कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لہجے تہذیب و ثقافت کے امین ہوتے ہیں

تحریر:( ف۔خ۔مسرت )، ناندیڑ 

رنگ الفاظ کا الفاظ سے گہرا چاہوں
بات کرنے کے لیے اپنا ہی لہجہ چاہوں
احباب محفل ۔۔۔۔۔۔۔۔!! آپ جانتے ہیں کہ لفظوں کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں ہے۔الفاظ ہمارے تخیل کو اور ہمارے افکار کو دوسروں تک پہنچانےکاوسیلہ ہیں۔ہماری سوچ کو بیان کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔لفظ تعلقات کا راستہ ہیں اور انہی کے ذریعے ہم اپنے احساسات ، جذبات علم اور تجربات دوسروں تک پہنچاتے ہیں انسان کی شخصیت کے بہترین عکاس ہوتے ہیں۔لفظ احساسات کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں۔لفظ بے پناہ طاقت رکھتے ہیں ۔لفظ زنجیر بن کر پیروں کی بیڑیاں بھی بن جاتے ہیں۔لفظوں سے ہی تحریکیں چلتی ہیں۔لفظ ہی انقلاب لاتے ہیں ۔ لفظ ہی ہیں جو روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں اور خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔
زندگی میں الفاظ کی طاقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا بعض اوقات بے سوچے سمجھے کہے گئے الفاظ کسی کے دل میں گہرے زخم چھوڑ سکتے ہیں اور یہ زخم کبھی ختم نہیں ہوتے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی قدر کرنا ضروری ہے کیونکہ ایک چھوٹا سا مذاق یا سخت بات کسی کی زندگی کو بدل سکتی ہے_,
اسے میں نے ہی لکھا تھا…!!
کہ ( لہجے ) برف ہوجائیں..!!
تو پھر پگھلا نہیں کرتے….!!
پرندے ڈرکے اڑجائیں……۔.!!
تو پھر لوٹا نہیں کرتے……۔!!
یقیں اک بار اٹھ جائے.۔….!!
کبھی واپس نہیں آتا……..!!
ہواؤں کا کوئ طوفاں….۔…!!
بارش نہیں لاتا……….۔۔…..!!
اسے میں نے ہی لکھا تھا۔۔..!!
جو شیشہ ٹوٹ جائے تو…..!!
کبھی پھر جڑ نہیں پاتا…….!!
جو رستے سے بھٹک جائے….!!
وہ واپس مڑ نہیں پاتا………!!
اسے کہنا وہ بے معنی ادھورے خط
اسے میں نے ہی لکھے تھے….!!
اسے کہنا کہ دیوانے مکمل خط نہیں لکھتے
اب آپ میری تحریر کا اس نظم سے ربط تلاش نہ کریں۔یہ تو آپ کی بوریت دور کرنے کے لئے خشک تحریر کے درمیان میں شامل کردی گئ ہے۔ اچھی نظم ہے پڑھ کر آپ محظوظ ضرور ہوں گے اور شاید ہوسکتا ہے اس کا تعلق کہیں نہ کہیں عنوان سے نکل آئے
معززقارئین………!! جہاں لفظ اہمیت رکھتے ہیں وہیں لہجے بھی کم اہم نہیں ہوتے۔اگر دیکھا جائے تو بہترین الفاظ کا چناؤ اور دل نشیں لہجہ مل کر انسان کی شخصیت کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں ۔انسانی لہجے تہذیب و ثقافت کے امین ہوتے ہیں اور رویوں کے مظاہر ہوتے ہیں بولنے والوں کے لہجوں میں ہی بات کا اصل مقصد پوشیدہ ہوتا ہےانسان اپنے لہجوں سے ہی اپنی بات کو سمجھا اور آگے والوں تک پہنچا سکتا ہے اورمنوا سکتا ہےاگر باتوں میں خوبصورت لہجوں کا اثر شامل نہ ہو تو ہماری باتیں بے لطف سی محسوس ہوتی ہیں شعراءکرام ، مقرر یا کوئی اہل بیان اپنے قوت گویائی اور شعر و ادب میں اپنے خوبصورت لہجوں کو شامل کرکے اپنی پہچان بنالیتے ہیں ہر شخص کا لہجہ ہی دراصل اسکےمعیار و اخلاق و کردار اور وقار کا تعین کرتا ہے ۔تعلیمی درس گاہ ہو ، ایوان سیاست , مجالس ہوں محافل ہوں تہذیب و ادب کا میدان ہو یا کسی بھی شعبۂ زندگی سے تعلق ہو یا واسطہ ہو اگر کہنے والے کی بات یا الفاظ کو ان کے لہجوں سے الگ کردیا جائے تولفظ بے معنی ہوجاتے ہیں اپنا اثر کھودیتے ہیں اور خالی خولی بےاثر الفاظ رہ جاتے ہیں ۔دراصل باتیں خوبصورت لہجوں کا ہی سہارا پاکر دلوں تک پہنچتی ہیں اور دلوں میں اتر جاتی ہیں۔آپ کی بات درست ہو دلیل مضبوط ہو لیکن یہ بھی یاد رکھیں بات کرنے کا لہجہ بات کی حقیقت بنتا ہے بات تو صحیح ہو لیکن لہجہ کرخت ہو چہرے پر تناؤ ہو یا آ واز اونچی ہوتو دوسرے آپ کی بات کے مثبت اثر سے زیادہ لہجے کا منفی اثر لیں گےاور وقت کے ساتھ ساتھ بات بھلا دی جائے گی اور آپ کا لہجہ یاد رہ جائے گااس لئے درست بات کے ساتھ ساتھ لہجہ بھی درست کرنا سیکھیں ۔لہجے میں شائستگی اور تہذیب ہو مخاطب کی عمر اور رشتے کے لحاظ سے ادب کا پہلو بھی مد نظر رکھیں اور پھر آپ کی بات کی مضبوطی لہجے کی درستگی کے ساتھ دو آتشہ ہوجائے گی اور اس کے اثرات بھی دیرپا ہوں گےانسانوں میں کچھ ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جن کی شخصیت شدید مخالفت کرنے والے دشمنوں کو بھی اپنا گَروِیدہ بنا دیتی ہے ۔جن کی ہر بات ان کے لہجے سے مل کر سماعتوں کے ذریعے دلوں میں اتر جاتی ہے۔ان کی بات کو سننے والا ان کی شخصیت کا اسیر ہو جاتا ہے اور ان کو مانے بغیر رہ نہیں سکتا ۔بعض اوقات لوگ اگر چیکہ کسی کی بات کو دل سے مانتے ہیں دل سے احترام کرتے ہیں لیکن اعتراف نہیں کر پاتے لیکن دل ہی دل میں انکا خوبصورت انداز بیاں اور جادوگر لہجہ دل میں گھر کرجاتا ہے لفظوں کا وجود لہجے سے ہے۔ہم عام سے الفاظ کو بھی بہترین اندازِ بیان میں ادا کریں گے تو وہ سننے والوں پر اپنی چھاپ چھوڑ جائیں گے۔ اگر لفظ زندگی ہیں تو لہجہ روح ہے اور روح کے بغیر زندگی کا وجود ممکن نہیں۔الفاظ اور لہجے کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔انسان جب اچھے الفاظ کا انتخاب کرتا ہے اور انہیں دل کو موہ لینے والے لہجے میں ادا کرتا ہے تو سامع پر ان کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔عمدہ لب و لہجہ سخت سے سخت الفاظ کی کڑواہٹ کو کم کر دیتا ہےاور نرم ترین الفاظ بھی سخت لہجے کی بدولت اپنی چاشنی کھو دیتے ہیں۔ حالی نے کیا خوب کہا ہے
جہاں رام ہوتا ہے میٹھی زباں سے
نہیں لگتی اس میں دولت زیادہ
یعنی میٹھی زبان سے دلوں کی سلطنت فتح ہوتی ہے اور یہ بات سو فیصد درست ہے۔میٹھے لہجے اور مناسب الفاظ کا درست استعمال دیرپا اثر رکھتا ہے.روزمرہ کی زندگی میں زیادہ تر جھگڑےآواز کی غلط لہجے کی وجہ سے ہوتے ہیں کوشش کیا کریں کہ خوبصورتی سے بولیں ورنہ خاموش رہیں۔۔اپنے لہجوں میں نرمی لانے کی کوشش کریں۔نرمی سے کی گئ بات نہ صرف اثررکھتی ہے لوگوں کے دل میں آپ کا مقام بھی بڑھاتی ہے۔جبکہ سخت لہجے میں کی گئ بات دوسرے کی انا کو بھی جگا سکتی ہے۔اور معاملہ الٹ ہوجاتا ہے۔اس لئےاگر تنقید بھی کرنی ہو تو نرم لہجے میں کریں کیونکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ انا کو جگا دیتا ہے
کوشش کریں جب بولے خوبصورتی سے اچھے نرم لہجے سے بولیں اللّٰه کی رضا کے لیے اپنے لہجوں میں نرمی لائیں کہ نرمی کرنے والے کو اللّٰه پسند فرماتا ہےکانٹوں جیسے لہجے انسان کو اندر سے زخمی کرتے ہیں، وہ زخم جن کی تکلیف آسانی سے نہیــــں جاتی ۔ اور چھری کے وار سے زیادہ گہرے ہوتے ہیـــں کچھ لوگ اتنا خوبصورت بولتے ہیں کہ انسان کی سماعتیں ان کو سننے سے کبھی بےزار نہیں ہوتیں خوش گفتار ہونا بھی ایک نعمت ہے جب کبھی کسی ایسے انسان کو سنتی ہوں تو بہت شدت سے خواہش کرتی ہوں رب العالمین اس نعمت سے مجھے بھی نواز دے کہ لفظ ادا ہوں اور دل میں اتر جائیں لہجے میں وہ تاثیر‏ دے کہ الفاظ سماعتوں سے گزر کر روح میں اتر جائیں نرم لہجہ ، میٹھی زبان اور چہرے پہ مسکراہٹ ۔۔ خلقِ خدا کے لیے ایسے تحائف ھیں جن کا کوئی مول نہیں مگر بانٹنے والے کو انمول بنا دیتے ہیں.یہ کتنا احمقانہ سا جملہ ہے نا کہ میری زبان ذرا سی کڑوی ہے مگر میرا دل صاف ہے، میں سچی بات منہ پر کرنے والا انسان ہوں اس لیے لوگوں کو میری باتیں اچھی نہیں لگتیں یا یہ کہ فلاں دل کا برا نہیں ہے، بس اس کی باتیں سخت ہوتی ہیں اور لہجہ کڑوا،تلخ ہوتا ہے بھلا جس کا دل صاف ہو، جس کے دل میں نفرت، کینہ اور بغض جیسی چیزیں موجود نہ ہوں اس کی زبان کیسے کڑوی ہوسکتی ہے؟ اس کے اخلاق کیونکر برے ہوسکتے ہیں؟ اس کا لہجہ کیسے تلخ ہوسکتا ہے؟اور جس کی زبان کڑوی ہو اس کا دل کیسے صاف ہوسکتا ہے؟ اور ایسے صاف دل کا اس کے اردگرد کے انسانوں کو کیا فائدہ ہے جنہیں اس کی زبان تکلیف دے رہی ہو۔ہم ان کے امتی ہیں جن سے زیادہ سچ بولنے والے صادق ، صاف دل ، نہ کوئی تھے،نہ ہیں ، نہ رہیں گے آپﷺ سے زیادہ خوش گفتار ، نرم خو ، اس کائنات میں کوئی نہیں ۔۔۔۔۔۔سبحان اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! چلتے چلتے ایک مثال دیکھ لیجئے
مسجد میں جماعت کے دوران ایک شَخص کا موبائل بجنے لگا
نماز ختم ہوئی تو امام صاحب کے ساتھ ساتھ اور نمازیوں نے بھی اُسے خُوب ذلیل کیا وہ شرم سے پانی پانی ہوتا ہوا باہر نکل آیا اور خُود سے ہم کلام ہوا کہ میں آئندہ مسجد نہیں آؤں گا کچھ دن بعد اُس کے دوست اُسے کلب لے گئے وہاں اس کے ہاتھ سے گلاس گر کر ٹوٹ گیا، یہ منیجر کو اَپنی طرف آتے دیکھ کر ڈر گیا، منیجر نے آتے ہی اُس سے پوچھا سر آپ کو لگی تو نہیں؟ یہ حیران ہوا اُسے دیکھتا رہا اور مشکل سے نہیں کا لفظ منہ سے نکلا؛ منیجر نے ویٹر کو بولا، سر کو دوسرا گلاس دے دو پھر وه خُود سے ہم کلام ہوا ” اب میں روز کلب آیا کروں گا، کلب والے تو میری عزت کرتے ہیں” کیا ہم اپنے تلخ وترش رویے نہیں بدل سکتے ؟ کیا ہم دوسروں کو اچھائی کی طرف راغب کرنے والے لہجے نہیں اپنا سکتے؟ کیا ہم اپنے سے کمتر کو اچھے الفاظ سے نہیں مخاطب کر سکتے ؟ کیا ہم اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے نیکی و حسنات کی نیت سے اخلاق حسنہ کا مظاہرہ نہیں کر سکتے؟؟
کیا ہم نرمی سے نہیں بول سکتے؟؟؟
کیوں نہیں ؟؟؟ ہم دل سے چاہیں ، کوشش کریں تو یقیناً اللہ کی ہدایت ومدد شامل حال رہیگی ان شاءاللہ
اللہ پاک ہم سب سے اچھے کام لے۔خوبصورت الفاظ کے انتخاب کے ساتھ خوبصورت لہجے ہماری فطرت کا خاصہ بن جائیں آمین یارب العالمین
اس سے پہلے کہ تحریر کی طوالت بیزاری پیدا کردے یہیں رکتے ہیں اور ۔۔۔ قارئین خوامخواہ اتنی خشک ، بور ، اور طویل تحریر پر نہ جانے کیا کیا فرمارہے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اچھے الفاظ اور بہترین لہجے میں یہ بھی گوارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ حافظ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے