कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ادب دشمن کنوارا

تحریر:شعیب الحبیبی
9872754286

شہر کی ایک قدیم چائے خانہ نما علمی بیٹھک تھی، جہاں روز شام کو چند “اہلِ دانش” جمع ہو کر امت کے زوال سے لے کر چائے میں کم چینی تک ہر مسئلے پر نہایت سنجیدگی سے گفتگو فرمایا کرتے تھے۔
اُنہی میں ایک صاحب بھی تھے۔ عمر کا ایک خاص حصہ “مستقبل کی عظیم منصوبہ بندیوں” میں گزار چکے تھے، اور نکاح کے باب تک پہنچتے پہنچتے ہمیشہ کسی نہ کسی “علمی مصروفیت” کا شکار ہو جاتے تھے۔
لباس نہایت سنجیدہ، گفتگو میں خشکی، اور چہرے پر ایسا تاثر جیسے ابھی ابھی قوم کے تمام مسائل اکیلے حل کر کے آئے ہوں۔
اُن کا ایک مستقل وظیفہ تھا: “یہ اردو ادب وغیرہ سب فضولیات ہیں! قوم کو شاعری اور افسانوں نے تباہ کیا ہے!”
حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ خود اُن کی گفتگو میں اتنی تشبیہیں، محاورے اور ڈرامائی انداز ہوتے کہ اگر سامنے مرزا غالب بیٹھے ہوتے تو وہ بھی داڑھی سہلا کر کہتے: “قبلہ! ہمیں تو مفت میں بدنام کیا گیا تھا، اصل اداکار تو آپ نکلے!”
ایک دن حسبِ معمول محفل جمی ہوئی تھی۔
صاحب نے چائے کا کپ رکھا، چشمہ درست کیا، اور قوم کی فکری اصلاح شروع فرما دی:
“میں صاف کہتا ہوں، ادب انسان کو خیالی دنیا میں لے جاتا ہے۔
یہ شعر و شاعری، ناول، افسانے… سب وقت کا ضیاع ہیں!”
محفل میں بیٹھے ایک بزرگ خاموشی سے اُنہیں دیکھ رہے تھے۔
بولے: “اچھا حضرت! پھر آپ گفتگو کیسے کرتے ہیں؟”
فرمایا: “یعنی؟”
بزرگ نے کہا: “یعنی آپ جو ہر دوسرے جملے میں فرماتے ہیں: ‘معاشرہ اندھیروں میں ڈوب چکا ہے’، ‘احساس مر چکا ہے’، ‘قوم فکری بانجھ پن کا شکار ہے’… یہ سب کیا ہے؟ آلو پیاز کے ریٹ تو نہیں بیان کر رہے!”
محفل میں دبی دبی ہنسی پھیل گئی۔
صاحب نے کھنکار کر فرمایا: “یہ تو اندازِ بیان ہے!”
بزرگ فوراً بولے: “حضور! اسی مہذب اندازِ بیان کا نام ادب ہے، جسے آپ قبر میں اتارنے پر تُلے ہوئے ہیں!”
ایک نوجوان نے شرارت سے کہا: “حضرت ادب کے خلاف اتنے سخت کیوں ہیں؟”
صاحب نے بڑے فلسفیانہ انداز میں جواب دیا: “کیونکہ ادب انسان کو جذباتی بنا دیتا ہے، جبکہ میں حقیقت پسند آدمی ہوں!”
یہ سن کر ایک دبلا پتلا لڑکا بولا: “جی ہاں، حقیقت پسندی کا عالم یہ ہے کہ پچھلے دس سال سے ہر رشتے میں یہی فرما رہے ہیں: ‘میں ابھی علمی خدمات انجام دینا چاہتا ہوں!’”
اب تو محفل میں قہقہہ پھوٹ پڑا۔
صاحب ذرا سنبھلے اور بولے: “میں فضول جذبات میں نہیں بہتا!”
بزرگ نے ہنستے ہوئے کہا: “اسی لیے آج تک بہاؤ میں کوئی رشتہ بھی نہیں آیا!”
محفل پھر ہنس پڑی۔
ایک اور صاحب بولے: “حضرت! آپ ادب کو فضول کہتے ہیں، مگر سنا ہے پچھلے ہفتے کسی کو یہ شعر بھی سنا رہے تھے:
‘دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت…’”
صاحب فوراً گھبرا گئے: “ارے وہ تو بس… مثال کے طور پر!”
بزرگ نے مسکرا کر کہا: “جی ہاں! ادب ہمیشہ انہی لوگوں کے منہ سے اچانک نکلتا ہے جو اسے فضول کہتے ہیں۔
بالکل ایسے ہی جیسے بعض لوگ شادی کو غیر ضروری کہتے کہتے اچانک عمر کے ایک موڑ پر استخارہ کروانے لگتے ہیں!”
اب تو چائے پینے والے بھی ہنس ہنس کر کپ میز پر رکھنے لگے۔
صاحب نے موضوع بدلنے کی کوشش کی: “میں صرف یہ کہتا ہوں کہ قوم کو عملی ہونا چاہیے!”
بزرگ نے فوراً فرمایا: “حضور! آپ کی عملی زندگی کا حال یہ ہے کہ کپڑے دھوبی یاد دلاتا ہے، کھانا ہوٹل والا پوچھتا ہے، اور عید پر امی اب تک جیب میں پیسے ڈال دیتی ہیں…
اور آپ قوم کو عملیت کا درس دے رہے ہیں!”
محفل ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئی۔
آخر میں بزرگ نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور فرمایا:
“بیٹا! ادب کو فضول وہی سمجھتا ہے جس کے دل کے صحن میں احساس کا پودا سوکھ چکا ہو۔
ورنہ انسان جب تنہا ہوتا ہے تو یا شاعری سمجھنے لگتا ہے… یا پھر شادی کی ضرورت!”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے