
جنتر منتر اور دہلی کے دیگر علاقوں میں احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے ضروری ہے کہ شہریوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے کے مناسب قانونی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر احتجاج کے لیے دستیاب مقامات اور طریقۂ کار اس قدر محدود ہو جائیں کہ عوام کی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچ ہی نہ سکے تو احتجاج کے آئینی حق کی عملی افادیت متاثر ہوتی ہے۔
تحریک کاروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مطالبات پُرامن انداز میں پیش کریں، تشدد سے گریز کریں اور نافذالعمل قانونی احکامات کی پابندی کریں۔ کسی مطالبے کی اخلاقی یا سیاسی اہمیت قانون شکنی کا جواز نہیں بن سکتی۔ اسی طرح انتظامیہ کو بھی اختلافِ رائے کو جمہوری نظام کی فطری خصوصیت سمجھنا چاہیے، نہ کہ اسے محض نظم و ضبط کے لیے خطرہ تصور کرنا چاہیے۔
جمہوریت کا اصل امتحان:
ایس آئی آر کی مخالفت اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ سیاسی طور پر درست ہے یا غلط، اس کا فیصلہ دلائل، شواہد، عوامی بحث اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔ حکومت اور انتخابی ادارے ان مطالبات سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن انتخابی عمل سے متعلق خدشات دور کرنا اور شہریوں کے سوالات کا جواب دینا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
نیہا بورا کا معاملہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ عدالتی فیصلوں، قانونی الزامات اور احتجاج کرنے والوں کے مؤقف کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ کسی درخواست کا مسترد ہونا تمام سیاسی سوالات کا جواب نہیں، اسی طرح کسی تحریک کار کا اعتراض بذاتِ خود انتظامی کارروائی کو غیر قانونی ثابت نہیں کرتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ قانون کا اطلاق شواہد کی بنیاد پر ہو، متعلقہ فرد کو اپنا موقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع ملے اور بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔
جمہوریت کی طاقت اختلاف کی آواز کو خاموش کرنے میں نہیں، بلکہ اسے سننے، اس کا جواب دینے اور غلطیوں کی اصلاح کرنے میں ہے۔ انتخابی شفافیت سے متعلق سوالات کا جواب قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور مؤثر طریقۂ کار کے ذریعے دیا جانا چاہیے، جبکہ امن و امان کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بھی قانونی جواز اور تناسب کے معیار پر پورے اترنے چاہئیں۔
قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ مضبوط جمہوریت وہی ہے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو، ریاستی اختیارات جوابدہ ہوں اور شہری بلا خوف اپنے اختلاف کا اظہار کر سکیں۔ حکومت اور ادارے تنقید سننے کا حوصلہ رکھیں اور تحریک کار قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی آواز بلند کریں تو اختلاف تصادم کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی جمہوری نظام کی اصل طاقت اور اس کی کامیابی کا پیمانہ ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے