कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آزادی کے چراغ میں مسلم مجاہدین کا لہو، تاریخ کے یہ روشن نام کیوں فراموش؟

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام

15 اگست ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ اسی دن 1947 میں ملک طویل برطانوی غلامی سے آزاد ہوا۔ 26 نومبر 1949 کو دستورِ ہند منظور ہوا اور 26 جنوری 1950 کو اس کا نفاذ عمل میں آیا۔ یوں ہندوستان ایک جمہوریہ بنا۔ ہر سال 15 اگست کو یومِ آزادی اور 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ منایا جاتا ہے۔ قومی پرچم لہرایا جاتا ہے۔ قومی ترانہ گایا جاتا ہے۔ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی ہے۔
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ آزادی ہمیں کیسے ملی؟
یہ آزادی کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دی تھی۔ اس کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دی تھیں۔ کسی نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ کسی نے جلاوطنی قبول کی۔ کسی نے اپنا گھر بار چھوڑا۔ کسی نے اپنی جائیداد گنوائی۔ اور بے شمار لوگوں نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان تک قربان کردی۔
ان قربانی دینے والوں میں ہندوستانی مسلمان بھی لاکھوں کی تعداد میں شامل تھے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بہت سے نام ہماری اجتماعی یادداشت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ نئی نسل کے ایک بڑے حصے کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کے کتنے علماء، صحافی، ادیب، سیاسی رہنما، انقلابی، خواتین اور عام لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔
ہندوستان کی آزادی کسی ایک مذہب، طبقے یا علاقے کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ پورے ہندوستان کی مشترکہ جدوجہد تھی۔ اس میں ہندو بھی تھے۔ مسلمان بھی تھے۔ سکھ بھی تھے۔ عیسائی بھی تھے۔ کسان، مزدور، طلبہ اور خواتین بھی تھیں۔ مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس جدوجہد میں شریک تھے۔
اس لیے آزادی کی تاریخ بھی سب کی مشترکہ تاریخ ہے۔
1857 کی بغاوت کو ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں سپاہیوں کے ساتھ عام لوگوں نے بھی برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی۔ دہلی میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو اس جدوجہد کی علامتی قیادت سونپی گئی۔ ان کے پاس حقیقی اقتدار نہیں تھا، لیکن ان کی شخصیت مختلف گروہوں کے لیے ایک مشترکہ علامت بن گئی تھی۔
1857 کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیاں کیں۔ ہزاروں لوگ گرفتار ہوئے۔ بہت سے لوگوں کو سزائیں دی گئیں۔ املاک ضبط کی گئیں۔ علماء اور سیاسی کارکن بھی ان کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہے۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی جیسے علماء نے بھی اس دور میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا۔ اسی دور میں مولوی احمد اللہ شاہ کا نام بھی نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نے اودھ کے علاقے میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی اور آخرکار شہید ہوئے۔
1857 کی جنگ میں مسلم خواتین نے بھی اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ بیگم حضرت محل اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ انہوں نے اودھ میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی۔ اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو حکمران بنایا اور خود سیاسی و عملی جدوجہد کی ذمہ داری سنبھالی۔
بہادر شاہ ظفر کی زندگی بھی غلامی کے درد کی ایک داستان ہے۔ 1857 کی ناکامی کے بعد انہیں گرفتار کرکے رنگون جلاوطن کردیا گیا۔ وہیں ان کا انتقال ہوا۔ وہ ایک حکمراں ہونے کے ساتھ اردو کے معروف شاعر بھی تھے۔ ان کی زندگی ہندوستان کی غلامی کے ایک تلخ دور کی علامت بن گئی۔
آزادی کی جدوجہد صرف 1857 تک محدود نہیں رہی۔ اس کے بعد بھی برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت مختلف شکلوں میں جاری رہی۔
دارالعلوم دیوبند سے وابستہ علماء نے بھی آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن ان میں نمایاں نام ہیں۔ انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف منظم جدوجہد کی کوشش کی۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران انہوں نے بیرونی مدد حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مولانا عبید اللہ سندھی کو افغانستان بھیجا گیا۔ اسی جدوجہد کو بعد میں ریشمی رومال تحریک کے نام سے شہرت ملی۔
برطانوی حکومت کو اس منصوبے کا علم ہوگیا۔ شیخ الہند گرفتار ہوئے اور مالٹا میں قید رکھے گئے۔ مولانا حسین احمد مدنی بھی اس جدوجہد سے وابستہ رہے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی کو طویل عرصے تک جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی۔
بعد کے دور میں آزادی کی جدوجہد کا انداز بھی بدلتا گیا۔ عوامی بیداری، عدم تعاون، سیاسی جدوجہد اور قومی اتحاد پر زور دیا گیا۔ 1919 میں جمعیت علماء ہند کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا کفایت اللہ دہلوی، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا حسین احمد مدنی اور دوسرے علماء نے اس پلیٹ فارم سے برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔
مولانا حسین احمد مدنی متحدہ ہندوستانی قومیت کے حامی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک وطن کے شہری کی حیثیت سے ایک قوم بن سکتے ہیں۔ ان کی جدوجہد اس بات کی مثال تھی کہ مذہبی وابستگی اور وطن سے وفاداری کو ایک دوسرے کے خلاف سمجھنا ضروری نہیں۔
مسلم مجاہدینِ آزادی کا ذکر مولانا ابوالکلام آزاد کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ وہ عالمِ دین تھے۔ صحافی تھے۔ مفکر تھے۔ سیاسی رہنما تھے۔ ان کا قلم برطانوی حکومت کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار تھا۔
انہوں نے ’الہلال‘ جاری کیا۔ بعد میں ’البلاغ‘ کے ذریعے بھی قومی بیداری پیدا کی۔ ان اخبارات نے مسلمانوں اور عام ہندوستانیوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مولانا آزاد نے قومی اتحاد اور آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی۔ وہ کانگریس کے صدر بھی رہے اور کئی مرتبہ جیل گئے۔
آزادی کے بعد انہیں آزاد ہندوستان کا پہلا وزیرِ تعلیم بننے کا موقع ملا۔ ملک کے تعلیمی اور ثقافتی اداروں کی تعمیر میں ان کا اہم کردار رہا۔
اسی طرح مولانا محمد علی جوہر کا نام بھی تاریخ میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ ایک بے باک صحافی اور سیاسی رہنما تھے۔ ’کامریڈ‘ اور ’ہمدرد‘ جیسے اخبارات کے ذریعے انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کی۔ تحریکِ خلافت اور عدم تعاون تحریک میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ انگریز حکومت نے انہیں گرفتار کیا، لیکن قید بھی ان کے حوصلے کو کم نہ کرسکی۔
ان کے بھائی مولانا شوکت علی بھی تحریکِ خلافت کے اہم رہنماؤں میں تھے۔ دونوں بھائیوں نے ملک کے مختلف حصوں میں گھوم کر لوگوں کو سیاسی طور پر بیدار کیا۔ انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان دونوں کی والدہ بی اماں، یعنی عبادی بانو بیگم، کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ وہ صرف اپنے بیٹوں کی وجہ سے معروف نہیں تھیں۔ انہوں نے خود سیاسی اجتماعات میں شرکت کی۔ لوگوں کو بیدار کیا اور خواتین کو بھی قومی جدوجہد میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔
مولانا حسرت موہانی بھی آزادی کی تحریک کے بے باک سپاہی تھے۔ وہ شاعر تھے۔ صحافی تھے۔ سیاسی کارکن تھے۔ انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی۔ مکمل آزادی کے مطالبے کے ابتدائی حامیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی صحافت اور شاعری دونوں میں آزادی کا جذبہ نمایاں تھا۔
ڈاکٹر سیف الدین کچلو بھی آزادی کی تحریک کے اہم رہنما تھے۔ رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج میں ان کا اہم کردار تھا۔ ان کی گرفتاری نے پنجاب میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ وہ تحریکِ خلافت اور قومی تحریک سے بھی وابستہ رہے۔
ڈاکٹر مختار احمد انصاری ایک ممتاز طبیب ہونے کے ساتھ آزادی کی تحریک کے اہم رہنما بھی تھے۔ وہ تحریکِ خلافت اور قومی تحریک میں سرگرم رہے۔ ہندوستانی قومی کانگریس کے صدر بھی بنے۔ ہندو مسلم اتحاد اور قومی یکجہتی کے مضبوط حامی تھے۔
آزادی کی انقلابی جدوجہد میں اشفاق اللہ خاں کا نام ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ وہ رام پرساد بسمل کے قریبی ساتھی تھے۔ کاکوری واقعے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔ مقدمہ چلا۔ سزائے موت سنائی گئی۔ 19 دسمبر 1927 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔
اشفاق اللہ خاں کی زندگی قربانی اور عزم کی مثال ہے۔ رام پرساد بسمل کے ساتھ ان کی دوستی اس دور کے ہندو مسلم اتحاد کی بھی ایک خوب صورت علامت تھی۔ دونوں مختلف مذہبی پس منظر رکھتے تھے، لیکن آزادی کا مقصد دونوں کے لیے مشترک تھا۔
بہار کی آزادی کی تاریخ بھی مسلم مجاہدین کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ مولانا محمد سجاد ان میں ایک اہم نام ہیں۔ انہوں نے تحریکِ خلافت اور قومی تحریک میں حصہ لیا۔ جمعیت علماء ہند کے ابتدائی رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بہار میں سیاسی اور قومی بیداری پیدا کرنے میں ان کا نمایاں کردار رہا۔
مولانا عبدالباری فرنگی محلی بھی آزادی کی تحریک کے اہم عالم تھے۔ انہوں نے تحریکِ خلافت میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ قومی اتحاد اور ہندو مسلم یکجہتی کی حمایت کی۔ عوام کو برطانوی اقتدار کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کی۔
سرحد کے علاقے میں خان عبدالغفار خان، یعنی باچا خان، نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے عدم تشدد کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ ان کی خدائی خدمتگار تحریک نے عوام میں سیاسی شعور پیدا کیا۔ وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ آزادی کی جنگ صرف ہتھیار اٹھا کر نہیں لڑی گئی۔ تعلیم، تنظیم، عوامی بیداری اور عدم تعاون بھی اس جدوجہد کے اہم ذرائع تھے۔
آزادی کی تاریخ میں مسلمانوں کی صحافت کا کردار بھی اہم ہے۔ ’الہلال‘، ’البلاغ‘، ’ہمدرد‘ اور ’کامریڈ‘ جیسے اخبارات نے عوام میں سیاسی شعور پیدا کیا۔ برطانوی حکومت نے ان اخبارات پر پابندیاں لگائیں۔ جرمانے عائد کیے۔ صحافیوں کو گرفتار کیا۔ لیکن آزادی کی آواز کو مکمل طور پر دبایا نہ جاسکا۔
یہی وجہ ہے کہ آزادی کی جدوجہد کو صرف سیاسی رہنماؤں کے ناموں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں صحافی بھی تھے۔ ادیب بھی تھے۔ علماء بھی تھے۔ طلبہ بھی تھے۔ خواتین بھی تھیں۔ اور وہ بے شمار عام لوگ بھی تھے جن کے نام شاید تاریخ کی بڑی کتابوں میں نہ ملیں، لیکن جن کی قربانی آزادی کی بنیاد میں شامل ہے۔
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ آج ہم اپنے ان مجاہدین کو کیوں بھولتے جا رہے ہیں؟
اس کا جواب صرف ایک نہیں ہوسکتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے نام لوگوں کی یادداشت سے دور ہوگئے۔ نئی نسل نے تاریخ کو محدود ناموں اور چند واقعات کے ذریعے پڑھنا شروع کردیا۔ مقامی مجاہدین کی تاریخ بھی مناسب طور پر محفوظ نہیں کی گئی۔ پرانے اخبارات، خطوط اور دستاویزات بھی تیزی سے ضائع ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ صورت حال بدلنی ہوگی۔
مسلم مجاہدینِ آزادی کا ذکر کسی دوسرے طبقے کی قربانی کو کم کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد تاریخ کو مکمل کرنا ہے۔ ہندوستان کی آزادی سب کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ اس لیے تاریخ میں بھی سب کی قربانیوں کو جگہ ملنی چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادی کی تاریخ کو صرف 15 اگست اور 26 جنوری کی تقریروں تک محدود نہ رکھا جائے۔ اسکولوں، کالجوں، مدارس اور یونیورسٹیوں میں مجاہدینِ آزادی کے بارے میں پڑھایا جائے۔ مقامی سطح پر تحقیق کی جائے۔ پرانے ریکارڈ محفوظ کیے جائیں۔ ان خاندانوں سے معلومات حاصل کی جائیں جن کے بزرگ آزادی کی تحریک میں شریک رہے۔
خاص طور پر نئی نسل کو ان لوگوں کے بارے میں بتایا جائے جنہوں نے اپنی زندگی آزادی کے لیے وقف کردی۔
انہیں بتایا جائے کہ اشفاق اللہ خاں کون تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے کیا کردار ادا کیا۔
مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی نے کیا قربانیاں دیں۔
حسرت موہانی نے کس طرح آزادی کی آواز بلند کی۔
شیخ الہند اور دوسرے علماء نے کس طرح برطانوی اقتدار کا مقابلہ کیا۔
بی اماں اور بیگم حضرت محل جیسی خواتین نے کس طرح اپنا کردار ادا کیا۔
اور یہ بھی بتایا جائے کہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دوسرے طبقات کے لوگ مل کر آزادی کی اس جدوجہد کو آگے بڑھاتے رہے۔
15 اگست صرف جشن کا دن نہیں ہے۔
یہ اپنے محسنوں کو یاد کرنے کا دن بھی ہے۔
جب قومی پرچم سربلند ہو تو ہمیں ان لوگوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اس پرچم کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
آزادی مفت میں نہیں ملی تھی۔
اس کی ایک قیمت تھی۔
وہ قیمت خون، قربانی، قید، جلاوطنی اور جدوجہد کی صورت میں ادا کی گئی تھی۔
اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے مجاہدینِ آزادی کو فراموش نہ ہونے دیں۔
ان کے نام نئی نسل تک پہنچائیں۔
ان کی زندگی کے بارے میں پڑھیں۔
ان کی قربانیوں سے بچوں کو واقف کرائیں۔
کیونکہ تاریخ صرف ماضی کا قصہ نہیں ہوتی۔
تاریخ آنے والی نسلوں کی تربیت بھی کرتی ہے۔
اگر ہم اپنے محسنوں کو بھول گئے تو اپنی تاریخ کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیں گے۔
آئیے اس 15 اگست پر صرف آزادی کا جشن نہ منائیں۔
ان تمام مجاہدین کو بھی یاد کریں جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔
ان میں وہ مسلم مجاہدین بھی شامل ہیں جن کے نام آج ہماری اجتماعی یادداشت سے دھندلے ہوتے جا رہے ہیں۔
ان کا ذکر کسی پر احسان نہیں۔
یہ تاریخ کے ساتھ انصاف ہے۔
آزادی سب کی مشترکہ قربانی کا ثمر ہے۔ اس لیے آزادی کی تاریخ بھی سب کی مشترکہ امانت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے