कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خودکشی جیسی سماجی لعنت کے انسداد کی فکرضروری

تحریر: عارف عزیز (بھوپال)

اگر ہمارے ملک مین ایک دن میں تین سو اکیاسی لوگ خودکشی کر لیتے ہیں تو اس پر گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے کہ آزادی کے ۷۵ سال میں ہم ایک سماج کے طور پر کتنے ترقی یافتہ اور حساس ہوئے ہیں اور اس میں اجتماعی فکر کے لئے کتنی گنجائش موجود ہے۔ این سی آر بی یعنی قومی جرائم ریکارڈ بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال میں ملک میں ہر گھنٹے میں کم سے کم پندرہ لوگوں نے خودکشی کر لی، اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس کی کچھ پرتوں کو کھولنے میں مدد مل سکتی ہے، مثال کے طور پر خودکشی کرنے والوں میں ۷۰ فیصد مرد اور ۳۰ فیصد عورتیں ہیں۔ شہروں میں خودکشی کی شرح 13.9 فیصد ہے، جو اس معاملہ میں قومی اوسط 10.4 فیصد سے کافی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر پچھلے دو سال کے اعداد و شمار کا تقابل کریں تو معلوم ہوگا کہ ہر آنے والے سال میں گزشتہ سال کی تعداد کے مقابلہ میں اضافہ ہورہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے اس مسئلہ کی سنگینی کو جب تک پہچان کر اس کے حل کی کوشش نہیں کی جائے گی، اس کا دائرہ اور بڑھتا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کو تناؤ اور ڈپریشن میں ڈوبے ہوئے لوگوں کا ذاتی مسئلہ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے؟ این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں ۳۲ فیصد سے زیادہ لوگوں نے خاندانی مسائل کا حل نہیں کر پانے کی وجہ سے خودکشی کی تو ۱۷ فیصد لوگوں نے بیماری سے پریشان ہوکر اپنی جان لے لی۔ اس کے علاوہ جذباتی صدمہ، اکیلاپن، قرض اور کئی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک انسان کسی بھی حالت میں سماج سے اس قدر بے پرواہ نہیں ہوسکتا کہ سماج میں ہونے والی کسی بھی سرگرمی یا نشیب و فراز کا اس پر کوئی اثر نہ پڑے، اگر کوئی شخص تنہائی، تناؤ اور اس کے بعد ڈپریشن کی حالت میں چلا جاتا ہے تو اس میں اس کے آس پاس ہونے والے واقعات و حادثات، ان کے اثرات اور ان کے درمیان اس کی خود کی حالت اہم وجہ ہوتی ہے۔ ایسی بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں جن میں کوئی شخص حالات سے متاثر ہوکر پریشان تو ہوتا ہے لیکن اس سے نجات پانے کی اس کی کوشش بہت ہی رازدارانہ اور نجی ہوتی ہے، جب کہ اس وقت اس کو جذباتی یا مشورہ کی سطح پر کسی مددگار یا ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم جس معاشرتی ڈھانچے مین جی رہے اس میں ہمیں مسائل کو دیکھنے میں تو کوئی دشواری نہیں ہوتی مگر اس کے وجوہات کی پہچان کرنے کی صلاحیت عام طور پر بہت سے لوگوں میں نہیں پائی جاتی ، یہی وجہ ہے کہ بے حد نازک لمحات میں جب وہ کسی وجہ سے ذہنی یا جذباتی کشمکش کے دور میں داخل ہوجاتے ہیں تو کئی بار خود پر سے لگام چھوٹ جاتی ہے اور اپنی جان لے لینے جیسا مشکل فیصلہ کر گزرتے ہیں، یقینی طور پر یہ اس مسئلہ کے نفسیاتی پہلوؤں کی پیچیدگی ہے، لیکن یہ دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ سماج میں ایک آدمی کی خودکشی پورے معاشرتی نظام کی ناکامی ہے، اپنے آس پاس کون شخص کس پریشانی، ذہنی دباؤ یا تناؤ میں جکڑا ہوا ہے، کسی خاندانی جھگڑے یا کشاکش میں الجھا ہے، یا کسی ذاتی جذباتی کشمکش میں مبتلا ہوکر خود سے ہار رہا ہے، اس کی پہچان کرنے کا احساس شاید ہمارے اندر نہیں ہوسکا۔ اپنے دائرے میں جینے اور اپنی سہولتوں اور آرائش کو سب سے زیادہ اہم ماننے کی ذہنیت نے ہم سے دوسروں کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کا احساس چھین لیا ہے، جو کئی بار کسی کی جان بچالینے اور کسی کو نئی زندگی دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے جہاں تک ہو سکے اپنے آس پاس کے لوگوں کی پریشانیوں کو حل کیجئے، کسی بدنصیب کے کام آئیے، کسی گرتے ہوئے کو تھامیے، تبھی ہم خودکشی جیسی اس سماجی لعنت کو ختم کر سکیں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے