कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آزادی کا جشن یا احتسابِ آزادی؟

A Celebration of Freedom or an Accountability of Freedom?

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)

علی الصبح ہمارے عزیز، جناب مولانا اقبال کندہ صاحب کے ایک مختصر مگر نہایت مؤثر اقتباس پر نظر پڑی۔ چند الفاظ پر مشتمل یہ اقتباس اپنے اندر ایک گہری فکر اور معنی کی ایک وسیع دنیا سموئے ہوئے تھا۔ خیال آیا کہ کیوں نہ اسی مختصر مگر بامعنی خیال کو بنیاد بنا کر بات کو کچھ آگے بڑھایا جائے؛ اس کے مضمرات پر غور کیا جائے اور چند الفاظ میں سمٹے ہوئے اس سوال کو ایک وسیع تر فکری اور قومی تناظر میں دیکھا جائے۔
آزادی کے جشن کا ایک پہلو یقیناً خوشی، مسرت اور تشکر ہے، مگر اس کا ایک دوسرا، زیادہ سنجیدہ اور ذمّہ دارانہ پہلو احتساب بھی ہے۔ قومیں صرف پرچم لہرا کر، ترانے گا کر اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کے قصّے دہرا کر زندہ نہیں رہتیں؛ قومیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنے ماضی کو شعور کے ساتھ پڑھتی ہیں، اپنے حال کو دیانت داری سے پرکھتی ہیں اور اپنے مستقبل کے لیے اجتماعی کردار اور سمت کا تعین کرتی ہیں۔ اس لیے اگر یومِ آزادی کے کسی اجتماع میں مجھے چند کلمات کہنے کا موقع ملے تو میں محض یہ نہیں کہوں گا کہ "ہمارے باپ دادا نے بڑی قربانیاں دی تھیں”۔ میں اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی ضرور اٹھاؤں گا کہ جن لوگوں کی قربانیوں کا ہم آج جشن مناتے ہیں، کیا ہم نے ان کے تصورِ خدمت، عدل، امانت، ذمّہ داری اور رعیت نوازی کو بھی زندہ رکھا ہے؟
اگر آزادی ہمیں صرف جشن منانے کا موقع دیتی ہے تو یہ اس کے مفہوم کا ایک محدود حصّہ ہے؛ لیکن اگر یہی آزادی ہمیں اپنے اجتماعی سفر کا جائزہ لینے، اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرنے اور اپنے مستقبل کی اصلاح کا عزم کرنے پر آمادہ کرتی ہے تو یہی اس کا حقیقی شعور ہے۔ یومِ آزادی کا خطاب بھی اسی وسیع قومی شعور کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ یہ ملک کسی ایک مذہبی گروہ کی جاگیر نہیں؛ اس کی گلیاں، اس کے دریا، اس کی مٹی، اس کی تاریخ اور اس کا مستقبل تمام شہریوں کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ اس لیے ہمارے غیر مسلم برادرانِ وطن سے بھی یہی بات کہی جانی چاہیے کہ ہم اپنے ماضی اور اپنے اسلاف کی تاریخ اس لیے نہیں پڑھتے کہ کسی دوسرے مذہب یا برادری کو کمتر ثابت کریں، بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ تاریخ کے تجربات سے اچھی حکمرانی، عدل، رواداری، انسانی وقار اور اجتماعی ذمّہ داری کے اصول تلاش کیے جا سکیں۔
برصغیر کی تاریخ میں مختلف ادوار اور مختلف حکمرانوں کے تجربات موجود ہیں۔ اشوک کے عہد میں بھی ایک کثیر مذہبی معاشرے کے نظم و نسق اور مختلف مذہبی طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کے اصولوں کا اظہار ملتا ہے۔ اسی طرح برصغیر کی اسلامی سیاسی روایت میں بھی عدل، رعایا کی حفاظت، اقلیتوں کے حقوق، امانتِ حکومت اور حکمران کی جواب دہی جیسے تصورات پر مسلسل گفتگو ملتی رہی ہے۔ تاریخ کا اصل سبق یہی ہے کہ اقتدار کی قدر محض اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ اقتدار کس مذہبی یا سیاسی شناخت رکھنے والے شخص کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ وہ اقتدار انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے اور عدل کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کرتا ہے۔
اس لیے آج کا بنیادی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "ہندو کی حکومت یا مسلمان کی حکومت؟” اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ: کیا حکومت عادل ہے؟ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟ کیا شہری کی جان، مال اور عزّت محفوظ ہے؟ کیا کمزور کو طاقتور کے مقابلے میں انصاف مل سکتا ہے؟ کیا ریاست مذہب، ذات، زبان، طبقے اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہر شہری کو پہلے انسان اور پھر برابر کا شہری سمجھتی ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب "ہاں” میں ہے تو یہ حقیقی ریاستی کامیابی ہے؛ اور اگر جواب "نہیں” میں ہے تو محض جشن، نعرے، پرچم اور تقریریں اس خلا کو پُر نہیں کرسکتیں۔ آزادی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ انسان کو خوف سے آزادی، ناانصافی سے نجات، قانون کے سامنے برابری اور باوقار زندگی کا حق کس حد تک فراہم کرتی ہے۔
یہیں سے یومِ آزادی کا جشن ایک نئے سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے: ہم نے آزادی حاصل تو کرلی، مگر آزادی کے مقصد کو کس حد تک حاصل کیا؟ اور اب ہمیں اسی اصل سوال کی طرف متوجہ ہونا ہوگا۔ یومِ آزادی پر جب ہم اپنے اسلاف اور ان کے ادوارِ حکومت کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں صرف فتوحات، قلعے، بادشاہ اور جنگیں یاد نہیں کرنی چاہئیں؛ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ حکومت کا مقصد کیا سمجھا جاتا تھا، اقتدار کی ذمّہ داری کیا تھی، رعایا کے حقوق کیا تھے، اور عدل و انصاف کو ریاستی زندگی میں کس مقام پر رکھا جاتا تھا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جشنِ آزادی، احتسابِ آزادی میں بدلتا ہے—اور تاریخ محض ماضی کا قصّہ نہیں رہتی بلکہ ہمارے حال کے لیے آئینہ اور مستقبل کے لیے رہنما بن جاتی ہے۔
برصغیر کی قدیم سیاسی روایت میں بادشاہ سے رعایا کی نگہداشت کی توقع موجود تھی۔ اشوک کے کتبوں میں ریاستی ذمّہ داری کا ایک قابلِ ذکر تصور ملتا ہے۔ اس کے فرامین میں انسانوں اور جانوروں کے لیے طبی علاج، دواؤں اور جڑی بوٹیوں کا انتظام، سڑکوں کے کنارے درخت اور کنویں، مسافروں کے لیے سہولتیں اور عوامی بہبود کا ذکر ملتا ہے۔ نئی دہلی کے نیشنل میوزیم میں محفوظ اشوک کے فرامین کے خلاصے میں بھی رعایا کی بہبود کو حکمران کی ذمّہ داری اور انسان و حیوان دونوں کے لیے طبی انتظامات کا ذکر موجود ہے۔ یہاں تک کہ قدیم ریاستی انتظام کے بعض شواہد میں قحط کے زمانے میں غلہ تقسیم کرنے اور متاثرین کی مدد کرنے کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک اہم اخلاقی سبق ہے: ریاست کا وجود صرف ٹیکس لینے اور حکم جاری کرنے کے لیے نہیں؛ ریاست کا جواز عوام کی جان، مال، عزّت، انصاف اور بنیادی ضروریات کے تحفّظ میں ہے۔
مسلم عہد کے حکمرانوں کو بھی جذبات کے بجائے تاریخ سے پڑھنا ہوگا، مسلم عہد کے بارے میں بھی یہی اصول اختیار ہونا چاہیے۔ ہمیں نہ تو ہر مسلمان بادشاہ کو مثالی اور فرشتہ بنا کر پیش کرنا چاہیے، نہ ہر حکمران کو ظالم ثابت کرنے کے لیے تاریخ کو مسخ کرنا چاہیے۔ مثلاً اکبر کے دور میں ٹوڈرمل کے نظامِ محصولات نے زمین کی پیمائش، پیداوار اور قیمتوں کی بنیاد پر محصول بندی کو منظم کیا۔ بعض اوقات ریاستی محصول اوسط پیداوار کے تقریباً ایک تہائی کے برابر مقرر کیا گیا، جب کہ فصل کی تباہی جیسے حالات میں رعایت کی گنجائش بھی رکھی گئی۔ یہ ایک پیچیدہ مالیاتی نظام تھا؛ اسے نہ آج کے انکم ٹیکس کے برابر سمجھا جا سکتا ہے، نہ موجودہ ریاستی بجٹ کے ساتھ براہِ راست عددی مقابلہ ممکن ہے۔ لیکن اصولی سوال وہی رہتا ہے، ریاست عوام سے جو کچھ لیتی ہے، کیا وہ عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے واپس بھی کرتی ہے؟ یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔
قدیم ریاست میں محصول کبھی زمین سے لیا جاتا تھا، کبھی تجارت سے، کبھی پیداوار سے اور کبھی دیگر ذرائع سے۔ آج کا جدید ریاستی نظام براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، کسٹمز، کارپوریٹ ٹیکس، انکم ٹیکس، جی ایس ٹی اور متعدد دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل کرتا ہے۔ لیکن ریاستی مالیات کا اصل اخلاقی اصول تبدیل نہیں ہونا چاہیے: ٹیکس ریاست کا مالِ غنیمت نہیں، عوام کی امانت ہے۔ آج حکومت کے پاس ٹیکس دہندگان سے حاصل ہونے والی رقم کے علاؤہ قرض، غیر ٹیکس آمدنی اور دیگر ذرائع بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً مرکزی حکومت کے 2024ء-25ء کے حسابات میں ٹیکس آمدنی، غیر ٹیکس آمدنی اور دیگر وصولیوں کے ساتھ ریاستوں کو ٹیکسوں میں ان کا حصّہ منتقل کیا گیا۔ دسمبر 2024ء تک مرکزی حکومت نے ₹9.01؍ لاکھ کروڑ ریاستی حکومتوں کو ٹیکسوں کے حصے کے طور پر منتقل کیے تھے۔
اس لیے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ: حکومت نے کتنا ٹیکس لیا؟ بلکہ سوال یہ بھی ہونا چاہیے: اس ٹیکس کے بدلے عوام کو کیا ملا؟ اس سے کتنے سرکاری ہسپتال بہتر ہوئے؟ کتنے سرکاری اسکول مضبوط ہوئے؟ کتنے دیہات کو صاف پانی ملا؟ کتنی سڑکیں تعمیر ہوئیں؟ کتنے غریب خاندان بیماری کی وجہ سے تباہ ہونے سے بچے؟ کتنے کسانوں کو بحران میں سہارا ملا؟ کتنے بے گھر افراد کو تحفّظ ملا؟ کتنی عدالتیں عام آدمی کے لیے قابلِ رسائی ہوئیں؟ کتنے نوجوانوں کو باعزّت روزگار ملا؟ اور سب سے بڑھ کر: کیا عام شہری خود کو ریاست کا برابر کا مالک سمجھتا ہے یا محض ایک عدد؟ یہی اصل احتساب ہے۔
اسلامی سیاسی فکر میں بیت المال کا تصور محض حکمران کی ذاتی تجوری کا تصور نہیں تھا۔ اس کا بنیادی اخلاقی مفہوم یہ تھا کہ عوامی وسائل کو امانت سمجھا جائے۔ حکمران کا محل عوامی فلاح سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ حاکم کا پروٹوکول شہری کی عزّت سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ سرکاری اخراجات حکمرانوں کی آسائش کے لیے ہوں اور عوام بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں تو ریاست کا اخلاقی توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہی اصول دنیا کی دوسری قدیم ریاستی روایتوں میں بھی مختلف صورتوں میں نظر آتا ہے۔ اشوک کے فرامین میں حکمران اپنی ذمّہ داری کو رعایا کی خوشی اور بہبود سے جوڑتا ہے؛ سڑکوں، کنوؤں، درختوں، طبی سہولتوں اور کمزور طبقات کے لیے انتظامات اسی تصور کی مثالیں ہیں۔ ہمیں اس سے یہ سبق لینا چاہیے کہ ریاست کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کے عوام کی حالت سے ناپی جاتی ہے۔
یہ بھی انصاف نہیں ہوگا کہ آج کے ہندوستان کی تمام کامیابیوں کو نظر انداز کرکے صرف ناکامیوں کی تصویر پیش کی جائے۔ آج ملک نے طب، خلائی تحقیق، انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، صنعت اور مواصلات میں بڑی ترقی کی ہے۔ صحت کے میدان میں بھی کئی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں؛ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بھارت نے 2024ء میں ٹریکوما کو عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر ختم کرنے کی منزل حاصل کی اور بعض متعدی بیماریوں کے خاتمے کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ یہ کامیابیاں قوم کی مشترکہ محنت ہیں؛ انہیں تسلیم کرنا چاہیے۔
لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ سوال ختم ہوگئے۔ اگر جدید ہسپتال موجود ہیں مگر غریب مریض علاج کے اخراجات سے خوف زدہ ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر عدالتیں موجود ہیں مگر انصاف تک رسائی وقت اور دولت سے مشروط محسوس ہوتی ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر قانون موجود ہے مگر کمزور شہری خود کو طاقتور کے مقابلے میں بے بس محسوس کرتا ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر انتخابات ہوتے ہیں مگر شہری کو پانچ سال بعد ووٹ کے علاؤہ مسلسل شرکت، احتساب اور باعزّت سماجی وجود کا احساس نہیں ہوتا، تو سوال باقی ہے۔ اور اگر ریاست کی کامیابی کا پیمانہ صرف جی ڈی پی، ایکسپریس وے، عمارتیں اور عالمی رینکنگ بن جائے، مگر ایک غریب انسان کی عزّتِ نفس، ایک کسان کی بے بسی، ایک مزدور کی اجرت اور ایک مریض کی مجبوری ہماری گفتگو سے غائب ہو جائے تو ہمیں اپنی ترقی کے تصور پر بھی نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
ہم آزادی کو اکثر 15؍ اگست 1947ء تک محدود کر دیتے ہیں۔ مگر آزادی کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے: بھوک سے آزادی۔ جہالت سے آزادی۔ بیماری کے خوف سے آزادی۔ ظلم سے آزادی۔ ناانصافی سے آزادی۔ رشوت سے آزادی۔ ذات پات کی تحقیر سے آزادی۔ مذہبی تعصب سے آزادی۔ خوف سے آزادی۔ اور اس احساس سے آزادی کہ قانون صرف طاقتور کے لیے ہے۔ جس ملک کا غریب شہری ہسپتال کے دروازے پر اپنی جیب دیکھ کر علاج کا فیصلہ کرے، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ جس مزدور کو اپنے حق کی اجرت کے لیے برسوں بھٹکنا پڑے، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ جس کسان کو اپنی پیداوار کے باوجود معاشی بے یقینی لاحق ہو، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ اور جس شہری کو یہ خوف ہو کہ اس کی شناخت، زبان، مذہب، ذات یا سیاسی رائے اس کے شہری حقوق پر اثر انداز ہوسکتی ہے، وہاں بھی آزادی کا ایک باب ابھی مکمل نہیں ہوا۔
ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں—یہ حقیقت ہے۔ کسی نے جیل کاٹی، کسی نے جان دی، کسی نے گھر چھوڑا، کسی نے ہجرت کی، کسی نے اپنا کاروبار گنوایا، کسی نے خاندان سے جدائی برداشت کی۔ لیکن ان قربانیوں کا سب سے بڑا احترام یہ نہیں کہ ہم ہر سال انہیں چند جذباتی جملوں میں دہرا دیں۔ ان قربانیوں کا حقیقی احترام یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ بنائیں جس میں ان قربانیوں کا مقصد زندہ رہے۔ اگر آزادی کا مقصد انصاف تھا تو انصاف پیدا کریں۔ اگر آزادی کا مقصد انسانی وقار تھا تو انسان کی عزّت کریں۔ اگر آزادی کا مقصد استحصال سے نجات تھا تو معاشی استحصال کم کریں۔ اگر آزادی کا مقصد خود اختیاری تھا تو شہری کو بااختیار بنائیں۔ اگر آزادی کا مقصد بہتر مستقبل تھا تو بچّوں کو بہتر تعلیم، مریض کو بہتر علاج، کسان کو تحفّظ، مزدور کو عزّت اور نوجوان کو باوقار روزگار دیں۔ ورنہ ہم اپنے اسلاف کی قبروں پر پھول تو چڑھاتے رہیں گے، مگر ان کے خوابوں کی قبر پر بھی روز نئی مٹی ڈالتے رہیں گے۔
آج ہمیں اپنے آپ سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے "ہم نے آزادی کیسے حاصل کی؟”۔ بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے: "ہم نے آزادی کو کیا بنا دیا؟”۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے: "ریاست شہری کے لیے ہے یا شہری ریاست کے لیے؟”۔ "خزانہ حکمرانوں کی آسائش ہے یا عوام کی امانت؟”۔ "ہسپتال عمارت ہے یا شفا کا مرکز؟”۔ "عدالت عمارت ہے یا انصاف کی امید؟”۔ "پارلیمان صرف قانون بنانے کی جگہ ہے یا عوام کی آواز کا امین؟”۔ "ٹیکس محض وصولی ہے یا ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا معاہدہ؟”
اور سب سے بڑھ کر کیا ہمارا سب سے کمزور شہری بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ ملک میرا ہے، یہ قانون میرا محافظ ہے، یہ ریاست میری خادمہ ہے، اور میری عزّت اس ملک میں اتنی ہی محترم ہے جتنی کسی طاقتور شخص کی؟”۔ اگر اس سوال کا جواب ہم پوری دیانت سے "ہاں” میں دے سکیں تو سمجھئے آزادی کا جشن حقیقی معنوں میں کامیاب ہے۔ ورنہ ہمیں جشن کے ساتھ محاسبہ بھی کرنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف ماضی پر فخر کرکے عظیم نہیں بنتیں؛ وہ ماضی کی اچھی روایات کو حال کی ضرورتوں سے جوڑ کر مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔ اور شاید یومِ آزادی کا سب سے خوب صورت پیغام یہی ہے آزادی ہمیں صرف یہ حق نہیں دیتی کہ ہم اپنے پرچم پر فخر کریں؛ آزادی ہمیں یہ ذمّہ داری بھی دیتی ہے کہ اس پرچم کے سائے میں رہنے والے ہر انسان کی عزّت، جان، مال، صحت اور انصاف کی حفاظت کریں۔
یہی اسلاف کی حقیقی میراث ہے۔
یہی ریاست کی اصل ذمّہ داری ہے۔
اور یہی آزادی کا اصل امتحان بھی۔
🗓 (15.08.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے