कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآن کریم پر گہری نظر رکھنے والا ایک بیباک صحافی ، عالم نقوی

تحریر: ڈاکٹر خلیل تماندار
فزیشن : حرم مکی شریف ، مکہ مکرمہ
khaliltumandar123@gmail .com

ابتدائی کلمات : آسمان صحافت کا ایک تابناک ستارہ عالم نقوی یوم الجمعہ کی صبح ، چار اکتوبر 2024 ء بمطابق یکم ربیع الثانی 1446ہجری کیلنڈرکل نفس ذائقۃ الموت کے مصداق غروب ہوگیا ، مرحوم سے راقم السطور کا مختلف اخبارات میں مضامین کی اشاعت کے تئیں و پرسنل سطح پر خط و کتابت کا سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری تھا لیکن حسن اتفاق کہ براہ راست ملاقات کی سعادت 2009 ء میں حج کے موقع پر حرم مکی شریف میں ناچیز کے مطب (حرم کلینک ) پر ہوئی تھی جس کی تفصیلات عالم نقوی صاحب کے اپنے الفاظ میں آگے آرہی ہے ، بعد ازیں آپ کے بلند اخلاق و خلوص نے ایسا مسحور کیا کہ حرم مکی کے سترہ برس کے ایک طویل قیام اور کینیڈا میں ماضی قریب کے دس برسوں سے مستقل سکونت اختیار کرنے کے باوجود بھی الحمدللہ آپ سے باقاعدہ روابط رہیں ۔
رہے نام اللہ کا : تقریباً دو تین برسوں سے موصوف کی علالت کی خبر مستقل پہنچ رہی تھی ، بیماری کے ابتدائی ایام میں آپ سے فون پر بسا اوقات گفت و شنید بھی ہوجایا کرتی تھی لیکن پچھلے ایک برس سے زائد عرصے سے موصوف ٹیلیفون پر بھی گفتگو کرنے سے قاصر تھے البتہ آپ کے بچوں سے وقتاً فوقتاًموصوف کی خیریت کا علم ہو جایا کرتا تھا لیکن بہت دنوں سے ایک دھڑکا سا لگا ہوا تھا آخر وہ وقت موعود آ ہی پہنچا جب بیک وقت ممبئی ، دہلی ، لکھنؤ و علی گڑھ سے سوشل میڈیا پر اس نامور صحافی عالم نقوی کے چاہنے والوں کی گویا ایک گونج سنائی دی کہ بروز جمعہ 04 اکتوبر 2024ء کی صبح قرآن کریم پر گہری نظر رکھنے والے ، ہمدرد و غم گسار ملت اور ایک بیباک صحافی عالم نقوی دار فانی سے داربقا ء کی طرف حکم الٰہی سے کوچ کر گئے ۔
’ زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے اور تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی بیشک رہے نام اللہ کا‘‘ تعلیم اور پس منظر : مرحوم کے خاندانی ریکارڈ کے مطابق26 فروری 1949ء آپ کی تاریخ پیدائش ہے ، گوکہ آپ کا آبائی وطن نصیر آباد نزد رائے بریلی ہے لیکن لکھنؤ کو آپ کی جائے پیدائش تسلیم کیا جاتا ہے ، قصہ مختصر لکھنؤ ہی سے آپ نے بنیادی تعلیم کی تکمیل کی ، اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ نے بر اعظم ایشیا کی معروف دانش گاہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا رخ کیا ، یہاں موصوف نے انتہائی دلجمعی اور محنت شاقہ سے نفسیات ( سائیکالوجی ) سبجیکٹ میں نہ صرف نمایاں کامیابی حاصل کی بلکہ یونیورسٹی کے طلائی تمغہ ( گولڈ مڈل ) کے بھی مستحق قرار دئیے گئے ، اپنی ایک تصنیف’’ اذان‘‘ کے انتساب میں مرحوم عالم نقوی رقم طراز ہیں کہ آپ کے والد مرحوم سید محمد کاظم نقوی انھیں بطور ایک خطیب دیکھنے کے خواہشمند تھے ، والدہ مرحومہ عالیہ خاتون کا ذکر خیر فرماتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ والدہ ماجدہ نے بارہ سال کی عمر کے ایک یتیم بچے کو کبھی بھی باپ کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا بلکہ اسے ناگفتہ بہ حالات سے مردانہ وار لڑنے کے لائق بھی بنا دیا اور اسی طرح اپنی پہلی زوجہ محترمہ مرحومہ گل زرینہ کو بھی یاد کرتے ہوئے کہا کہ دور رہتے ہوئے بھی جسے خط لکھ لکھ کر ہم لکھنا سیکھ گئے ، سچ ہے قریبی روابط سے عقیدت ، محبت اور احترام جیسے جذبات و احساسات کو آپ نے کس قدر دلنشیں انداز میں اپنی تصنیف کے انتساب میں سمو کر تاریخ کا ایک اہم باب بنا دیا !
ماہر نفسیات اور نباض قوم و ملت :
عالم نقوی کی خواہش تھی کہ وہ نفسیات میں مزید اعلی تعلیم حاصل کر کے اپنی خدمات انجام دیں لیکن قادر مطلق اللہ سبحانہ قدوس نے آپ کا انتخاب ، قوم و ملت کے تئیں فن صحافت کے لئے کر رکھا تھا یہی وجہ تھی کہ مرحوم ایک ماہر نفسیات کے ساتھ ساتھ میدان صحافت سے وابستگی اور شب وروز ملت کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا سد باب کس طرح سے کیا جائے جیسے موضوعات کی تگ و دو میں ایک نباض قوم کی بھی حیثیت رکھتے تھے اور اس بات کا اندازہ وہ حضرات بخوبی کر سکتے ہیں جو گزشتہ تین چار دہائیوں سے متعدد اخبارات جیسے عزائم ، قومی آواز ، انقلاب ، اردو ٹائمز اور اودھ نامہ میں آپ کے مستقل شائع شدہ رشحات قلم بشکل ایڈیٹوریل (اداریے) ، کالمز و مضامین سیمانوس ہی نہیں بلکہ استفادہ بھی کر چکے ہیں
ہندوستان کے دو سینئیر صحافی عارف عزیز بھوپال اور عالم نقوی کا حرم کلینک حرم شریف میں ملاقات کی غرض سے آنا :
ناچیز کی سعادت مندی رہی کہ الحمدللہ 1993ء ہی سے ہندوستان کے کئی مؤقر جرائد و اخبارات مثلاً سہ روزہ دعوت دہلی ، تہذیب الاخلاق ( فکری ترجمان مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ) ، معارف (فکری ترجمان دارالمصنفین اعظم گڑھ ) ، تعمیر حیات (فکری ترجمان دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) ، روزنامہ انقلاب و اردو ٹائمز ( ممبئی ) ، روزنامہ منصف (حیدرآباد ) روزنامہ بخشیات (کولکاتا ) ، اسلامک وائس ( بنگلور ) وغیرہ میں زیور طبع سے شائع ہونا شروع ہوچکے تھے دریں اثناء حرم مکی شریف مکہ مکرمہ میں طبی خدمات کے لئے تقرر ہوا جس کی بناء پر اللہ کے فضل و کرم سے نیز حرم شریف کی نسبت پر بر صغیر کے علماء کبار کی سر پرستی میں حلقۂ علم و ادب وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا ( جسے ناچیز ہرگز ہر گز اپنا ذاتی کمال نہیں بلکہ سو فی صد اللہ کا جود و کرم ہی سمجھتا ہے اور اپنی بے مائیگی و بے بضاعتی کا اس وقت بھی بخوبی اندازہ تھا اور اب بھی ہے) لہٰذا اللہ کا مزید کرم ہوا کہ اس ناکارہ کے مضامین پھر اردو نیوز ( جدہ ) ، تکبیر ( کراچی ) ، جنگ ( کراچی ) ، الحسن ( لاہور) ،البلاغ ( فکری ترجمان دارالعلوم کراچی ) اور ترجمان دارالعوم نورالاسلام جلپاپور ، سنسری نیپال وغیرہ میں بھی شائع ہونا شروع ہوگئے حرم مکی شریف میں طبی خدمات کے دوران دو ناقابل واقعات آج بھی نگاہوں میں ہیں کہ بھوپال سے گزشتہ نصف صدی سے شائع ہونے والا روزنامہ ندیم اور روزنامہ آفتاب بھوپال کے ایڈیٹر انچیف محترم بزرگوار عارف عزیز صاحب حرم کلینک میں ملاقات کی غرض سے تشریف لاتے ہیں اور اسی طرح 2009 ء میں ایام حج کے دوران محترم و مکرم عالم نقوی صاحب کی آمد ہوتی ہے جس کی تفصیلات خود عالم نقوی کے الفاظ میں جو آپ نے ناچیز کی حرم مکی میں تحریر کردہ تصنیف’’ نقوش حرم ‘‘ پر تاثرات کی شکل میں ارسال کیا تھا ، ملاحظہ فرمائیں ۔
عالم نقوی سابق ایگزیکٹوایڈیٹر، روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی کے تاثرات برائے ناچیز کی تصنیف ’’نقوش حرم ‘‘’’بالغ نظر مصنف قلندر طبیب اور حاذق معالج ڈاکٹر خلیل الدین تماندار : اگرچہ پہلی بار ہماری ملاقات نومبر 2009ء میں ایام حج کے دوران مکہ مکرمہ میں ہوئی لیکن ہم انہیں اس سے قبل بھی ایک بالغ نظر ادیب اور وسیع التحقیق مصنف کی حیثیت سے جانتے تھے کہ ان کے دقیع مضامین ہم روزنامچہ اردو ٹائمز ممبئی میں عرصۂدراز سے پڑھ رہے تھے جو خصوصیت سے وہ ہمارے ہی نام بھیجا کرتے تھے ہم 2002ء سے2011 ء تک اس اخبار کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر رہے تھے، 07 اگست 2009ء کا ایک لفافہ ہمارے پاس پتہ نہیں کیسے محفوظ رہ گیا ہے ،جس پر لکھا ہے’’ الی السعادۃ السید عالم نقوی المحترم ‘‘ اور جب نومبر 2009 ء میں پہلی بار بالمشافہ ملے تو اس طرح جیسے اپنے کسی بچھڑے ہوئے عزیز ترین دوست سے مل رہے ہوں ، مولانا ضیاء الدین اصلاحی ؒ( سابق ناظم مدرسۃ الاصلاح سرائے میر ، یوپی ہند ،سابق صدر دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ہند ) کے لفظوں میں ، اس ملاقات کو جو بلا شبہ حج کی برکتوں میں سے ایک برکت تھی ملاقات مسیحا و خضر سے بہتر کہوں تو شاید بے جا نہ ہو‘‘ جیسے الفاظ میں اپنا شفقت نامہ ارسال فرمایا۔
قحط الرجال میں ایک رجل امین ! برادر معظم مرحوم امین الدین شجاع الدین (سابق رئیس التحریر تعمیر حیات فکری ترجمان دارالعلوم ندوۃ العلماء،لکھنؤ ) کے انتقال سے قبل تحریر کردہ تیسری تصنیف ’’روبرو ‘‘ جس پر مقدمہ موجودہ صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم اور پیش لفظ سابق جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نوراللہ مرقدہ کا درج ہے ، اسی تصنیف’’ روبرو‘‘ میں عالم نقوی کے تاثرات بعنوان ’’ قحط الرجال میں ایک رجل امین ! ‘‘ملاحظہ فرمائیں : ’’امین الدین شجاع الدین صاحب کو پڑھ کر بے ساختہ دل سے ان کے لئے دعائیں نکلتی ہیں ، قحط الرجال کے اس عہد میں ان کا دم غنیمت ہے ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں ہے !
ان کی پہلی کتاب نقوش فکر و عمل دو سال قبل پڑھی تھی ہم اسی وقت سے ان کی منزلت علمی کے معترف ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ اور اللہ تبارک و تعالیٰ بھی اسی کو یہ سعادت بخشتا ہے جو اس کے حصول کے لئے ویسی ہی جدوجہد کرتا ہے ، میرے علم کے مطابق یہ ان کی تیسری کتاب ہے 2009ء میں ’’ نقوش فکر و عمل‘‘ اور 2011 ء میں ’’ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘شائع ہوئیں اور اب مختلف زعمائے ملت کے انٹرویوز پر مشتمل یہ کتاب آپ کے روبرو ہے ، اس میں شامل اکابرین کے انٹرویوز پڑھ کے بار بار مختار مسعود یاد آئے جنھوں نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب‘‘ آواز دوست ’’میں لکھا ہے ‘‘قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی ،مرگ انبوہ کا جشن ہو تو قحط …… حیات بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال ……ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا اور دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا ، ایک سماں حشر کا دوسرا محض حشرات الارض کا ……زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں ‘‘۔
لاکھوں میں نمایاں کرنے والی صفت : طبعی شرافت و انکساری ، سادگی و متانت ، دوسروں کو سمجھنے اور حوصلہ دینے کی غیر معمولی صلاحیت جیسی بیش بہا صفات عالم نقوی کو ممتاز کرتی ہیں لیکن خصوصاً قرآن کریم سے شغف اور تدبر آپ کو لاکھوں میں ایک کی طرح نمایاں کر دیتی ہے اور یہی وہ وصف اور فکر ہے جو آپ کے قلب و ذہن پر ہمہ وقت حاوی رہتا تھا اور ملت اسلامیہ میں اتحاد کیسے قائم کیا جائے ، قوم کی زبوں حالی کا خاتمہ کس طرح ہو ، اہل ایمان کی بازیابی کیسے حاصل کی جائے جیسی اہم گھتیوں کو سلجھانے کے لئے آپ قران کریم سے درس و نصیحت حاصل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اسی خوبی نے مرحوم کو اوروں سے ممتاز کر دیا مکہ مکرمہ کے اہم و تاریخی مقامات : اللہ کے فضل و کرم سے مکہ مکرمہ میں 1997ء تا 2014 ء تک کے اس طویل قیام کے دوران ، عالم اسلام کی کئی مشاہیر اورارباب علم و ہنر جنھیں ناچیز نے ظہرو عصر کے درمیانی وقفے میں مکہ مکرمہ کے اہم تاریخی مقامات مثلاًجبل ابو قبیس ، جبل کعبہ ، مولود النبیؐ، منی ، مزدلفہ ، عرفات ، مسجد خیف ، مسجد مشعر الحرام ، مسجد نمرہ ، مسجد جن ، مسجد عائشہ رضی اللہ عنہا( مسجد عمرہ ) ، جبل ثور ، جبل نور ( غار حرا) ، شعب ابی طالب ، کسوۃ ( غلاف کعبہ بنانے کی فیکٹری ) ، رابطہ عالم اسلامی کی شاندار جدید عمارت اور متحف حرمین (حرمین شرفین میوزیم ) وغیرہ کو اپنے ساتھ مہمانان کرام کو لیجانے اور تمام تفصیلات بتانے کا شرف حاصل ہوا ہے ان میں سے ایک جناب عالم نقوی اور ان کی اہلیہ محترمہ نشاط نقوی کا بھی شمار ہوتا ہے عالم نقوی نے ان تمام تاریخی مقامات کو جس انہماک و اشیاق سے دیکھا اور اہم نوٹس کو محفوظ کیا تھا اس سے موصوف کی اسلامی تاریخ میں غیر معمولی دلچسپی اور ذوق و شوق کا بھی پتہ چلتا ہے ۔
دعائیہ کلمات : ناچیز کی زندگی نے اگر وفا کی اور مستقبل قریب میں ان شاء اللہ جب بھی کینیڈا سے سفر ہند ہوگا تو رائے بریلی میں تکیہ دائرہ شاہ علم اللہ میں ناچیز کے شیوخ میں سے دو، ایک مفکر اسلام سید ابوالحسن علی حسنی ندوی نوراللہ مرقدہ اور دوسرے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ؒ علاوہ ازیں ڈالی گنج قبرستان لکھنؤمیں مدفون راقم کے برادر حقیقی مرحوم امین الدین شجاع الدین اور ان تمام حضرات کی قبور پر دعائے مغفرت کے لئے گویا مجھ پر ایک قرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا اسی موقع پر لکھنؤ میں موجود غفران مآب قبرستان میں مرحوم عالم نقوی کی قبر پر بھی جاکر دعائے مغفرت کروں گا آسمان ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے ۔اللہ پاک ہمارے مرحوم عالم نقوی پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے اور ان کے پس ماندگان میں مرحوم کی اہلیہ محترمہ نشاط نقوی ، دو بیٹیاں ایلیا عالم و سمانا عالم اور دو بیٹے عالی رضا و میثم شبیب نقوی کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے ۔( آمین یا رب العالمین )

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے