कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سوشل میڈیا کے مضر اثرات کا ازالہ کیسے؟

تحریر: ڈاکٹر محمد سعید اللہ ندوی

اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ مختلف معلومات کیلئے ایک ایسا اہم ذریعہ بن چکا ہے، جس کے ذریعہ انسان مختصر وقت کے اندر معمولی لاگت سے بے شمار دینی علمی ، اقتصادی اور سیاسی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ سے بھی واقفیت حاصل کرسکتا ہے۔ اسی طرح اس کے توسط سے دینی اور عصری اداروں میں دفتری کاموں کے اندر سہولت اور آپس میں معلومات کے تبادلے سے متعلق بھی کافی آسانیاں پیدا ہو چکی ہیں ، لہٰذا اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مختلف میدانوں کے اندر انسان کیلئے بے شمار سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں بے شمار لوگ کسی نہ کسی حد تک اس سے منسلک اور اس کے ثناخواں نظر آتے ہیں۔
لیکن انٹرنیٹ ٹیکنالوجی عصر حاضر کی نہایت مفید ایجاد ہونے کے ساتھ نہایت سنگین مضر اور خطر ناک بھی ہے جس کی ضرررسانی سے نو جوان طبقہ بہت متاثر ہورہا ہے۔ خاص طور سے نو جوان عمر کے لڑکے اور لڑکیاں اس کے پر آشوب دلدل میں پھنستے جار ہے ہیں۔ اگر چہ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی ترقی نے پوری دنیا کو ایک گلوبل وارمنگ بنادیا ہے۔ ہر شخص اس کے ذریعے بہت کم وقت کم لاگت سے بہت سی معلومات سے واقف ہوسکتا ہے کیونکہ انٹرنیٹ ایک وسیع دنیا ہے جس کی سیر وسیاحت گھر بیٹھے کم وقت میں ہر شخص کر سکتا ہے۔ یہ ایجاد جہاں کافی کار آمد مفید اور آسانی پیدا کرنے والی ہے ،اس کے ذریعے انسان چانداوردیگر سیاروں پرکمندیں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہیں دوسری جانب انٹرنیٹ پر انسانیت، کردار، مروت وغیرت اور عزت و ناموس پر ڈاکہ ڈالنے کے مواد اپلوڈ کئے جار ہے ہیں جس کی زہر افشانی سے نوجوان نسل مسموم ہو کر اپنی عقل و خرد کے ساتھ صحت و تندرستی سے روز افزوں بیکار کررہی ہے،چونکہ حکومت کے اشاروں پر گلی کوچے، محلے در محلے انٹرنیٹ ، کیفے کھل رہے ہیں۔ جہاں نوجوان نسل محفوظ طریقے سے ہر وہ چیز دیکھتی ہے جس کا تصور انسان نہیں کرسکتا ہے ملک میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں انٹرنیٹ، کیفے کام کر رہے ہیں جہاں سے نوجوان نسلیں فائدے کے بجائے نقصان اٹھارہی ہیں۔
انٹرنیٹ کے ذریعے دینی و دنیوی موضوعات سے متعلق بڑے پیمانے پر غلط معلومات کی اشاعت کا کام بھی کیا جارہا ہے۔ باطل تحریکات مسلمانوں کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے ، ان کے عقائد کو بگاڑنے اور اپنے باطل عقائد ونظریات کو پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں۔اسی طرح خود مسلمانوں میں سے بعض کم علم یا باطل افکار کے حامل لوگ تفسیر وحدیث وفقہ اور دیگر دینی علوم سے متعلق ایسی غلط معلومات انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلاتے ہیں جنھیں درست سمجھ کر ایک عام مسلمان دینی موضوعات سے متعلق غلطیوں کا شکارہوجا تا ہے،لہٰذا! جب تک کسی مستند ذریعے سے تصدیق نہ کی جائے اس وقت تک صرف انٹرنیٹ کی معلومات پر اعتماد نہ کیا جائے۔ انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اولا دو والدین ، میاں بیوی اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے درمیان دوریاں پیدا ہورہی ہیں جس سے ان کے آپس کے حقوق متاثر ہوکر نا چاقیاں جنم لے رہی ہیں ، اور میاں بیوی کے درمیان تلخیاں بڑھتی جارہی ہیں ! یہاں تک کہ بعض دفعہ طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ خاندانی جھگڑے، قریبی رشتہ داروں اور میاں بیوی کے درمیان تلخیاں اور دوریاں پیدا ہونا بڑی ناکامی اور محرومی کی بات ہے۔
بچے انٹرنیٹ کی کثرت استعمال کی وجہ سے تعلیمی میدان میں کافی پیچھے رہ گئے، پڑھنے اور مطالعہ کرنے سے ان کا تعلق کمزور پڑ گیا ، اس لیے کہ وہ اپنا اچھا خاصا وقت انٹرنیٹ سے منسلک لیپ ٹاپ اور موبائل فون کی اسکرین کے سامنے بیٹھ کر خرچ کرتے ہیں اور جب تھک جاتے ہیں تو باقی وقت کھیل کود، کھانے پینے اور سونے میں خرچ کرتے ہیں ، پڑھنے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں بچتا۔
انٹرنیٹ دراصل مختلف چھوٹے چھوٹے کمپیوٹر نیٹ ورک اور مواصلاتی نظام کا مجموعہ ہے۔ جس کے ذریعے لمحوں میں دنیا بھر کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے، انٹرنیٹ بے حیائی وعریانیت پھیلانے فسق و فجور کے مناظر پیش کرنے کا سب سے بنیادی اور سستا ذریعہ ہے، اس کے ذریعہ اخلاقی تباہی ، نوجوان مرد وخواتین کی بے راہ روی و گمراہی ،شروفساد کی وادیوں میں ان کی غوطہ زنی اور اسلامی اقدار و پا کیزہ روایات سے ان کی لاتعلقی عام ہوتی جارہی ہے! کتنے والدین ایسے ہیں جو انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے بعد اپنی اولاد کی گمراہی کا رونا رور ہے ہیں ؟ ! اور کتنی نو جوان لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں اس انٹرنیٹ کے توسط سے سبز باغ دکھا یا گیا اور وہ دھوکہ کھا کر اپنے گھروں سے بھاگ گئیں ؟! کچھ عرصے تک دھوکہ بازوں کی ناپاک خواہشات کا نشانہ بن کر پھر بے یارومددگار چھوڑی گئیں جس سے دنیاوآخرت دونوں کا نقصان انہیں اٹھانا پڑا۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے نونہالوں کو تعلیم وتربیت سے آراستہ کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کی فکر کی جائے کیونکہ وہ قوم کے معمار ، زندہ سماج کے ستون اور خوشحالی و ترقی کے ضامن ہوتے ہیں اس لئے منفی سوچ کے بجائے ان کے اندر احساس ، ذمہ داری اور مستقبل کی فکرپیدا کرنا ان کی ذہنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی طور پر ان کو مصروف کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ایک مخلص ، مر بی ، سماج دوست بہی خواہوں کا طریقہ کار ہونا چاہیے۔ کیونکہ نوجوان نسل سے ہمارا مستقبل تابناک ہوگا اور ہماری شناخت ایک ترقی یافتہ قوم کی طرح ہوگی جہاں ترقی ،خوشحالی اور سر بلندی و سرخروئی قدم چومتی ہوگی۔
والدین اور سر پرستوں کے ذمے ضروری ہے کہ اپنی اولا داور بچوں کو انٹرنیٹ کے نقصانات اور منفی گوشوں سے اچھی طرح آگاہ کریں اور انہیں ان نقصانات سے بچنے کی تلقین کر یں ، اور خلوتوں میں ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کریں ، ان کو اس طرح آزاد ہرگز نہ چھوڑیں کہ وہ جو چاہیں کریں ، تا کہ وہ شروفساد کی خطرناک وادیوں میں ہلاکت سے محفوظ رہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے